سیروسیاحت کے لیے سوات جائیں تو مینگورہ سے کالام کے راستے میں 52 کلو میٹر کے فاصلے پر تحصیل بحرین کا مشہور مقام مدین آتا ہے۔ یہاں سے ٹریکنگ کے شوقین افراد بشیگرام جھیل جانے کے لیے مشرق کی جانب مڑ جاتے ہیں۔ جیپ کے ذریعے ایک گھنٹے کی دشوارگزار مسافت کے بعد خوبصورت گاؤں بشیگرام آ جاتا ہے۔
یہ سوات کوہستان کا وہ دور دراز پہاڑی علاقہ ہے جہاں صدیوں پرانی زبان 'اُشوجو' اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
چالیس سالہ حبیب اللہ بشیگرام کی نواحی بستی بانڈہ کرڑیال کے رہائشی ہیں جو آج کل اپنے نو بچوں و دیگر اہلِ خانہ سمیت جنوبی ضلع ٹانک میں مقیم ہیں۔ وہ یہیں محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔
ان کی مادری زبان اُشوجو ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے جوانی تک اپنے گھر اور گاؤں میں یہی زبان بولتے رہے۔ ان کے والد، چچا اور خاندان کے دیگر افراد اشوجو میں بات کرتے تھے۔ انہیں یاد ہے کہ بشیگرام میں ایک میلہ لگتا تھا تو وہاں بھی سب اسی زبان اشوجو میں گفتگو کرتے تھے۔
"لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔ ہمارے بچے گھروں میں اشوجو کی بجائے تورولی یا پشتو زبان میں بات کرتے ہیں۔ میں خود صرف اپنے بڑوں کے ساتھ اشوجو بولتا ہوں تاہم والدہ سے توروالی اور پشتو میں بھی بات کر لیتا ہوں۔"
اشوجو زبان بشیگرام، وادیِ چیل اور گردو نواح کے لوگوں کا ورثہ اور ثقافتی شناخت تھی لیکن اب یہ معدومی کے دہانے کھڑی ہے۔ سماجی تبدیلیاں، نقل مکانی اور حکومتی بے اعتنائی اس زبان کو خاموش کیے جا رہی ہے۔

پہاڑی علاقوں کی 30 میں سے 20 زبانوں کو معدومی کا سامنا ہے
ایک تحقیق بتاتی ہے کہ اُشوجو کا تعلق انڈویورپین زبانوں کے ہندایرانی، ہندآریائی گروپ (مغربی زون) کی ذیلی شاخ داردک خاندان سے ہے۔ داردک کی اصطلاح ہمالیہ اور ہندوکش میں بولی جانے زبانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اُشوجو زبان شینا کوہستانی سے زیادہ قربت رکھتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ زبان صدیاں پہلے انڈس کوہستان (کولائی) سے اُشو (کالام) کے راستے سوات کوہستان میں آئی جس کی وجہ سے اسے اُشوجو کا نام دیا گیا۔
عالمی ادارے یونیسکو کا اٹلس آف ورلڈ لینگویجز ان ڈینجر نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیر اور پاکستان کے بلندوبالا پہاڑی علاقوں میں بولی جانے والی 30 زبانوں میں سے 20 کو معدومی کے خطرے کا سامنا ہے۔
مذکورہ زبانوں میں سے چھ یعنی کیلاشہ، دوماکی، چیلیسو، بشکارک، گورو اور دمیلی 'شدید خطرے' سے دوچار ہیں جبکہ 14 زبانوں اُشوجو، ارمڑی، توروالی، ساوی، وخی، بتیری، بھدراواہی، گوّرباتی، جاڈ، کاتی، کنڈل شاہی، پھلوڑا، یدغا اور زنگسکاری 'یقینی خطرے' کا سامنا کر رہی ہیں۔
اٹلس میں اشوجو زبان کو 'یقینی خطرے' کی کیٹیگری میں ڈالتے ہوئے سینڈرا جے ڈیکر کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جو پہلے 1992ء اور پھر 2002ء میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن اشوجو کو خطرہ کہیں زیادہ ہے۔
ڈیکر نے لکھا تھا کہ اشوجو زبان بولنے والنے والوں کی تعداد اندازاً دو ہزار ہے جو 12 دیہات (بستیاں/ بانڈے) میں رہتے ہیں جن میں ڈنڈا، ٹوکئی، مغل مار، کپل بانڈہ، تانگی بانڈہ، سور، کڈیال (کرڑیال)، نلکوٹ، ڈیرائی، کس، شیپزا (شاہی پزا) اور بشیگرام شامل تھے۔
