سیف سٹی اتھارٹی: اب لاہور کتنا محفوظ ہے؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سیف سٹی اتھارٹی: اب لاہور کتنا محفوظ ہے؟

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

سیف سٹی اتھارٹی: اب لاہور کتنا محفوظ ہے؟

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

لاہور میں ایک ایسی عمارت بھی ہے جس پر کسی قسم کے دھماکے کا اثر نہیں ہوتا۔

مال روڈ کے مشرقی سرے کے دائیں جانب قربان لائن کے علاقے میں واقع اس عمارت کے مرکزی ہال میں ایک بہت بڑی دیوار پر 55 انچ کی 200 ٹی وی سکرینیں نصب ہیں جن پر 24 گھنٹے لاہور کے عوامی مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز براہِ راست نمودار ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز شہر میں لگے کئی ہزار کیمروں سے لی جاتی ہیں جو پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی زیرِ نگرانی کام کرتے ہیں۔ 

یہ محفوظ ترین عمارت اسی اتھارٹی کے مرکزی دفتر کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ 

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سابقہ صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر پنجاب سیف سٹی آرڈیننس 2015 کے تحت قائم کی تھی لیکن 2016 میں اس آرڈیننس کی جگہ پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ایک قانون نے لے لی۔ اس اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد صوبہ پنجاب میں بالعموم اور لاہور شہر میں بالخصوص ایک ایسا نظام وجود میں لانا ہے جس سے جرائم کی روک تھام میں مدد مِلے۔  

اس مقصد کے لئے 81 کروڑ روپے کی لاگت سے لاہور بھر میں آٹھ ہزار کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں جن کی تنصیب 2018 میں مکمل ہوئی۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مرکزی دفتر میں تعینات ایک پولیس افیسر محمد عدنان کا کہنا ہے کہ 'ان کیمروں اور ان سے منسلک مخلتف اقسام کی ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل کی جانے والی معلومات پولیس کے تفتیشی افسران جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی میں استعمال کرتے ہیں'۔

ان کے مطابق  یہ 'ساری معلومات خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو بھی دستیاب ہوتی ہیں جو انہیں دہشت گردی اور ملکی سلامتی کے خلاف ہونے والے واقعات کی روک تھام میں استعمال کرتے ہیں'۔

اتھارٹی کے دفتر کو اس لئے اس قدر مضبوط بنایا گیا ہے تا کہ اس کے اندر جمع ہونے والی انتہائی حساس معلومات کو ہر طرح کی مجرمانہ کارروائی اور دہشت گردی سے بچایا جا سکے۔

تاہم  یہ حفاظتی انتظامات پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کو نوکر شاہی کی روایتی اندرونی لڑائیوں سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔

ان لڑائیوں کے نتیجے میں پچھلے دو سال سے پنجاب پولیس اور صوبائی محکمہِ داخلہ کے درمیان اس بات پر رسہ کشی ہو رہی ہے کہ اتھارٹی کا انتظامی کنٹرول ان دونوں میں سے کس کے پاس ہو۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں کام کرنے والے ایک اہل کار نے اپنا نام صیغہِ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ 'یہ تنازعہ 2019 کے  میں اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صوبائی نوکر شاہی نے اتھارٹی کو چلانے کے لئے بنائے گئے قواعد میں 'خفیہ طور پر' ترمیم کر کے اسے پولیس کے کنٹرول سے نکال کر محکمہ داخلہ پنجاب کے انتظامی دائرہِ کار میں لانے کی کوشش کی'۔  یہ 'کوشش' ایک سرکاری 'سمری' کے ذریعے کی گئی جو محکمہِ داخلہ نے اپریل 2019 میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کی۔ اس سمری میں وزیرِ اعلیٰ کو درخواست کی گئی کہ وہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کنٹرول محکمہِ داخلہ کو منتقل کرنے کی منظوری دیں لیکن وزیرِ اعلیٰ نے یہ سمری مسترد کر دی۔

اہل کار کے مطابق اس کوشش کی ناکامی کا اثر براہِ راست اتھارٹی کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے کیونکہ اس کے بعد اسے کئی مالی مشکلات اور صوبائی حکومت کی طرف سے مالی وسائل کی فراہمی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے'۔ 

اہل کار کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے لئے 'اربوں روپے کی خصوصی گرانٹ مختص کی ہوئی ہے لیکن یہ رقم اسے ابھی تک ملی نہیں'۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ لاہور میں کیمرے لگانے اور ان کی مرمت کا کام کرنے والی چینی کمپنی ہواوے (Huawei) کو اس کے معاوضے کی ادائیگی بھی قسطوں میں کی جا رہی ہے حالانکہ اس مقصد کے لئے پچھلے سال 26 کروڑ 60 لاکھ روپے کی رقم منظور کی جا چکی ہے۔ 'اس ادائیگی میں تاخیر کے باعث ہواوے اکثر اپنا کام روک دیتی ہے'۔ 

