پنجاب کے سکولوں میں شمسی توانائی کی فراہمی: ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پنجاب کے سکولوں میں شمسی توانائی کی فراہمی: ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

پنجاب کے سکولوں میں شمسی توانائی کی فراہمی: ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

پنجاب اجالا پروگرام کا پہلا مرحلہ نو ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن اس کے اہداف کی سو فیصد تکمیل چار سال چار ماہ میں بھی نہیں ہو سکی جبکہ اس کے دوسرے مرحلے پر عملی کام ابھی شروع بھی نہیں ہوا۔  

یہ پروگرام ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ایشیائی ترقیاتی بنک نے پاکستان کو 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر قرض دیا ہے تاکہ پسماندہ علاقوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو غیرآلودہ اور پائیدار توانائی کے ذرائع تک رسائی دی جا سکے۔ اس رقم میں سے آٹھ کروڑ 70 لاکھ ڈالر پنجاب اجالا پروگرام کے ذریعے تعلیمی اداروں اور مراکزِ صحت میں شمسی توانائی کی فراہمی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ 

شروع میں اس پروگرام کو سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مناسبت سے خادمِ اعلی اجالا پروگرام کا نام دیا گیا تھا (کیونکہ وہ خود کو وزیرِ اعلیٰ کے بجائے خادمِ اعلیٰ کہتے تھے)۔ اس پر عمل درآمد کے لیے ان کی صدارت میں چھ مارچ 2017 کو ہونے والے ایک ابتدائی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اُسی سال کے خاتمے تک پنجاب بھر کے 20 ہزار سکولوں میں شمسی توانائی سے پیدا کی گئی بجلی فراہم کر دی جائے گی۔ 

جلد ہی یہ ہدف تبدیل ہو گیا۔ 

شہباز شریف ہی کی سربراہی میں 29 مارچ 2017 کو ہونے والے ایک اجلاس میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے سیکرٹری شاہین جبار نے کہا کہ ان کے محکمے نے شمسی توانائی کی فراہمی کے لیے 22 ہزار 80 سکولوں کے اعدادوشمار توانائی سے متعلقہ اداروں کو فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے لگ بھگ 15 ہزار سکول پنجاب کے جنوبی اضلاع میں واقع ہیں۔ 

لیکن تقریباً ڈھائی سال بعد، دسمبر 2020 میں، بجلی کی تقسیم کے ذمہ دار وفاقی ادارے، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی، نے ایشیائی ترقیاتی بنک کو پنجاب اجالا پروگرام کی آڈٹ رپورٹ بھیجی جس کے مطابق اس کے تحت جنوبی پنجاب کے 10 ہزار 8 سو 61 سکولوں اور وسطی اور شمالی پنجاب کے چار ہزار دو سو سکولوں کو شمسی توانائی فراہم کی جانا تھی۔ یعنی اس سے مستفید ہونے والے سکولوں کی کل تعداد 15 ہزار 61 ہونی چاہیے تھی۔ 

اس ہدف میں دوسری بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب اسے دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا اور ان میں سے پہلا مرحلہ جنوبی پنجاب کے لیے اور دوسرا مرحلہ وسطی اور شمالی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا۔

حکومتی دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے کا کام دسمبر 2017 میں مکمل کیا جانا تھا۔ لیکن حقیقت میں پنجاب حکومت کے محکمہ توانائی کے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ نے صوبے کے محکمہ سکول ایجوکیشن کو اس کے مکمل ہونے کی اطلاع 28 جولائی 2021 کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے دی جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک جنوبی پنجاب کے 10 ہزار سات سو 50 سکولوں میں شمسی توانائی کے آلات نصب ہو چکے تھے۔

گویا پہلے مرحلے کی تکمیل میں 52 مہینے لگ گئے جو کہ حکومت کے ابتدائی طور پر طے کردہ ہدف سے تقریباً چھ گنا زیادہ وقت ہے۔ تاہم اتنی تاخیر کے باوجود، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی آڈٹ رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار کی رُو سے، جنوبی پنجاب کے ایک سو 11 مزید سکولوں کو شمسی توانائی فراہم کرنے کا کام ابھی بھی باقی ہے۔

