کارخانوں کے شہر میں سبزہ ناپید، فیصل آباد کے شہری درختوں، گھاس اور پھولوں کو ترس گئے

postImg

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

کارخانوں کے شہر میں سبزہ ناپید، فیصل آباد کے شہری درختوں، گھاس اور پھولوں کو ترس گئے

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

پینسٹھ سالہ نذیراں بی بی فیصل آباد کے محلہ فیروز شاہ کی رہائشی ہیں۔ وہ پہلے نواحی گاؤں شیریں والا میں رہتی تھیں ۔مگر دس سال قبل اپنے اکلوتے بیٹے، بہو اور پوتے پوتیوں کے ساتھ شہر منتقل ہو گئیں۔

نذیراں بی بی اپنے ڈھائی مرلے کےگھر میں بیٹھی اکثر گاؤں کو یاد کر تی ہیں۔جہاں ہر طرف سبزہ اور پرندوں کی مسحور کن چہچہاہٹ ہوا کرتی تھی۔وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بیٹے نے شہر آنے کا فیصلہ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے کیا تھا۔ گاوں میں ان کےگھر کا صحن کافی بڑا تھا جہاں وہ پھول، پودے اور سبزیاں اگایا کرتی تھیں۔ شہر آنے کے بعد وہ کھلی فضا میں سانس لینے کو ترس گئی ہیں۔ کیوں کہ اس علاقے کا قریب ترین پارک بھی ان کے گھر سے ساڑھے پانچ کلومیٹر دور ہے۔

فیصل آباد کے اکثر رہائشی سرسبز کھلے ماحول میں وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ لیکن لگ بھگ 37 لاکھ نفوس پر مشتمل ملک کے اس تیسرے بڑے شہر میں چھوٹی بڑی فیکٹریاں تو بہت نظر آتی ہیں مگر پارک اور سبزہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پاکستان کی قومی جنگلات پالیسی 2021ء کے مطابق کسی بھی شہر میں کم از کم 25 فیصد رقبے پر جنگلات یا سبزے (گرین کور) کا ہونا ضروری ہے۔ جبکہ عالمی سطح پراس حوالے سے معیار 40 فیصد مقرر ہے۔

فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے)کے ماسٹر پلان 41-2021ء کے مطابق شہر میں  سبز قطعات( گرین ایریاز) کا مجموعی رقبہ 683 ایکڑ ہے۔اس میں سے 481 ایکڑ  پارک اور 60 ایکڑ  رقبے پر پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے گرین بیلٹ ہیں۔ 143 ایکڑ  سبز قطعات نجی اداروں یا افراد کے زیر انتظام ہیں۔ اس طرح شہر کا مجموعی سرسبز رقبہ 1.92 فیصد بنتا ہے۔

 گرین ایریا بڑھانے کا آغاز فیصل آباد شہر میں مارچ 2020ء میں چار ایکڑ پر پہلا 'اربن فاریسٹ' لگا کر کیا گیا تھا۔ ماڈل مویشی منڈی سے چند فرلانگ پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر محمد علی و دیگر سرکاری حکام کی موجودگی میں بیک وقت دو ہزار 200 پودے لگائے تھے۔

تاہم یہ اربن فاریسٹ  چند ماہ بعد ہی بنجر ہو گیا۔اس علاقے کے رہائشی محمد ارشاد بتاتے ہیں کہ سرکاری افسروں نے دکھاوے کے لیے پودے لگائے تھے جو آبپاشی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب سوکھ گئے۔

قبل ازیں فروری 2020ء میں ضلعی انتظامیہ نے فیصل آباد کے قصبہ ماموں کانجن کے قریب تین سو ایکڑ اراضی پر اربن فاریسٹ قائم کیا تھا۔یہ اراضی قابضین سے واگزار کرائی گئی تھی اور اس پر تین لاکھ پودے اگائے گئے تھے۔لیکن اب یہاں کسی جنگل کا نام ونشان بھی نہیں ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ رانا اورنگزیب اعتراف کرتے ہیں کہ پودے دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہو گئے تھے۔ محکمہ جنگلات تعاون نہیں کرتا اور یہ علاقہ تحصیل ہیڈ کوارٹر سے بھی دور ہے۔اس لیے وہاں اربن فاریسٹ کا منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے۔

