سال 2022ء میں پاکستان میں بس دو ہزار الیکٹرک یا ای بائیکس فروخت ہوئی تھیں لیکن اس نمبر میں مسلس اضافہ ہوتا رہا اور 2025ء میں یہ نمبر ایک لاکھ کے قریب پہنچ گیا۔
امریکہ ایران جنگ نے پوری دنیا میں پٹرول کی قیمتوں کو جو دھچکا لگایا اس نے ای بائیکس تو جیسے پر لگا دیئے ہوں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق صرف اپریل 2026ء کے دوران 40 ہزار کے قریب دو ویلر یونٹس (بائیکس اور سکوٹیز) فروخت ہوئے۔ ماہرین اسے ای ویز کا 'بوم' قرار دے رہے ہیں۔
یہ صورت حال جہاں خوش آئند ہے وہیں صارفین کے لیے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہ مارکیٹ میں ای بائیکس کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور قیمتوں میں بھی اضافہ نظر آ رہا ہے۔
ہدایت الرحمٰن، پاکستان میں چینی کمپنی ایوی اون کے ڈائریکٹر سیلز و مارکیٹنگ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پہلے جہاں دو ہزار یونٹس ماہانہ سیل ہوتی تھی وہاں اب 10 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی نے سیل کو مدنظر رکھتے ہوئے دو سے تین ماہ کا سٹاک رکھا ہوا تھا مگر طلب میں غیر متوقع اضافے کے باعث یہ دنوں میں ختم ہو گیا۔
ان کے بقول چین سےدرآمدہ بائیکس کی کھیپ کو ڈلیوری تک ڈھائی سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہےکیونکہ یہاں یراسسنگ میں بھی کچھ وقت لگتا ہے۔ اسی وجہ سے ڈیمانڈ فوری طور پر پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
لاہور میں لٹن روڈ کے ای وی ڈیلر محمد ریاض بتاتے ہیں کہ نئی بائیک کے لیے خریداروں کو کئی ہفتے اور بعض صورتوں میں تین ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔کچھ ڈیلرز قلت کا فائدہ اٹھا کر فوری ڈلیوری پر صارفین سے 10 سے 15 ہزار روپےاضافی وصول کر رہے ہیں۔
متعدد کمپنیوں نے قیمت میں بھی پانچ ہزارروپے تک کا اضافہ کر دیا ہے۔

مقبول ماڈلز: کس کو کیا چاہیے؟
مارکیٹ ڈیلرز اور ای وی کمپنیوں کے نمائندوں کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں 70 سی سی موٹر سائیکل کے متبادل کے طور پر دستیاب کم قیمت ای ویز کی فروخت سب سے زیادہ ہے۔
وی ای، جولٹا، جیگوار اور یادیہ کے ماڈلز نسبتاً زیادہ فروخت ہو رہے ہیں جن میں ای وی ای سی ون پرو، جولٹا جی ایچ ون، جیگوار ای ون اور یادیہ ٹی فائیو خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
یہ ماڈلز لاہور، کراچی، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے اربن سنٹرز میں زیادہ مقبول ہیں جن کے خریداروں میں طلباء و طالبات، دفاتر جانے والے ملازمین اور آن لائن ڈلیوری رائیڈرز نمایاں ہیں۔
مارکیٹ سروے کے مطابق 1.2 سے دو کلوواٹ موٹر پاور اور 80 سے 120 کلومیٹر رینج رکھنے والی بائیکس کی مانگ سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر جن کی قیمت دو سے چار لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
'صارفین ایسی بائیکس کو ترجیح دے رہے ہیں جن میں لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری، فاسٹ چارجنگ اور قابلِ تبدیل بیٹری آپشن موجود ہو۔'
ای وی کمپنیوں کے نمائندے 'آف دی ریکارڈ' گفتگو میں اعتراف کرتے ہیں کہ ایڈوانس بکنگ کے باوجود کئی مقبول ماڈلز کی بروقت ڈلیوری ممکن نہیں رہی۔طلب اتنا زیادہ ہے کہ شو رومز میں آنے والا سٹاک فوری فروخت ہو جاتا ہے۔
ہدایت الرحمن کہتے ہیں کہ ای بائیکس کی طلب نے نسبتاً محدود سرمایہ کاری کے ساتھ کاروبار کے بہتر مواقع پیدا کیے ہیں۔ چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات تک سے روزانہ بڑی تعداد لوگ نئی ڈیلر شپ کے لیے کمنیوں سے رجوع کر رہے ہیں مگر فی الحال سب سے اہم ڈیمانڈ پوری کرنا ہے۔

