مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

postImg

جئہ پرکاش

postImg

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

جئہ پرکاش

تھر کی لوک گلوکارہ مائی ڈھائی کا گایا یہ گیت بہت مقبول ہے

'آنکھڑلی پھڑو کے مہارے گھراں ناں پدھارو تھانا جوئے جوئے جیواں'

ترجمہ: میری آنکھ پھڑک رہی ہے، میرے گھر آؤ، میں تمہیں دیکھ دیکھ کے جیوں

لیکن اس گیت پر سر دھننے والوں میں سے بیشتر یہ نہیں جانتے کہ یہ بول کس زبان کے ہیں

کیا آپ کو معلوم ہے؟

 یہ ڈھاٹکی زبان کا لوک گیت ہے جو پاکستان اور بھارت میں پھیلے صحرائے تھر میں بولی سمجھی جاتی ہے۔ یہ وادی ہاکڑہ کی پرانی زبانوں میں سے ایک ہے جو مارواڑی اور سندھی سے قربت رکھتی ہے۔

تھر کے معروف ادیب اور ڈھاٹکی زبان پر تحقیق کرنے والے بھارو مل امرانی بتاتے ہیں کہ صحرائے تھر کے دو حصے ہیں، ایک کو ڈھاٹ اور دوسرے کو راجپوتانہ یا راجستھان کہا جاتا تھا۔ تقسیم کے وقت ڈھاٹ کا علاقہ پاکستان اور راجستھان بھارت کے حصے میں آیا۔ یوں علاقائی مناسبت سے پاکستان میں اس زبان کو ڈھاٹکی (بعض لوگ سوڈھکی بھی کہتے ہیں) اور بھارت میں راجستھانی یا مارواڑی کہا جاتا ہے۔

ڈھاٹکی لاکھوں لوگوں کی ماں بولی ہے۔ ڈھاٹ کی حدود میں موجودہ تحصیل عمرکوٹ کے تھر والے علاقے، تھرپارکر کی تحصیل مٹھی، اسلام کوٹ، چھاچھرو، ڈاہلی اور ننگرپارکر کے شمالی ریگستانی گاؤں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بدین، میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری اور حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں بھی ڈھاٹکی بولی جاتی ہے۔

عمرکوٹ، مٹھی، چیلہار، چھاچھرو، نیوچھور، چھور، ڈیپلو اور عمرکوٹ میں مارکیٹ کی زبان بھی ڈھاٹکی ہے۔

ڈاکٹر عبد الجبار جونیجو اور ماہر لسانیات ڈاکٹر ہدایت پریم کی تحقیق کے مطابق تھرپارکر کے 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈھاٹکی ہے اور 97 فیصد اسے اچھی طرح بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ ضلع عمرکوٹ کے 54 فیصد افراد کی مادری زبان ڈھاٹکی ہے اور 80 فیصد سے زائد لوگ اسے سمجھتے اور بولتے ہیں۔

سلاوٹ برادری کے حیدرآباد میں پہلے سے آباد لوگ اور تقسیم کے بعد جیسلمیر سے کراچی و حیدرآباد آنے والے بھی ڈھاٹکی زبان ہی بولتے ہیں۔

'ڈھاٹکی اپںے جوہر میں ایک مکمل زبان ہے'

سندھی لینگویج اتھارٹی کے مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کے مطابق 'ڈھاڈکی' سندھی زبان کا لہجہ ہے جسے ڈھاٹی یا تھری کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کہتا ہے کہ تھرپارکر طبعی طور پر سات حصوں میں تقسیم ہے جو ڈھاٹ، سامروٹی، وٹ، ونگی، پارکر، کھائڑ اور کنٹھی کہلاتے ہیں۔ ہر حصے میں ڈھاٹکی کا ایک ذیلی لہجہ (سب ڈائلیکٹ) بولا جاتا ہے۔

تھر میں رہنے والے ٹھکر، سونارا، مہراج، واڻیا، سوٹهڑ، میگھواڑ، راہما، نہڑی، سمیجا، بھیل، بجیر، کنبھر، منگریا، آریسر، ملاح اور کئی دیگر مسلم و ہندو برادریاں اس زبان کو گھریلو زبان کے طور پر بولتی ہیں۔

ڈھاٹکی لہجے میں اکثر اسم کے ساتھ 'یو' لگا دیاجاتا ہے، مثلاً سومار کو سوماریو، واحد کو واحدیو کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ یہ زبان بولنے والے بہت سے افراد صوبے کے مختلف شہروں میں تعلیم اور روزگار سے وابستہ ہیں جو بخوبی معیاری سندھی بولتے ہیں۔

سندھ لینگویج اتھارٹی کے برعکس ماہر تعلیم اور ادیب پروفیسر نور احمد جنجھی ڈھاٹکی کو مکمل زبان سمجھتے ہیں۔

