پتھر پیسنے والے کارخانوں میں موت پھانکتے مزدور: 'یہ کام ہم سب کو کھا گیا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پتھر پیسنے والے کارخانوں میں موت پھانکتے مزدور: 'یہ کام ہم سب کو کھا گیا ہے'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

پتھر پیسنے والے کارخانوں میں موت پھانکتے مزدور: 'یہ کام ہم سب کو کھا گیا ہے'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

نت کالر کے رہنے والوں کو شبہ تھا کہ ان کے گاؤں کے کچھ افراد کوئی طاقت ور نشہ کرنے لگے ہیں۔

ایک کارخانے میں کام کرنے والے یہ لوگ جب جمعرات کو چھٹی پر گھر آتے تو چاق و چوبند ہوتے لیکن جمعے کو ایسے لگتا جیسے ان کا نشہ ٹوٹ رہا ہو۔ وہ سارا دن چارپائی پر پڑے رہتے اور نقاہت کے مارے نکڑ کی دکان تک نہ جا سکتے۔ ہفتے کو وہ جیسے ہی کام پر واپس جاتے تو ان کی توانائیاں لوٹ آتیں۔

تقریباً دو سال اسی کیفیت میں رہنے کے بعد ان افراد کو سانس لینے میں اتنی دشواری ہونے لگی کہ ان کے لیے چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا اور کام کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر ایک ایک کر کے وہ مرنے لگے۔

پچھلے 15 سالوں میں ان میں سے 14 لوگوں کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ تین مزید افراد اپنی زندگی کے دن گِن رہے ہیں۔  

جان لیوا کام 

تقریباً ڈیڑھ سو گھروں پر مشتمل نت کالر ضلع گجرانوالہ کی تحصیل کامونکی میں واقع ہے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایک مقامی رکنِ قومی اسمبلی کے ساتھ زمین کے تنازعے کے نتیجے میں یہاں رہنے والے چند گھرانے اپنی زرعی آمدن سے محروم ہو گئے لہٰذا ان کے مرد قریبی شہروں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ان میں سے کچھ کو گجرانوالہ شہر میں واقع لوہیانوالہ بائی پاس کے علاقے میں محمد اشرف انصاری کے پتھر پیسنے کے کارخانے میں کام ملا۔

ان میں محمد ریاض بھی شامل تھے۔

نومبر 2021 کی ایک شام وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں بیٹھے ہیں جس کی مٹیالی دیواریں ہر طرح کے رنگ و روغن سے عاری ہیں جبکہ اس کا سیمنٹ سے بنا ناہموار فرش ایک پرانے قالین سے آدھا ڈھکا ہوا ہے۔

محمد ریاض کی عمر تقریباً 55 سال ہے لیکن وہ کہیں زیادہ بوڑھے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بات کرتے ہیں کیونکہ چند لفظ بولنے کے بعد انہیں کھانسی کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو ان کے گلے سے ایسی آوازیں نکلتی ہیں جیسے اس میں سے کوئی چیز ابل کر باہر آنے کی کوشش کر رہی ہو۔ 

یہ طبی مسائل 2006 سے ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔

محمد ریاض کا کہنا ہے کہ کارخانے میں کام کے دوران وہ اور ان کے ساتھی مزدور مشینوں کی مدد سے پتھر پیستے، اس پسے ہوئے پتھر میں اپنے ہاتھوں سے بورک ایسڈ نامی تیزاب ملاتے اور پھر بیلچوں کی مدد سے اس آمیزے کو بوریوں میں ڈالتے۔

ان کے بھائی محمد شہباز بھی یہی کام کرتے تھے۔ انہیں کارخانے میں ملازمت کرتے ہوئے ابھی دو سال نہیں ہوئے تھے کہ وہ بیمار رہنے لگے۔ انہیں اکثر تیز بخار ہو جاتا، کھانسی کے باعث ان سے بولا بھی نہ جاتا اور تھوڑا سا چلنے پھرنے سے ان کی سانس پھول جاتی۔ ان مسائل کے باعث جلد ہی انہوں نے نوکری چھوڑ دی۔

ڈاکٹروں نے محمد شہباز کو بتایا کہ انھیں ٹی بی ہو گئی ہے۔ لیکن ٹی بی کی دوائیاں استعمال کرنے کے باوجود ان کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی گئی۔ اس سے پہلے کہ ان کے مرض کی صحیح تشخیص ہو پاتی، 2007 میں وہ دم توڑ گئے۔

