بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

postImg

عاصم احمد خان

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

عاصم احمد خان

loop

انگریزی میں پڑھیں

بلوچستان میں رجسٹرڈ زرعی ٹیوب ویلوں کو گرڈ سے سولر پر منتقلی کا عمل لگ بھگ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ یہ منصوبہ بلوچستان انرجی ڈیپارٹمنٹ نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) اور زمیندار ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومت نے 20 ماہ قبل ان 27 ہزار 437 رجسٹرڈ زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کا منصوبہ شروع کیا تھا جو کیسکو کے قانونی کنکشن پر چل رہے تھے۔ لگ بھگ 55 ارب روپے کے اس پروگرام کے لیے 70 فیصد رقم وفاقی اور 30 فیصد صوبائی حکومت نے دی۔

زرعی سولرائزیشن کا پلان سب سے پہلے وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے مارچ 2022ء میں گردشی قرضوں پر قابو پانے کے سلسلے میں ورلڈ بینک کو پیش کیا تھا۔ اس کے لیے مالی معاونت بھی مانگی تھی مگر عالمی ادارہ صرف پائلٹ پراجیکٹ اور تکنیکی تعاون پر ہی رضامند ہوا تھا۔

بعد ازاں حکومت نے یہ کام خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلوچستان کو پہلی ترجیح بنایا گیا کیونکہ وہاں بلنگ اور وصولیوں کے درمیاں فرق زیادہ تھا۔ زرعی صارفین کو ناں صرف 23 ارب روپے سالانہ سبسڈی دینا پڑ رہی تھی بلکہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، غیر یقینی سپلائی اور بجلی چوری جیسے سنگین مسائل بھی درپیش تھے۔

جولائی 2024ء میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان معاملات طے پائے جس کے فوری بعد رجسٹرڈ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے لیے کاشت کاروں کو براہِ راست 20، 20 لاکھ روپے کی مرحلہ وار تقسیم کا کام شروع کر دیا گیا۔

اب پانچویں اور آخری مرحلے میں ایک ہزار 243 زرعی صارفین کو دو ارب 48 کروڑ 60 لاکھ روپے کے چیک جاری کیے جا چکے ہیں۔

حکومت بلوچستان کے مطابق تقریباً 27 ہزار زرعی صارفین کی سولر پر منتقلی کا عمل کامیابی سے مکمل ہونے کے قریب ہے۔ تاہم دعووں کے برعکس کیسکو اور محکمہ توانائی بلوچستان مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

'کیسکو کے لوڈ میں 200 سے 250 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے'

حاجی عبدالواحد، قلعہ سیف اللہ کے علاقے مرغہ کبزئی کے کاشت کار ہیں۔ وہ 25 ایکڑ پر گندم، زیرہ، پیاز اور موسمی سبزیاں کاشت کرتے ہیں جس کی آبپاشی کے لیے انہوں نے بجلی پر چلنے والا ٹیوب ویل لگا رکھا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ روزانہ 20/ 21 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی، بعض اوقات تو کئی کئی دن بجلی غائب رہتی تھی۔ نتیجتاً ایک تو فصل کو نقصان پہنچتا تھا اور اوپر سے ماہانہ 60 سے 80 ہزار روپے بل بھی دینا پڑتا تھا۔ اب حکومتی پروگرام کے تحت رقم ملنے کے بعد انہوں نے اپنے ٹیوب ویل کو سولر پر منتقل کر لیا ہے۔

"میری بھاری بلوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ گئی۔ روزانہ لگ بھگ آٹھ گھنٹے بلاتعطل بجلی بھی میسر ہوتی ہے البتہ سردیوں اور گرد آلود موسم میں اس کی کارکردگی نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ تاہم پانی کی کمی کا خوف ختم ہو گیا ہے۔"

کیسکو ترجمان افضل بلوچ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں بجلی کی مجموعی طلب لگ بھگ ایک ہزار200 میگاواٹ بنتی ہے مگر قومی گرڈ سے اوسطاً 600 سے 650 میگاواٹ فراہم کی جاتی رہی ہے۔ دستیاب بجلی کا زیادہ تر حصہ یعنی تقریباً 350 میگاواٹ زرعی صارفین استعمال کرتے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سولرائزیشن اور زرعی ٹیوب ویلوں کے گرڈ سے منقطع ہونے کے بعد کیسکو کے لوڈ میں 200 سے 250 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرعی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کی بچت کے ساتھ بلوں کی عدم ادائیگی میں بھی نمایاں کمی آ رہی ہے۔

ان کے بقول گرڈ پر دباؤ کم ہونے کے نتیجے میں نظام کی کارکردگی اور استحکام میں بہتری آئی ہے جس کا براہِ راست فائدہ گھریلو صارفین کو ہو رہا ہے۔ ٹرپنگ، فالٹس اور لوڈشیڈنگ میں بھی پہلے کے مقابلے میں کمی آ رہی ہے۔

بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ اچھا سولر ٹیکنیشن کہیں دستیاب نہیں

پشین کے گاؤں بٹہ زئی کے کاشت کار حاجی رحمت اللہ نے طویل عرصہ قبل مالی معاونت کے لیے ٹیوب ویل سولرائزیشن پروگرام میں درخواست دی تھی۔ انہیں شکایت ہے کہ آج تک نہ تو انہیں رقم ملی اور نہ ہی کوئی ٹیم ان کے ٹیوب ویل کا معائنہ کرنے آئی۔

کیسکو ترجمان کے مطابق صوبے میں اب تک 26 ہزار 921 زرعی صارفین کو مجموعی طور پر 53 ارب 78 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 516 کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔

کاشت کار تنظیم 'زمیندار ایکشن کمیٹی' کے رہنما خالد حسین باٹھ تصدیق کرتے ہیں کہ کچھ کسانوں کو بروقت ادائیگی نہیں ہو پائی۔ اس کی وجہ ڈیٹا انٹری میں غلطیاں، بینک میں نامکمل یا غلط معلومات کا اندراج اور فزیکل معائنہ ٹیموں کے کام کی تاخیر ہے۔

"انتظامی مسائل کے ذمہ دار کسان نہیں ہیں مگر پشین جیسے پانی کی قلت والے علاقوں میں اس کا براہِ راست اثر ان کی فصلوں پر پڑ رہا ہے۔"

یہ بھی پڑھیں

postImg

سولر توانائی کی صلاحیت: کیا بلوچستان واقعی 'سونے کا اںڈا دینے والی مرغی" ہے؟

وہ کہتے ہیں کہ کئی کسانوں کو شکایات ہے کہ ان کے کیس نمبر، شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات وغیرہ میں معمولی غلطی پر بھی رقم روک دی گئی۔ ان رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جانا ضروری ہے۔

کاشت کار عبدالواحد نے سولر ٹیوب ویل مالکان کو درپیش ایک اور مسئلے کی نشاندہی کی جس کا حال ہی میں انہیں سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں انورٹر یا سولر سسٹم کی مرمت کرنے والا کوئی نہیں۔ ایک بار ان کا سسٹم گڑبڑ کرنے لگا تو انہیں کوئٹہ سے پہلے کوئی اچھا سولر ٹیکنیشن دستیاب ہی نہیں ہوا۔

اگر حکومت کچھ لوگوں کو سولر سسٹمز کی تربیت فراہم کر دے تو کسانوں کی مشکل حل ہو جائے گی۔

سولر کی رقم مل گئی مگر ٹیوب ویل گرڈ پر چل رہا ہے

ضلع سبی میں لہڑی کے کاشت کار محمد اسلم بھی کچھ ماہ پہلے حکومتی رقم وصول کر چکے ہیں مگر انہوں نے تاحال اپنے ٹیوب ویل کو سولر پر منتقل نہیں کیا۔ وہ بدستور گرڈ کی بجلی استعمال کر رہے ہیں اور بھاری بل ادا کیے جا رہے ہیں۔

وہ شکوہ کرتے ہیں کہ حکومت نے سولر پینلز، انورٹر و دیگر سامان کی خریداری کے لیے کسی قسم کی تکنیکی معاونت کی نہ ہی سولر سپلائرز کی کوئی فہرست جاری کی ہے۔ ڈر ہے کہیں غیرمعیاری سولر سسٹم خرید لیا تو سرمایہ ضائع ہو جائے گا۔

تاہم محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ نقد رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار کسانوں کے فائدہ کے لیے اپنایا گیا۔ اس سے وہ اپنی زمین اور پانی کی ضرورت کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب بہتر سولر سسٹم کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

اب محمد اسلم کو یہ دھڑکا بھی لگا ہوا ہے کہ کسی دن اچانک کیسکو نے بجلی کا کنکشن کاٹ دیا تو انہیں عارضی طور پر ڈیزل انجن چلانا پڑے گا جس سے خرچ مزید بڑھ جائے گا۔

واضح رہے ٹیوب ویل سولرائزیشن منصوبے کے بنیادی مقاصد میں کیسکو پر نقصانات کا بوجھ کم کرنا، بجلی چوری کی روک تھام، بل وصولیوں کو بہتر بنانا اور کسانوں کو دن میں بلاتعطل بجلی کی سہولت فراہم کرنا شامل تھا۔

ان مقاصد کے پیش نظر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدے میں طے پایا تھا کہ سولرائزیشن کی رقم جاری ہوتے ہی متعلقہ ٹیوب ویل کا گرڈ کنکشن کاٹ دے گا اور کسان ٹرانسفارمر و دیگر الیکٹریکل آلات کیسکو کے حوالے کر دیں گے۔

