ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

postImg

حلیم اسد

postImg

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

حلیم اسد

خیبرپختونخوا کا ضلع لوئر دیر، خودمختار (یوسف زئی) ریاست 'دیر' کا حصہ تھا جہاں 1926ء سے 1960ء تک نواب شاہ جہاں حکمران تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تعلیم کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے اپنے دورحکمرانی میں کوئی سکول نہیں بننے دیا۔

محقیقین بتاتے ہیں کہ سرخپوش یا خدائی خدمت گار تحریک کے بانی عبدالغفارخان (باچا خان) 1930ء میں ریاست دیر آئے تو انہوں نے خال (اب تحصیل) میں ایک آزاد سکول یا جدید مدرسہ بنادیا۔

"نواب نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں میں شعور آجائے جو کل کو ان کی حکمرانی کے لیے خطرہ بنے اس لیے انہوں یہ سکول مسمار کرا دیا۔"
لوئر دیر کے لوگ آج بھی ایسی ہی مشکل سے دوچار ہیں۔

پاکستان میں انضمام کے بعد ریاست دیر کو 1970ء میں ضلعے کا درجہ ملا جب مالاکنڈ کو ڈویژن بنایا گیا۔ 1996ء ميں اسے دو اضلاع یعنی لوئر اور اپر دِیر میں تقسيم کيا گيا۔ یہاں آج جتنا بھی تھوڑا بہت انفراسٹرکچر نظر آتا ہے یہ 1970ء کے بعد ہی بننا شروع ہوا۔

برسوں قبل ضلعے کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر تیمرگرہ میں میڈیکل کالج کے قیام، کلپانی تالاش بائی پاس، دیر موٹر وے، رابطہ سڑکوں، آبپاشی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن وغیرہ کے کئی منصوبے شروع یا منظور کیے گئے لیکن کوئی ایک بھی آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔

لوئر دیر کو خیبرپختونخوا کے شمال مغربی اضلاع، اپر چترال، لوئر چترال، باجوڑ اور اپر دیر کا دروازہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ ترقیاتی منصوبے صرف لوئر دیر کے ساڑھے 17 لاکھ لوگوں ہی نہیں، شمالی اضلاع کی ساڑھے 45 لاکھ آبادی اور ہر سال آنے والے ایک لاکھ سیاحوں کے لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

اب حالت یہ ہے کہ تیمرگرہ سے اپرچترال تک کوئی ایک ایسا ہسپتال نہیں جہاں علاج کی تسلی بخش سہولیات میسر ہوں۔ چترال اور باجوڑ تک سے مریضوں کو پتھریلے راستوں پر سیکڑوں میل سفر کر کے سیدو شریف (سوات ٹیچنگ ہسپتال) یا پشاور لے جانا پڑتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ضلع لوئر دیر کے تمام ارکان اسمبلی (دو قومی اور پانچ صوبائی) صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود بتایا جاتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز دستیاب نہیں

تیمرگرہ میڈیکل کالج: ہنوز دلی دور است

تیمرگرہ میڈیکل کالج (ٹی ایم سی) اس ضلعے کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ تاخیر کا شکار ترقیاتی منصوبہ ہے جس کا افتتاح جولائی 2015ء میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کیا تھا۔

ٹی ایم سی کے لیے شہر سے تقریباً دس کلومیٹر مشرق میں واقع گرلز کامرس کالج کی نوتعمیر شدہ عمارت منتخب کی گئی اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوراٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو)کو ٹیچنگ ہاسپیٹل قرار دے کر اس سے منسلک کر دیا گیا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ میڈیکل کالج جلد کام شروع کر دے گا لیکن پھر چھ سال تک خاموشی چھائی رہی۔

سرکاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021ء کے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں میڈیکل کالج کی عمارت کی تزئین و آرائش یا اس میں تبدیلیوں کے لیے دس کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ بعد ازاں 2024ء میں اسے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دیا گیا۔

اس دوران ٹی ایم سی کے لیے اراضی خرید کر جدید طرز کی نئی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے 2022ء میں دو ارب 26 کروڑ روپے رکھے گئے۔ اسی سال اساتذہ اور ملازمین کی بھرتیاں بھی شروع کر دی گئیں۔