ان کے مرنے سے پہلے ان کے ساتھی مزدوروں میں بھی انہی جیسی طبی علامات ظاہر ہونے لگیں اور اگلے پانچ سالوں میں ان میں سے کئی ایک کا انتقال ہو گیا۔ 

تحقیق سے تشخیص تک

نت کالر کے رہنے والے اسامہ خاور 2012 میں لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس سال وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے گاؤں گئے تو انہیں پتہ چلا کہ وہاں کے کئی لوگ پچھلے کچھ سالوں سے ایک ہی طرح کی طبی علامات کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے ان کے مرض کا کھوج لگانے کے لیے کئی مقامی معالجین اور لاہور میں کام کرنے والے کچھ ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور پھر انٹرنیٹ پر خود بھی تحقیق کی جس کے نتیجے میں انہیں پتہ چلا کہ ان لوگوں کو لگے ہوئے روگ کا نام سِلی کوسِز ہے۔

اس کے بعد وہ کچھ مریضوں کو تشخیص اور علاج کے لیے لاہور لے آئے جہاں 2014 میں ایک نجی ہسپتال، سرجی میڈ، کے دو ڈاکٹروں، ایم اے جاوید صدیقی اور خاور عباس چوہدری نے ان میں سے ایک مریض میں سلی کوسز کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔

اس سے پہلے اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے تمام مریض اپنا علاج ڈاکٹر منیر بھٹی سے کراتے تھے جو پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے ماہر ہیں اور سیالکوٹ شہر کے امام صاحب روڈ پر واقع تھانے کے عقب میں ایک نِجی کلنک چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس بیماری کا پتہ چلنے میں اتنا وقت لگنے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس کی تشخیص کے لئے درکار مشینری اور تکنیکی مہارت پورے صوبہ پنجاب میں صرف لاہور میں پائی جاتی ہے۔

<p> (سلیِ کوسز سے متاثرہ مزدور)<br></p>

 (سلیِ کوسز سے متاثرہ مزدور)

سیالکوٹ کے مرکزی سرکاری ہسپتال میں پھیپھڑوں اور سانس کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر عبد الواجد خان بھی کہتے ہیں کہ سِلی کوسز کی تشخیص کے لیے درکار پھیپھڑوں کی بائیوپسی اور برونکوسکوپی جیسی سہولتیں سیالکوٹ یا گوجرانوالہ کے کسی مقامی ہسپتال میں دستیاب نہیں۔ 
عالمی ادارہِ صحت اور عالمی ادارہ برائے لیبر سِلی کوسز کو ایک ’پیشہ وارانہ مرض‘ گردانتے ہیں یعنی یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر کسی کو نہیں لگتی بلکہ صرف مخصوص حالات میں کام کرنے والے مزدروں کو ہی لاحق ہوتی ہے۔

ڈاکٹر منیر بھٹی کا کہنا ہے کہ پتھر پیسنے اور شیشہ سازی کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو سِلی کوسز اس لیے ہوتا ہے کہ ان کارخانوں میں پسے ہوئے پتھر میں تیزاب کی آمیزش کے دوران سیلیکا (silica) پاؤڈر ہوا میں معلق ہو جاتا ہے۔ یہ پاؤڈر سانس کی نالیوں کے ذریعے مزدوروں کے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر جمع ہوتا رہتا ہے جس سے ان کی اکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ 

وہ کہتے ہیں کہ "اس بیماری کا کوئی علاج نہیں کیونکہ پھیپھڑوں میں جمع شدہ سیلیکا پاؤڈر کو نکالا نہیں جا سکتا۔ اس لیے اس میں مبتلا لوگ آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں"۔ 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مزدوروں کو اس مرض سے بچانے کے لیے کارخانوں میں ہوا صاف کرنے والی مشینری نصب کرنا بہت ضروری ہے تاکہ سیلیکا پاؤڈر کو ہوا میں معلق ہونے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق اس سے بچاؤ کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ مزدور کام کے دوران اپنے ہاتھ اور منہ بالترتیب دستانوں اور ماسک سے ڈھانک کر رکھیں۔ 

ڈاکٹر منیر بھٹی کے بقول کسی کارخانے کے مزدوروں کا اس مرض میں مبتلا ہو جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں اس طرح کے حفاظتی انتظامات موجود نہیں۔ 

