پاکستان کی ماحولیاتی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کا حصہ 28 فیصد ہے۔ ملک میں فوسل فیول (پیٹرول، ڈیزل، گیس) کا سب سے زیادہ استعمال یہی شعبہ کرتا ہے اور سموگ کا سبب بننے والے خطرناک اجزا (2.5 پی پی ایم) کا 35 فیصد ذمہ دار بھی یہی ہوتا ہے۔
فضائی آلودگی کو قابو کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 30-2025ء میں یہ طے کیا ہے کہ 2030ء تک سڑکوں پر آنے والی تمام نئی گاڑیوں میں 30 فیصد ای ویز (الیکٹرک گاڑیاں) ہوں گی جو پٹرول نہیں جلاتیں، دھواں نہیں چھوڑتیں اور اس لیے آلودگی بھی نہیں پھیلاتیں۔
یہ ہدف کافی اونچا ہے لیکن اگر اسے پا بھی لیا جائے تب بھی ملک میں پہلے سے موجود کروڑوں پرانی گاڑیاں تو پیٹرول ہی جلاتی رہیں گی اور ماحول کو آلودہ کرتی رہیں گی۔
کیا پرانی گاڑیوں کی ماحول سے دوستی کروانے کا بھی کوئی بندوبست ہو سکتا ہے؟
یونیورسٹی آف لاہور میں انٹیگریٹڈ سنٹر آف ایکسیلینس کے ڈاکٹر آزر خان تجویز کرتے ہیں کہ پرانی پٹرول گاڑیوں میں تبدیلیاں کر کے انہیں بجلی پر چلانے کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ تحریف کے اس عمل کو ماہرین ریٹروفٹنگ کہتے ہیں۔ وہ نیشنل پالیسی کی خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں تمام توجہ نئی گاڑیوں پر مرکوز ہے اور اس بات کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ پرانی گاڑیاں تو مسلسل آلودگی پھیلاتی ہی رہیں گی.
"حکومت نے پالیسی میں ریٹروفٹنگ کا ذکر تو کیا ہے لیکن اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی جبکہ ہم عملاً ثابت کر چکے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے۔اس لیے ریٹروفٹنگ کو بھی وہی سہولتیں دینی چاہئیں جو نئی ای ویز خریدنے یا بنانے والوں کو دی جا رہی ہیں۔"

پٹرول سے الیکڑک: صرف بائیک کی پاور ٹرین ہی تو بدلنی ہے
پاکستان دنیا میں موٹرسائیکلوں کی بڑی منڈی ہے جہاں صرف پچھلے ایک سال میں 18 لاکھ نئی موٹرسائیکلیں فروخت ہوئیں جن میں بڑا حصہ 70 سی سی اور 125 سی سی پٹرول بائیکس کا تھا۔ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان کی سڑکوں پر تین کروڑ سے زائد موٹرسائیکلیں رواں دواں ہیں جو محتاط اندازوں کے مطابق سالانہ تین کروڑ میٹرک ٹن سے زائد کاربن خارج کرتی ہیں۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کی دوران موٹر سائیکلیں پاکستان کے مجموعی کاربن اخراج میں دس فیصد کی حصہ دار پائی گئیں۔
پٹرول پر چلنے والی ان موٹرسائیکلوں کی آلودگی سے چھٹکارا ہمارے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تو انہیں الیکٹرک بائیکس میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
یونیورسٹی آف لاہور میں موٹرسائیکلوں کو الیکٹرک کرنے کے ایک منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے سربراہ محمد وقار نے لوک سجاگ کو بتایا کہ پیٹرول بائیک کے انجن کو نکال کر برقی موٹر لگا دی جاتی ہے جس کو بیٹری سے توانائی فراہم کی جاتی ہے۔ "ہم موٹرسائیکل میں لیتھیم آئن بیٹری پیک لگا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک موٹر کنٹرولر نصب کرتے ہیں جو برقی کرنٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔"
وہ کہتے ہیں کہ ریٹروفٹنگ کا سب سے بڑا فائدہ اس کی کم لاگت ہے۔ نیا الیکٹرک سکوٹر ڈیڑھ سے دو لاکھ 80 ہزار روپے میں آتا ہے جبکہ ریٹروفٹنگ 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں ہو جاتی ہے۔ تقریباَ آدھی قیمت کا یہ فرق عام آدمی کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر آزر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موٹرسائیکل سفر کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ایک اثاثہ بھی ہے جسے لوگوں نے دوبارہ بیچنا ہوتا ہے۔ اس لئے بہت سے افراد ایسی غیرآزمودہ برانڈ کی ای بائیک نہیں خریدنا چاہتے جس کی ری سیل ویلیو کا انہیں پتہ نہ ہو۔ "ان لوگوں کے لیے بھی ریٹروفٹنگ بہتر ہے جس میں فریم وہی رہتا ہے، صرف پاور ٹرین میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔"

