براڈ شیٹ کیس: پاکستان کو بھاری جرمانہ کیوں دینا پڑا؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

براڈ شیٹ کیس: پاکستان کو بھاری جرمانہ کیوں دینا پڑا؟

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

براڈ شیٹ کیس: پاکستان کو بھاری جرمانہ کیوں دینا پڑا؟

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

برطانیہ کی ثالثی عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بیرون ملک مبینہ ناجائز اثاثوں کا پتا چلانے والے کمپنی براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے جرمانے کی سزا دی ہے جو لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے وصول کیا جا چکا ہے۔ 

ثالثی عدالت میں یہ کیس 2012 میں شروع ہوا تھا اور اس کا فیصلہ اگست 2016 میں آیا۔ تاہم اس قضیے کا آغاز لگ بھگ اٹھارہ سال پہلے 2003 میں اس وقت ہوا جب نیب نے برطانوی جزیرے آئل آف مین میں قائم براڈ شیٹ ایل ایل سی کے ساتھ اپنا معاہدہ یک طرفہ طور پر توڑ دیا۔ 

یہ معاہدہ جون 2000 میں طے پایا تھا۔ اس کی رو سے براڈ شیٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک ناجائز اثاثوں کا پتا چلانا تھا۔ اس عمل کے دوران جس شخص کے اثاثوں کی نشاندہی ہو جاتی اس سے واپس لی جانے والی رقم نیب اور براڈ شیٹ میں بالترتیب 80 فیصد اور 20 فیصد کے حساب سے تقسیم ہونا تھی۔ اس سلسلے میں نیب نے مختلف اوقات میں 200 افراد کے نام براڈ شیٹ کو دیے جن میں سیاستدان، فوجی افسر، بیورو کریٹ اور کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ 

اکتوبر 2003 میں نیب نے یہ معاہدہ یہ کہہ کر توڑ دیا کہ براڈشیٹ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جواب میں براڈ شیٹ کے مالک امریکی بزنس مین جیری جیمز نے حکومت پاکستان/ نیب کو نوٹس بھیجا جس میں کہا گیا کہ معاہدہ توڑے جانے پر وہ پاکستان/ نیب کے خلاف عدالتی کارروائی کریں گے۔

اسی دوران براڈ شیٹ کے وکیل کے طور پر کام کرنے والے ایک شخص نے آئل آف مین کی عدالت میں کمپنی کے خلاف مقدمہ کر دیا جس میں اس کا دعویٰ تھا کہ براڈ شیٹ اس کی خدمات کا معاوضہ (19 ہزار ڈالر) ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت نے کمپنی کے مالی حالات کا جائزہ لینے کے بعد 2005 میں اسے دیوالیہ قرار دیتے ہوئے اس کے اثاثہ جات بیچنے کے احکامات جاری کر دیے۔ 

نیب نے اسی دوران آئی اے آر نامی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ تصفیے کے لیے بات چیت شروع کر دی تھی جسے اس نے براڈ شیٹ کی طرح ہی بیرون ملک اثاثوں کی تلاش کا کام سونپا تھا لیکن اس کے ساتھ کیا گیا معاہدہ بھی 2003 میں ختم کر دیا تھا۔ اس کمپنی کے شریک مالک ایران میں پیدا ہونے والے برطانوی وکیل کاوے موساوی نے براڈ شیٹ کے مالک جیری جیمز کو پیشکش کی کہ اگر وہ نیب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا چاہیں تو کاوے موساوی اس کے اخراجات اٹھا سکتے ہیں۔ دونوں میں یہ طے پایا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم دونوں میں برابر تقسیم ہو گی۔ 

