سندھ میں گندم کی کٹائی مکمل ہوئے لگ بھگ ایک ماہ ہو چکا ہے لیکن سرکاری گودام خالی پڑے ہیں۔ محکمہ خوراک نے خریداری کا آغاز یکم اپریل کو کیا اور اس بار دس لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ٹارگٹ طے کیا تھا لیکن مئی کے تیسرے ہفتے تک محکمہ بمشکل ایک لاکھ ٹن گندم ہی خرید پایا تھا۔
ایسا کیوں ہوا؟
حکومت نے کسانوں سے خریداری کا جو ریٹ طے کیا تھا وہ منڈی سے کم نہیں تھا۔ پھر بھی سرکاری خریداری مرکز سنسان پڑے رہے۔ پھر ربیع سیزن کے دوراں محکمے یہ دعوے کرتے رہے کہ اس بار سندھ میں ریکارڈ رقبے پر گندم کاشت ہوئی ہے تو آخر اس کی ریکارڈ پیداوار کہاں گئی؟ یا تو کاشت کے تخمینے درست نہیں تھے یا پھر اس میں سے سرکار کو جو حصہ خریدنا تھا وہ اس میں ناکام ہوئی؟
مکمل صورت حال سامنے آنے میں تو وقت لگے گا لیکن شواہد یہی بتا رہے ہیں کہ اس بار گندم حکومتی دعووں سے کہیں کم کاشت ہوئی۔ صوبائی حکومت نے چھوٹے کسانوں کو 23 لاکھ ایکڑ پر گندم اگانے کے لیے اربوں روپے کی سبسڈی دی تھی لیکن وہاں بھی پوری فصل کاشت نہیں ہوئی۔ یعنی کسانوں نے سبسڈی تو وصول لی لیکن گندم کاشت نہیں کی۔
حال ہی میں ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع سندھ اللہ ورایو رند نے 23 اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ایک مراسلہ لکھا ہے کہ ویٹ گروؤر سپورٹ پروگرام کے تحت سبسڈی لینے کے باوجود گندم کاشت نہ کرنے والوں سے رقم واپس لی جائے۔
ڈپٹی کمشنرز کو مذکورہ کسانوں کی فہرستیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔
اپریل کے اختتام پر لکھے جانے والے اس خط میں سپورٹ پروگرام سے متعلق سندھ کابینہ کے اجلاس (3 اکتوبر 2025ء) کا حوالہ دیا گیا ہے۔
'کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی کسان/کاشتکار اس پروگرام کے قواعد کی خلاف ورزی کرے گا وہ ناں صرف پانچ سال کے لیے حکومتی سبسڈی کا نااہل ہو جائے گا بلکہ رقم واپس کرنے کا بھی پابند ہو گا۔'
اس مراسلے کی کاپی حیدرآباد، بینظیر آباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کمشنرز، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل) زرعی سپلائی اینڈ پرائسز ڈیپارٹمنٹ و دیگر کے علاوہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو بھیجی گئی ہے۔

اندازے جو دھرے رہ گئے
سندھ حکومت نے ایک سے 25 ایکڑ تک کے چھوٹے کسانوں کو گندم اُگانے کی ترغیب دینے کے لیے لگ بھگ 56 ارب روپے کا امدادی پروگرام شروع کیا جس کے تحت انہیں مفت کھاد (بطور سبسڈی) فراہم کی جانی تھی۔
محکمہ زراعت توسیع کے مطابق اس پروگرام میں تقریباً چار لاکھ فارمرز نے اپنی رجسٹریشن کرائی۔ تاہم مختیارکاروں (تحصیلدار) کی تصدیق کے بعد تین لاکھ 36 ہزار کسان سبسڈی کے اہل قرار پائے جن کا گندم کا رقبہ لگ بھگ 23 لاکھ ایکڑ بنتا تھا۔
مذکورہ کسانوں کو 22 ہزار فی ایکڑ دو مرحلوں میں رقم ادا کی گئی۔ بعدازاں تھریشنگ کے لیے ڈیزل سبسڈی بھی دی گئی۔
حکومت نے گندم کا نرخ ساڑھے تین ہزار روپے من (40 کلو) اور خریداری کا ہدف 10 لاکھ ٹن مقرر کیا۔ پرچیزنگ پلان یہ تھا کہ صرف سبسڈی لینے والے کسانوں سے فی ایکڑ ساڑھے 12 من (500 کلو) گندم خریدی جائے گی جس سے کاشتکار کا اعتماد بڑھے گا اور ٹارگٹ بھی آسانی سے پورا کر لیا جائے گا۔
تاہم جب اپریل کے آخر تک کئی مراکز پر محکمہ خوراک ایک بوری گیہوں بھی نہ خرید پایا تو چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ اس دوران ڈپٹی کمشنرز کو ڈی جی توسیع کے ریکوری لیٹر نے گندم کم کاشت ہونے کے خدشات کی تصدیق کر دی۔