مقامی صحافی محمد زبیر بتاتے ہیں کہ اس سرکاری اراضی پر ایک سال بعد ہی انہی لوگوں نے دوبارہ قبضہ کر لیا تھا جن سے زمین واگزار کرائی گئی تھی۔

 اسٹنٹ کمشنر  نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ یہ اراضی خالی کرا لی گئی ہے، قابضین کی فصلیں نیلام ہو گئی ہیں اور  13 لاکھ روپے کی رقم خزانے میں جمع کرائی جا چکی ہے۔یہ زمین جلد کاشت کاری کے لیے ٹھیکے پر دے دی جائے گی۔

فیصل آباد میں اربن فاریسٹ کے نام پر "نمائشی" جنگلات لگانے کا سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوا 27 اگست 2021ء کو ڈپٹی کمشنر محمد علی کے تبادلے سے ایک روز قبل نڑ والا روڈ پر کلیم شہید پارک میں بھی ایک لاکھ پودے لگانے کا ریکارڈ بنانے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔

تاہم اس شجرکاری پر جب سوالات اٹھائے گئے تو ڈی جی ہارٹیکلچر عاصمہ اعجاز کو وضاحت جاری کرنا پڑی کہ پارک میں ایک لاکھ نہیں ساڑھے سات ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔

اسی دوران پی ایچ اے فیصل آباد نے ایک سال میں شہر کے 20 مقامات پر میواکی فاریسٹ لگانے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔'میواکی' پودے لگانے کی تکنیک ہے جو جاپانی ماہر نباتات اکیرا میواکی نے دریافت کی تھی اور اب یہ انہیں کے نام سے مشہور ہے۔

میواکی فاریسٹ میں مقامی پودے زمین کی نامیاتی ضروریات پوری کر کے جھاڑیوں کی طرح لگا دیئے جاتے ہیں۔گھنے پودے مسابقتی حرکیات کی بدولت  تیزی سے بڑھتے ہیں اور چند سال میں جنگل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

فیصل آباد میں میواکی فاریسٹ منصوبے کا افتتاح کرنے کے لیے وفاقی وزیرماحولیات خصوصی طور پر فیصل آباد آئی تھیں۔تاہم یہ منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے۔ جہاں میواکی فاریسٹ لگائے گئے تھے وہاں زمین کی غذائی ضروریات پوری نہیں کی گئی تھیں۔اس لیے پودوں کی بڑھوتری انتہائی سست ہے۔

میواکی فاریسٹ سے متعلق معلومات کی درخواست پر ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ فیصل آباد میں جنوری 2021ء سے اگست 2023ء تک تقریباً تین کروڑ روپے سے 15 مقامات پر میواکی فاریسٹ لگائے گئے ہیں۔

شہر میں مجموعی طور پر چھ ایکڑ میواکی فاریسٹ لگایا گیا ہے جس میں ارجن، املتاس، کچنار، امرود، شہتوت، جامن، سکھ چین، پلکن، کنیر، نیم، بکائن، بوگن بیل، فائکس ودیگر اقسام کے 53 ہزار پودے ہیں۔

 تاہم پی ایچ اے کی فہرست میں شامل 15 میں سے پانچ مقامات (جڑانوالہ روڈ، سمندری روڈ، کینال روڈ، جھنگ روڈ اور ملت ٹاؤن) پر میواکی فاریسٹ موجود نہیں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ایچ اے نے فی پودا لاگت تقریباً ایک ہزار روپے بتائی ہے جبکہ پنجاب حکومت ماحولیاتی ترقی کے منصوبے میں اگلے پانچ سال کے لیے لاگت ساڑھے تین سو روپے فی پودا مقرر کر رکھی ہے۔

