پاکستان میں ایک ویمن کمیشن وفاقی سطح پر قائم ہے اور چار صوبائی پر۔ پھر گلگت بلتستان کا ویمن کمیشن علیحدہ ہے اور آزاد جموں کشمیر کا علیحدہ۔ یوں ملک میں کل سات کمیشن ہیں جن کا مقصد صنفی تفریق کو ختم کرنا اور ہر شعبہ میں ہر سطح پر خواتین کی شمولیت اور برابری کو یقینی بنانا ہے۔
لیکن ان سب کی ایک ہی کہانی ہے۔ کمیشن غیر فعال ہیں۔ اہم عہدے برسوں سے خالی ہیں۔
قومی کمیشن برائے وقار نسواں اسلام آباد میں تقریباً ڈیڑھ سال سے مستقل چیئرپرسن کی تعیناتی نہیں ہو سکی۔ نومبر 2024ء میں اُم لیلیٰ اظہر کو ایک ماہ کے لیے چیئرپرسن تعینات کیا گیا تھا جو اب تک بطور ایکٹنگ چیئرپرسن فرائض انجام دے رہی ہیں۔
پنجاب میں چیئرپرسن ویمن کمیشن فوزیہ وقار کی دوسری ٹرم مئی 2019 ء میں معطل کر دی گئی تھی مگر ساڑھے چھ برس بعد بھی نئی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی۔ صوبائی حکومت نے دوماہ قبل نئی چیئرپرسن کے لیے درخوستیں طلب کی تھیں لیکن کوئی پیشرفت نظر نہیں آئی۔
خیبرپختونخوا میں کچھ بھی ایسی ہی صورت حال دکھائی دی۔ تین سال تک یہ ادارہ عبوری سربراہ کے ساتھ چلتا رہا جہاں گزشتہ سال کے آخر میں مستقل چیئرپرسن کا تقرر کیا جا سکا۔
سندھ خواتین کمیشن میں سابق چیئرپرسن نزہت شیرین کی 2023ء میں مدت مکمل ہونے کے بعد سے عہدہ خالی تھا اور عبوری ذمہ داریاں متعلقہ محکمے کے مرد افسر کو سونپی جاتی رہیں۔
تاہم رواں سال جنوری میں ایڈووکیٹ روبینہ امان بروہی کو چیئرپرسن مقرر کیا گیا جو اب فرائض انجام دے رہی ہیں۔
بلوچستان میں 2017ء میں کمیشن کا قیام عمل میں آیا مگر پانچ سال تک مستقل چیئرپرسن تعینات نہیں کی گئیں۔ 2022ء میں پہلی بار فوزیہ شاہین کا تقرر ہوا اور اب کرن بلوچ بطور چیئرپرسن کام کر رہی ہیں۔
جی بی میں خواتین کمیشن ابھی تک مکمل ہی نہیں ہو پایا۔ پہلے کمیشن کے قیام کا بل متنازع رہا، جی بی اسمبلی نے قانون منظور کیا تو گورنر کے پاس رک گیا۔ گلگت میں خواتین سے متعلق مرکزی رابطہ کار رقیہ عباس بتاتی ہیں کہ کمیشن پر قانون سازی مکمل ہو چکی ہے مگر سیاسی وجوہات کے باعث معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا۔
آزاد جموں و کشمیر بھی ویمن کمیشن عبوری سربراہ کے ساتھ چل رہا ہے۔

'مستقل قیادت کے بغیر کمیشن اپنی سمت کھو دیتا ہے'
خاور ممتاز، قومی کمیشن برائے خواتین کی پونے سات سال (2012ء تا 2019ء) چیئرپرسن رہ چکی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایکٹنگ چیئرپرسن چونکہ 30 روز سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکتا، اس لیے اسے ہر ماہ توسیع دے دی جاتی ہے۔ اسی اقدام سے ادارے کے متعلق حکومتی غیر سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے۔
"عبوری چیئرپرسنز کی قابلیت و کارکردگی سے انکار نہیں مگر ایڈہاک ازم کے باعث ان کی صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔"
سابق چیئرپرسن پنجاب خواتین کمیشن فوزیہ وقار کہتی ہیں کہ عبوری سربراہوں کے پاس نہ تو مکمل اختیارات ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں مطلوبہ وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً کمیشن کی حیثیت اور کارکردگی دونوں محدود ہوجاتی ہیں۔
مستقل قیادت کے بغیر کمیشن اپنی سمت کھو دیتا ہے، فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے اور سٹاف کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں قیادت کا خلا جی بی اور آزاد کشمیر کی خواتین پر بہت منفی اثر ڈال رہا ہے۔
واضح رہے جی بی و آزاد کشمیر کے کمیشنز کی نگرانی بھی قومی کمیشن کرتا ہے۔
پچھلے 25 سال کے دوران کئی خواتین بطور چیئرپرسن قومی کمیشن کام کر چکی ہیں لیکن بیشتر تعیناتیوں کے درمیان طویل وقفوں میں عبوری سربراہ آتے رہے۔ جب چارج کسی بیوروکریٹس کو دیا جاتا ہے تو کمیشن کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
قومی کمیشن کی موجودہ چیئرپرسن تقریباً ڈیڑھ سال سے بطور نگران کام کر رہی ہیں۔
خاور ممتاز کے بقول بار بار کی عبوری تقرریوں نے نہ صرف کمیشن کے تسلسل میں رکاوٹ ڈالیں بلکہ ادارے کی ساکھ بھی کو کمزور کر دیا ہے۔

