عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

postImg

اشفاق لغاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

اشفاق لغاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

مشرق وسطی کی جنگ میں سب کی توجہ پٹرول اور گیس کے بحران پر مرکوز ہے اور لیکن علی مراد شاہ  کی پریشانی اس سے بھی کچھ زیادہ گھمبیر ہے۔ وہ سعودی عرب، امارات اور دیگر عرب ممالک کے فارموں میں گائیوں اور اونٹوں کو دیا جانے والا چارہ اگاتے ہیں۔

خلیجی ممالک دودھ اور گوشت کے کیٹل فارمز کے لیے خشک چارہ امریکا، آسٹریلیا اور افریقی ملکوں سے درآمد کرتے رہے ہیں جس میں روڈز گراس (گھاس)، الفالفا (کالی لوسن) وغیرہ شامل ہیں۔ سوڈان برسوں سے عرب امارات کو خشک چارہ سپلائی کرتا آ رہا تھا لیکن 2023ء میں وہاں خانہ جنگی شروع ہوئی تو یہ سلسلہ رک گیا۔

پاکستان ایک قدرتی متبادل کے طور پر سامنے آیا جہاں زمین، موسم اور مناسب آب و ہوا کے باعث چارے کی کثیر پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں نہ صرف کسانوں نے روڈز گراس لگانا شروع کر دی بلکہ گرین پاکستان انیشیٹوو کے تحت چولستان میں ہزاروں ایکڑ زمینیں حاصل کرنے والی بڑی بڑی کمپنیوں نے بھی اسے ہی ترجیح دی۔

پاکستان اب خلیجی ریاستوں کو خشک چارہ برآمد کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے لیکن جنگ شروع ہوتے ہی سپلائی رک گئی ہے۔ دبئی میں مقیم روڈز گراس کے پاکستانی تاجر سلطان زہری نے لوک سجاگ کو فون پر بتایا کہ جو مال اس دوران راستوں میں تھا وہ بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکا۔ 
پاکستانی کسانوں کو اپنی اس پیداوار کی کوئی متبادل مارکیٹ میسر نہیں ہے۔

زمین کلراٹھی، پانی کچھ کڑوا  اور کم، موسم سخت: روڈز گراس گھاٹے کا سودا نہیں

سید علی مراد شاہ، ٹھل ضلع جیکب آباد کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے 2016ء میں دبئی کے دوستوں کے مشورے پر بینک کی ملازمت چھوڑی اور عمرکوٹ میں زمین ٹھیکے پر لے کر روڈز گراس کی کھیتی کا کام شروع کیا تھا۔ اب انہوں نے یہاں 200 ایکڑ پر روڈز گراس لگایا ہوا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ سندھ میں گراس کی کاشت 26 سال قبل میرپور خاص سے شروع ہوئی جہاں دبئی کی الدھرا کمپنی نے رکن اسمبلی علی نواز شاہ کی زمینیں لیز پر لی تھیں۔ اب یہ عمرکوٹ، سانگھڑ، نوابشاہ، دادو، جیکب آباد، ٹھٹھہ، سجاول اور سکھر میں بھی اگایا جاتا ہے۔

پنوعاقل چھاؤنی والوں نے پانچ ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر یہ گراس لگایا ہوا ہے۔ پنجاب میں زیادہ تر رحیم یارخان، بہاولپور  اور بہاولنگر میں چولستان سے ملحق علاقوں کے علاوہ ضلع مظفر گڑھ، لیہ، خانیوال، راجن پور میں بھی کاشت کیا جا رہا ہے۔

علی مراد شاہ نے بتایا کہ کچھ زمینداروں نے بلوچستان کے لسبیلا میں بھی روڈز گراس لگانے کے تجربات کیے مگر کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

روڈز گراس (کلورس گیانا) کا اصل وطن افریقا ہے مگر اب یہ آسٹریلیا سے کینیڈا تک دنیا بھر میں وسیع پیمانے کاشت ہو رہا ہے۔ ایکسپورٹ کمپنی سارمکو انٹرنیشنل کے مطابق روڈز گراس میں سات سے 12 فیصد خام پروٹین ہوتی ہے جو سوکھنے کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ یہ گھوڑوں، اونٹوں اور دودھ یا گوشت پیدا کرنے والے مویشیوں کے لیے اعلیٰ معیار کی غذا ہے۔