پی ایچ اےنے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میواکی فاریسٹ لگانے میں کسی سماجی تنظیم سے پودے یا مالی معاونت  نہیں لی گئی ہے۔تاہم  فیضان ریلیف گلوبل فاونڈیشن کا دعویٰ ہے کہ چار مقامات کے لیے پودوں اور ان کو اگانے کا انتظام انہوں نے اپنے خرچ پر کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر محمد وسیم بتاتے ہیں کہ یہ میواکی فاریسٹ پی ایچ اے کی غفلت کے باعث خراب ہو رہے تھے۔انہوں نے ان کی آبپاشی اور حفاظت کے اقدامات کیے ہیں۔

تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ظہیر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ میواکی فاریسٹ کی دیکھ بھال کا زیادہ تر کام اب بھی پی ایچ اے کا عملہ کر رہا ہے۔

فیصل آباد انتظامیہ اور پی ایچ اے نے'کلین اینڈ گرین پنجاب'، 'بلین ٹری سونامی' پروگرام پر کروڑوں روپے خرچ کیے۔اسی طرح موسم برسات اور موسم بہار کی شجرکاری پر ہر سال حکومتی خزانے سے بڑی بڑی رقوم صرف کی گئیں۔ مگر  شہر کے"ویجی ٹیشن کور" میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
زرعی یونیورسٹی کے شعبہ فاریسٹری میں ایم فل کے طالب علم محمد عظیم صابر کے مطابق فیصل آباد شہر کے گنجان آباد علاقوں میں نئی شجرکاری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پرانے درختوں کو بھی تعمیرات یا دیگر مقاصد کے لیے کاٹا جا رہا ہے۔

سیٹلائٹ کے ذریعے دنیا بھر میں جنگلات اور گرین کور کی مانیٹرنگ کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فاریسٹ ریسرچ کے مطابق گزشتہ دو عشروں کے دوران فیصل آباد شہر میں دس ایکڑ رقبے کے مساوی گرین کور کم ہوا ہے اور درختوں میں 11 فیصد کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے:'نارووال اور گردونواح کے جنگلاتی رقبے میں کمی آنے سے جانور اور پرندے بھی ختم ہو رہے ہیں'

محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کی جون 2023 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2022ء میں صوبے کے 36 اضلاع سے ماحولیاتی آلودگی کی ایک ہزار91 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے 512 فضائی آلودگی سے متعلق تھیں جبکہ سب سے زیادہ 116 شکایات فیصل آباد سے آئی تھیں۔

ماحولیاتی ترقی کے لیے اربن پلاننگ یونٹ کی رکن ڈاکٹر عمارہ حبیب بتاتی ہیں کہ صنعتی شہر ہونے کے باعث فیصل آباد میں شجرکاری کی اشد ضرورت ہے۔پانچ سالہ منصوبے کے تحت یہاں 142 پارکوں کی حالت بہتر بنانے زور دیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ پانچ سال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں نو سو ایکڑ اراضی پر سات لاکھ نئے درخت لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پی ایچ اے فیصل آباد کے ڈائریکٹر جنرل ضمیر حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ  شہر میں شجرکاری کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔تاہم شہر کے ماسٹر پلان 41-2021ء کے اعدادوشمار ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔

اس دستاویز کے مطابق 1985ء میں شہر میں پارکوں اور گرین ایریا کے لئے مختص رقبے کا حجم 944 ایکڑ تھا۔ اس میں گزشتہ 40 برس کے دوران 128 ایکڑ کی کمی ہو چکی ہے اور شہر کے 44 فیصد حصے میں کوئی پارک یا گرین ایریا موجود نہیں ہے۔

 ماسٹر پلان میں شہر کے آٹھ مختلف مقامات پر پارک بنانے کے لئے ایک ہزار436 ایکٹر رقبے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ جغرافیہ کی طالبہ عائشہ سلیم اور سعدیہ اعجاز نے شہر میں پارکوں تک شہریوں کی رسائی پر  تحقیق  کی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کی سروے میں پارکوں کا رخ کرنے والے 55 فیصد شہریوں نے پارکوں کی حالت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

تاریخ اشاعت 9 اکتوبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.