تاہم جیری جیمز نے کاوے موساوی کے علم میں لائے بغیر امریکی ریاست کولوراڈو میں براڈ شیٹ کے نام سے ایک اور کمپنی قائم کر لی اور نیب کے وکیل احمر بلال صوفی کے ذریعے نیب سے 20 مئی 2008 کو 15 لاکھ ڈالر وصول کر لیے۔ جب کاوے موساوی کو اس معاہدے کا علم ہوا تو انہوں نے آئل آف مین میں رجسٹرڈ براڈ شیٹ کے قرض خواہوں کو پیشکش کی کہ اگر وہ کمپنی کے خلاف اپنا دعویٰ واپس لے لیں تو وہ حکومت پاکستان/نیب کے خلاف قانونی کارروائی کر کے انہیں ان کی رقم واپس دلوا دیں گے۔ قرض خواہوں کو قائل کرنے کے بعد کاوے موساوی اور ان کے ساتھی ڈاکٹر ولیم پیپر نے براڈ شیٹ کمپنی کا انتظامی، مالی اور قانونی کنٹرول حاصل کر لیا اور ستمبر 2009 میں نیب کو معاہدے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی سے متعلق دوسرا نوٹس بھیج دیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر یہ نوٹس ستمبر 2009 میں نہ بھیجا جاتا تو اگلے مہینے نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان معاہدے کے خاتمے کو چھ سال مکمل ہو جاتے جس کے بعد قانونی طور پر براڈ شیٹ کو پاکستان کے خلاف عدالت میں جانے کا حق نہ رہتا۔ 

نیب اور براڈ شیٹ کا تنازع کیا تھا؟

28 اکتوبر 2003 کو نیب کی جانب سے براڈ شیٹ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ اس نے معاہدے کی شرائط کے مطابق کام نہیں کیا اور معاہدے سے پہلے ایسے دعوے کیے تھے جو ثابت نہیں کیے جا سکتے۔ ان میں سب سے اہم دعویٰ بیرون ملک اثاثوں کا پتہ چلانے اور ان کی واپسی کے لیے درکار تجربے کا تھا۔ نیب کا دعویٰ تھا کہ براڈ شیٹ نے ایک دوسری کمپنی ٹروونز ایل ایل سی کے تجربے کو اپنا تجربہ بنا کر پیش کیا حالانکہ خود براڈ شیٹ معاہدے سے چند ہفتے قبل وجود میں آئی تھی۔

جواب میں براڈ شیٹ نے حکومت پاکستان/ نیب کو جو نوٹس بھیجے ان میں کہا گیا کہ یک طرفہ طور پر معاہدہ توڑنا بذات خود معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور یہ اقدام کمپنی کو دانستہ طور پر مالی نقصان پہنچانے/ مالی فوائد سے محروم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ براڈ شیٹ نے اپنے نوٹس میں یہ بھی کہا کہ وہ حکومت پاکستان/ نیب کے اس اقدام کے خلاف ثالثی عدالت میں جائے گی۔ 

اگر اس معاملے کو مزید گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو فریقین کے مابین معاہدے سے متعلق سامنے آنے والے بڑے اختلافات مندرجہ ذیل تھے:

(1) اندرون ملک (پاکستان میں) بدعنوانی سے بنائے گئے اثاثوں کی حکومت/نیب کو واپسی۔ براڈ شیٹ کو پیسے ملنے چاہئیں یا نہیں۔ 

(2) کیا براڈ شیٹ کو تفویض کیے جانے والے کچھ اہداف کا واپس لیا جانا جائز تھا۔  

(3) براڈ شیٹ کی جانب سے نیب کو مہیا کی جانے والی معلومات کی 'وسعت'۔ 

معاہدے کے خاتمے کے تقریباً 13 سال بعد جب ثالثی عدالت نے نیب کے خلاف براڈ شیٹ کا دعویٰ سننا شروع کیا تو اس کے پیش نظر یہی سوالات تھے۔ 
براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف کیا دعویٰ دائر کیا، نیب نے اپنے دفاع میں کیا کہا اور عدالت نے کس بنیاد پر نیب کے خلاف فیصلہ دیا، درج ذیل سطور میں ان تمام سوالوں کے جوابات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 