'یہاں تھائی لینڈ جیسا ماڈل زیادہ کارگر ہو سکتا ہے'
حکومت ای بائیکس بنانے کے لیے 77 کمپنیوں کو لائسنس جاری کر چکی ہے۔ ساتھ ہی ای بائیکس کے خریداروں کے لیے نو ارب روپے کی سبسڈی بھی مختص کی گئی ہے جس سے ایک لاکھ 16 ہزار افراد فائدہ اُٹھائیں گے۔ یہ سبسڈی صارف کو 50 ہزار روپے کیش کی صورت میں ٹرانسفر کی جائے گی۔
ڈاکٹر آزر سمجھتے ہیں کہ سبسڈی اچھی ہے مگر ایسے اقدامات کی بھی ضرورت ہے جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ سبسڈی ختم ہونے کے بعد یہ صنعت اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی۔ "صرف درآمدہ کٹس کی اسمبلنگ کافی نہیں، ملک کو مضبوط مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی ضرورت ہے۔"
ان کے خیال میں پاکستان کی ای وی پالیسیاں اکثر یورپی ماڈل پر بنائی جاتی ہیں جو ہم سے بہت مختلف ہیں اس لئے یہ زیادہ تر کام نہیں کرتیں۔ "یہاں تھائی لینڈ جیسا ماڈل زیادہ کارگر ہو سکتا ہے یعنی یہیں پرزے تیار ہوں اور تکنیکی مسائل کا حل بھی یہیں نکالا جائے۔"
"ہمیں مقامی مکینکس اور ان مینوفیکچرر کو اس عمل میں شامل کرنا چاہیے جو پہلے ہی موٹر بائیکس کے 90 فیصد پرزے یہیں بناتے ہیں۔"
انہوں نے نشاندہی کی کہ ریٹروفٹرز کے لیے ایک اور مسئلہ ٹیکس کا ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ وہ ملتان کے ایک تجرباتی منصوبے کی مثال دیتے ہیں جہاں ٹیکس 61 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس شعبے میں چھوٹا یا درمیانہ کاروبار کرنے والا کوئی بھی شخص اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
عام صارفین کے لیے ریٹروفٹنگ اتنی پر کشش ہے کہ کچھ لوگ اس کو فروغ دینے کے حکومتی اقدامات کا انتظار نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے خود ہی اپنا راستہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
اقبال ٹاؤن لاہور کے محمد بشیر نے ایک سال قبل اپنی موٹربائیک میں اصل پیٹرول انجن کے ساتھ بیٹری پیک بھی لگوا لیا تھا۔ اب یہ سنگل چارج میں 40 سے 45 کلومیٹر چلتی ہے۔ ایسی بائیک کو مارکیٹ میں ہائبرڈ کہا جاتا ہے۔
"بیٹری ڈاؤن ہو جائے تو میں بائیک کو پیٹرول پر چلا لیتا ہوں۔ یہ پورے سال میں ایک بار بھی خراب نہیں ہوئی۔ بہترین چلتی ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ میرے پاس بیٹری اور انجن پر چلانے کے دونوں آپشنز موجود ہیں۔"

اناڑی مکینکوں کی جگاڑیں ریٹروفٹنگ کو خطرناک بنا سکتی ہیں
ریٹروفٹنگ کی ٹیکنالوجی تو تیار ہے اور آہستہ آہستہ اپنی جگہ بھی بنا رہی ہے لیکن اسے معیاری اور محفوظ بنانے کے لیے ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی۔ ریٹروفٹنگ کا عمل اور اس سے تیار گاڑیاں خطرناک ہو سکتی ہیں مثلاً اگر کوئی اناڑی مکینک غیر معیاری بیٹری یا کنٹرولر لگا دے تو آگ لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین اس سلسلے میں برطانوی وزارت ٹرانسپورٹ کی طرز کا نظام تجویز کرتے ہیں جہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی ورکشاپس حکومتی نگرانی میں گاڑیوں کی سکیورٹی اور کاربن اخراج کی جانچ کرتی ہیں۔ اس طرح کے نظام کے ذریعے ریٹروفٹڈ بائیکس کو اتنا ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے جتنی نئی الیکٹرک بائیکس ہوتی ہیں۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس، اسلام آباد کے شعبہ آٹوموٹِو الیکٹرانکس کے سربراہ عبدالہادی بتاتے ہیں کہ بڑی گاڑیوں کی ریٹروفٹنگ آسان ہے۔ بھارت سمیت کئی ممالک میں کوڑا اٹھانے والے ٹرکوں اور بسوں کی ای ویز میں منتقلی بہترین مثال ہے جو یہاں بھی ہو سکتی ہیں۔
موٹرسائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کا معاملہ پیچیدہ ہے۔یہ انجن کے لیے بنی ہیں، اگر اس کی جگہ بھاری بیٹریاں رکھی جائیں تو توازن خراب ہونے سے گاڑی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ریٹروفٹنگ تبھی صحیح طریقے سے ہو سکتی ہے جب سارا عمل طے شدہ مخصوص معیارات کے مطابق ہو اور ہر مرحلے کی نگرانی کی جائے۔ سخت جانچ کے ذریعے یقینی بنایا جائے کہ کوئی گاڑی خطرناک نہ ہو۔
"ای وی بیٹریاں اکثر چھوٹے پہیوں والی سکوٹی جیسی گاڑیوں کے لیے مناسب ہوتی ہیں مگر ہم بڑی بائیکسں میں لگا رہے ہیں جو لمبے عرصے میں موٹرسائیکل کو نقصان دیتی ہیں۔ جب تک معیارات طے نہ ہوں، ریٹروفٹنگ سے بچنا چاہیے۔"
"ای وی کی بیٹریاں دھماکہ خیز ہوتی ہیں۔ ریٹروفٹنگ کے لیے گہری تحقیق ضروری ہے لیکن میرے خیال میں ہم ابھی اس کے لیے تیار نہیں۔"
تاریخ اشاعت 8 مئی 2026




















