درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

postImg

مہرین برنی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

مہرین برنی

loop

انگریزی میں پڑھیں

"پہلے میرے پاس اتنا کام ہوتا تھا کہ مجھے دوسری عورتیں کام پر رکھنا پڑتی تھیں لیکن اب میں زیادہ تر فارغ رہتی ہوں۔" یہ کہنا تھا لاہور کی 50 سالہ رضیہ بی بی (درخواست پر نام بدل دیا گیا ہے) کا جو گھر میں کپڑے سینے کا کام کرتی ہیں۔

وہ ایک دیہاڑی دار مزدور کی بیوی ہیں جن کا گھر نہایت محدود بجٹ پر چلتا ہے۔ وہ شکوہ کرتی ہیں کہ اب لوگ زیادہ تر سادہ سلائی کا کام لاتے ہیں جبکہ پہلے وہ شادیوں کے لیے لہنگے، شرارے اور ہر قسم کے فینسی لباس بھی سیتی تھیں۔ اس موسم سرما میں رضیہ کو صرف دس دن کا ہی کام ملا۔ انہیں آس ہے کہ گرمیوں میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔

پاکستان میں درزی کا پیشہ بھی بہت سے دوسرے شعبوں کی طرح تبدیلی کے گرداب میں ہے۔

مردم شماری 2023ء کے ساتھ پہلی بار معیشت شماری (اکنامک سنسس) بھی کی گئی۔ اس کے مطابق ملک کا ہر چوتھے خاندان (28.4 فیصد) کوئی نہ کوئی 'گھریلو معاشی سرگرمی' کرتا ہے۔ ان ایک کروڑ نو لاکھ گھرانوں میں سے 51.35 فیصد تو گھروں میں مویشی بانی کرتے ہیں۔

مویشی بانی کے علاوہ جو کام سرفہرست ہے وہ ہے کپڑوں کی سلائی۔ گھریلو معاشی سرگرمیاں کرنے والے 3.85 فیصد گھرانے یہی کام کرتے ہیں۔

معیشت شماری کے مطابق ملک کے چار لاکھ 19 ہزار 533 گھرانے سلائی کا کام کرتے ہیں جبکہ ایک لاکھ 48 ہزار 366 (1.36 فیصد) کشیدہ کاری کو بطور گھریلو معاشی سرگرمی انجام دیتے ہیں۔

یہاں 'گھریلو معاشی سرگرمی' کی اصطلاح دراصل خواتین کے کام پر پردے ڈالنے کی ایک عامیانہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ مویشی پالنے کے بہت سے کام خواتین انجام دیتی ہیں اور 'گھریلو معاشی سرگرمیوں' کی فہرست میں شامل دیگر تمام ہی کام جیسے کڑھائی، سموسے اور مربے بنانا کلیتاً خواتین کے ہی کام ہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سلائی کے کام سے وابستہ چار لاکھ 19 ہزار 533 'گھرانے' دراصل رضیہ بی بی جیسی 'درزنیں' ہی ہیں۔ یہ ملک کے کل تین کروڑ 83 لاکھ گھرانوں کا 1.09 فیصد بنتی ہیں۔

دوسرے لفظوں میں پاکستان کے ہر سو میں سے ایک گھر میں درزن موجود ہے۔

'رمضان آ گیا اور ہم ابھی تک گاہکوں کے منتظر ہیں'

مرد درزی عموماً دکانوں سے کام کرتے ہیں اور اکنامک سنسس میں انہیں علیحدہ 'شاپ سروسز' کے کھاتے میں شمار کیا گیا ہے جس میں حجام، درزی اور دیگر خدمات مہیا کرنے والے شامل ہیں۔ ایسی دکانوں کی کل تعداد آٹھ لاکھ 25 ہزار 254 گنی گئی۔ ان میں سے اگر نصف کو درزی کی دکانیں فرض کر لیا جائے تو ملک میں درزیوں اور درزنوں کی تعداد تقریباً برابر معلوم ہوتی ہے۔