پنجاب کے محکمہ توانائی میں کام کرنے والے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے کی تکمیل میں اس قدر تاخیر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 11 ہزار کے قریب سکولوں میں صرف نو ماہ میں شمسی توانائی کے آلات نصب کرنا شروع سے ہی ایک غیرحقیقی ہدف تھا کیونکہ اس کی تکمیل میں ٹھیکیدار کمپنیوں کے انتخاب سے لے کر آلات کی تنصیب تک کئی ایسے مرحلے شامل ہیں جن میں سے ہر ایک کو قانونی طریقے سے مکمل کرنے کے لیے مہینوں درکار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو "ایسی ٹھیکیدار کمپنیوں کا انتخاب کرنے میں ہی نو ماہ لگ گئے جو اس کی مختص کردہ رقم کے اندر معیاری آلات فراہم اور نصب کر سکیں"۔ اسی طرح، ان کے مطابق، "شمسی توانائی کے تمام آلات دوسرے ملکوں سے درآمد کیے جاتے ہیں جنہیں ملک کے اندر لانے اور پھر دور دراز کے دیہاتی سکولوں تک پہنچانے کے لیے بھی کئی مہینے درکار ہوتے ہیں"۔

بجٹ بمقابلہ بولی

نومبر 2020 میں صوبائی حکومت نے پنجاب اجالا پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا۔ اس کے تحت شمالی اور وسطی پنجاب کے 25 اضلاع میں واقع چار ہزار دو سو سکولوں کو شمسی توانائی فراہم کی جائے گی۔ لیکن 16 ماہ گزرنے کے بعد ابھی تک اس کے لیے محض ٹھیکیدار کمپنیوں کے انتخاب کا عمل ہی مکمل کیا جا سکا ہے۔  

پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عارف منصور قیصرانی کہتے ہیں کہ اس عمل میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ آلات کی فراہمی اور تنصیب کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے والی ٹھیکیدار کمپنیاں متواتر ایسی بولیاں لگا رہی تھیں جو پروگرام پر آنے والی لاگت کے حکومتی تخمینے سے زیادہ تھیں۔ اس لیے، ان کے مطابق، حکومت کو "بولی کا عمل بار بار دہرانا پڑا اور یوں دوسرے مرحلے کا کام شروع ہونے میں تاخیر ہوتی گئی"۔ 

اگرچہ بولی کا عمل 23 نومبر 2020 کو شروع ہوا لیکن، پنجاب کے محکمہ توانائی کی فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق، اس کے پہلے دور میں حصہ لینے والی ہر کمپنی نے جس رقم پر کام کرنے کی پیش کش کی وہ سرکاری طور پر مختص کردہ رقم سے زیادہ تھی۔ اس لیے 20 جنوری 2021 کو بولی کا دوسرا دور منعقد کیا گیا۔ 

اس دور میں پیکج 3 (جو ضلع چکوال کے تین سو 37 سکولوں پر مشتمل ہے)، پیکج 5 (جو ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، پاک پتن، اوکاڑہ، قصور اور لاہور کے اضلاع میں واقع چار سو 64 سکولوں پر مشتمل ہے) اور پیکج 7 (جس میں جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، چنیوٹ اور فیصل آباد کے اضلاع کے دو سو 88 سکول آتے ہیں) کے لیے دی جانے والی بولیاں منظور کر لی گئیں۔ جبکہ عارف منصور قیصرانی کی طرف سے 9 اپریل 2021 کو جاری کردہ ایک نوٹی فیکیشن کے ذریعے پیکج 1 (جو اٹک اور میانوالی کے اضلاع کے نو سو نو سکولوں پر مشتمل ہے)، پیکج 2 (جس میں ضلع راولپنڈی کے چھ سو 39 سکول شامل ہیں)، پیکج 4 (جس میں خوشاب، بھکر، سرگودھا اور جھنگ کے اضلاع میں واقع ایک ہزار 31 سکول شامل ہیں)  اور پیکج 6 (جس میں شیخوپورہ، نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ننکانہ صاحب کے اضلاع میں واقع پانچ سو 32 سکول آتے ہیں) کے لیے دی جانے والی تمام بولیاں رد کر دی گئیں۔ 

بعد ازاں عارف منصور قیصرانی نے 14 جون 2021 کو جاری کیے گئے ایک اور نوٹی فیکیشن کے ذریعے پیکج 7 کے لیے منظور شدہ بولیوں کو بھی مسترد کر دیا۔ یوں دو ادوار کے بعد صرف پیکج 3 اور پیکج 5 کے لیے دی گئی بولیاں ہی منظور کی جا سکیں۔ 

اپریل 2021 میں بولی کے تیسرے دور کا انعقاد ہوا جس میں ٹھیکیدار کمپنیوں کی طرف سے پیکج 2 اور پیکج 6 کے لیے کی جانے والی کم ترین پیش کشیں قبول کر لی گئیں جبکہ پیکج 1 اور پیکج 4 کے لیے دی گئی بولی ایک بار پھر رد کر دی گئی۔ 

بولی کا چوتھا دور 27 جنوری 2022 کو منعقد ہوا جس میں بالآخر پیکج 1، پیکج 4 اور پیکج 7 کے لیے دی گئی بولیاں بھی منظور کر لی گئیں۔ 