ڈی جی اللہ ورایو رند بتاتے ہیں کہ ریکوری لسٹ میں صوبے بھر سے صرف ایک ہزار 764 فارمرز کے نام شامل ہیں جنہوں نے امدادی رقم وصول کر لی مگر گندم کاشت نہیں کی۔ان فارمرز کا رقبہ مجموعی طور پر آٹھ ہزار 392 ایکڑ بنتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع کا مؤقف اپنی جگہ، درحقیقت یہ رقبہ ان ریکوری لسٹوں میں بتائی گئی تفصیل سے کہیں زیادہ ہے جہاں گندم کاشت نہیں ہوئی۔

سبسڈی کی حیرت انگیز کہانی: کسان کی زبانی
ناصر حسین (درخواست پر نام تبدیل کیا گیا ہے) ٹنڈوالہیار کی تحصیل چمبڑ میں 23 ایکڑ اراضی کے مالک ہیں جو امدادی رقم کی کہانی خود سناتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں ستو (کاشت اور قبضے کی تفصیل پر مشتمل فارم 7- بی) کی تصدیق کے بعد متعلقہ پٹواری نے اپنے دفتر بلوایا اور پوچھا کہ وہ کتنی گندم بونے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
"میں نے گندم کا رقبہ 13 ایکڑ بتایا۔ پٹواری نے میرا موبائل نمبر اور بینک اکاؤنٹ طلب کیا جو میں نے دے دیا۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں مجھے 13 بوری ڈی اے پی کی خریداری کے لیے ایک لاکھ 82 ہزار (14 ہزار فی بوری) روپے ملے جبکہ میری گندم 15 دسمبر تک کاشت ہو چکی تھی اور یہ کھاد بوائی میں ڈالی جاتی ہے۔
اپریل کے پہلے ہفتے جب گندم تیار تھی تو اس وقت میرے اکاؤنٹ میں دو بوری فی ایکڑ کے حساب سے 26 بوری یوریا (چار ہزار فی بوری) کے ایک لاکھ چار ہزار روپے منتقل ہوئے۔ اسی دوران حکومت نے تھریشنگ کے لیے ڈیزل سبسڈی کی مد میں مزید ساڑھے 19 ہزار روپے (ڈیڑھ ہزار فی ایکڑ) دیے۔ ان رقوم کی اطلاع مجھے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے ملتی رہی۔"
ناصر حسین نے صرف چار ایکڑ گندم بوئی تھی۔ ساڑھے 23 ہزار فی ایکڑ کے حساب سے ان کی امدادی رقم 94 ہزار بنتی تھی مگر انہیں تین لاکھ پانچ ہزار 500 روپے ملے جو انہوں نے نکلوا لیے۔
ان کے بقول اس دوران کسی محکمے کا کوئی اہلکار کاشت کی تصدیق کے لیے ان کے پاس نہیں آیا۔ سب اپنے اپنے دفاتر میں بیٹھ کر کاغذی کارروائیاں کرتے رہے۔
ناصر حسین کا نام ریکوری لسٹ میں شامل نہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ اب حکومت رقم واپس لے یا جو بھی کرے، یہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ فی الحال جتنی گندم تھی وہ اسے مارچ ہی میں 33 سو روپے من چمبڑ شہر میں بیچ چکے ہیں۔

دیر آید، غلط آید: گندم کب کاشت ہوئی، سبسڈی کب ملی
اللہ ورایو رند کا کہنا ہے کہ صوبے میں پروگرام کی نگرانی و کاشت کی تصدیق کے لیے 235 ٹیمیں بنائی گئیں جن میں ایگریگلچر افسران، فیلڈ اسسٹنٹ اور متعلقہ پٹواری شامل تھے۔ انہی کی نشاندہی پر گندم کاشت نہ کرنے والوں سے ریکوری کی جا رہی ہے۔
تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ تصدیق کا عمل اتنا کمزور تھا کہ گندم کاشت نہ کرنے والوں کو ڈی اے پی کے بعد نہ صرف یوریا کی رقم مل گئی بلکہ تھریشنگ کے لیے بھی رقم جاری ہو گئی۔
حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک ڈائریکٹر زراعت توسیع بھی ڈی جی کے اعدادو شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لوک سجاگ کو بتایا کہ گندم نہ اگانے والے کسانوں کی تعداد اور کاشت نہ ہونے والا رقبہ کہیں زیادہ ہے۔
"جہاں تک محکمے کے ڈپٹی کمشنرز کو ریکوری لیٹر کا تعلق ہے یہ محض اپنی نااہلی چھپانے کے لیے لکھا گیا ہے۔"
