وفاقی حکومت نے سات سال میں دو نیشنل الیکٹرک وہیکلز (این ای وی) پالیسیاں بنائیں جن کا مقصد ملک میں روایتی انجن (پٹرول، ڈیزل، گیس) والی گاڑیوں کی جگہ ماحول دوست الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) کو رواج دینا تھا۔
پاکستان میں سالانہ 13ارب ڈالر (تقریباً 36کھرب 18ارب روپے) کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے جس میں سے 79 فیصد سے زائد ایندھن صرف روڈ ٹرانسپورٹ پھونک جاتی ہے۔ اس سیکٹر کا نہ صرف خرچ روز بروز بڑھ رہا ہے بلکہ یہ مجموعی ملکی آلودگی میں بھی سب سے بڑا حصے دار ہے۔
ان پالیسیوں کے تحت کیے گئے اقدامات کے کچھ نتائج ای بائیکس و رکشوں (ٹو، تھری وہیلرز) کی حد تک تو ضرور سامنے آئے ہیں مگر فور ویلرز یا اس سے بڑی الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر بہت ہی کم نظر آتی ہیں۔

اونچے اہداف: نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
پہلی قومی ای وی پالیسی 2019ء میں متعارف کرائی گئی تھی جس کا ہدف یہ تھا کہ اگلے پانچ سال میں ایک لاکھ الیکٹرک فورویل گاڑیاں (کار، جیپ، وین، منی ٹرک)، ایک ایک ہزار بسیں اور ٹرک ، پانچ لاکھ ای رکشے و بائیکس سڑکوں پر ہوں گے۔
پالیسی کے مستقبل کے ٹارگٹ یہ تھے کہ 2030ء تک نئی فروخت ہونے والی تمام گاڑیوں میں 30 فیصد حصہ ای ویز کا ہو گا جو 2040ء تک 50 فیصد ہو جائے گا اور 2060ء تک ٹرانسپورٹ کا پورا نظام کلین انرجی پر منتقل ہو جائے گا۔
ان اہداف کے حصول کے لیے حکمت عملی یہ بنائی گئی کہ فور ویلرز اور اس سے بڑی ای ویز کی امپورٹ یا مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے سپیئر پارٹس منگوانے، فروخت اور رجسٹریشن پر ڈیوٹیوں، ٹیکسوں اور فیسوں کی مد میں مراعات دی جائیں گی۔
ای گاڑیوں کی اندرونِ ملک تیاری و فروخت کے لیے سٹیٹ بینک گرین فنانسنگ کا انتظام کرے گا اور حکومت سبسڈیز دے گی جس سے قیمتیں قابل رسائی ہوں گی۔ چارجنگ انفراسٹرکچر کو نئی انڈسٹری کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔
ابتدا میں کراچی سے خیبر تک قومی شاہراہ (این فائیو) اور موٹرویز پر ہر 30 کلومیٹر بعد چارجنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔
تاہم ناں تو انفراسٹرکچر میں بہتری آئی اور نہ ہی بائیکس و رکشوں کے سوا ای ویز کی مقامی تیاری و خریداری پر سبسڈیز کا انتظام ہو سکا۔
پچھلے سال نئی انرجی وہیکلز پالیسی (این ای وی 30-2025ء) آئی تو بتایا گیا کہ فور ویلر گاڑیوں کا ہدف تین فیصد، بسوں کا 20 فیصد (اس میں زیادہ تر سرکاری ای بسیں شامل ہیں) حاصل ہو سکا جبکہ ای ٹرکوں کا ہدف ایک فیصد بھی پورا نہیں ہوا۔
ای بائیکس، رکشوں وغیرہ کا ٹارگٹ بھی صرف 10 فیصد (کل تعداد 50 ہزار) پورا ہو پایا ہے۔
نئی پالیسی میں مستقبل کے لیے اہداف پہلی پالیسی والے ہی برقرار رکھے گئے ہیں جبکہ حکمت عملی میں بھی کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔

