گلگت بلتستان میں توانائی کے ایک نئے منصوبے کے تحت مقامی گھرانوں میں مفت سولر پینل تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے پر کافی تیز رفتاری سے کام کیا گیا ہے اور توقع کی جارہی ہے تقسیم کا آغاز اسی ہفتے شروع ہو جائے گا۔
گلگت بلتستان میں آج کل انتخابات کی گہماگہمی ہے۔ اگلے ہفتے 12 مئی کو امیدواروں کی فہرست حتمی ہو جائے گی اور پھر چار ہفتے کی انتخابی مہم کے بعد 7 جون کو علاقے کے تمام 24 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ گویا سولر پینلز کی مفت تقسیم کا آغاز انتخابی مہم کے عین آغاز پر یا اس سے بالکل پہلے ہو گا۔
وزیراعظم پاکستان کی جانب سے سولر پینلز کی مفت تقسیم کے پراجیکٹ کو انتخابات کے پس منظر میں دیکھنا ناگزیر ہے لیکن علاقے کا بجلی کا بحران بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔
محکمہ برقیات گلگت بلتستان (جی بی) نے پچھلے ماہ اعلان کیا کہ گلگت شہر کے ہر محلے کو روزانہ صرف تین گھنٹے 20 منٹ بجلی فراہم کی جائے گی، یعنی 24 گھنٹے میں سے 20 گھنٹے 40 منٹ سپلائی بند رہے گی۔ دارالحکومت کا یہ حال ہے تو باقی شہروں اور قصبات کی صورت حال کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔
جی بی میں تقریباً نصف آبادی کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں جس کی وجہ سے یہاں مجموعی طلب زیادہ سے زیادہ 455 میگاواٹ بتائی جاتی ہے۔ لگ بھگ 60 ہزار میگاواٹ پن بجلی بنانے کی صلاحیت رکھنے والے اس خطے میں صرف 100 میگاواٹ پیدا کی جا رہی ہے۔
ایک تو 355 میگاواٹ کا شارٹ فال، اوپر سے سردیوں میں پانی کی کمی اور پرانی ہائیڈرو تنصیبات کے باعث پیداوار مزید گھٹ جاتی ہے جس سے لوگوں کا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔
گلگت کی رہائشی جویریہ بی بی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کی طالبہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایران پر حملے کے فوری بعد ہی جامعہ نے کلاسز آن لائن کر دی تھیں۔ اب کلاس شروع ہوتی ہے انٹرنیٹ غائب ہو جاتا ہے کیونکہ لوڈشیڈنگ سے فون ٹاورز کی پاور سپلائی معطل ہوتی ہے۔
"روزانہ میری کلاسز کا 60 سے 70 فیصد حصہ انٹرنیٹ آنے جانے میں نکل جاتا ہے۔ پڑھائی خاک ہو گی"
بجلی بحران نے یہاں صرف روزمرہ زندگی کو متاثر نہیں کیا بلکہ یہ خطے میں قدرتی وسائل پر دباؤ اور آلودگی میں روز بروز اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ حکام نے بحران کو حل کرنے میں کافی عرصے تک کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جس سے یہ شدید ہوتا گیا ہے۔

سولر پہ سولر، سونے پر سہاگہ ثابت ہو گا یا نہیں
پچھلے سال وفاقی حکومت نے جی بی میں 100 میگاواٹ کے سولر پراجیکٹس شروع کرنے کی منظوری دی جن میں 20 سولر پارکس کی تعمیر اور سرکاری عمارتوں پر پینلز کی تنصیب شامل تھی۔ ان پر 24 ارب روپے خرچ کیے جانے ہیں۔
اب حکومت نے یہاں پاور ٹرانسمشن انفراسٹرکچر کو اپ گریڈیشن کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایکنک سے رواں ماہ مزید نو ارب روپے کی منظوری لی جائے گی۔ یوں ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 33 ارب روپے ہو جائے گی۔
