باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

postImg

جئہ پرکاش

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

جئہ پرکاش

loop

انگریزی میں پڑھیں

نصف کروڑ آبادی پر مشتمل ہندو کمیونٹی پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے اور اس برادری کی شادی شدہ بیٹیوں کو خاندانی وراثت اور مرحوم باپ کی جائیداد سے حصہ نہیں دیا جاتا۔ محض اس لیے کہ ملک خدا داد میں ان کے لیے وہی صدیوں پرانا فرسودہ نظام رائج ہے جو بیٹی کو وارث مانتا ہی نہیں۔

ہندو قانونِ وراثت مجریہ 1929ء برطانوی راج کے ان قوانین میں سے ایک ہے جنہیں پاکستان میں آزادی کے بعد کوئی ترمیم کیے بغیر لاگو کر لیا گیا تھا۔ اس پر ملکی عدالتوں کو بھی نہ صرف کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ پرانے فیصلوں کی 'روشنی' میں ہی نئی مثالیں قائم کرتی جا رہی ہیں۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ معاملات صوبوں کے ذمہ ہیں۔ ہندوں کی سب سے زیادہ تعداد سندھ میں ہے لیکن وہاں بھی ایسا کوئی قانون نہیں جو بیٹیوں کو اپنے باپ کی جائیداد سے حصہ دلوا سکے۔

مومل بھیل، تحصیل اسلام کوٹ (تھرپارکر) کی رہائشی ہیں۔ وہ اپنے والد لدھو بھیل کی پانچ بیٹیوں میں سے تیسرے نمبر پر ہیں۔ وہ سب شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے سسرال میں رہتی ہیں۔

مومل بتاتی ہیں کہ ان کے والدین کا گھر اور والد کی 180 ایکڑ بارانی زمین  گاؤں ملھو بھیل میں ہے۔ والد کا انتقال ہوا تو چچا کے بیٹوں نے ان (مومل) کی والدہ کو گھر سے نکال دیا اور پوری جائیداد پر قبضہ کر لیا ہے۔ 

"ہم (پانچوں بہنوں) نے اپنا حصہ مانگا تو انہوں نے دھتکار دیا۔ والدہ ہماری چھوٹی بہن کے گھر رہنے پر مجبور ہیں۔ ہم نے اسسٹنٹ کمشنر اسلام کوٹ اور تحصیل دار کو درخواست دی تو جواب ملا کہ آپس میں فیصلہ کر لیں یا ہم وہیں آکر معاملہ دیکھیں گے۔

کیس کا پتا چلنے پر ہمارے چچا زادوں نے ابو کی زمین بیچ دی۔ اب ہمارے پاس خاموش رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔"

بیٹیوں کے وراثت میں حصے کے درجنوں دعوے عدالتوں میں ہیں

کیول مینگھواڑ تھر کول پراجیکٹ میں آنے والے گاؤں وروائی کے رہائشی تھے۔ جیئاں بائی ان کی اکلوتی اولاد ہیں۔ کیول مینگھواڑ کی بیوی کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، بیٹی اور داماد کو اپنے گھر میں رکھ لیا اور کچھ عرصے بعد خود بھی چل بسے۔

جیئاں بائی بتاتی ہیں کہ کول کمپنی نے جب گاؤں خالی کرایا تو متاثرین کو ان کے گھروں اور زمینوں کا معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا پتا چلتے ہی ان کے چچا کے بیٹوں نے انہیں شوہر کے ساتھ سسرالی گاؤں چلے جانے کا حکم دے دیا۔

"میں نے کہا کہ میں اپنے والد کی اکلوتی وارث ہوں اور گھر کا معاوضہ میں ہی لوں گی۔ اس پر انہوں (چچا زادوں) نے میرے شوہر پر جھوٹے مقدمے کر دیے اور ہمیں نکال کر ہمارے گھر کا معاوضہ خود لے لیا۔ اب میں کچھ نہیں کر پارہی۔"

وائس چیئرپرسن ضلع کونسل کملا بھیل تصدیق کرتی ہیں کہ تھرپارکر خاص طور کول پراجیکٹ ایریا کے ایسے درجنوں کیس عدالتوں میں زیرِالتو ہیں جو بیٹیوں نے اپنا وراثتی حق لینے کے لیے دائر کر رکھے ہیں۔