براڈ شیٹ کا دعویٰ

براڈ شیٹ نے اپنے دعوے میں کہا کہ نیب کی جانب سے معاہدے کے خاتمے کے لیے اسے لکھا جانے والا خط معاہدے کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ ان شقوں کے تحت ایک فریق یک طرفہ طور پر دوسرے فریق کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتا۔ 

براڈ شیٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب نے اسے جولائی 2000 تک ایسے 200 افراد اور اداروں کی فہرست مہیا کی تھی جن کے اثاثوں کا سراغ لگایا جانا تھا مگر نیب نے اس فہرست میں متعدد ترامیم کیں اور سلطان لاکھانی اور صدرالدین ہاشوانی جیسے کاروباری افراد اور پورے شریف خاندان سمیت بہت سے لوگوں کے نام اس سے نکال دیے۔ براڈ شیٹ نے مزید کہا کہ ان فہرستوں میں موجود کئی افراد کے بارے میں ضروری معلومات اسے یا تو فراہم ہی نہیں کی گئیں یا اتنی دیر سے فراہم کی گئیں کہ وہ موثر طور پر اپنا کام سر انجام نہیں دے سکی۔

عدالتی فیصلے میں لکھا ہے کہ نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان مسائل پہلی بار اس وقت سامنے آئے جب دسمبر 2000 میں نوازشریف اور ان کے خاندان کی جانب سے حکومت کو جرمانے کی شکل میں بھاری رقم ادا کی گئی۔ اس معاملے یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اسے نیب کی 'ریکوری' کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس رقم کی ادائیگی دراصل اس معاہدے کا حصہ تھی جس کے تحت جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے نوازشریف اور ان کے خاندان کو جیل سے نکال کر سعودی عرب بھجوا دیا لیکن انہیں پابند کیا کہ وہ جرمانہ جو مختلف عدالتوں نے ان پر عائد کیا ہے وہ اسے ضرور ادا کریں۔ 

براڈ شیٹ کے مطابق جب اس نے شریف خاندان کی طرف سے حکومت کو کی گئی ادائیگی سے اپنا حصہ مانگا تو اس وقت نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول اسے پانچ لاکھ ڈالر دینے پر رضامند ہو گئے تاہم بعد میں لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نیب کے چیئرمین بنے تو انہوں نے یہ رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ 

براڈ شیٹ کا یہ بھی موقف تھا کہ اگر اسے معاہدے کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے میں دشواری ہوئی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے نیب کی جانب سے طے شدہ رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی۔  

نیب کا جوابِ دعویٰ

نیب کے وکلا نے عدالت میں براڈ شیٹ کے دعوے کے جواب میں کہا کہ براڈ شیٹ نے معاہدے کی جو خلاف ورزی کی وہ بنیادی نوعیت کی تھی لہٰذا نیب فوری طور پر معاہدہ ختم کرنے کا مجاز تھا۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ نے اپنے آپ کو بیرون ملک اثاثہ جات کی واپسی کی ماہر کمپنی کے طور پر پیش کیا حالانکہ اسے اس کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ 

اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ نے ویسا اور اتنا کام نہیں کیا جو معاہدے کی رو سے اسے کرنا چاہیے تھا۔ اس کے وکلا کے مطابق معاہدے کے تحت براڈ شیٹ کی کارکردگی مایوس کن رہی اور اس نے صرف چھ یا سات اہداف کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ نیب کے وکلا کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد براڈ شیٹ کے پاس اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے کوئی مالی وسائل نہیں تھے۔ اسی لیےاس نے اپنے لیے کام کرنے والی برطانوی کمپنی 'میٹرکس' کو بھی ادائیگی نہیں کی تھی جس کے بعد اس نے اپنا کام روک دیا تھا۔ اس طرح ان کے بقول براڈ شیٹ ایک 'شیلف کمپنی' بن کر رہ گئی تھی۔ 