محکمہ خزانہ کے حکام بتاتے ہیں کہ میڈیکل کالج میں اس وقت 195 ملازمین تعینات ہیں جن میں پرنسپل (گریڈ 20) کے علاوہ ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، 11 اسسٹنٹ پروفیسرز، 16 ویں گریڈ کے 72 ملازمین اور گریڈ ایک سے 15 تک کے 110 ملازمین شامل ہیں۔ سٹاف کی ماہانہ تنخواہیں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہیں۔

ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹی ایم سی کے 12 پروفیسروں کے سوا تمام 182 ملازمین پچھلے تین سال سے کوئی کام کیے بغیر تںخواہیں وصول کررہے ہیں۔

جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے ضلعی صدر عتیق الرحمان سوال اٹھاتے ہیں کہ ٹی ایم سی پر اب تک مختلف مدات میں لگ بھگ چار ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر یہاں کلاسز کا آغاز نہیں ہو سکا۔ کیا ان حکمرانوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں؟

نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی

ٹی ایم سی کے پرنسپل پروفیسر ابرار لخکر خان دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے بیشتر تقاضے (معیارات) پورے ہو چکے ہیں۔ صرف 50 فیکلٹی ممبران کی تعیناتی باقی ہے جس کے لیے انٹرویوز ہو چکے ہیں اور میرٹ لسٹ سیکرٹری صحت وزیر اعلیٰ کو بھیجی جا چکی ہے۔

انہیں امید ہے کہ رواں سال ایم بی بی ایس کلاسز کا اجرا ہو جائے گا اور اس کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) کالج کو 50 سیٹیں دے گی۔

واضح رہے خیبر پختونخواہ میں دس سرکاری میڈیکل کالج اور پانچ ڈینٹل کالج ہیں جہاں اوپن میرٹ کے لیے ایک ہزار 21 سیٹیں ہیں، تیمرگرہ 11واں سرکاری میڈیکل کالج ہوگا۔ ان کے علاوہ 16 نجی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ہیں جن میں ایک ہزار 425 اوپن میرٹ سیٹیں ہیں۔

تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ رواں سال یہاں کلاسز کے آغاز کا کوئی امکان نہیں کیونکہ پی ایم ڈی سی نے نئے میڈیکل کالجوں کے قیام پر تین سال کے لیے پابندی لگا رکھی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ٹی ایم سی ابھی تک پی ایم ڈی سی کے شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ میڈیکل کالج کا کم از کم 500 بیڈز کے ہسپتال سے منسلک ہونا ضروری ہے جبکہ یہاں ٹیچنگ ہسپتال (سابقہ ڈی ایچ کیو) میں صرف 430 بیڈ ہیں۔

حکومتی رکن صوبائی اسمبلی عبیدالرحمان، ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (ڈیڈک) کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی شرط پوری کرنے کے لیے ٹی ایچ کیو ثمرباغ اور دیہی مرکز صحت لعل قلعہ کو بھی ٹیچنگ ہسپتال کا حصہ ڈیکلیئر کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جس سے بیڈز کی تعداد 530 ہو جائے گی۔

واضح رہے یہ دونوں ہسپتال تیمرگرہ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہیں۔ لیکن دیکھنا ہو گا کہ کیا پی ایم ڈی سی اس انتظام کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔ 

10 کلومیٹر کا  کلپانی تالاش بائی پاس 10 سال میں کہاں تک پہنچا؟

اس ضلعے کا ایک اور اہم منصوبہ 'کلپانی تالاش بائی پاس' ہے جو دس سال میں بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ یہ منصوبہ پشاور، مردان اور سوات سےجندول، کمراٹ باجوڑ اور اپر چترال تک جانے والی ٹریفک کو سہولت دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

موجودہ شاہراہ تالاش میں گنجان آباد علاقوں کاتخلہ، ناسافہ، کلپانی، زیارت اور شمشی خان بازار میں سے گزرتی ہے جہاں ٹریفک جام سے مسافر خوار ہوتے رہتے ہیں۔ 

