پاک-افغان سرحد کی بندش: چمن میں سینکڑوں خاندان اور کروڑوں روپے کا سامان تجارت پھنس گئے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پاک-افغان سرحد کی بندش: چمن میں سینکڑوں خاندان اور کروڑوں روپے کا سامان تجارت پھنس گئے۔

کلیم اللہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

پاک-افغان سرحد کی بندش: چمن میں سینکڑوں خاندان اور کروڑوں روپے کا سامان تجارت پھنس گئے۔

کلیم اللہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

درمیانی عمر کے محمد عوض دو خواتین اور ایک بچے سمیت پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے پاس کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ کب سرحد پار کر سکیں گے۔

آٹھ مہینے پہلے وہ اپنے بچے کا علاج کرانے کے لیے افغانستان کے شہر ہرات سے کراچی آئے تھے لیکن 5 اکتوبر 2021 سے وہ پاکستان کے مغربی شہر چمن میں ایک ایسی خیمہ گاہ میں رہ رہے ہیں جو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سرحد کے اِس پار پھنسے ہوئے افغانوں کی رہائش کے لیے قائم کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "مناسب بستر کی عدم موجودگی میں ہم ہر رات ٹھٹھرتے ہوئے گزارتے ہیں لیکن ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ چائے ہی خرید کر پی سکیں"۔

ہر صبح آٹھ بجے وہ یہ توقع لے کر اپنے خاندان کے ہمراہ خیمہ گاہ سے چمن کے نواح میں واقع سرحدی دروازے تک پیدل چل کر جاتے ہیں کہ شاید انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت مِل جائے لیکن ہر شام وہ مایوس ہو کر لوٹ آتے ہیں۔

اکتوبر کی 14 تاریخ کو سرحدی دروازے سے چند سو میٹر پہلے محمد عوض اور ان کا خاندان سینکڑوں دوسرے افغانوں سمیت ایک ایسے احاطے میں بیٹھا ہے جو دراصل گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے مختص ہے۔ ان میں سے کچھ افغان پاکستانی سرحدی محافظوں سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد پوچھتے ہیں کہ انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت کب ملے گی۔

اس دن ان لوگوں میں ایک سے زیادہ بار یہ افواہ پھیل جاتی ہے کہ سرحدی دروازہ کھول دیا گیا ہے جسے سنتے ہی وہ بابِ دوستی کی طرف دوڑتے ہیں لیکن وہاں متعین محافظ انہیں فوراً واپس بھیج دیتے ہیں اور اگر وہ واپس جانے سے انکار کریں تو انہیں ڈنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

افغان گاؤں کوچی کے رہنے والے چالیس سالہ محمد جانان بھی ان لوگوں میں موجود ہیں۔ ان کے قبیلے کے لوگ دونوں ملکوں میں رہتے ہیں اور وہ ان میں سے ایک کی وفات پر تعزیت کرنے کے لیے پچھلے ماہ پاکستان آئے تھے۔ اب انہیں واپس جانے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا حالانکہ بابِ دوستی سے ان کے گھر کا فاصلہ 10 کلومیٹر سے بھی کم ہے۔

وہ اپنے اہلِ خانہ سے فون کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے گھر میں کھانے پینے کا سامان ختم ہوچکا ہے اور ان کے بچے ہر وقت ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ گھر کب واپس آئیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر سرحد کچھ دن مزید بند رہی تو ان کے بچوں کی بھوک سے حالت خراب ہو جائے گی"۔

کبھی کبھار سرحد کے اِس پار پھنسے لوگ سرحدی محافظوں سے ٹکرا بھی جاتے ہیں۔ ایسا ایک واقعہ 12 اگست 2021 کو پیش آیا جب ایک بوڑھے افغان کا انتقال ہو گیا اور اس کے ساتھی اس کی لاش اٹھا کر بابِ دوستی پر لے آئے تا کہ اسے دوسری طرف پہنچایا جا سکے۔ لیکن جب پاکستانی سرحدی محافظوں نے انہیں اس کی اجازت نہ دی تو انہوں نے مشتعل ہو کر سنگ باری شروع کر دی۔ جواباً محافظوں نے ان پر آنسو گیس پھینکی اور ڈنڈے برسائے۔ اسی طرح پچھلے سال جولائی میں ہونے والے ایک ٹکراؤ میں چار لوگ مارے بھی گئے۔