تاہم عدالت نے ابتدا سے ہی اپنی توجہ اس نکتے پر مرکوز رکھی کہ آیا نیب کو ان بنیادوں پر معاہدہ ختم کرنے کا حق تھا یا نہیں۔ 

نیب نے عدالت میں اپنا دفاع کرتے ہوئے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ اسے براڈ شیٹ کولوراڈو کو 15 لاکھ ڈالر ادائیگی کرتے وقت اس کے مالک جیری جیمز کی طرف سے قانونی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ براڈ شیٹ اب بھی کبھی معاہدے کے ختم کرنے کا معاملہ کسی بھی عدالت میں نہیں اٹھائے گی، اور اگر قانونی طور پر یہ تصفیہ اصل کمپنی کے ساتھ نہیں ہوا تو اس کا باعث صرف 'نام پہچاننے میں غلطی' تھی۔ نیب کے وکلا کا عدالت میں کہنا تھا کہ انہوں نے اس سوچ کے تحت کولوراڈو میں قائم کردہ جیری جیمز کی براڈشیٹ کمپنی کے ساتھ تصفیہ کیا کہ یہ آئل آف مین میں قائم براڈ شیٹ ایل ایل سی ہی کا تسلسل ہے۔

عدالتی فیصلہ

ثالثی عدالت کے جج سر انتھونی ایونز نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نیب نے معاہدہ ختم کرتے وقت براڈ شیٹ پر جو الزامات عائد کیے ان کے حق میں کوئی تفصیلات پیش نہیں کیں۔ درحقیقت نیب کے پہلے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید امجد حسین نے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے فرق نہیں پڑتا تھا کہ براڈ شیٹ ایک نا تجربہ کار کمپنی ہے یا نہیں کیونکہ ان کے مطابق ان کے لیے جیری جیمز اور ڈاکٹر ولیم پیپر کی شخصیات اہم تھیں جو اس معاہدے کا اصل کردار تھے اور جو ٹروونز ایل ایل سی نامی ایک ایسی کمپنی کے مالک تھے جس کا بدعنوانی سے بنائے گئے اثاثوں کی نشاندہی اور واپسی کا وسیع تجربہ تھا۔ 

عدالت کے مطابق اس مقدمے میں مرکزی اور اہم ترین نکتہ نیب اور براڈ شیٹ کے مابین معاہدے کی شق 4 کی تشریح سے متعلق تھا جو نیب کے اہداف سے رقم کی واپسی کی صورت میں اس میں براڈ شیٹ کے حصے کے تعین سے متعلق ہے۔ معاہدے کے مطابق دونوں فریقوں میں یہ طے پایا تھا کہ براڈ شیٹ کی کوششوں کے نتیجے میں اہداف سے واپس لی گئی رقم یا ایسے کسی ہدف اور نیب کے مابین تصفیے کے نتیجے میں نیب کو حاصل ہونے والی رقم میں سے 20 فیصد حصہ براڈ شیٹ کا ہو گا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاہدے میں یہ بات واضح طور پر درج نہیں کہ براڈ شیٹ کا حصہ صرف بیرون ملک سے واپس آنے والی رقم میں ہی ہو گا۔ اس وضاحت کے نہ ہونے کی وجہ سے عدالت کے خیال میں اس معاہدے کا اطلاق پاکستان کے اندر نیب کے اہداف سے واپس لی جانے والی رقوم پر بھی ہوتا ہے۔ 

عدالت نے اپنےفیصلے میں لکھا کہ نیب کو چاہیے تھا کہ وہ براڈ شیٹ کو قانونی طریقے سے اپنی شکایات سے مطلع کرتی اور ان شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی صورت میں براڈ شیٹ کو باقاعدہ نوٹس بھیج کر انتباہ کرتی کہ اگر اس کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس نیب نے براڈ شیٹ کو ایک ہی خط لکھ کر معاہدہ ختم کر دیا جو عدالت کے خیال میں قانونی طور پر درست طریقہ کار نہیں تھا۔ 