بائی پاس کی 10 کلومیٹر طویل اور 40 فٹ چوڑی سڑک کا تخمینہ لاگت 68 کروڑ 30 لاکھ روپے لگایا گیا جس میں ساڑھے 32 کروڑ زمین کی خریداری اور 35 کروڑ 80 لاکھ روپے سڑک کی تعمیر کی رقم شامل تھی۔ اس منصوبے کا ٹینڈر 2015ء میں ہوا اور 2016ء میں تعمیراتی کام کا آغاز بھی ہو گیا تھا۔

محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) کے ایس ڈی او شاہرات سجاد خان کے مطابق بائی پاس کی 7.7 کلومیٹر سڑک پر بلیک ٹاپ مکمل ہو چکی ہے لیکن 2.3 کلومیٹر پر بلیک ٹاپنگ، ایک کلورٹ (پُل یا پانی گزرنے کا راستہ) کی تعمیر اور بعض مقامات پر بھرائی کا کام ابھی باقی ہے۔

وہ اعتراف کرتے ہیں کہ پائی پاس کے راستے میں سوئی گیس کی مین پائپ لائن رکاوٹ بن رہی ہے جس کو ہٹانے کے لیے اضافی فنڈز درکار ہیں اس وجہ سے بھی کام رکا ہوا ہے۔

ضلع لوئر دیر کا تیسرا منصوبہ چکدرہ انٹرچیج سے رباط تک 30 کلومیٹر موٹر وے بنانا تھا جس کی منظوری پانچ سال قبل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دی گئی تھی۔ اس کا تخمینہ ساڑھے 35 ارب روپے لگایا گیا اور زمین کی خریداری کے لیے سیکشن فور بھی نافذ کیا گیا مگر اب تک زمین بھی نہیں خریدی جا سکی۔

حکومت کے سیاسی مخالفین کا الزام لگاتے ہیں کہ رواں بجٹ میں فنڈز نہ رکھے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ عملاً ختم کر دیا گیا ہے۔ 
یہی حال میاں کلے تا کامبٹ روڈ کی تعمیر کا ہوا ہے جس کے لیے 2022ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام ( اے ڈی پی) میں ایک ارب روپے رکھےگئے مگر اس پر کبھی کام شروع نہیں ہو سکا۔

سکولوں کالجوں کی مخدوش عمارتیں گرا تو دیں لیکن نئی کب بنیں گی؟ 

لوئر دیر میں ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کا سب سے زیادہ نقصان بچوں اور تعلیمی شعبے کو پہنچا ہے جہاں سات تعلیمی اداروں کی مخدوش قرار دی گئی عمارتوں کو 2022ء میں منہدم کر دیا گیا گیا تھا۔

مذکورہ اداروں میں ہائر سکینڈری سکول رباط اور باغ دوشخیل، ہائی سکول بانڈہ تالاش اور سفرے خال، گرلز ہائی سکول پیٹو درہ کے علاوہ پرائمری سکول کوہیرے (ملاکنڈ) اور پیٹو درہ شامل ہیں۔

ان عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کے لیے مجموعی طور پر لگ بھگ ساڑھے 37 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ تاہم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مطابق اب تک صرف ساڑھے پانچ کروڑ روپے ہی فراہم کیے گئے ہیں۔

ہائی سکول بانڈہ تالاش کے ہیڈ ماسٹر محمد رشید بتاتے ہیں کہ یہاں چار برس سے خیموں میں کلاسز لگائی جا رہی ہیں۔

خال میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج آٹھ سال سے زیرتعمیر ہے جس کی لاگت کا تخمینہ سوا 26 کروڑ سے زائد تھا۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مطابق اس پر تقریباً 18 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر مزید فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔

گرلز ہائر سیکنڈری سکول یارخان بانڈہ کی عمارت کا بھی یہی حال ہے جس کی تعمیر 2019ء میں شروع ہوئی لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہو پائی۔

لعل قلعہ میں سرکاری گرلز ڈگری کالج کی منظوری 2021ء میں دی گئی لیکن تاحال اس کی تعمیر کا 51 فیصد کام ہی ہو سکا ہے۔ گرلز ڈگری کالج گل آباد، ہائی سکول راموڑہ کی اپ گریڈیشن اور گرلز ہائی سکول باغ دوشخیل کے لیے عمارتوں کی تعمیر 2022ء میں شروع ہوئی جو مکمل ہونے کو نہیں آ رہی۔

