منکیرہ کی سوغات کو کس سے خطرہ ہے؟

postImg

غلام عباس بلوچ

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

منکیرہ کی سوغات کو کس سے خطرہ ہے؟

غلام عباس بلوچ

loop

انگریزی میں پڑھیں

منکیرہ میں کاشت ہونے والا خربوزہ اپنی خوشبو ذائقے اورمٹھاس کے لئے پاکستان بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ مگر اس مرتبہ منکیرہ کے کاشت کار حیران ہیں کہ ان کے خربوزوں کو کس کی نظر لگ گئی۔

بھکر کی تحصیل منکیرہ رقبے کے لحاظ سے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے بعد پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل ہے۔

منکیرہ مکمل طور پر صحرائے تھل پر مشتمل ہے۔ یہاں پر سب سے زیادہ چنے کی کاشت کاری کی جاتی ہے جبکہ موسم گرما میں کچھ علاقوں میں تربوز اور خربوزہ بھی لگایا جاتا ہے۔

لیکن خربوزہ ہی اس علاقے کی اصل سوغات ہے۔اس سال نہ صرف خربوزوں کی مٹھاس غائب ہوگئی بلکہ پیداوار بھی کم ہوئی۔

منکیرہ میں خربوزے کے کاشت کار ملک احسان اللہ چھینہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی اپنے 20 ایکڑ ہموار رقبے پر خربوزے کی فصل کاشت کی تھی۔ لیکن پیداوار پچھلے سال سے نصف بھی نہیں ہوئی، خربوزے میں پہلی جیسی مٹھاس نہیں تھی اور اوپر سے مارکیٹ میں فصل کے دام بھی بہت کم ملے۔

ان کے مطابق مسلسل بارشوں ہوئیں اورانہیں فصل پر ہر بارش کے بعد کیڑے مار دوا سپرے کرنا پڑی۔

عام حالات میں وہ سیزن کے دوران صرف چار سے پانچ سپرے کرتے ہیں لیکن اس بار انہیں دو درجن کے قریب سپرے کرنا پڑ گئے۔

ملک احسان اللہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال جب خربوزہ مارکیٹ میں آیا تو شروعات میں 15سو روپے سے 18 سو روپے فی من بکتا رہا اور سیزن کے آخر میں قیمت 600 روپے من سے کم کبھی نہیں رہی۔ لیکن رواں سال شروع سے ہی خربوزے کا فی من ریٹ 600 روپے رہا جو اب کم ہو کر 200 روپے من رہ گیا ہے۔

خربوزہ یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں موجود ہموار رقبے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ ایسی لاٹیں رکھ منکیرہ، رکھ ڈگر کوٹلی، رکھ کارلو والا، رکھ کوریا وغیرہ میں زیادہ تر پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ لاٹوں کو گرمیوں میں گریٹر تھل کینال کے ذریعے پانی بھی فراہم ہوتا ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق بھی پنجاب کے میدانی علاقے جہاں پر بارشیں کم مقدار میں ہوتی ہیں اور نامیاتی مادہ والی ریتلی میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو اس فصل کے لیے نہایت موزوں ہے۔

خربوزے کو 21 سے 35 ڈگری سینٹی تک بہتر پیداوار دیتی ہے لیکن سالہا سال کی کاشت کی وجہ سے پنجاب میں لگائی جانے والی مقامی اقسام 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک برداشت کرسکتی ہیں۔

زرعی ماہرین کے مطابق صحرا کی مٹی میں بہت سارے غذائی اجزا اور معدنیات موجود ہیں جو ہر قسم کی فصلوں خاص کر خربوزے اور تربوز کی کاشت میں مدد دیتے ہیں۔

ملک محمد اشفاق جنہوں نے اس بار پانچ ایکڑ رقبے پر خربوزے کی فصل کاشت کی تھی وہ بھی مناسب دام نہ ملنے پر پریشان ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جتنا خرچ کھاد اور زرعی ادویات پر کیا ہے وہ بھی پورا نہیں ہوا جبکہ پانی، بیج اوراس کی محنت الگ ہے۔

وہ کہتے ہیں خربوزے کی چنائی کے لیے پہلے 600 روپے دیہاڑی کے حساب سے انہیں مزدور مل جاتے تھے مگر اس سال مزدوروں کی دیہاڑی بھی ایک ہزار روپے تک رہی۔ اس لیے انھوں نے بیوی بچوں سیمت اس کی خود چنائی کی۔

چودھری آفتاب کا شمار منکیرہ کے بڑے فارمرز میں ہوتا ہے جو 350 ایکڑ سے زائد رقبے پر مختلف اجناس، سبزی اور پھلوں  کی کاشت کاری کرتے ہیں انہوں نے بھی 60 ایکڑ کے قریب رقبہ پر خربوزہ کاشت کیا تھا۔

چودھری آفتاب احمد کو بھی یہی خدشہ ہے کہ منکیرہ شاید اپنی یہ پہچان کہیں گم کردے گا۔

دیگر کسان بھی  چودھری آفتاب سے اتفاق کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منکیرہ میں خربوزے کی پیداوار میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

منکیرہ میں محکمہ زراعت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹراللہ یار کے بقول گذشتہ سال کی نسبت اس مرتبہ منکیرہ میں 500 ایکڑ کم رقبہ پر خربوزے کی فصل کاشت ہوئی ہے۔

ان کے مطابق پچھلے سال دو ہزار ایک سو ایکڑ رقبے پر خربوزے کی فصل لگی تھی جبکہ اس مرتبہ یہ زیر کاشت رقبہ 16 سو ایکڑ رہ گیا ہے۔