ان کے بقول "کچھ لوگوں کو مغالطہ ہے کہ ڈھاٹکی کوئی لہجہ ہے جبکہ یہ اپںے جوہر میں مکمل زبان ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس کے حروف تہجی پوری طرح رائج نہیں مگر اس حوالے سے بھی بہت کام ہو رہا ہے۔"

قران پاک سے لے کر شیخ ایاز کے کلام تک ڈھاٹکی میں ترجمہ ہو چکے ہیں

ڈھاٹکی زبان کی قدیم تحریریں دیوناگری رسم الخط میں ملتی ہیں۔ بھارتی ریاستوں راجستھان اور گجرات میں یہ اب بھی دیوناگری میں لکھی جاتی ہے تاہم سندھ میں عربی رسم الخط میں تحریر کی جا رہی ہے۔

ڈھاٹکی کی ترقی کے لیے انفرادی سطح پر کام کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ یہاں کے لوک گیت دوسرے علاقوں تک پہنچے تو شاعری آگے بڑھی اور تحریر کی کوششیں شروع ہوئیں۔ سندھی و عربی رسم الخط سے حروف تہجی طے کیے گئے جن میں 34 حروف شامل ہیں۔

 ا، ب، ٻ، ڀ، ت، ٿ، ٽ، ٺ، پ، ج، جهه، چ، ڇ، د، ڌ، ڏ، ڊ، ڍ، ر، ڙ، ز، س، ڦ، ڪ، ک، گ، گهه، ل، م، ن، ڻ، و، ه، ي۔

ان میں ناں تو عربی حروف ث، ح، ذ، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق اور نہ ہی سندھی حروف ڄ اور ڳ، ڃ اور ڱ شامل کیے گئے ہیں۔

میرپورخاص کے سماجی کارکن پونم پاسکل بتاتے ہیں کہ مشنری ادارہ انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ لنگوئسٹکس نے ناں صرف ڈھاٹکی زبان میں ابتدائی تعلیم کے لیے کورسز تیار کیے تھے بلکہ انجیل مقدس کا ترجمہ بھی کرایا تھا۔

ڈھاٹکی میں قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی موجود ہے جو حاجی محمد صدیق راہموں نے کیا۔ پہلی کہانی حاجی محمد کنبھَر نے لکھی اور شاہ لطیف کی شاعری (شاہ جو رسالو) کا اس زبان میں ترجمہ معروف سندھی ادیب لقمان لغاری المعروف استاد لغاری نے کیا ہے۔ شیخ ایاز کے کلام کا ڈھاٹکی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔

تراجم کے علاوہ ڈھاٹکی میں بھارومل امراںی کی کتابیں چتر بولی چارںاں (چارن برادری کی شاعری کا تجزیہ)، دھرتی گائے گیت، گیت سانوں من بھاون جا، سروپ چند شاد کے شعری مجموعے سمیت کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مزید اشاعتی کام بھی جاری ہے۔

ڈھاٹکی رنگ میں گاتے بھگت: مائی بھاگی سے شفیع فقیر تک

دنیا کی بڑی زبانوں کی طرح ڈھاٹکی میں بھی وسیع ذخیرہ الفاظ موجود ہے جس کی تصدیق سرحدپار مرتب کی جانے والی صحرائی زبان کی لغات سے ہوتی ہے۔ ہمیرنام مالا، ڈنگل کوش، ہیکارتهی کوش اور اُدھارام کوش وہ لغات ہیں جن میں سیکڑوں ڈھاٹکی الفاظ درج کیے گئے ہیں۔

سندھ میں آزاد عبد الکریم سمیجو نے ڈھاٹکی لغت مرتب کی ہے۔ سندھی لینگوئیج اتھارٹی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی زیرسربراہی مرتب کردہ سندھی لغات میں بھی تھری الفاظ کے تحت ڈھاٹکی کے الفاظ ملتے ہیں۔

معروف شاعر، ادیب اور دانشور بھارومل امرانی بتاتے ہیں کہ ڈھاٹکی میں شاعری کا وافر ذخیرہ موجود ہے، خاص طور پر لوک گیت، دوہا اور سورٹھا بہت ہیں۔ اب بیت، غزل اور نظم بھی لکھی جا رہی ہیں۔ 

مصری شاہ اور خلیفہ نبی بخش قاسم کلاسیکی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں، باغ علی شوق (راجستھان) اور بانکی داس چَرن معروف نام ہیں۔

جدید شعراء میں سروپ چند شاد، سائیں داد ساند، فیض محمد فراقی، پیارو شووانی، بھارو مل امرانی، چتون روہلائی، مرچو ورتیو، مہندرو مستانو، رامچند رحمی اور دیگر نمایاں ہیں۔