رضیہ بی بی کا ماننا ہے کہ ان کے کاروبار میں کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اب لوگ سلے سلائے (ریڈی میڈ) کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ بیشتر مرد درزی بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے محمد شبیر 25 برس سے درزی کا کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رمضان آ گیا ہے اور وہ ابھی تک گاہکوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، عید سے دو ماہ پہلے ہی درزی مصروف ہو جایا کرتے تھے۔

"لوگ سلائی کی اجرت جتنی قیمت میں ریڈی میڈ کپڑا خرید لیتے ہیں حالانکہ یہ معیار میں کمتر ہوتے ہیں اور بس ایک ہی سیزن میں پہننے کے قابل ہوتے ہیں۔"

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ بازار سے خود خریدا گیا کپڑا اور درزی کی سلائی، دونوں ریڈی میڈ کے مقابلے میں اعلیٰ اور زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔

"لیکن (ریڈی میڈ) خریدنا آسان ہے اور اس نے یقیناً ہمارے کام کو متاثر کیا ہے۔"

حیدرآباد کے عمران ارائیں 2009ء سے کپڑے سی رہے ہیں۔ ان کے اندازے میں درزیوں کا کام اب پہلے کے مقابلے میں صرف 30 فیصد رہ گیا ہے۔

لوک سجاگ نے لاہور، اسلام آباد، حیدرآباد اور ملتان کے درزیوں سے بات کی جن میں سے اکثر کی رائے یہی ہے کہ گزشتہ پانچ سے دس برسوں میں ان کے کاروبار کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فاسٹ فیشن کیسے ہماری ملبوساتی روایات بدل رہا ہے؟

ان سلے کپڑے خرید کر محلے کے درزی یا درزن سے سلوانا ہماری ایک پرانی روایت رہی ہے۔ پہلے لباس کا شمار عام استعمال کے ان اشیاء (فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز) میں نہیں ہوتا تھا جنہیں آپ آئے روز خریدتے رہتے ہیں۔ لوگ عید، شادی بیاہ یا کسی خاص موقع پر ہی نئے کپڑے بنواتے تھے اور انہیں خریدتے وقت ان کی پائیداری اگر اولین نہیں تو نمایاں ترجیح ضرور ہوا کرتی تھی۔ کپڑے آسانی سے ضائع بھی نہیں کیے جاتے تھے بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل یا بڑے بہن بھائیوں سے چھوٹوں کو منتقل ہو جاتے تھے۔

ہماری ملبوسات کی روایات پچھلے لگ بھگ 25 برسوں میں تیزی سے بدلی ہیں۔ اب روایات کی جگہ اس رجحان نے لے لی ہے جسے 'فاسٹ فیشن' کہا جاتا ہے۔

ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2001-02 ء کے مطابق پاکستانی اپنے ماہانہ ملبوساتی بجٹ (تکنیکی اصطلاح میں جسے 'صرفی اخراجات' کہا جاتا ہے) کا صرف 13 فیصد سلے سلائے کپڑوں پر خرچ کرتے تھے جبکہ 68 فیصد (دو تہائی) ان سلے کپڑوں پر خرچ ہوتا تھا۔ سروے میں استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ، لنڈا وغیرہ) کپڑوں کو بھی سلے سلائے کپڑوں کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ ان کو بھی سلوانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ سروے چند سالوں کے وقفے سے مسلسل ہوتا رہا ہے اور اس کے تازہ ترین (2024-25) ایڈیشن نے پہلے سے بالکل ہی مختلف تصویر کی ہے۔ اب پاکستانی اپنے ماہانہ ملبوساتی بجٹ کا 42 فیصد سلے سلائے کپڑوں پر خرچ کر رہے ہیں جو 25 سال پہلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

اس برس یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سلے سلائے کپڑوں پر خرچ ان سلے کپڑوں سے زیادہ کیا گیا ہے یعنی سلے سلائے کپڑوں پر خرچ 42.08 فیصد اور ان سلے پر 39.52 فیصد۔