حکومتی عملداری کتنی مؤثر؟

اسامہ خاور نے سِلی کوسز سے متاثرہ خاندانوں سے مل کر 2014 کے اوائل میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں کہا گیا کہ اس مرض سے ہونے والی اموات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے۔ لیکن جب اس پٹیشن پر کوئی خاص کارروائی نہ ہوئی تو انہوں نے یکم جولائی 2014 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک درخواست بھیجی کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے۔

سپریم کورٹ نے ان کی استدعا مان کر سماعت شروع کی اور 14 اپریل 2015 کو پنجاب حکومت کو حکم دیا کہ پتھر پیسنے کے کارخانوں میں حفاظتی اقدامات کی فوری جانچ پڑتال کی جائے۔

اگلے ہی روز گجرانوالہ میں متعین صوبائی محکمۂِ لیبر کے ڈائریکٹر ضیغم عباس نے اپنے ماتحت عملے کے ساتھ شہر کے پانچ بڑے کارخانوں میں چھاپے مارے جن میں انکشاف ہوا کہ ان میں سے چار کارخانوں میں نہ تو کسی قسم کے حفاظتی اقدامات موجود ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پتھر پیسنے کے لائسنس اور محکمۂِ ماحولیات کی طرف سے یہ کام کرنے کے اجازت نامے ہیں۔ 

پانچویں کارخانے، ماسٹر ٹائلز، میں ضیغم عباس اور ان کے عملے کو گھسنے ہی نہیں دیا گیا۔ محکمۂِ لیبر کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جب یہ لوگ اس کارخانے کے باہر پہنچے تو وہاں کی انتظامیہ نے اس کے دروازے اندر سے بند کر لیے۔ تاہم عدالتی احکام کی اس کھلی خلاف ورزی کے باوجود ماسٹر ٹائلز کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 

بعد ازاں 2018 میں محکمۂِ لیبر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس کے عملے نے پنجاب بھر میں ایک سال میں پانچ سو 91 بار مختلف کارخانوں کی جانچ پڑتال کی ہے اور 15 بار مختلف کارخانوں کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر صرف 35 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ 

محکمۂِ لیبر کے پاس پتھر پیسنے والے کارخانوں کا کوئی مکمل ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ صرف ایک بار 2014 میں سپریم کورٹ کے کہنے پر صوبے بھر میں ایسے سو سے زائد کارخانوں کی نشان دہی کی گئی لیکن اس سے پہلے یا بعد میں کبھی ان کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا گیا۔ 

سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے ریکارڈ میں یہ حیران کن انکشاف بھی موجود تھا کہ پنجاب میں پتھر پیسنے کے 80 فیصد سے زیادہ کارخانے بغیر کسی سرکاری رجسٹریشن  اور لائسنس کے چل رہے ہیں۔

 اعداد و شمار: کتنے صحیح کتنے غلط

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ 10 سال میں سو سے زیادہ افراد پھیپھڑوں کی ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر چکے ہیں جو پیشہ وارانہ امراض کے زمرے میں آتی ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد کی موت کا سبب سِلی کوسز تھا۔ اس کا شکار بننے والے 34 مریضوں کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے ایک ہی گاؤں، چک ننگر، سے تھا۔ اب بھی پنجاب کے مختلف حصوں میں کم از کم چار سو سے زائد افراد اس میں مبتلا ہیں۔ 

ان مریضوں کی ایک بڑی تعداد گجرانوالہ ڈویژن میں رہتی ہے۔ یہ مریض گجرانوالہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں پتھر پیسنے والے درجنوں کارخانوں میں کام کرتے رہے ہیں۔

لیکن یہ سرکاری اعدادوشمار نہ تو حتمی ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر درست۔ ان میں پائی جانے والی سب سے پہلی خرابی یہ ہے کہ کوئی سرکاری محکمہ 2014 سے پہلے سِلی کوسز کے مریضوں کا حساب کتاب نہیں رکھ رہا تھا۔ اُس سال پہلی بار سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب کے محکمۂِ صحت نے ان کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا۔

ان اعدادوشمار کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں دیکھے جانے والے مریضوں کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہسپتالوں میں سِلی کوسز کی تشخیص کے لیے درکار آلات اور مہارت موجود ہی نہیں اس لیے وہاں جانے والے مریضوں میں اس مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔ اسی طرح نجی ہسپتالوں سے تشخیص اور علاج کرانے والے مریض بھی اس گنتی سے باہر ہیں۔ 