فورم فار لینگویج انیشیٹو (ایف ایل آئی) اُشوجو بولنے والے افراد کی تعداد دو ہزار 790 بتاتا ہے۔ تاہم حبیب اللہ کے مطابق اب ان کی تعداد زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ہزار رہ گئی ہے جو بشیگرام کی صرف چار بستیوں نلکوٹ، کس، مغل مار اور شاہی پیزا تک محدود ہیں۔

چھ ماہ دوسری زبان بولنے والے بچہ اپنی مادری زبان کیسے سنبھال سکتا ہے
ضلع سوات کی لگ بھگ 27 لاکھ آبادی میں وسیع لسانی تنوع پایا جاتا ہے۔ یہاں نو مقامی (انڈیجنس) زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں پشتو، گجرو یا گجری، توروالی، گاوری، اُشوجو، قشقاری، بدیشی، شینا کوہستانی اور کوہستانی مغربی بولی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اردو قومی اور انگریزی بین الاقوامی زبان ہے۔
ویسے تو ضلع سوات کی اکثریتی زبان پشتو ہے مگر تحصیل بحرین میں لوگوں کی اکثریت توروالی بولتی ہے۔
حبیب اللہ اکتوبر میں ٹانک آئے تھے اور مارچ کے آخر یا اپریل کے آغاز میں اپنے خاندان کے ہمراہ واپس بشیگرام جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر سال موسمی نقل مکانی کسی کا شوق یا کوئی روایت نہیں بلکہ مجبوری ہے۔
"پہاڑوں پر کئی کئی فٹ برفباری پڑتی ہے، وسائل محدود اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سردیوں میں صرف ہم ہی نہیں، ارد گرد کے بیشتر خاندان علاقہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم میدانی علاقوں میں آ کر محنت مزدوری کرتے ہیں اور گرمیوں سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔"
حبیب اللہ کبھی سکول نہیں گئے مگر وہ جانتے ہیں کہ ان کی مادری زبان کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کے بچے ٹانک میں آکر تقریباً چھ ماہ پشتو بولنے والوں میں رہتے ہیں اور واپس بشیگرام جاتے ہیں تو وہاں سکول میں پشتو اور اردو پڑھائی جاتی ہے۔ قرب و جوار کی آبادیوں میں ہر جگہ توروالی بولی جاتی ہے۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ ایسے حالات میں کوئی بچہ کب تک اپنی مادری زبان کو سنبھال سکتا ہے؟
"ہم لوگوں کی تعداد کم ہے، موسمی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے ہمارے بہت سے خاندان مستقل شہری علاقوں میں جا بسے جہاں ان کے بچوں نے پشتو اور اردو کو اپنا لیا ہے۔ وہاں ان کے بڑے مر گئے تو ان گھروں میں زبان بھی ختم ہوگئی۔
یہاں (بشیگرام میں) اُشوجو آبادی مزید کم ہوئی تو اِنہوں نے دوسری لسانی برادریوں میں رشتے ناطے کرنا شروع کر دیے۔ یوں گھروں میں بھی دیگر زبانیں بولی جانے لگیں جس کے نتیجے میں اشوجو بہت پیچھے رہ گئی ہے۔"

اشوجو لوک ادب اگر کوئی تھا بھی تو اسے محفوظ نہیں کیا جا سکا
سوات یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد آصف جاوید سمجھتے ہیں کہ اشوجو زبان کے محدود ہونے کا بڑا سبب اس کی ادبی تشکیل نہ ہونا ہے۔ دوسری وجہ مسلسل مائیگریشن اور تیسرا سبب دیگر زبانوں کا دباؤ ہے۔
محمد زمان ساگر، گاوری کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جو برسوں سے گاوری زبان کو دستاویزی شکل دینے اور اس کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ اشوجو زبان کا کوئی نمایاں شاعر یا لوک گلوکار دکھائی نہیں دیتا۔ اگر شاعری یا داستانوں کی صورت میں کوئی لوک ادب تھا بھی تو اسے محفوظ نہیں کیا جا سکا۔
ریڈیو، ٹی وی پر اس زبان میں کبھی کوئی پروگرام یا گیت نشر نہیں ہوا۔ علاقے میں تعلیم کی کمی کے باعث اوشوجو ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا سے بالکل ہی غائب ہے۔ نوجوان نسل فیس بک وغیرہ پر زیادہ تر پشتو، اردو یا توروالی استعمال کرتی ہے۔