یہ اعداد و شمار پورے ملک کا اوسط رجحان ظاہر کرتے ہیں اور اوسط میں اندرونی فرق چھپ جاتے ہیں۔ سروے میں چاروں صوبوں کے دیہی اور شہری علاقوں کے امیر سے غریب تک پانچ مختلف طبقات کے علیحدہ علیحدہ اعدادوشمار تفصیل سے موجود ہیں۔ اعداد چاہے کراچی کے امیر ترین طبقے کے ہوں یا دیہی بلوچستان کے غریب ترین طبقے کے، وہ اوسط سے فرق تو ضرور ہیں لیکن سمت سبھی کی ایک ہی ہے۔

یعنی ان سلے کپڑے خرید کر درزی سے سلوانے کی بجائے تیار شدہ، سلے سلائے ملبوسات خریدنے کا رجحان ہر طرف بڑھ رہا ہے گو تبدیلی کی رفتار تمام گروپوں کی ایک سی نہیں ہے۔

ریڈی میڈ مارکیٹ کی نمو کو کس چیز نے تیز کیا؟

ہاؤس ہولڈ سرویز میں ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا ہے وہ یہ کہ 2001ء سے 2014ء تک ریڈی میڈ کا حصہ 13 سے بڑھ کر 21 فیصد ہوا یعنی 13 سالوں میں اس میں 50 فیصد اضافہ ہوا لیکن اگلے 12 سال میں اضافے کی رفتار دگنی  ہوگئی اور یہ 21 سے بڑھ کر 42 فیصد ہو گیا۔

جس عرصے میں تبدیلی کی رفتار تیز ہوئی اسی عرصے میں ملک میں آن لائن کاروبار کا بھی فروغ ہوا جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آن لائن خریداری کا فروغ، ریڈی میڈ کے رجحان میں اضافہ کا کسی نہ کسی حد تک باعث ضرور بنا۔

پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ کے حجم اور ساخت سے متعلق مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم مختلف ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی مجموعی مالیت اب 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ سالانہ تقریباً 20 فیصد کی تیز شرح سے بڑھ رہی ہے۔

اس کی تائید سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے بھی ہوتی ہے جن کے مطابق ای کامرس میں کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں کی مالیت 20-2019ء میں 74 ارب روپے تھی جو 24-2023ء میں بڑھ کر 434 ارب روپے ہو گئی۔ یہ اضافہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ ای کامرس میں لین دین کا بڑا ذریعہ (اندازوں کے مطابق تقریباً 75 فیصد) کیش آن ڈیلیوری ہے اور کارڈ پیمنٹ کا حصہ کافی کم ہے۔

تمام ذرائع اس بات پر بھی متفق ہیں کہ آن لائن خریدی جانے والی اشیا میں کپڑے سرفہرست اشیا میں شامل ہیں۔ ایک مارکیٹ انٹیلی جنس فرم کے مطابق پاکستان میں تمام آن لائن سٹورز میں سب سے زیادہ کپڑے کے ہی سٹورز ہیں۔ ان کا حصہ 27.82 فیصد ہے جو عددی لحاظ سے 17 ہزار 380 سٹورز بنتا ہے۔

اب بہت سی ٹیلرنگ شاپس بھی آن لائن آ گئی ہیں۔ کئی درزیوں کی اپنی ویب سائٹس، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیں اور وہ گاہکوں سے رابطے کے لیے اکثر واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔

stitchhub.com اور darzan.com اپنے گاہکوں کو یہ سہولت آفر کرتے ہیں کہ وہ ان کے گھر (لوکیشن) سے ان سلا کپڑا اور ناپ کا نمونہ منگوانےکے لیے رائیڈر بھیج سکتے ہیں جبکہ sastadarzi.com پر گاہک اپنی پیمائش ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔

Darzi Online نے آٹھ سال قبل آن لائن کام کا آغاز کیا۔ ان کے والد درزی، بوتیک چلاتے تھے اور اب بیٹے زیادہ تر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔

اس سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ درزی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں، لیکن یہ بات بھی عیاں ہے کہ سلے سلائے ملبوسات آن لائن فروخت کرنے والے اس دوڑ میں کہیں آگے ہیں۔