"اگر اس فیڈر پر گھریلو صارفین نہیں ہیں تو یہاں سے ہائی ٹرانسمشن پولز بھی اکھاڑ لیے جائیں گے تاکہ دوبارہ غیرقانونی کنکشن لگانے یا بجلی چوری کا احتمال نہ رہے۔" 

8 ہزار زرعی صارفین کے خلاف کاروائی کے لیے کیسکو کی درخواست

کیسکو نے کسانوں میں رقوم کی تقسیم کے ساتھ ہی زرعی کنکشنز کو گرڈ سے منقطع کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ تاہم ترجمان اعتراف کرتے ہیں کہ اب پانچویں مرحلے کی تکمیل اور 26 ہزار 921 کاشت کاروں کو ادائیگی کے بعد وسط مارچ تک صرف ساڑھے 14 ہزار کے قریب (53 فیصد) ٹیوب ویل کنکشن ہی کاٹے جا سکے ہیں۔

اگرچہ کیسکو پر 250 میگاواٹ تک لوڈ ، لائن لاسز کے ساتھ بجلی چوری کی شرح اور غیر قانونی کنکشنز کے امکانات کم ہونے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن اب بھی 43 فیصد قانونی زرعی کنکشنز ہٹانے اور برقی تنصیبات اتارنے کا کام باقی ہے۔

ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے تحت زمینداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے زرعی ٹرانسفارمرز وغیرہ کیسکو کے حوالے کریں مگر اس سلسلے میں زرعی صارفین مکمل تعاون نہیں کر رہے۔

"اس مقصد کے لیے ہم نے آٹھ ہزار 398 زرعی صارفین کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تحریری مراسلے ارسال کر دیے ہیں۔"

واضح رہے صوبائی حکومت سولرائزیشن منصوبے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کرانے کے لیے'بلوچستان زرعی سولرائزیشن اینڈ انسداد بجلی چوری ایکٹ 2025ء' کے نام سے ایک قانون بھی منظور کر چکی ہے۔

اس قانون کے تحت سولر کی سہولت حاصل کرنے والے زرعی صارف کے لیے گرڈ کنکشن ممنوع ہو گا۔ اگر کوئی ایسا صارف بجلی چوری کا مرتکب پایا گیا تو اسے کم از کم 20 لاکھ روپے جرمانہ یا ایک سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

"بجلی کے آلات کی ضبطی کے علاوہ حلف نامے کی خلاف ورزی (کریمنل بریچ آف ٹرسٹ) پر تین سال تک قید ہو سکتی ہے۔"

کیا غیر قانونی کنکشن والے ٹیوب ویلز اب بھی چل رہے ہیں

ایگرکلچر سنسس 2024ء بتاتا ہے کہ بلوچستان میں کل زیرکاشت رقبہ ساڑھے 77 لاکھ ایکڑ ہے جس میں 23لاکھ 23 ہزار ایکڑ نہری نظام اور باقی 54 لاکھ 27 ہزار ایکڑ رقبہ ٹیوب ویلز، برساتی بندات، رودکوہیوں یا پمپ وغیرہ کے ذریعے کاشت ہوتا ہے۔

صوبے میں 24 لاکھ 70 ہزار ایکڑ اراضی صرف ٹیوب ویلز سے سیرآب کی جاتی ہے جبکہ نہری رقبے میں سے لگ بھگ چار لاکھ ایکڑ رقبے کو بھی پانی کم میسر ہونے کے باعث ٹیوب ویلز کی ضرورت پڑتی ہے۔

بلوچستان حکومت کے مطابق صوبے میں 2024ء میں آبپاشی کے لیے مجموعی طور پر 77 ہزار 89 ٹیوب ویل موجود تھے۔ ان میں سے 27 ہزار 437 ٹیوب ویل کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے قانونی کنکشن پر چل رہے تھے جو محکمہ زراعت میں رجسٹرڈ تھے جبکہ 10 ہزار 263 غیرقانونی تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ناں صرف یہ غیر قانونی کنکشن والے ٹیوب ویلز اب بھی موجود ہیں بلکہ باقی 39 ہزار سے زائد ٹیوب ویل بھی ڈیزل، ٹریکٹر وغیرہ استعمال کر رہے ہیں۔ ممکن ہے بعض کسانوں نے کچھ ٹیوب ویل ذاتی خرچ پر سولر پر منتقل کر لیے ہوں مگر بیشتر اتنا سرمایہ لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

تاریخ اشاعت 13 اپریل 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عاصم احمد کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2015 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔وہ ہیومن رائیٹس، ماحولیات، اکانومی اور انتہاپسندی پر رپورٹ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.