سی اینڈ ڈبلیو افسران کا ایک ہی جواب ہے کہ فنڈز ملیں گے تب ہی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔

'بیوٹیفیکیشن کے نام پر تیمرگرہ شہر کو کھنڈر بنا دیا گیا'

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر تیمرگرہ شہر سے ایک برساتی ندی گزرتی ہے جو تنگی درہ سے آنے والے پانی کا قدرتی راستہ ہے۔ جب بھی پہاڑوں پر بارشیں ہوتی ہیں یہ ندی بپھر جاتی ہے، پانی دکانوں، گھروں اور گلیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات چترال روڈ بھی بند ہو جاتی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ نالے کے راستے میں وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی تعمیرات کر لی گئی تھیں۔ 

اربن یونین کونسل تیمرگرہ کے سابق ناظم ملک شیر بہادر خان کہتے ہیں کہ یہاں نکاسی آب کا کوئی مؤثر نظام نہیں، بارش کا پانی سڑک پر کھڑا ہو جاتا ہے جس سے شہریوں اور ٹرانسپورٹ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر حکومت نے 2022ء میں برساتی نالے کو پکہ کرنے، چترال روڈ کی توسیع سمیت شہر کو خوبصورت بنانے ایک پلان بنایا جس کے لیے ابتدائی طور پر ساڑھے 17 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

بیوٹیفکیشن پلان کے تحت برساتی نالے کے دونوں جانب بنی درجنوں دکانیں اور پلازے مسمار کر دیے گئے مگر چار برس گزرنے کے باوجود یہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ 

صدر انجمن تاجران تیمرگرہ حاجی انوارالدین نے لوک سجاگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خاتمے اور بیوٹیفکیشن کے نام پر شہر کو کھنڈر بنا دیا گیا ہے یہاں تک کہ مین بازار کی سڑک کو کھود ڈالا گیا۔ یہ بہت مفید منصوبہ تھا مگر چار سال سے عذاب بنا ہوا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ دکانیں گرانے پر کچھ متاثرہ افراد نے عدالت سے حکم امتناع بھی لے رکھا ہے لیکن اصل مسئلہ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی ہے۔ تاہم چند دن سے یہاں کچھ نہ کچھ کام دوبارہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ 

ڈپٹی کمشنر لوئر دیر محمد عارف خان اعتراف کرتے ہیں کہ بیشتر ترقیاتی منصوبے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تاخیر کا شکار ہیں تاہم انتظامیہ یہ مسائل صوبائی حکام کے سامنے مسلسل اٹھا رہی ہے اور ارکان اسمبلی بھی رقوم جاری کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

ڈپٹی کمشنر کے لیے یہ کہنا آسان ہے کہ جیسے ہی فنڈز جاری ہوئے کام کی رفتار تیز کی جائے گی لیکن ان لاکھوں شہریوں کو یقین دلانا مشکل ہے جو برسوں سے بنیادی سہولتیں ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت 2 جنوری 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

حلیم اسد ضلع لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ہیں جو گزشتہ 24 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ دیر کے اضلاع میں ماحولیات، سیاحت اور ثقافت پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات اور تاریخ میں ماسٹر کیا ہے۔

thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

گندم اگائیں، کھاد کی رقم سندھ حکومت دے گی، پروگرام پر عمل کیسے ہو رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

پشاور میں بے گھر مزدوروں کے لئے فلیٹ پانچ سال سے تیار ہیں لیکن الاٹ کیوں نہیں ہو پا رہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنبی جان اورکزئی
thumb
سٹوری

موسمیاتی انصاف: سیلاب سے متاثر 43 سندھی کسانوں نے دو جرمن کمپنیوں پر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحسن مدثر
thumb
سٹوری

بھورے ریچھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ: دیو سائی کے بادشاہ کی سلطنت کن خطرات میں گھری ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

پاکستان میں بڑھاپا خاموش بحران کی صورت کیوں اختیار کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

خواجہ سراؤں کا جہنم: خیبر پختونخوا جہاں مقتولین کو دفنانے تک کی اجازت نہیں ملتی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceخالدہ نیاز
thumb
سٹوری

آخر ٹماٹر، سیب اور انار سے بھی مہنگے کیوں ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.