تو کیا درزی کا پیشہ ختم ہو رہا ہے؟

ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے اعداد و شمار کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 25 سال میں سلائی پر اوسط ماہانہ اخراجات (فیصد کے اعتبار سے) تقریباً جوں کے توں رہے ہیں۔ 02-2001ء میں ملبوسات کے ماہانہ بجٹ کا 19.2 فیصد سلائی پر خرچ ہوتا تھا جبکہ اب یہ شرح 18.4 فیصد ہے۔

یعنی ایک فیصد سے بھی کم فرق آیا ہے حالانکہ اسی عرصے میں سلے سلائے ملبوسات پر خرچ میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ دونوں اعداد ایک دوسرے کے متضاد معلوم ہوتے ہیں۔ 

اگرچہ لوک سجاگ سے بات کرنے والے بیشتر درزیوں نے گاہکوں میں کمی کی شکایت تو کی مگر اوسطاً ہر پانچ میں سے دو نے یہ بھی کہا کہ ان کا کام ٹھیک چل رہا ہے۔
کچھ درزیوں کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ تر اپنے پرانے گاہکوں یا اُن افراد کا کام کر رہے ہیں جنہیں بازار میں اپنے سائز کے کپڑے نہیں ملتے۔ تاہم کچھ درزیوں کی رائے مختلف ہے۔

اسلام آباد کے وحید احمد کو سلائی کا کاروبار کرتے 30 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں جو لوگ پوشاک پہننے کی سمجھ رکھتے ہیں، وہ اب بھی کپڑے سلواتے ہیں۔ "اپنی پسند سے سلوائے کپڑوں اور ریڈی میڈ میں بہت فرق ہوتا ہے۔"

لاہور ڈی ایچ اے کی ایک دکان پر کام کرنے والے درزی بھی سمجھتے ہیں کہ ریڈی میڈ نے اصل نقصان اُن درزیوں کو پہنچایا ہے جو اپنے کام میں مہارت نہیں رکھتے۔ "ہمارے پاس نوجوان، بوڑھے ہر عمر کے گاہک آتے ہیں۔ ریڈی میڈ کپڑوں نے ہمارے کاروبار کو متاثر نہیں کیا۔"

تو پھر اصل معاملہ کیا ہے؟

25 سالوں میں ان سلے کپڑوں پر خرچ میں تو کمی آئی ہے مگر سلائی پر اخراجات میں اسی تناسب کمی نہیں ہوئی۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس عرصے میں سلائی مہنگی ہو گئی ہے۔

ان سلے کپڑوں پر 2001-02ء میں فی گھرانہ اوسط ماہانہ خرچ 288 روپے تھا جبکہ سلائی پر اس کا تقریباً ایک چوتھائی (28.1 فیصد یا 81 روپے) خرچ ہوتا تھا۔
پچیس سال بعد ان سلے ہوئے کپڑوں پر خرچ ایک ہزار 604 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ اب سلائی کی لاگت اس رقم کا ایک چوتھائی کی بجائے نصف ہو چکی ہے یعنی 46.6 فیصدیا 747 روپے۔

یہی تبدیلی درزی کے پیشے کی نئی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔

ریڈی میڈ کے باعث درزیوں کا کام کم ہوا ہے لیکن فی کام اجرت بڑھ گئی ہے۔

اپنے ناپ کے کپڑے سلوانا اب ایک عام کام کی بجائے ایک اعلیٰ درجے کی خدمت بننے کی جانب گامزن ہے جسے صرف صاحب حیثیت طبقہ ہی افورڈ کر سکے گا۔ باقی دنیا میں بھی اس پیشے کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔ یورپ امریکہ جیسے ممالک میں ریڈی میڈ کی بجائے اپنے ناپ کے کپڑے سلوا کر پہننے کو ایک ایسی 'عیاشی' تصور کیا جاتا ہے جو بس انتہائی امیر لوگ ہی کر سکتے ہیں۔

درزنوں کو دہرے چیلنج کا سامنا ہے

اس پیشے کے ایک مہنگی سروس میں تبدیل ہونے کے ثمرات مرد اور خواتین درزیوں کو یکساں طور پر نہیں مل رہے۔ بلکہ گھروں سے کام کرنے والی درزنوں کو اب دوہرے چیلنج کا سامنا ہے، ایک طرف ریڈی میڈ کپڑوں کی یلغار ہے اور دوسری طرف مرد درزیوں سے مقابلہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ وہ شکایت کرتی ہیں کہ انہیں کم معاوضے پر کام کرنا پڑتا ہے۔