"بے چار ی پیشیاں بھگت رہی ہیں۔ لوگ ہمارے پاس بھی شکایتیں لے کر آتے ہیں لیکن ہندو وراثتی قانون نہ ہونے کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔"

بھگوان داس بھیل ایڈووکیٹ بتاتے ہیں کہ سندھ میں ہندو میرج ایکٹ 2016ء نے شادی، طلاق سمیت خواتین کے کچھ حقوق کو تسلیم کیا لیکن وراثت کا کوئی جامع قانون موجود نہیں ہے۔

"ہندو خواتین کے کیسز میں ملکی عدالتیں عام طور پر روایتی ہندو اصولوں یا برطانوی دور کے قانون کے تحت فیصلے دیتی ہیں جو مردوں کے ہی حق میں جاتے ہیں۔"

شادی شدہ بیٹیاں ماں کی زندگی میں والد کی جائیداد میں حصہ کی حقدار نہیں

بھگوان داس بھیل پچھلے سال (چھ مارچ) کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں سندھ ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس کے تحت شادی شدہ ہندو خاتون کو اپنے مرحوم والد کی جائیداد کا جائز حصے دار قرار دیا گیا تھا۔

عدالت عالیہ نے مذکورہ حکم شریمتی سرسوتی دیوی کی درخواست پر جاری کیا جنہوں نے ماتحت عدالت کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر کھیم چند کے پسماندگان میں تین بیٹیاں، دو بیٹے اور ایک بیوہ (خود) شامل ہیں۔ ہندو قانون کے تحت شادی شدہ بیٹیاں اپنی ماں کی زندگی میں اپنے والد کی جائیداد میں حصہ لینے کی حقدار نہیں ہوتیں۔

'دو بیٹیوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا جبکہ تیسری بیٹی نے اعتراض کیا تو ٹرائل کورٹ نے ہندو قانون کے برعکس اسے حصہ دے دیا۔'

درخواست گزار کی بیٹی کا مؤقف تھا کہ وہ آنجہانی کھیم چند کی بیٹی ہونے کے ناتے وراثت میں اپنے جائز حصے کی حقدار ہیں۔ ملکی آئین جنس، ذات، مذہب یا نسل کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر برابری کی ضمانت دیتا ہے، آئین سے متصادم ہر قانون کالعدم تصور کیا جاتا ہے۔

"ٹرائل کورٹ کا فیصلہ آئینی اصولوں کے مطابق ہے جو خواتین کے حقوق کا تحفظ اور صنفی امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔"

مدعا علیہ (بیٹی) کے وکیل نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی نظیر پیش کی جس کے تحت بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر وراثت کا حق دیا گیا ہے۔

تاہم سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست نہیں پاکستان میں ہندو برادری پر لاگو قوانین اور روایات کی تشریح پاکستانی قانونی دائرہ کار کے اندر ہی کی جانی چاہیے۔

لہٰذا وراثتی سرٹیفکیٹ صرف مرحوم کے بیٹوں، بیوہ اور پوتے پوتیوں کے نام جاری کیا جائے گا، شادی شدہ بیٹیوں کو اس سے خارج رکھا جائے گا۔

جب چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بیٹی بھی وراثت کے حق سے محروم رہیں

پنجاب میں ابھی تک ہندو قانونِ وراثت مجریہ 1929ء نافذ ہے جبکہ سندھ میں کبھی بھارتی ہندو سکسیشن ایکٹ 1956ء تو کبھی ہندو قانونِ وراثت مجریہ 1929ء اور ہندو وومین رائیٹ ٹو پراپرٹی ایکٹ 1937ء سے مدد لی جاتی ہے۔