ڈھاٹکی لوک ادب کی بات ہو تو ڈورو اور چرمی وغیرہ مشہور لوک گیت ہیں۔ سَدونت سارنگا، ڈھول ماروئل، اوڈھے ہوٹھل کے قصے سمیت کئی لوک داستانیں اس زبان کا ادبی شاہکار ہیں۔

ڈھاٹکی شاعری کو تھری فنکاروں نے دنیا بھر میں متعارف کروایا۔مائی بھاگی، مائی ڈھائی، شفیع فقیر، مراد فقیر، بدھو فقیر، صادق فقیر، برکت فقیر، بھگڑو ناچیز، کریم فقیر، رجب فقیر دیگر گلوکاروں کی شہرت ملکی سرحدیں پار کر چکی ہے۔

تھر میں بھگت (بھجن گانے والے) ہندی، سندھی، مارواڑی اور دیگر زبانوں کی شاعری کو اکثر ڈھاٹکی رنگ یا بھگتی گائیکی میں گاتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو کی تحقیق کے مطابق ڈھاٹکی کا تقریباً 70 فیصد لوک ادب ہمسایہ صحرائی زبانوں کے اثر میں رنگا ہوا ہے جس میں نہ صرف کردار ایک جیسے ہیں بلکہ تخلیق کار بھی وہی لوگ ہیں۔ فن کے امین ان قبائل میں چارَن، بھاٹ، بھان اور مگنہار کا کردار انتہائی قابل تحسین ہے۔

اس وقت ریڈیو پاکستان مٹھی سے ڈھاٹکی میں دو پروگرام نشر ہوتے ہیں اور مٹھی ایف ایم ریڈیو بھی لوکل گیت اور پروگرامز چلاتا ہے۔

ڈھاٹکی کے تحفظ کے لیے کون کیا کر رہا ہے؟

تھر سے تعلق رکھنے والے صحافی سہیل سانگی کہتے ہیں کہ ڈھاٹکی دنیا کی ان زبانوں میں سے ایک ہے جو صرف بولی جاتی ہیں۔ تھر سے لوگوں کی تعلیم و روزگار کے لیے نقل مکانی بھی یہاں کی زبان پر اثر انداز ہورہی ہے تاہم اب اس کی تحریر پر بھی کام ہو رہا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ ڈھاٹکی جیسا وسیع ادب، شاعری اور لوک ادب بہت کم زبانوں میں ہوتا ہے۔ اسے ماضی میں کیسیٹوں اور وڈیوز کے ذریعے محفوظ کرنے کی کچھ کوششیں ہوئی تھیں مگر ابھی بہت کام ہوناباقی ہے۔

پروفیسر نور احمد جنجھی پر امید ہیں کہ سکولوں کالجوں اور ڈیجیٹل میڈیا میں اب ڈھاٹکی کا عام استعمال دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ سرحد کے دونوں جانب اپنی زبان میں روزانہ فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر بہت سا مواد اپ لوڈ کر رہے ہیں اور نوجوانوں میں ماں بولی کو اپنانے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

ڈھاٹکی زبان اور لوک ادب میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر پُھلو سندر مینگھواڑ بتاتے ہیں کہ بھارومل امرانی، امر رائے سنگھ راجپوت، پروفیسر نور احمد جنجھی جیسے کچھ افراد اپنے طور پر ڈھاٹکی کے تحفظ اور ڈاکیومینٹیشن پر کام کر رہے ہیں مگر سرکاری اور ادارتی سطح پر ایسا کچھ نہیں ہورہا۔

آئین کا آرٹیکل 251 اور 28 مقامی ثقافتوں و زبانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں مگر ابھی تک یہاں سرکاری وسائل خرچ ہوتے نظر نہیں آئے۔ تھر میں مشنری اداروں نے پہلی دوسری جماعت تک بچوں کو پڑھانے کے لیے نصابی کتب مرتب کی تھیں مگر سرکاری سکولوں میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

وہ تجویز دیتے ہیں کہ انڈیجینیس لینگویجز کے لیے الگ سرکاری ادارہ ہونا چاہیے یا سندھ لینگوئج اتھارٹی میں مقامی زبانوں کی ترقی کے لیے کچھ بجٹ مخصوص کیا جائے جس سے ڈھاٹکی جیسی زبانوں کے ادب کو آئندہ نسلوں کے لیے ڈیجیٹلائیز بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ اشاعت 21 فروری 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جئہ پرکاش مورانی تیس سالوں سے صحافت کر رہے ہیں۔ وہ سندھی اخبار "عبرت" کے سینیئر نیوز ایڈیٹر ہیں۔

thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
thumb
سٹوری

گندم اگائیں، کھاد کی رقم سندھ حکومت دے گی، پروگرام پر عمل کیسے ہو رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.