اندرون ملک مینوفیکچرنگ: خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
پاکستان میں پچھلے چار سال کے دوران دو پہیہ ای ویز کی پیداوار(اسمبلنگ) میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارے انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مالی سال 22-2021ء میں صرف سات ہزار 377 ای بائیکس تیار ہوئی تھیں۔ یہ تعداد 25-2024ءمیں بڑھ کر 22 ہزار 404 یونٹس ہو گئی جو طلب کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
ای ویز کی اندرون ملک مینوفیکچرنگ/ اسمبلنگ کے لیے جولائی 2025ء تک لگ بھگ 65 کمپنیاں سرٹیفکیٹ حاصل کر چکی تھیں۔ اس وقت دو اور تین پہیے والی گاڑیوں کے 90 فیصد سے زائد پارٹس مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں لیکن زیادہ تر اہم پارٹس بیٹری، موٹر اور کنٹرولر وغیرہ اب بھی چین سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
ڈیلر محمد ریاض کا ماننا ہے کہ اگر مقامی سطح پر بیٹری اور پرزہ جات کی تیاری شروع ہو جائے تو نہ صرف قیمتیں کم ہو جائیں گی بلکہ فروخت بڑھے گی اور قلت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
ای ڈی بی کے سی ای او حماد منصور نے دوماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ آٹو موٹو پالیسی کے تحت لوکل آٹو مینوفیکچرز کو بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ حکومت رواں سال کے وفاقی بجٹ میں گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں کمی کررہی ہے۔
'میڈ ان پاکستان' ای وی کار رواں سال جون یا جولائی تک متعارف کرادی جائے گی۔ دو سے تین ملکی کمپنیاں الیکٹرک کار بنانا چاہتی ہیں۔ای بائکس کی قیمتوں میں واضح کمی کی جائے گی اور انہیں برآمد کرنے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔
تاہم ان وعدوں کی تکمیل کے لیے ابھی تک کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دیتی، ای بائیکس برآمد کرنا تو دور، درآمدات سے بھی ڈیمانڈ پوری نہیں ہو رہی۔

پانچ لاکھ ای بائیکس: روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
پنجاب میں مقبول بائیکس اور سکوٹیز کے ماڈلز کی قلت زیادہ نمایاں نظر آ رہی ہے جہاں صوبائی حکومت نے ان کی رجسٹریشن اور سبسڈی پروگرامز پر کام تیز کیا ہوا ہے۔
لاہور کے ایک ڈیلر سید احمد رضا بائیکس کی سیل بڑھنے کو 'عارضی رحجان' قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس میں حکومتی پالیسیوں کا کردار بھی یقیناً ہے لیکن اصل سبب پٹرول کی قیمت بڑھنا ہے۔
"مجھے لگتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتین نارمل ہوتے ہی طلب و رسد دوبارہ معمول پر آجائے گی۔"
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ یہ کریڈٹ لینا نہیں تو بھولتا کہ سبسڈی پروگرام کی وجہ سے عوام میں بائیکس خریدنے کا رجحان بڑھا ہے۔ مگر قلت سے متعلق سوال کرنے پر حکام یہی بات دہرا دیتے ہیں کہ حکومت مقامی مینوفیکچرنگ اور درآمدات کی سہولتیں بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
تاہم ہدایت الرحمٰن سمجھتے ہیں کہ آٹو موٹو انڈسٹری کی موجودہ پیداواری صلاحیت ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ فوری طور پر یہیں مکمل الیکٹرک پارٹس (کے سی ڈی کٹس) کی تیاری شروع کر دی جائے۔ اس عمل میں ایک عرصہ اور بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ تاہم طلب میں حالیہ اضافے کے بعد امکانات ضرور بڑھ رہے ہیں۔
ای بائیکس تیار کرنے والی کمپنی 'ایوی' کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ حمزہ اسد بتاتے ہیں کہ چین سے درآمد ہونے والی سی کے ڈی کٹس وہاں تیار حالت میں محدود پیمانے پر دستیاب ہوتی ہیں جن کی سپلائی میں تاخیر قلت کی وجہ بنی۔
تاہم اب اسمبلرز نے درآمدی آرڈرز بڑھا دیے ہیں اور توقع ہے کہ مئی کے آخر یا جون کے آغاز میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
وہ پُر امید ہیں کہ اگر ٹو ویلر ای ویز کو حکومتی معاونت ملتی رہی تو رواں سال ان کی فروخت پانچ لاکھ یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت 15 مئی 2026




