اس رسہ کشی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کامران خان کا کہنا ہے کہ 'پنجاب سیف سٹی اتھارٹی چونکہ ایک نیا ادارہ ہے اس لئے اس کے حوالے سے پیسوں اور اختیارات کی تقسیم پر مسائل کا پیدا ہونا کوئی عجیب بات نہیں'۔ تاہم ان کا ماننا ہے کی 'اس منصوبے کو آغاز سے ہی مختلف محکموں کی طرف سے اس کے ساتھ معلومات اور وسائل کا تبادلہ کرنے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے اسے کافی مشکلات در پیش ہیں'۔

اتھارٹی کے اہل کار ان میں سے ایک مشکل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہواوے کو معاوضے کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے 'گزشتہ برس لاہور میں ای چالان کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا'۔

اس نظام کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی سڑکوں اور ٹریفک کے اشاروں پر لگے کیمروں کی مدد سے کی جاتی ہے اور ان میں ملوث گاڑیوں کے مالکان کو جرمانے کا چالان ان کے گھر کے پتے پر بھیج دیا جاتا ہے۔ لیکن لاہور میں کاریں اور رکشے چلانے والے متعدد افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ چالان انہیں گھروں پر موصول نہیں ہو رہے اور نہ ہی انہیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ کب، کہاں اور کس قاعدے کی خلاف ورزی کرنے پر ان کا چالان کیا گیا۔ 

اسی طرح کمپنی کی طرف سے کیمروں کی فوری مرمت نہ کیے جانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق ان میں سے لگ بھگ آدھے بند پڑے ہیں۔ ایک امریکی تحقیقی ادارے سنٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز کا کہنا ہے کہ 'ہواوے کے نصب کردہ آدھے سے زیادہ کیمرے ناقص ہیں یا بالکل ہی کام نہیں کر رہے ہیں'۔

تاہم کامران خان اس بات سے متفق نہیں کہ لاہور میں چار ہزار کے قریب کیمرے بند ہیں۔ ان کے مطابق اس قدر کیمروں کی بندش سے متعلق 'تمام تر خبریں بے بنیاد ہیں'۔ ان کے مطابق 'اس وقت پندرہ سو کے قریب ایسے کیمرے ہیں جو مختلف فنی خرابیوں کی وجہ سے کام نہیں کر رہے ہیں'۔

لاہور کِس حد تک محفوظ ہے؟ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لئے تمام کیمروں کا بیک وقت ٹھیک کام کرنا ضروری نہیں کیونکہ، ان کے مطابق، 'ہزاروں کیمرے نصب کیے جانے کے باوجود ایک وقت میں ان میں سے زیادہ سے زیادہ ساٹھ ستر کیمروں کو ہی مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ 'انہی کیمروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو بنیاد بنا کر جرائم کی روک تھام کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر ایک حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے'۔ 

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہِ کار نتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ان کے  بقول اتھارٹی کے قیام کے بعد لاہور میں جرائم میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملی ہے جس کے باعث 'گزشتہ دو برسوں میں متعدد غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں پاکستان اور خاص طور پر لاہور میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے مطمئن ہو کر یہاں آنے پر آمادہ ہوئی ہیں'۔

لیکن حکومت کے اپنے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لاہور میں جرائم  کی شرح میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس لاہور کے مطابق 2018 میں شہر میں جرائم کے واقعات کی تعداد 82400 کے قریب تھی جو 2019 میں بڑھ کر 84000 ہو گئی۔ 

سنٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز کی 2019 کی ایک رپورٹ بھی ان اعداد و شمار کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔ اس کے مطابق کیمروں کی تنصیب اور مرمت کی ذمہ دار چینی کمپنی ہواوے اپنے تشہیری مواد میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے نصب کیے گئے کیمروں کی وجہ سے مختلف ممالک میں جرائم میں کمی دیکھنے کو ملی ہے لیکن یہ دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ رپورٹ پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہے کہ اس ملک میں 'گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کلوز سرکٹ کیمروں کی بڑھتی ہوئی نگرانی کے باوجود چوریوں ، اغوا اور قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے'۔  نیشنل پولیس بیورو کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا مزید کہنا ہے کہ '2019 میں پاکستان کے مجموعی جرائم میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 33 فیصد اضافہ ہوا'۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 9 فروری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 12 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زاہد علی ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