تاہم چمن میں متعین پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ وہ بابِ دوستی پر پائی جانے والی موجودہ صورتِ حال کے ذمہ دار نہیں۔ ضلع قلعہ عبداللہ کے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد مندوخیل (جن کا دفتر چمن میں ہی ہے) نے حال ہی میں وائس آف امریکہ نامی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا  کہ سرحد کو افغانستان کی طرف سے بند کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس چمن کے ایوانِ صنعت و تجارت کے سابقہ صدر اور پاک-افغان ایوانِ صنعت و تجارت کے ڈائریکٹر حاجی عمران کاکڑ کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش کی ذمہ داری دونوں ملکوں کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق 15 اگست 2021 کو افغانستان میں طالبان کا اقتدار قائم ہونے سے کئی روز پہلے ہی پاکستان نے بابِ دوستی کا انتظام فرنٹیئر کانسٹیبلری سے لے کر فوج کے حوالے کر دیا تھا تا کہ دوسری طرف سے تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں اور مہاجرین کی آمد کو روکا جا سکا۔

لیکن، ان کے مطابق، یہاں تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں کو تجارت اور انسانی آمد و رفت کے طور طریقے سمجھنے میں کافی عرصہ لگ گیا جس کے دوران سرحد کے آر پار آمد و رفت مکمل طور پر بند رہی۔ اگرچہ ستمبر کے مہینے میں سرحد کو کھول دیا گیا لیکن 5 اکتوبر کو افغان طالبان نے پاکستان کو تین مطالبے پیش کرتے ہوئے اسے دوبارہ بند کر دیا۔

حاجی عمران کاکڑ کہتے ہیں کہ ان میں سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بابِ دوستی کے ذریعے ہونے والی سپن بولدک اور چمن کے مقامی لوگوں کی آمد و رفت کو صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک محدود کرنے کے بجائے اس کا وقت کم از کم 12 گھنٹے کیا جائے (کیونکہ دونوں طرف کے سینکڑوں لوگ اپنے رشتہ داروں سے ملنے، خاندانی تقریبات میں شرکت کرنے اور کام کاج، علاج معالجے اور خریداری کے لیے روزانہ سرحد کو پار کرتے ہیں)۔

ان کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ تمام افغان شہریوں کو تذکرہ (افغان شناختی کارڈ) اور افغان مہاجر کارڈ استعمال کر کے سرحد کے آر پار آنے جانے کی اجازت دی جائے تا کہ وہ سپن بولدک اور چمن کے مقامی شہریوں کی طرح پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر ہی دونوں ملکوں کے درمیان سفر کر سکیں۔

ان کا تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ تجارتی اشیا کی نقل و حمل کے لیے بابِ دوستی کو 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے اور اس تجارت سے منسلک افغان تاجروں کو ویزوں کی فراہمی اور ان کے مال پر کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ کے وقت ہراساں نہ کیا جائے۔
حاجی عمران کاکڑ کہتے ہیں کہ افغان طالبان نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ سرحد کے آر پار انسانی اور تجارتی آمد و رفت اس وقت تک بند رہے گی جب تک یہ تینوں مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

تجارتی سامان کی آمد و رفت میں رکاوٹیں

زینت آفریدی 4 اکتوبر کو بابِ دوستی کے پاس کچھ دوسرے ڈرائیوروں کے ساتھ ایک ٹرک کے سائے میں بیٹھے ہیں۔ وہ تجارتی سامان سے بھرا ایک کنٹینر لے کر کراچی سے یہاں پہنچے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ انہیں سرحد پار کر کے افغانستان جانے میں کتنا وقت لگے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ "مجھے چمن پہنچنے میں 15 دن لگے ہیں اور اب میں یہاں  سردی، دھول اور مٹی میں 15 دن سے سرحد کے کھلنے کا منتظر ہوں"۔