صائمہ ضیا دس سال سے بطور ڈیزائنر اور درزی کام کر رہی ہیں۔ وہ خود گریجویٹ ہیں اور یونیورسٹی جانے والے چار بیٹوں کی ماں ہیں۔ انہوں نے کام کا آغاز معمولی سا سرمایہ لگا کر کپڑے تیار کر کے اپنے سماجی حلقے میں فروخت کرنے سے کیا تھا۔

"مجھے بہت محنت کرنا پڑی کیونکہ لوگ گھریلو کاروبار سے زیادہ خریداری نہیں کرتے۔ اور میں آہستہ آہستہ بس ایک سلائی کرنے والی بن کر رہ گئی۔ محنت کا صلہ نہ ملنے پر میرا دل کئی بار ٹوٹا، مجھے کمتر سمجھا گیا۔ آج بھی مجھے گاہکوں کی خوشنودی کے لئے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔"

وہ کہتی ہیں کہ گاہک اجرت پر بحث کرتے ہیں۔

"میں ایک سوٹ کے صرف ڈیڑھ ہزار روپے لیتی ہوں جس میں ہلکی پھلکی ڈیزائننگ بھی شامل ہوتی ہے، مگر سب چاہتے ہیں کہ سوٹ 800 یا زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپے میں سل جائے۔"

کچھ خواتین درزنیں محض کاروبار چالو رکھنے کے لیے سادہ جوڑے صرف 650 روپے میں سی دیتی ہیں۔

فاطمہ اطہر کے خاندان نے بہت سے درزیوں سے کام کرایا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اصل چیز معیار ہے۔

"میرے کچھ بہترین کپڑے خواتین درزیوں کے سیئے ہوئے ہیں اور میری بہن کے کچھ کپڑے مرد درزیوں نے انتہائی برے سیئے۔ بات معیار کی ہے۔ لباس دیکھ کر کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ اسے مرد نے سیا ہے یا عورت نے۔"

کئی گاہکوں کا کہنا ہے کہ مرد اور خواتین درزیوں کے کام میں فنشنگ کا فرق نظر آتا ہے جس میں سلائی کی مضبوطی، جھول کا خیال رکھنا اور مجموعی صفائی شامل ہیں۔ اکثر خواتین درزنیں کپڑے کی شرنکنگ، اوور لاکنگ اور اچھی استری کرنے جیسے کام نہیں کر پاتیں۔

درزیوں کے پاس عموماً ہر کام کے لیے مخصوص مشینیں ہوتی ہیں اور وہ چھوٹی ٹیموں میں کام کرتے ہیں ہر ٹیم کا ہر فرد کسی ایک مخصوص کام میں خاص مہارت حاصل کر لیتا ہے جبکہ درزنیں عام طور پر تنہا ایک سادہ سی سلائی مشین پر کام کرتی ہیں ۔ "وہ مہارت میں درزیوں کے ہم پلہ ہو سکتی ہیں مگر ان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں۔"

رضیہ بی بی کہتی ہیں کہ ان کی سلائی کا معیار اچھا اور فنشنگ صاف ہے مگر پھر بھی لوگ چاہتے ہیں کہ وہ مرد درزیوں سے کم معاوضہ لیں چاہے سوٹ کے کپڑے کی قیمت 25 ہزار ہی کیوں نہ ہو۔ "یہ دیہاڑی جیسا کام ہے، مستقل بھی نہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے حالات خاصے خراب ہیں۔"

تاہم صائمہ ضیاء اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ بطور گھریلو ڈیزائنر درزی اپنی پہچان مستحکم کرنا چاہتی ہیں اور مستقبل میں اپنی ٹیم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

تاریخ اشاعت 5 مارچ 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مہرین برنی نے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ سیاسی و انتخابی موضوعات پر کام کرتی ہیں۔

thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.