ان کے بقول کچھ لوگوں نے اشوجو کو توروالی حروف تہجی استعمال کر کے عربی رسم الخط میں لکھنے کی کوشش کی ہیں مگر اس کا تحریری مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔
البتہ ایف ایل آئی نے اشوجو، گوّرباتی، دمیلی اور یدغا زبانوں کے حروف تہجی کا الگ الگ کتابچہ، اردو معنی کے ساتھ چھوٹی ڈکشنری اور لوک کہانیوں پر مشتمل سی ڈیز (بمع اردو ترجمہ) تیار کر لی ہیں۔
بحرین (سوات) کے رہائشی محقق اور ادارہ برائے تعلیم وترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زبیر توروالی نے بھی اوشوجو زبان کو توروالی حروف تہجی میں تحریر کیا ہے۔ انہوں نے پچھلے سال موزیلا فاونڈیشن کے لیے اس کا ڈیٹا سیٹ تیار کیا تاکہ اسے آرٹیفشل انٹیلی جینس اے آئی میں استعمال کیا جا سکے۔

اشوجو زبان پشتو اور توروالی میں گھری ہوئی ہے
زبان و ثقافت پر زبیر توروالی کی کئی کتابیں اور مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اشوجو زبان شدید خطرے میں ہے کیونکہ اسے بولنے والے پشتو اور توروالی کو اپناتے جا رہے ہیں۔
اُشوجو ثقافت پر بات کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ تحصیل بحرین کی تقریباً پونے تین لاکھ آبادی میں سے ڈیڑھ لاکھ افراد توروالی زبان بولتے ہیں اور درہ بشیگرام میں بھی انہی لوگوں کی اکثریت ہے۔
'اُشوجو بولنے والے ہزار/ڈیڑھ ہزار آبادی توروالیوں کے بیچ میں رہتی ہے جس کی وجہ سے دونوں کمیونیٹیز کے رہن سہن اور طرز زندگی میں کوئی فرق نہیں رہا۔'
محمد زمان ساگر اتفاق کرتے ہیں کہ اشوجو لوگ لسانی فرق کے باجود ثقافتی طور پر تورالی کمیونٹی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ صرف اشوجو بولنے والے ہی نہیں ان پہاڑوں کے سب مکینوں کے لباس، خوراک اور رسوم و رواج ایک جیسے ہیں۔
'یہ لوگ یہاں زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور سردیاں میدانی علاقوں میں جا کر محنت مزدوری کرتے گزارتے ہیں۔'
انہیں خدشہ ہے کہ یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک دو نسلوں بعد اُشوجو زبان مکمل طور پر معدوم ہوسکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ سوات میں اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم خطرے سے دوچار زبانیں مقامی سکولوں میں ضرور پڑھائی جائیں تاکہ یہ نئی نسلوں کو منتقل ہوں۔
'اس کے بغیر اشوجو جیسی زبانیں باقی نہیں رہیں گی۔'
زبیر توروالی، محمد زمان ساگر اور آصف جاوید کہتے ہیں کہ مادری زبانوں کے لیے انفرادی کوششوں اور غیرسرکاری تنظیوں سے زیادہ حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان زبانوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا ہو گا۔ لوک گیتوں اور روایات کو دستاویزی شکل دینا ہوگی اور انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر محفوظ کرنا ہو گا۔
وہ تجویز دیتے ہیں کہ لوک موسیقی کو فروغ دیاجائے۔ لوک داستانوں کو ڈرامائی تشکیل دے کر تراجم کے ساتھ محفوظ کیا جائے تو مقامی زبانوں کی زندگی بڑھ جائے گی۔ یونیورسٹیوں و تحقیقی اداروں میں ان پر پروگرامز بھی مدد گار ہو سکتے ہیں۔
'زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں، ایک کمیونٹی کا ورثہ، اجتماعی دانش اور تاریخی تجربات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اشوجو کو محفوظ نہ کیا گیا تو دنیا بشیگرام میں موجود اس قیمتی ثقافتی اثاثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گی۔'
تاریخ اشاعت 24 فروری 2026
