عدالتی فیصلے کے مطابق معاہدے کی رو سے نیب کا یہ بھی فرض تھا کہ وہ براڈ شیٹ کو دیے گئے اہداف میں سے کسی کے اثاثوں کی واپسی کی صورت میں اسے تفصیلات سے آگاہ کرتا تاہم معاہدہ موجود ہونے کے دوران نیب نے براڈ شیٹ کو ایسی واپسی کے بارے میں اندھیرے میں رکھا۔

ثالثی عدالت نے نیب کی جانب سے کولوراڈو میں قائم جیری جیمز کی کمپنی کو تصفیے کے طور پر 15 لاکھ ڈالر دیے جانے کو بھی 'غلطی' تسلیم کرنے کے بجائے اسے مالی دھوکہ دہی قرار دیا۔ عدالت کے مطابق نیب کا کولوراڈو میں قائم کی جانے والی براڈ شیٹ کمپنی سے تصفیہ کرنا ایک لاپرواہی پر مبنی اقدام تھا جس کا مقصد اصل براڈ شیٹ کو دانستہ طور پر مالی نقصان پہنچانا تھا۔  

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس وقت نیب نے براڈ شیٹ کولوراڈو سے تصفیہ کیا اس وقت تک آئل آف مین میں قائم براڈ شیٹ تحلیل ہونے کے مراحل سے گزر رہی تھی اور  ایک کاروباری کمپنی کے طور پر اس کا وجود ابھی باقی تھا۔ مزید یہ کہ کولوراڈو میں رجسٹرڈ ہونے والی براڈ شیٹ کمپنی کو قانون کی رو سے آئل آف مین میں رجسٹرڈ براڈ شیٹ کمپنی کے نمائندے یا وارث کے طور پر کام کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ عدالت کے خیال میں نیب اور اس کے وکیل احمر بلال صوفی اس بات سے آگاہ تھے۔ 

تاہم ثالثی عدالت کے جج نے براڈ شیٹ کی جانب سے کیے گئے متعدد مطالبات تسلیم نہیں کیے۔ مثال کے طور پر کئی بدعنوان افراد کی طرف سے حکومت پاکستان کو واپس کی جانے والی رقوم میں اس کا اپنے حصے کا دعویٰ نہیں مانا گیا۔ ان افراد میں ایڈمرل (ریٹائرڈ) منصورالحق اور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) زاہد علی اکبر کے نام نمایاں ہیں۔ تاہم ان میں دو کیس (آفتاب شیرپاؤ اور جمیل انصاری) ایسے ہیں جن کے بارے میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کے اثاثوں کی نشاندہی پر براڈ شیٹ معاہدے کے تحت اپنے حصے کی وصولی کی حقدار تھی حالانکہ ان دونوں افراد سے معاہدے کے موجود ہونے کے عرصے میں نیب نے کوئی رقم واپس نہیں لی تھی۔ 

اس کی وجہ یہ تھی کہ براڈ شیٹ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ اس نے ان دونوں افراد کے اثاثوں کا پتہ چلا لیا تھا مگر نیب نے سیاسی مصلحتوں کی بنا پر یہ اثاثے واپس لینے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ 

عدالت نے قرار دیا کہ براڈ شیٹ کے یہ دعوے بھی درست ہیں کہ اس نے جن لوگوں کے بیرون ملک اثاثوں کی نشاندہی کی، اگر ان میں سے کسی سے رقم واپس لی گئی یا مستقبل میں ان سے رقم واپس لیے جانے کا امکان تھا تو معاہدے کے مطابق اس رقم کا 20 فیصد اسے ملنا چاہیے تھا۔

عدالت نے اسی طرح یہ بھی قرار دیا کہ براڈ شیٹ نیب کی جانب سے یک طرفہ طور پر معاہدہ ختم کیے جانے کے نتیجے میں خود کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کی بھی حق دار ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 23 فروری 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 7 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