سرسوتی دیوی کیس کے فیصلے میں عدالت عالیہ نے واضح کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں مِتاکشرا اصول کا غلط اطلاق کیا۔ میتاکشرا کے تحت بیٹیاں ماں کی زندگی میں والد کی جائیداد میں حصہ لینے کی حقدار نہیں ہوتیں، ان کا حق وراثت صرف ماں کے انتقال کے بعد پیدا ہوتا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بیوہ رتنا بھگوان داس کی پٹیشن پر بھی ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔ آنجہانی کی بیٹی مسز انیتا کماری والد کی وراثت سے محروم رہیں جبکہ بیوہ (درخواست گزار) اور ان کے دو بیٹے جائیداد کے حقدار قرار پائے۔

برصغیر میں ہندو قانون وراثت دو بڑے ثقافتی و روایتی اصولوں سے ماخوذ تھا جو 'مِتاکشرہ' اور 'دیا بھاگا' کہلاتے ہیں۔ دیا بھاگا نظام بنگال اور ملحقہ علاقوں میں رائج تھا اور مِتاکشرہ بھارت کے شمالی و مشرقی حصوں اور موجودہ پاکستانی علاقوں میں رائج رہا۔ اس کے تحت بیٹی کو خاندانی جائیداد میں حصہ دار نہیں مانا جاتا تھا۔ صرف بیوہ کو شوہر کی وفات کے بعد حصہ مل سکتا ہے اور وہ بھی محدود ہوتا تھا۔

پدرسری زرعی سماجی روایات کے حامل مذکورہ دونوں نظام بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرتے ہیں۔ بھارت نے 2005ء میں ان روایتی ضابطوں کو سکسیشن ایکٹ سے بدل دیا مگر پاکستان میں ابھی تک انہیں بوسیدہ رسومات پر مبنی فیصلے جاری ہیں۔

ایڈووکیٹ بھگوان داس مذکورہ روایات کی یوں وضاحت کرتے ہیں: "ہندو کمیونٹی میں شادیاں خون کے رشتوں میں نہیں کی جاتیں۔ اس لیے جہیز ہی کو بیٹی کا حصہ قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ وراثتی زمین اور گھر تقسیم نہ ہو۔"

'ہماری بیٹیوں کو جلد خوشخبری ملے گی'

گذشتہ ماہ سندھ اسمبلی کے پارلیمانی ورکنگ گروپ ( مینارٹی پارلیمانی کاکس) کا گیان چند ایسرانی کی زیر صدارت اجلاس ہوا تو اس میں مسیحی میرج کے ساتھ ہندو وراثتی قوانین بھی زیر غور آئے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شام سندر آڈوانی، ڈپٹی سپیکر انتھونی نوید، رانا ہمیر سنگھ سمیت اقلیتی ارکان اسمبلی، سیکریٹری اقلیتی امور و دیگر حکام کے ساتھ نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (این ایل ڈی) فار منارٹی رائیٹس کے ممبران بھی موجود تھے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ مبہم ہندو وراثتی قوانین کے سبب جائیداد کی تقسیم میں بیٹیوں سے بہت زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ بحث کے دوران کئی تجاویز سامنے آئیں جس پر گیانچند ایسرانی نے محکمہ قانون کو ہدایت کی کہ قانونی مسودہ تیار کر کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے تاکہ قانون سازی کی جانب پیش رفت ہو سکے۔

این ایل ڈی کے رکن کرشن شرما جو پاکستان ہندو مندر مینیجمینٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں بتاتے ہیں کہ پڑوسی ملک جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ہندو آبادی ہے وہاں 2005ء میں جامع وراثتی قانون بن چکا ہے جس میں بیٹے اور بیٹی کو باپ کی جائیداد کا مساوی حصے دار قرار دیا گیا ہے۔

"ہم یہ چاہتے ہیں ہماری بیٹیوں کو بھی برابر کا حق ملے۔ ہم ایسے قانونی مسودے پر کام کر رہے ہیں جو ہندو پنچائیتوں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اسمبلی میں پیش کرایا جائے گا۔ امید ہے ہماری بیٹیوں کو جلد خوشخبری ملے گی۔"

تاریخ اشاعت 30 اپریل 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جئہ پرکاش مورانی تیس سالوں سے صحافت کر رہے ہیں۔ وہ سندھی اخبار "عبرت" کے سینیئر نیوز ایڈیٹر ہیں۔

thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.