عارف منصور قیصرانی کا کہنا ہے کہ یہ مراحل مکمل ہونے کے بعد حکومت نے پیکج 5 کی کم ترین بولی دینے والی کمپنی کے علاوہ باقی تمام کامیاب کمپنیوں سے معاہدے کر لیے ہیں "جس سے سکولوں میں شمسی توانائی فراہم کرنے کا کام جلد ہی شروع ہو جائے گا اور اس سال کے آخر تک اسے مکمل بھی کر لیا جائے گا"۔

اخراجات میں تضادات

دوسرے مرحلے کی کامیاب بولیوں میں کچھ حیران کن اعدادوشمار چھپے ہوئے ہیں۔ 

ان کے مطابق ایک سکول میں شمسی توانائی کے آلات کی فراہمی اور تنصیب کا زیادہ سے زیادہ خرچہ (چار لاکھ 16 ہزار آٹھ سو 45 روپے) پیکج 5 کے اضلاع (ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، پاک پتن، اوکاڑہ، قصور اور لاہور) میں آ رہا ہے جو نہ تو دور افتادہ ہیں کہ وہاں یہ آلات پہنچانے کے اخراجات باقی صوبے کی نسبت زیادہ ہوں اور نہ ہی وہ کسی پہاڑی یا صحرائی علاقے کا حصہ ہیں جہاں ان آلات کی ترسیل کے لیے خصوصی ذرائع کی ضرورت ہو۔

اس سے ملحقہ پیکج 6 کے اضلاع (شیخوپورہ، نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ننکانہ صاحب) کے جغرافیائی خدوخال پیکج 5 کے اضلاع جیسے ہی ہیں لیکن وہاں فی سکول خرچہ تین لاکھ 39 ہزار چھ سو چار روپے آ رہا ہے جو پورے پنجاب میں دوسرے نمبر پر کم ترین رقم ہے۔ اسی طرح پیکج 7 کے اضلاع (جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، چنیوٹ اور فیصل آباد) میں آنے والا فی سکول خرچہ (تین لاکھ 50 ہزار 20 روپے) بھی پیکج 5 میں آنے والے فی سکول خرچے سے کہیں کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

اُجالا چوری: پنجاب کے دو سو سے زائد سرکاری سکولوں سے چور شمسی توانائی کا سامان لے اُڑے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ پیکج 5 کے اضلاع میں آنے والا خرچہ پیکج 4 میں شامل خوشاب، بھکر، سرگودھا اور جھنگ جیسے دوردراز صحرائی اور نیم صحرائی اضلاع کے فی سکول خرچے (تین لاکھ 29 ہزار نو سو 35 روپے) سے کہیں زیادہ ہے۔ درحقیقت پیکج 4 کا فی سکول خرچہ پنجاب بھر میں سب سے کم ہے۔ 

اسی طرح اٹک اور میانوالی جیسے پسماندہ اور پہاڑی اضلاع میں آنے والا فی سکول خرچہ (تین لاکھ 40 ہزار چار سو 63 روپے) اور جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں آنے والا فی سکول خرچہ (تین لاکھ 76 ہزار چھ سو 35 روپے) بھی پیکج 5 کے اضلاع کی نسبت کم رہا ہے حالانکہ ان دونوں علاقوں میں شمسی توانائی کے آلات کی ترسیل اور تنصیب کے تکنیکی اور انسانی ذرائع لاہور اور ساہیوال کی نسبت بہت محدود ہیں۔ 

ان تضادات کے بارے میں حکومتی موقف یہ ہے کہ سرکاری اہلکاروں نے متعلقہ قوانین پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہر پیکج کے لیے دی گئی کم ترین بولی کو ہی منظور کیا ہے۔ اس لیے، اس موقف کے مطابق، اگر کسی ایک جغرافیائی پیکج کے لیے دی گئی کم ترین بولی دوسرے علاقوں کے لیے دی جانے والی کم ترین بولی سے زیادہ رہی ہے تو یہ کسی اہلکار کی بد دیانتی یا بولی کے عمل میں کسی بے ضابطگی کا نتیجہ نہیں۔ 

دوسری طرف اس فرق کو دور کرنے کا واحد سرکاری حل یہ ہے کہ پیکج 5 کے لیے بولی دوبارہ کرا لی جائے۔ تاہم اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلےگا کہ پروگرام کے دوسرے مرحلے کی تکمیل میں مزید تاخیر ہو جائے گی۔

تاریخ اشاعت 4 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فضا اشرف نے اقراء یونیورسٹی اسلام آباد سے عالمی تعلقات میں ایم ایس سی کیا ہے۔ وہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