ویمنز کمیشنز کی فعالی حکومتوں کو پسند نہیں آتی
خواتین کمیشنز کی سابق چیئرپرسنز سمجھتی ہیں کہ تحفظ خواتین کے اداروں اور حکومتوں کے درمیان مستقل کشمکش رہتی ہے۔کمیشن جب بھی صنفی امتیاز اور خواتین کے حقوق سے متعلق عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر سوال اٹھاتا ہے تو یہ بات اکثر حکومتوں کو پسند نہیں آتی۔
حکومتیں کمیشنز کی خودمختاری محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں، سفارشات کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور ان کی راہ میں انتظامی، مالی و قانونی رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔
خاور ممتاز سمجھتی ہیں کہ کمیشن کے لیے واضح قواعد و ضوابط اور شرائط کا تعین ہونا چاہیے۔ ایسے نگراں اداروں کا خودمختار ہونا ضروری ہے بصورت دیگر یہ غیر مؤثر ہو جاتے ہیں اور ان کا کام محض تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کی تجاویز دینا رہ جاتا ہے۔
آزاد کشمیر خواتین کمیشن کی سابق چیئرپرسن، ماریہ اقبال ترانہ کہتی ہیں کہ وہ مسلسل سیاسی انتقام کا شکار رہیں۔ 2016ء میں بطور چیئرپرسن انہیں دفتر تک نہیں ملا نہ ہی عملہ اور مالی وسائل فراہم کئے گئے۔
سابق چیئرپرسن قومی ویمن کمیشن نیلوفر بختیار بتاتی ہیں کہ پچھلے برسوں خیبر پختونخوا میں ایک خاتون کو چیئرپرسن تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ان کے خلاف محاذ بن گیا۔ وہ عہدہ بھی سنبھال نہ سکیں اور بالآخر ان کی نامزدگی واپس لے لی گئی۔
وہ کہتی ہیں کہ اکثر چیئرپرسنز سیاسی بنیادوں پر تعینات کی جاتی ہیں جن کو خواتین کے مسائل کی فہم ہوتی ہے نہ ہی تجربہ ہوتا ہے۔ خواتین کمیشنز میں باصلاحیت بورڈ اور چیئرپرسن کی تقرری ناگزیر ہے۔

پاکستان گلوبل جینڈر انڈکس کے آخری نمبر پر کیسے پہنچا
خاور ممتاز کا کہنا تھا کہ تحفظِ نسواں کے ادارے مسائل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کمیشن کے سروس رولز منظور کرانے میں پانچ سال لگے تھے۔ "اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے مگر فنڈز ملنے میں تاخیر، ریسرچ، لیگل اور فنانس جیسے شعبوں میں خالی اسامیوں سمیت کئی رکاوٹیں ہیں۔"
فوزیہ وقار کہتی ہیں کہ یہ صرف انتظامی نہیں، سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ اداروں کو غیر مؤثر بنانا بظاہر ایک سوچا سمجھا عمل لگتا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ کمیشنز کے سربراہوں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اداروں کو مضبوط بنائے مگر یہاں ایڈہاک ازم سے انہیں مزید کمزور کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ ترک کرنا ہو گا۔
فوزیہ وقار اور ماریہ اقبال ترانہ، صوبائی ویمن کمیشنز کو کسی وزارت یا محکمہ سماجی بہبود کے ماتحت کرنے کی سخت ناقد ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ محکمے کا کوئی مرد سربراہ کیسے خواتین کی تکالیف کو سمجھ سکتا ہے یا ان کا مؤثر حل نکال سکتا ہے؟ ویمن کمیشنز کو واقعی خود مختار بنانا ہو گا۔
ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025ء میں پاکستان نہ صرف ایشیا میں سب سے پیچھے ہے بلکہ 148 ممالک کی فہرست (اس میں افغانستان شامل نہیں) میں سب سے آخری نمبر پر براجمان ہے۔
سابق چیئرپرسن نیلوفر بختیار کا ماننا ہے کہ ویمن کمیشنز کے غیر فعال ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں، ایک حکومتی عدم توجہی اور دوسری خواتین کا سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں شامل نہ ہونا ہے۔
'خواتین جب تک سیاسی جماعتوں میں متحرک کردار ادا نہیں کریں گی حکومت ان کمیشنز اور ان کے حقوق کو نظر انداز کرتی رہے گی۔'