ان اعدادوشمار میں کئی فاش غلطیاں بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر صوبائی محکمۂِ صحت کی 2015 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اُس سال پنجاب میں سِلی کوسز کے مریضوں کی تعداد چار لاکھ 67 ہزار پانچ سو پانچ تھی جو پچھلے سال کی نسبت ہزاروں گنا زیادہ تھی۔ محکمے کے شعبۂِ معلومات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ نمبر درست نہیں بلکہ "واضح طور پر ایک غلطی کے نتیجے میں رپورٹ میں لکھا گیا ہے"۔ تاہم چھ سال گزر جانے کے باوجود اس غلطی کو درست نہیں کیا گیا۔ 

موت کے کارخانے 

ڈیرہ غازی خان میں سِلی کوسز سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں چھپنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2012 میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنائی جس نے نہ صرف ان اموات کی تصدیق کی بلکہ وہیں پر اس بیماری میں مبتلا ایک سو 34 مزید مریضوں کی نشاندہی بھی کی۔ اسی دوران اسامہ خاور نے پنجاب کے چھ مختلف علاقوں کا دورہ کیا جس سے انہیں پتہ چلا کہ وہاں سِلی کوسز نے کم از کم ایک سو لوگوں کی جانیں لے لی ہیں۔ ان مشاہدات کی بنا پر انہوں نے بعدازاں سپریم کورٹ میں خدشہ ظاہر کیا کہ اگر گوجرانوالہ میں کام کرنے والا محمد اشرف انصاری کا "چھوٹا سا کارخانہ پچاس اموات کا باعث بن سکتا ہے تو (پنجاب بھر میں) ہر سال اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے"۔

اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ کی تحقیقاتی ٹیم  نے سفارش کی کہ سِلی کوسز سے ہونے والی اموات کے ذمہ دار کارخانہ داروں اور سرکاری افسران پر مجرمانہ غفلت کے مقدمے چلائے جائیں اور اس مرض کا شکار مزدوروں کو ان کے آجروں سے ہرجانہ لے کر دیا جائے۔ لیکن ابھی تک نہ تو کسی کارخانہ دار کے خلاف کوئی مقدمہ چلا ہے اور نہ ہی متاثرہ مزدوروں کو خاطر خواہ ہرجانہ دیا گیا ہے۔

ان سفارشات کا صرف یہ نتیجہ نکلا ہے کہ محمد اشرف انصاری نے اپنا کارخانہ گجرانوالہ سے منتقل کر کے اس کے قریبی ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں لگا لیا ہے۔ اسی طرح سلی کوسز سے ہلاک ہونے والے ہر مزدور کے لواحقین کو تین لاکھ روپے دیے گئے ہیں لیکن زندہ مزدوروں کو ایک پائی بھی نہیں دی گئی۔ 

دوسری طرف محمد ریاض کی صرف ایک مہینے کی دوائی کا خرچہ تقریباً بیس ہزار روپے ہے جبکہ ہر دو ہفتے بعد سیالکوٹ میں ڈاکٹر کے پاس جا کر معائنہ کرانے پر ان کے پندرہ سو روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں اپنا گھر چلانے کے لیے بھی انہیں ہر ماہ ہزاروں روپے درکار ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ خود کوئی کام نہیں کر سکتے اس لیے یہ ساری رقم ان کے بہن بھائی اور دیگر رشتے دار مل جل کر انہیں فراہم کرتے ہیں۔ 

اپنی خستہ حال بیٹھک میں دوائیوں سے بھرا تھیلا تھامے وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کی ملازمت کے شروع کے دنوں میں ایک ادھیڑ عمر عورت انہیں اور دوسرے مزدوروں کو ہر روز کارخانے کے دروازے پر روکتی اور اندر جانے سے منع کرتے ہوئے کہتی: "یہ کارخانہ میرے سات بیٹے کھا گیا ہے، یہ تمہیں بھی کھا جائے گا"۔ 

سب مزدور اسے پاگل سمجھ کر نظرانداز کر دیتے۔ 

لیکن 17 سال گزرنے کے بعد محمد ریاض تسلیم کرتے ہیں کہ "ہمیں اس کی بات پر غور کرنا چاہیے تھا کیونکہ کارخانہ واقعی ہم سب کو کھا گیا ہے"۔

تاریخ اشاعت 25 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