ایوب ایگریکلچرل ایرڈ زون ریسرچ انسٹیوٹ بھکر میں بطور سائنٹیفک آفیسر کام کرنے والے منیر عباس بھی کہتے ہیں کہ تحصیل منکیرہ سے چنے کی فصل کی طرح خربوزے کی کاشت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔

ان کے خیال میں ایسا موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے ہورہا ہے۔

"یہاں کے کاشت کار سفیدہ، کینو، مالٹے یا ان جیسے دوسرے درخت لگا رہے ہیں جو موسم کی شدت کو بہتر انداز میں برداشت کرسکتے ہیں۔"

محکمہ زراعت پنجاب کے اعداد و شمار سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منکیرہ ہی نہیں بلکہ پورے صوبے میں ہر گزرنے والے سال خربوزے کے زیر کاشت رقبے میں کمی آرہی ہے۔

پنجاب میں 2020ء میں 25 ہزار 500 ایکڑ رقبے پر خربوزہ لگا تھا جبکہ اس سے اگلے سال یعنی 2021ء میں یہ کم ہوکر 23 ہزار سات سو 70 ایکڑ رہ گیا۔ 2022ء میں خربوزے کی فصل مزید کم ہوکر 21 ہزار 264 ایکڑ ہوگئی۔

احسان اللہ چھینہ خربوزے کی کاشت میں کمی کو پیداوار کے مناسب دام نہ ملنے سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منکیرہ میں سرکاری منڈی نہیں۔ خربوزے کا ریٹ پرائیویٹ جگہوں پر آڑھتی طے کرتے ہیں۔ انہوں الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آڑھتی اپنے ہی لوگوں سے کم ریٹ پر بولی لگوا کر کم داموں میں مال خرید کر بعد ازاں دوسرے شہروں میں مہنگے داموں فروخت کردیتے ہیں۔

بھکر کی مارکیٹ کمیٹی کے مطابق 2021ء سیزن کے ابتدائی دنوں میں خربوزے کا پرچون ریٹ زیادہ سے زیادہ 120 روپے کلو تھا۔ سیزن کے اختتام پریہ 40 روپے فی کلو رہ گیا تھا۔ 2022ء میں پچھلے سال کےمقابلے میں اس کے نرخ 30 روپے تک گر گئے اور اس سال زیادہ سے زیادہ قمیت 80 روپے فی کلو رہی۔

سیزن کے وسط میں یہ 50 سے 55 روپے کلو بکنے لگا جبکہ اختتام پر20 روپے فی کلو رہا۔

حالانکہ اس سال نہ صرف زرعی مداخل بلکہ مزدوری اور باربرداری کے اخراجات بھی پہلے سے کہیں زیادہ تھے۔

منکیرہ کے دیگر کسان اس ساری صورتحال کا ذمہ دار حکومتی اداروں کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں نے کبھی خربوزے کی کاشتکاری میں ان کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔

چودھری آفتاب کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ایسے بیج سامنے آرہے ہیں جو روایتی ذائقے کو برقرار رکھتے ہوئے بہتر پیداوار بھی دے رہے ہیں لیکن منکیرہ کا کسان سالہا سال سے خربوزے کا پرانا بیج استعمال کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

فصلوں کی قیمتیں: طلب اور رسد کی پینگ پر جھولے کون لے رہا ہے؟

ان کے خیال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو ایسے بیج فراہم کئے جاتے جن کی موسم اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہوتی لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت اللہ یار اس سے اتفاق نہیں کرتے ان کے مطابق محکمہ زراعت کاشتکاروں کو تمام اجناس، سبزیوں اور پھلوں کی آبیاری کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہی فراہم کر رہا ہے۔

ان کے مطابق زیادہ بارشوں کی وجہ سے خربوزے کی فصل بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہے اور ان میں سب سے زیادہ نقصان دہ فروٹ فلائی کی بیماری ہے۔

"ہم کسانوں کو بارہا آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ کہ فروٹ فلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف کیمکلز پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جو بائیولوجیکل طریقہ کار ہیں ان کو بھی اپنا ئیں"۔

بیج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر کاشتکاروں کو خربوزے کا ہائیبرڈ بیج دیا جائے تو منکیرے کے خربوزے کی الگ شناخت ختم ہوجائے گی۔

ان کا دعویٰ  ہے کاشتکار بھی پرانے بیج کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

تاریخ اشاعت 12 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

غلام عباس بلوچ کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر سے ہے۔ علاقائی و سماجی مسائل، سیاست، انسانی حقوق اور پسماندہ طبقہ کے حقوق کیلئے لکھتے رہتے ہیں۔

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: نور کاتیار

ارسا ترمیم 2024: مسئلے کا ایک حصہ: محمود نواز شاہ

thumb
سٹوری

پرائیویٹ سکول میں تعلیم: احساس برتری یا کچھ اور ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمعظم نواز

خیبر پختونخوا: پانچ اضلاع کو جوڑنے والا رابطہ پُل 60 سال سے تعمیر کا منتظر

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: محمود الحق

ارسا ترمیم اور کارپوریٹ فارمنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ فضلِ رب

thumb
سٹوری

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

خیبر پختونخوا: نصاب میں نفرت پڑھا کر محبت نہیں سکھائی جا سکتی

thumb
سٹوری

عیسک خماری میں اب کیوں کوئی نہیں کہتا: بجلی لاڑہ بجلی راغلہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ارسا آرڈیننس: دریائے سندھ سے جڑی ایکولوجی، ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کے لیے خطرہ، فاطمہ مجید

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: فرحت اللہ بابر

تھرپارکر: صحرا ہے کہ پھولوں کی نمائش

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.