'سبسڈی کے بغیر تو صرف مخصوص طبقہ ہی ایسی گاڑی خرید سکتا ہے'
ماہرین کا ماننا ہے کہ پالیسی اہداف اور عملی اقدامات کے درمیان بہت بڑا خلاء موجود ہے جس کو پُر کیے بغیر موجودہ پالیسی کا نتیجہ بھی پچھلی سے مختلف نہیں ہو گا۔ پالیسیوں کی ناکامی اور ای ویز کے فروغ نہ پانے کے تین اہم اسباب ہیں۔
'پہلا اور سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں بہت زیادہ مہنگی ہیں۔'
این ای وی پالیسی تصدیق کرتی ہے کہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک کاریں 20 سے 65 فیصد مہنگی ہیں جبکہ ٹرکوں بسوں کے معاملے میں قیمت کا فرق 40 سے 90 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے چیئرمین ڈاکٹر فہیم گوہر اعوان کہتے ہیں کہ اوسط درجے کی الیکٹرک کار کی قیمتیں ایک کروڑ روپے کے قریب پہنچ چکی ہیں جو درمیانے طبقے کے بس سے باہر ہیں۔
'قوت خرید بڑا ایشو ہے، خاطر خواہ سبسڈی کے بغیر صرف مخصوص طبقہ ہی ایسی گاڑی خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے۔'
ٹرانسپورٹر اور ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے رہنما ملک شہزاد اعوان کا بھی یہی کہنا ہے کہ الیکٹرک ٹرکوں اور بسوں کی قیمتیں اگر موجودہ سطح برقرار رہیں تو شاید اگلے کئی سال تک کوئی ٹرانسپورٹر ان میں سرمایہ کاری کا رسک نہیں لے گا۔
این ای وی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ الیکٹرک ٹیکسی کار پر دو لاکھ، پک اپ اور کمرشل فورویل گاڑی کو تین لاکھ اور بس وغیرہ کی خریداری پر سات لاکھ روپے سبسڈی دینے کی ضرورت ہو گی۔ اس سے بھی بیشتر ٹرانسپورٹر مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
آٹو انڈسٹری کے تجزیہ کار مشہود علی خان کا ماننا ہے کہ حکومت سبسڈی کا کہہ تو دیتی ہے مگر رقم کاانتظام نہیں ہو پاتا۔ جب تک قیمتیں عام صارف کی پہنچ میں نہیں آئیں گی، ای ویز کوفروغ نہیں ملے گا۔
"آپ گاڑیوں کی یہاں اسمبلنگ کریں، مقامی مینوفیکچرنگ کریں یا سبسڈیز دیں جو بھی کرنا پڑےکریں قیمتیں نیچے لائیں ورنہ پالیسیاں بنتی اور ناکام ہوتی رہیں گی۔"

کروڑ ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی کو چارجنگ اسٹیشن تک دھکا کون لگائے؟
ماہرین کے مطابق چارجنگ کی سہولت کی عدم دستیابی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں دوسری بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ مسئلہ صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ کئی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز تک میں تاحال چارجنگ سٹیشنز نہیں بنائے جا سکے۔
حکومت نے نئی پالیسی میں 2030ء تک فور ویلر یا اس سے بڑی ای ویز کے لیے تین ہزار چارجنگ سٹیشنوں کے قیام کا ہدف برقرار رکھا ہے۔ یہ بھی کہ دو سال کے اندر ہائی ویز پر ہر 60 کلومیٹر ایریا میں چارجنگ کی سہولت یقینی بنائی جائے گی۔
تاہم پچھلے سات سال کے دوران ملک بھر میں لگ بھگ 200 سٹیشنز ہی قائم ہو سکے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک عام صارف اس وقت تک الیکٹرک کار خریدنے کا فیصلہ نہیں کرے گا جب تک اسے ہائی ویز اور موٹرویز پر کم از کم ہر 100 کلومیٹر پر فاسٹ چارجنگ کی سہولت دستیاب نہ ہو۔
ڈاکٹر فہیم گوہر بتاتے ہیں کہ حکومت نے پہلے سے موجود سی این جی سٹیشنز کو چارجنگ فسیلیٹی میں بدلنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ سفید پوش طبقے کے ہزاروں لوگ مہنگے پٹرول سے جان چھڑانا چاہتے ہیں مگر چھوٹی موٹی الیکٹرک گاڑی خریدنے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔
"کوئی بہتر آمدنی والا شخص ڈیڑھ کروڑ خرچ کر کے اچھی الیکٹرک گاڑی خرید لے اور چارجنگ کے لیے خوار ہوتا پھرے، ایسا بھلا کون چاہے گا۔ نتیجتاً یہ طبقہ پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں (جو چارجنگ بیٹری اور مائع ایندھن دونوں پر چلتی ہیں) پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔"
جہاں تک بڑی گاڑیوں کا تعلق ہے تو ملک شہزاد اعوان کہتے ہیں کہ گڈز ٹرانسپورٹ کو بھاری لوڈ کے ساتھ طویل فاصلے طے کرنا ہوتے ہیں۔ الیکٹرک ٹرک کو مکمل چارج ہونے میں گھنٹوں لگتے ہیں جبکہ ڈیزل ٹینک چند منٹوں میں بھر جاتا ہے۔
"ہمارے لیے وقت بہت اہم ہوتا ہے، جب تک ملک میں مزید بہتر بیٹری ٹیکنالوجی اور چارجنگ کا تیزترین نظام (لیول تھری فاسٹ چارجر سے بھی بہتر) دستیاب نہیں ہوتا، ہم سے الیکٹرک پر منتقل ہونے کی توقع نہ رکھیں۔"