چیئرپرسن قومی کمیشن کا تقرر کیسے ہوتا ہے؟
قانون کے مطابق اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے وقار نسواں کا قیام وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے جو ایک چیئرپرسن اور 20 سے زائد ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔
کمیشن میں ہر صوبے سے دو رکن (کم از کم ایک خاتون ہونا ضروری ہے)، آزاد کشمیر، جی بی، اسلام آباد اور اقلیتوں میں سے ایک ایک خاتون نامزد کی جاتی ہے۔ وزارتِ قانون، خزانہ، خارجہ امور، داخلہ اور ترقی خواتین کا ایک ایک نمائندہ شامل ہوتا ہے۔
ان کے علاوہ ہر صوبائی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن یا ان کا نامزد رکن بھی قومی کمیشن کا حصہ ہوتے ہیں۔
کمیشن کی چیئرپرسن کے تقرر کا طریقہ کار چیئرمین نیب یا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی جیسا ہوتا ہے۔
قانون کے تحت وفاقی حکومت موزوں امیدواروں کی فہرست وزیرِاعظم اور اپوزیشن لیڈر کو ارسال کرے گی۔ وزیرِاعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کی صورت میں تین نام یا دونوں کی علیحدہ علیحدہ فہرست پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کی جائے گی۔
پارلیمانی کمیٹی سپیکر قومی اسمبلی تشکیل دیں گے جس میں نصف حکومتی اور نصف اپوزیشن ارکان سے ہوں گے۔ اس زیادہ سے زیادہ 12 رکنی کمیٹی میں ایک تہائی سینیٹرز شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی جس امیدوار کی توثیق کرے گی، وزیرِاعظم اسی کو تین سال کے لیے چیئرپرسن مقرر کرے گا۔
قانون کے تحت چیئرپرسن کی وفات، بیماری، استعفیٰ یا کسی اور وجہ سے عہدہ خالی ہونے کی صورت میں وزیرِاعظم کمیشن کے ارکان میں سے کسی خاتون کو قائم مقام (ایکٹنگ) چیئرپرسن مقرر کیا جاتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ مدت 30 روز مقرر کی گئی ہے۔

صوبائی ویمن کمیشنز متعلقہ صوبوں کے قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ چیئرپرسن کی تعیناتی کے لیے سندھ میں طریقہ کار قومی کمیشن جیسا ہے جبکہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں مختلف ہے۔ صوبوں میں عبوری چیئرپرسن کی مدت تین ماہ (سندھ میں ایک ماہ) تک رکھی گئی ہے۔
یہ کمیشن وفاقی حکومت نے خواتین کے حالات بہتر بنانے کے لیے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں/معاہدوں (پروٹوکولز) کے تحت قائم کیے تھے۔
وفاقی کمیشن پہلے 2000ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تشکیل دیا گیا اور پھر 2012ء میں اس کے لیے باضابطہ قانون سازی کی گئی۔
اس کمیشن کے اختیارات و فرائض میں صنفی مساوات، انصاف کی فراہمی، خواتین کو بااختیار بنانے، سیاسی نمائندگی کے لیے حکومتی پالیسیوں و اقدامات کا جائزہ لینے سے لے کر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات کی تحقیقات، مدد اور ازالہ تک شامل ہے۔
اس ادارے کو جیلوں اور حراستی مراکز میں خواتین و بچیوں کے حالات کا معائنہ کرنے، بچیوں کی تعلیم، ترقی روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے اقدامات کے اختیارات حاصل ہیں۔ قومی کمیشن صوبائی کمیشنوں اور دیگر متعلقہ تنظیموں سے بھی رابطہ رکھتا ہے۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں میں خواتین کمیشن بنانے کے لیے علیحدہ علیحدہ قانون سازی کی گئی اور یوں ایک قومی کمیشن کی بجائے خواتین کے تحفظ کے لیے ملک میں سات خواتین کمیشن وجود میں آ گئے جو ایک مثبت اقدام تھا۔
ان میں قومی کمیشن کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے کمیشنز شامل ہیں۔
تاریخ اشاعت 10 مارچ 2026

