وہ کہتے ہیں کہ گندم کھیتوں سے کارخانوں اور نجی گوداموں میں جا چکی ہے، اب کوئی کسان یا محکمہ کیسے ثابت کرے گا کہ کس نے کتنی گندم کاشت کی تھی۔ ریکوری کی کارروائی بے معنی ہے، بالفرض اگر کچھ غریب یا لاوارث کسانوں سے رقم واپس وصول کر بھی لی جائے تو اس سے کچھ بدلنے والا نہیں۔
ڈی جی زراعت توسیع تو مراسلہ بھیج کر بری الذمہ ہو گئے مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی بڑی سبسڈی سکیم مطوبہ نتائج دینے میں کیسے اور کیوں کر ناکام رہی؟
جب یہی سوال ریٹائرڈ ڈائریکٹر زراعت سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں گندم کے کاشت کار کے لیے کوئی ترغیب (انسینٹو) نہیں تھی۔ وہ دو سال گندم کوڑیوں کے بھاؤ بیچتے رہے انہیں کسی نے نہیں پوچھا، اب وہ اتنی جلدی دوبارہ اسی فصل سے نقصان اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کو حکومتی اعلان پالیسی پر یقین نہیں تھا۔ اگر حکومت ڈی اے پی کی امدادی رقم بروقت یعنی نومبر یا دسمبر کے پہلے ہفتے تک دے دیتی تو شاید کسان اعتماد کر لیتے اور زیادہ گندم کاشت ہوتی۔

گندم خریداری: محکمہ خوراک ہر سال نئی داستان چھوڑ جاتا ہے
محکمہ زراعت توسیع سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں رواں سال ربیع سیزن میں 38 لاکھ 79 ہزار 857 ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً آٹھ لاکھ ایکڑ زیادہ ہے۔
رواں سال صوبے میں گندم کی پیدوار کا مجموعی تخمینہ 48 لاکھ ٹن سے زائد لگایا گیا تھا۔ محکمہ خوراک کو 10 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف دیا گیا جو صرف سبسڈی لینے والے کاشتکاروں تک محدود رکھا گیا۔
سندھ میں گندم کی خرید و فروخت کا موسم ہو اور محکمہ خوراک اپنی 'اعلیٰ کارکردگی' کی وجہ سے خبروں میں نہ آئے یہ کیسے ممکن ہے۔ صوبائی حکومت نے مارچ میں اعلان کیا کہ محکمہ خوراک یکم اپریل سے 109 مراکز پر گندم خریداری شروع کرے گا۔
یہاں گندم کی کٹائی میرپور خاص سے مارچ کے پہلے ہفتے میں شروع ہوتی ہے جو اپریل کے آخر تک تقریباً صوبے میں مکمل ہو جاتی ہے۔ مگر اختتامِ اپریل میں جب لوک سجاگ کی ٹیم نے سانگھڑ، ٹنڈو الہیار اور بدین کے خریداری مراکز کا دورہ کیا تو وہاں عملہ ہی نہیں تھا۔
حیدرآباد میں ہٹڑی تھانے کے سامنے 'گندم خریداری مرکز ٹنڈو جام' کا بورڈ لگا ہوا تھا جبکہ خریداری صرف حیدرآباد میں کی جا رہی تھی۔
ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر حیدر آباد احسان کورائی کے مطابق محکمہ زرعی توسیع نے سبسڈی لینے والے کاشت کاروں کی لسٹیں بھیجی ہیں مگر گندم نہیں آ رہی۔ مقامی ریونیو حکام سے بھی مدد لی گئی ہے لیکن خریداری کا ہدف مکمل ہونا مشکل لگ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ صرف ان کسانوں کو امداد ملے گی جو حکومت کو گندم بیچیں گے۔ پھر بھی سرکاری مراکز پر گندم نہیں آئی۔
ایک اور ڈسٹرکٹ افسر فوڈ نے شکوہ کیا کہ چھوٹے زمینداروں نے جتنی گندم بتائی تھی اتنا کاشت نہیں کی۔ خریداری مراکز کم بنائے گئے۔ کوئی کسان ٹرانسپورٹ کا فالتو خرچہ کر کے اتنی دور گندم بیچنے تو نہیں آئے گا۔
مارکیٹ میں سرکاری ریٹ سے بہتر دام ملا، بیوپاری اور چکی والے نقد ادائیگی کرتے ہیں۔ گندم جتنی تھی وہ اوپن مارکیٹ میں نکل گئی ہے۔
ناصر حسین کا اصرار ہے کہ کسان گندم کو کھلیان میں نہیں رکھ سکتے۔ محکمہ خوراک نے بروقت خریداری شروع کی ہوتی تو وہ فصل یقیناً حکومت کو بیچتے۔
"مجھے افسوس ہے کہ امدادی رقم تاخیر سے ملی جس کا ہم فائدہ نہیں اٹھا سکے ، اگر آئندہ سال دوبارہ سبسڈی سکیم ملی تو گندم کا موقع ضائع نہیں کریں گے۔"
تاریخ اشاعت 3 جون 2026

