'حکومت اکیلی کچھ نہیں کر پائے گی پوری انڈسٹری کو آگے آنا ہو گا'
مشہود علی خان سمجھتے ہیں کہ یہاں ای وی سیکٹر میں فنانسنگ انتہائی کم ہے۔ چین، یورپ میں ای ویز کو اس لیے فروغ ملا کہ وہاں اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ وہ ای ویز خود تیار کر رہے ہیں۔ مالی اداروں نے معاونت کی اور حکومتوں نے صارفین کو مختلف طریقوں سے سبسڈیز دیں۔
"ہم بیشتر ای ویز امپورٹ کرتے ہیں یا سپیئر پارٹس منگوا کر چھوٹی موٹی اسمبلنگ کرتے ہیں جس سے گاڑی کی قیمت عام صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں۔ نئی پالیسی میں 100 ارب روپے کی سبسڈیز دینے کی بات کی گئی لیکن یہ صرف دو تین ویلرز تک محدود رہیں۔"
ماہرین کا ماننا ہے کہ کمرشل بینکس جب تک ای وی فنانسنگ کی موجودہ حد اور قرض واپسی کی مدت نہیں بڑھائیں گے، درمیانی طبقہ الیکٹرک گاڑی کی طرف نہیں آئے گا۔
سٹیٹ بینک کے ضوابط کے تحت گاڑی کے لیے فنانسنگ یا قرضے کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے ہے جو صارف کو تین سال کے اندر واپس کرنا ہوتے ہیں۔
حکام اعتراف کرتے ہیں کہ فنانسنگ پر مذکورہ پابندیوں کے نتیجے میں گاڑیوں کی طلب میں کمی آئی۔ صارفین کو ایک تو گاڑی خریدنے پر زیادہ رقم (ایکویٹی) دینا پڑتی ہے، دوسرے ماہانہ اقساط ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔
مشہود علی خان کہتے ہیں کہ صرف قرض کی سہولت یا سبسڈیز کافی نہیں، لاگت کم کرنے کے لیے بیٹریز، ای ویز کی لوکل پروڈکشن اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی بڑی فنانسنگ چاہیے۔ حکومت اکیلی کچھ نہیں کر پائے گی آٹو انڈسٹری کے تمام سٹیک ہولڈرز کو آگے آنا ہو گا۔

کیا ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی ماحول دوست مانا جانا چاہیے؟
سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ، اسلام آباد (ایس ڈی پی آئی) کے ریسرچ اسسٹنٹ صارم ضیاء کا کہنا ہے کہ سابقہ ای وی پالیسی کو انتظامی کمزوریوں اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور صنعت و پیداوار کے درمیان اختیارات کی تقسیم نے بھی عملدرآمد کو متاثر کیا۔
'اب پالیسی میں مناسب تبدیلیاں اور ترجیحات طے کر کے قابل عمل اقدامات کرنا ہوں گے۔'
انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر علی اصغر جمالی نے اہداف کو غیرحقیقی تو نہیں کہا مگر ان کے خیال میں پاکستان میں 'مکمل برقی گاڑیوں' پر انحصار مؤثر حکمت عملی نہیں۔ ان کے خیال میں متوازن اور مرحلہ وار اقدامات ہونے چاہیئیں، ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی گرین موبیلٹی کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
تاہم لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کی ٹیچر ڈاکٹر کرن اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ای ویز اہداف کا حصول ممکن ہے بشرطیکہ آسان لیزنگ ماڈلز متعارف کرائے جائیں۔ بڑے پیمانے پر چارجنگ اور بیٹری سواپنگ نیٹ ورک قائم کیا جائے۔
'ابتدائی مرحلے میں رکشے و بائیکس کے ساتھ ویسٹ منیجمنٹ کی گاڑیوں، شہروں میں چلنے والی ڈلیوری وینز، لوکل بسوں اور سکول ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک پر لانا ترجیح ہونی چاہیے۔'
ڈاکٹر کرن زور دیتی ہیں کہ پالیسی میں تسلسل ناگزیر ہے۔ مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر میں گرین فنانسنگ کے ساتھ کاربن کریڈٹس و بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز بھی کامیابی کی کنجی ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت 2 مئی 2026



