علی مراد شاہ کہتے ہیں کہ روڈز گراس سندھ میں فروری سے نومبر تک کاشت کیا جاتا ہے۔ یہ ہلکی کلراٹھی زمین اور نسبتاً کڑوے پانی سے بھی اگائی جا سکتی ہے۔ سخت سردی، زیادہ گرمی برداشت کر لیتی ہے اور دوسری فصلوں سے نسبتاً کم پانی لیتی ہے۔ اس کے انہی خواص کی وجہ سے جن علاقوں میں دوسری فصلیں اگانا ناممکن ہوتا ہے یا منفع بخش نہیں ہوتا وہاں روڈز گراس کامیاب رہتی ہے۔

حساب کتاب: روڈز گراس کی کاشت کن کسانوں کے وارے میں آتی ہے؟

علی مراد سابق بینکر ہونے کے ناتے پورا پورا حساب رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق گراس کی زمین ہموار کرنے اور اچھی تیاری پر فی ایکڑ 90 ہزار روپے خرچ آتے ہیں۔ فی ایکڑ 10 کلو بیج کا خرچہ 35 سے 40 ہزار روپے بنتا ہے۔ اس پر سال میں ایک بوری ڈی اے پی اور کم سے کم 16 بوری یوریا پر 90 ہزار روپے لگتے ہیں۔

تین ماہ میں فصل تیار ہو جاتی ہے جس کی پہلی کٹائی سے ہی ڈیڑھ ٹن فی ایکڑ پیداوار حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر ہر دو ماہ بعد اتنی ہی کٹائی کی جا سکتی ہے۔ سال میں اکثر چھ کٹائیاں ہوتی ہیں۔ کٹائی پر 15 ہزار روپے فی ٹن خرچ ہوتا ہے۔ ایک بار کاشت کی گئی گراس دس سال تک چل جاتی ہے۔

اس حساب سے روڈز گراس کی پیداوار تقریباً 9 ٹن فی ایکڑ سالانہ بنتی ہے اور پانی اور لیبر کے پانچ ہزار روپے بھی شامل کر لیے جائیں تو کل پیداواری لاگت 44 ہزار روپے فی ٹن ہے جبکہ قیمت فروخت عموماً 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے فی ٹن رہتی ہیں۔

کاشت کار اس بات پر متفق ہیں کہ 100 ایکڑ سے کم گراس لگانے والا کسان کوئی خاص منافع نہیں کما سکتا۔

علی مراد کے مطابق کٹائی کے بعد گھاس کو کھلی جگہ پر سکھایا جاتا ہے۔ جس کے بعد پریس میں اس کی گانٹھیں (بیلز) بنائی جاتی ہیں اور پھر کنٹینرز میں لوڈ کر کے شپمنٹ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

"گراس کی کاشت زرعی صنعت ہے جو روایتی زراعت سے کافی مختلف ہے۔ کٹائی سے شپمنٹ تک ہر کام خاص مشینری کے ذریعے ہوتا ہے جو بہت مہنگی ہے اور آسٹریلیا سے درآمد کی جاتی ہے۔"

'ہم نے تصور ہی نہیں کیا تھا کہ کبھی سمندری راستے بھی بند ہوں گے'

گائے بھینسوں کے تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں تیسرے سے پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ 2023-24 کی زراعت شماری کے مطابق ملک میں دس کروڑ سے زائد گائے بھینسیں ہیں لیکن ان کے چارے میں روڈز گراس شامل نہیں۔

غلام اصغر جمالی 10 سال سے روڈز گراس لگا رہے ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا اب ملک میں بڑے کمرشل ڈیری فارموں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں درآمد شدہ نسلوں کی ولائیتی گائیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند فارم روڈز گراس استعمال کرتے ہیں لیکن اسے عام قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔

روڈز گراس کی ملکی کھپت نہ ہونے کے برابر ہے یہ تقریباً تمام باہر ہی جاتی ہے اور یہی بات اب کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ علی مراد شاہ کے بقول کچھ لوگوں نے تو بہت سارا روپیہ لگا کر دو سال پہلے ہی گراس لگائی تھی، وہ زیادہ پریشان ہیں۔ ایکسپورٹ کمپنیاں اپنی جگہ مسائل میں گھری ہوئی ہیں۔ خلیجی بندر گاہیں ویران پڑی ہیں جس کا مال جہاں تھا وہیں راستے میں کھڑا ہے۔

"ہمارے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ اب جنگی حالات کی وجہ سے یہاں لوگوں نے کٹائی بند کر دی ہے۔"

غلام اصغر جمالی پہلے چولستان میں زمین ٹھیکے پر لے کر روڈز گراس کاشت کرتے رہے اب انہوں نے سجاول میں 600 ایکڑ گراس لگا رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب پاکستان میں مال سٹاک ہو رہا ہے۔

"ایسا نہیں کہ یہ پڑا پڑا خراب ہو جائے گا، مسئلہ یہ ہے کہ عام کسان ایک کٹائی کی پیداوار بھی اپنے پاس رکھنا افورڈ نہیں کر سکتا۔ کوئی بہت امیر کاشت کار یا کمپنی زیادہ سے زیادہ دو کٹائیاں برداشت کر لے گی مگر اس کے بعد اس کی بھی بس ہو جائے گی۔

"سمندری راستے نہ پہلے کبھی بند ہوئے اور نہ ہم نے تصور کیا تھا کہ یہاں جنگ ہوگی اور ایکسپورٹ رک جائے گی۔ کمپنیاں، کسان اور مزدور پریشان ہیں کہ گھاس لگی ہوئی ہے جس کو کھاد اور پانی تو ہر صورت دینا ہی پڑے گا۔"

چارے کی عالمی منڈی میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

روڈز گراس کی گلوبل مارکیٹ کا حجم 2023ء میں تین ارب ڈالر تھا اور نصف سے زائد ایکسپورٹ اکیلے امریکا کے حصے میں آتی ہے۔ اس کے بعد آسٹریلیا اور کینیڈا گراس کے بڑے ایکسپورٹرز ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان 27 ویں نمبر پر آتا ہے جس کی اکلوتی مارکیٹ خلیجی ریاستیں ہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے سکالرز کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق عرب امارات میں چارے کی سالانہ طلب 34 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ سعودی عرب میں امارات کی نسبت تقریباً پانچ گنا زیادہ جانور موجود ہیں اور حج سیزن سے قبل ہر سال دنیا بھر سے امپورٹ کیے جانے والے لاکھوں جانور اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ وہاں گراس کی طلب کہیں زیادہ ہے مگر پاکستان سعودی عرب سے اچھے سفارتی تعلقات کے باوجود اپنے لیے ایکسپورٹ کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

غلام اصغر جمالی کا ماننا ہےکہ پاکستان سے خلیجی ملکوں میں برآمد آسان ہے۔ گراس کے زیادہ تر سودے دبئی میں ہوتے ہیں۔ خریدار کمپنیوں کے ایجنٹ وہیں سودے کرتے ہیں۔ پورٹ قاسم سے شپمنٹ ہوتی ہے اور تین روز میں مال خلیج پہنچ جاتا ہے۔

دنیا میں جاپان روڈز گراس کا سب سے بڑا امپورٹر ہے جس کا چارے کی عالمی درآمدات میں حصہ 25 فیصد سے زائد بنتا ہے۔اس کے بعد چین، سعودی عرب اور امارات بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔

پاکستانی حکام ایک عرصے سے دعوے کر رہے ہیں کہ سعودی عرب اور چین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لیں گے جس سے اگلے پانچ سال میں ملکی چارہ جات کی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔

اور اب خلیج کی واحد مارکیٹ میں سپلائی معطل ہونے کے بعد روڈز گراس اُگانے والے پاکستانی کاشت کار جنگ بندی کی دعاؤں کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے۔

تاریخ اشاعت 23 اپریل 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.