سینکڑوں دیگر ڈرائیور بھی اپنے ٹرکوں سمیت سرحد پار کرنے کے انتظار میں بابِ دوستی کے اِس طرف موجود ہیں کیونکہ اس کے آر پار تجارتی سامان کی نقل و حمل سابقہ افغان حکومت کے دور کے مقابلے میں بہت سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ زینت آفریدی اس صورتِ حال کی ذمہ داری افغان طالبان پر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں سرحد کا انتظام چلانا نہیں آتا "جس کی سزا ہم ڈرائیوروں کو مل رہی ہے"۔

حاجی سعید جان کو بھی اسی قسم کی شکایات ہیں۔ وہ چمن شہر کے وسط میں رہتے ہیں اور پچھلے 20 سال سے مقامی منڈی میں سبزیوں اور پھلوں کی خرید و فروخت کا کام کر رہے ہیں۔

اوائلِ اکتوبر کی ایک دوپہر کو وہ سندھی ٹوپی پہنے اپنے تین دوستوں کے ہمراہ منڈی کے ساتھ واقع اپنے دفتر میں بیھٹے حساب کتاب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان چاروں نے افغانستان سے انار اور انگور سے لدے 10 ٹرک منگوائے ہیں لیکن ان کا مال بابِ دوستی کی دوسری طرف پڑا خراب ہو رہا ہے۔

وہ بھی اس صورتِ حال کی وجہ انتظامی معاملات میں افغان طالبان کی نا تجربہ کاری کو سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سرحد کا انتظام سنبھالنے کے بعد شروع شروع میں تو وہ پاکستان سے افغانستان داخل ہونے والے ہر ٹرک سے صرف پانچ سو روپے ٹیکس لیتے تھے لیکن اب وہ ایک ٹرک پر 35 ہزار ٹیکس مانگنے لگے ہیں۔

گورے رنگ اور درمیانے قد کے 47 سالہ حاجی سعید جان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام حالات میں پورے پاکستان سے تاجر انہیں خورد و نوش کی مختلف اشیا بھجواتے تھے جنہیں وہ افغانستان برآمد کر دیتے تھے لیکن سرحد کی بندش اور افغانستان کی غیر یقینی معاشی صورت حال کی وجہ سے ان تاجروں نے انہیں مال بھیجنا بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا "ذاتی کاروبار خسارے میں جا رہا ہے بلکہ چمن شہر کی معیشت اور اس کے باشندوں کے روزگار پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

افغانستان میں طالبان کے آنے سے طورخم بارڈر کے آر پار لوگوں اور تجارتی سامان کی آمدورفت شدید مشکلات کا شکار۔

مقامی انجمن تاجران کے صدر حاجی صدیق خان اچکزئی ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "سرحد کی بندش کی وجہ سے بابِ دوستی کی دوسری طرف واقع ویش منڈی سے لے کر سپن بولدک تک ایسے سینکڑوں خالی کنٹینروں کی لائن لگ گئی ہے جن کے ذریعے افغانستان بھیجا گیا مال تو ان سے اتارا جا چکا ہے لیکن انہیں پاکستان واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی حالانکہ انہیں بھجوانے والے تاجروں کو ان پر روزانہ کی بنیاد پر اضافی کرایہ اور ہرجانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور حکومت میں بابِ دوستی کے راستے روزانہ چار سو سے پانچ سو ٹرک اشیائے خورد و نوش، سیمنٹ اور سریا وغیرہ لے کر افغانستان جاتے تھے جبکہ اتنے ہی ٹرک دوسری طرف سے پھل، خشک میوے اور لکڑی وغیرہ لے کر پاکستان آتے تھے۔ لیکن، ان کے مطابق، پچھلے ڈھائی ماہ میں پاک-افغان سرحد پر پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے اس آمد و رفت میں خاصی کمی آ گئی ہے جس کے باعث "ایک طرف تو اس تجارت سے وابستہ مزدوروں، ڈرائیوروں اور دکان داروں کے لیے کئی معاشی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور دوسری طرف مقامی تاجروں کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے"۔

تاریخ اشاعت 23 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کلیم اللہ نسلی و علاقائی اقلیتوں کو درپیش مخصوص مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے لیڈز یونیورسٹی لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس آنرز کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