یہ منصوبے ابھی منظوریوں کے مراحل ہی طے کر رہے تھے کہ وزیراعظم نے کچھ عرصہ قبل اس ریجن میں 58 میگاواٹ کے سولر پینلز تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان میں سے 40 میگاواٹ گھریلو صارفین اور 18 میگاواٹ کے دکانداروں اور آئی ٹی سے وابستہ کاروباروں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
جی بی کے سیکریٹری برقیات صفدر خان بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم پیکج کے تحت مجموعی طور پر ایک لاکھ 30 ہزار سولر پینل فوری اور بلامعاوضہ تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے لیے صوبے کے تمام 10 اضلاع سے درخواستیں طلب کی گئیں جن کے لیے واحد شرط جی بی کا رہائشی ہونا تھی۔
کامیاب امیدواروں کا انتخاب گزشتہ ماہ ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے کر لیا گیا ہے۔
مقامی حکام ان پینلز کے معیار اور تفصیلات سے لاعلم ہیں یا پھر بتانے کو تیار نہیں۔ تاہم سیکریٹری برقیات کا کہنا ہے کہ ہر منتخب گھرانے کو زیادہ سے زیادہ پانچ اور کاروبار سے منسلک افراد (یا دکاندار) کو زیادہ سے زیادہ تین کلو واٹ کے پینلز مفت دیے جائیں گے۔
"گھرانے کے لیے پینلز کی تعداد کا تعین اس کے ارکان اور کاروبار کے لیے اس کی نوعیت دیکھ کر کیا جائے گا جس کی تصدیق سرکاری ٹیمیں کر رہی ہیں۔"

'پالیسی نہ بدلی تو سرکاری سولر پینل بازاروں میں بکیں گے'
پینلز کی تقسیم کا آغاز رواں ہفتے متوقع ہے مگر اس اقدام پر بعض ماہرین شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کچھ رقم بچانے کے چکر میں اچھے کام کو 'خراب' کر رہی ہے جس کی وجہ سے پینلز کا پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے انجینئر عرفان وزیر کہتے ہیں کہ پینلز بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کر کے بیٹری اور انورٹر کے ساتھ دیے جاتے تو سمجھ میں آتا۔ اب محض پینل تقسیم کیے جا رہے ہیں جو غریب آدمی کے لیے کسی کام کے نہیں۔
سیکریٹری برقیات صفدر خان تصدیق کرتے ہیں کہ وزیر اعظم پیکج میں صرف سولر آئے ہیں جن کے ساتھ انسٹالیشن کٹ، بیٹری، کنٹرولر یا انورٹر وغیرہ کچھ نہیں دیا جائے گا۔
ایک ایگزیکٹو انجنئیر واپڈا نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ سولر پینلز کراچی پورٹ پر ضبط کیے گئے تھے جنہیں جی بی میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے معیار کا کوئی اندازہ ہے نہ ہی کوئی وارنٹی۔
"بالفرض یہ ٹھیک بھی ہیں، تب بھی جو لوگ بجلی کا معمولی بل دینے کی سکت نہیں رکھتے، ان سے ہم کیسے توقع کرتے ہیں کہ وہ انورٹر اور بیٹریوں پر لاکھوں روپے خرچ کر کے پینلز اپنے گھروں پر لگائیں گے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت نے پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو یہ سرکاری سولر پینل کچھ روز میں بازاروں میں بکتے نظر آئیں گے۔
نگران وزیر برقیات جی بی ممتاز حسین نے اس تنقید کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پینلز عوام کے لیے وزیراعظم کا ریلیف پیکج ہے جس پر عمل درآمد کا ہر مرحلہ اعلانیہ اور شفاف انداز میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

'پورا خطہ بجلی کے چھوٹے بڑے منصوبوں کا قبرستان بنا ہوا ہے'
زیرالتوا سولر منصوبوں کے حوالے سے سیکریٹری برقیات بتاتے ہیں کہ 100 میگاواٹ میں سے سرکاری عمارتوں کے لیے تقریباً 12 میگا واٹ کے روف ٹاپ پینلز کا ورک آرڈر جاری ہو چکا ہے جبکہ 18 میں سے باقی چھ میگاواٹ پر کام جاری ہے۔
وہ پراُمید ہیں کہ باقی 82 میگاواٹ کے سولر پارکس جلد مکمل ہوں گے۔ انفراسٹرکچر کے لیے نو ارب روپے کی ایکنک سے بروقت منظوری مل گئی تو یہ منصوبہ بھی دسمبر 2027ء تک مکمل ہو جائے گا۔
"آئندہ سال کے آخر تک ہم سولر بجلی اور ہائیڈرو پاور کو ملا کر علاقے کی ضرورت پوری کر لیں گے۔"
توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے انجینئر عرفان وزیر سمجھتے ہیں کہ جی بی کا بنیادی مسئلہ پائیدار پاور پالیسی نہ ہونا ہے۔ "حکومت کبھی ہائیڈرو تو کبھی تھرمل جنریٹرز یا سولر منصوبوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔ پہلے یہ ابہام ختم کریں"۔
یہاں نلتر، ہینزل پاور، عطا آباد، غواڑی ہائیڈرو پراجیکٹ اور دیامر بھاشاڈیم برسوں سے زیر التوا ہیں۔ پورا خطہ چھوٹے بڑے منصوبوں کا قبرستان بنا ہوا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ریجن میں پانچ گرڈ سٹیشنز بنائے جارہے ہیں مگر بجلی کی پیداوار ہے ہی نہیں۔ حکومت کی یہی روش رہی تو اربوں خرچ ہو جائیں گے مگر بجلی بحران برقرار رہے گا۔
"اب سولر منصوبوں کے لیے کوئی سٹڈی تک نہیں کرائی گئی کہ تیز ہواؤں، بارش برفباری اور سیلابی خطرات میں گِھرا یہ علاقہ روف ٹاپ پینلز کے لیے مناسب ہے بھی یا نہیں۔"
نگران وزیر برقیات ان خدشات کو درست نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ سولر کے لیے یہاں سورج کی روشنی نہ صرف بہتر بلکہ نہایت موزوں ہے۔ مفت پینلز کے ساتھ سرکاری عمارتوں پر بھی 18 میگاواٹ کے روف ٹاپ پینلز نصب کیے جا رہے ہیں جس سے ہائیڈرو بجلی پر دباؤ کم ہو گا۔
تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ جی بی میں پرانے پاور ہاوسز اور ٹرانسفارمرز کئی سال سے مرمت پر چل رہے ہیں، بعض کے تو سپیئر پارٹس بھی نہیں ملتے۔
"اب ریجنل گرڈ اور انفراسٹرکچر پر کام ہو رہا ہے۔ اس سے ہمیں سولر پیداوار اور دیامر بھاشا ڈیم سے ملنے والی 300 میگاواٹ بجلی تقسیم کرنے میں مدد ملے گی۔"

پراجیکٹ ڈائریکٹر سولر کی تعیناتی پر اٹھتے سوال
وفاقی سولر منصوبوں کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر (پی ڈی) کی مجوزہ تعیناتی پر محکمہ برقیات کے افسران ابھی سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ایک افسر کا کہنا تھا کہ اشتہار سے لگتا ہے پی ڈی کی اسامی کسی مخصوص شخص کو نوازنے کے لیے مشتہر کی گئی تھی۔ سرکاری اہلکار 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں مگر یہاں عمر کی حد 63 سال رکھی گئی جس پر پیپرا نے بھی اعتراض کیا۔ "امیدوار کے لیے سولر پراجیکٹ کا تجربہ لازم ہونا چاہیے تھا لیکن اشتہار میں اس کا ذکر تک نہیں تھا"۔ تاہم پراسس مکمل ہونے کے باوجود پی ڈی کا تقرر نہیں ہو سکا۔
نگران وزیر برقیات ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی زیادہ سے زیادہ عمر 63 سال ہونا کوئی نئی بات نہیں نہ ہی کسی کو نوازا جا رہا ہے۔ اس عہدے پر تعیناتی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
تاریخ اشاعت 6 مئی 2026



















