بین المذاہب شادی: مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے درمیان تنازعات کا قانونی حل کیسے ممکن ہے؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بین المذاہب شادی: مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے درمیان تنازعات کا قانونی حل کیسے ممکن ہے؟

غلام دستگیر

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بین المذاہب شادی: مختلف مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے درمیان تنازعات کا قانونی حل کیسے ممکن ہے؟

غلام دستگیر

loop

انگریزی میں پڑھیں

عبیرہ امبر کو شادی کے چند ماہ بعد ہی گھریلو کش مکش اور ساس بہو کے جھگڑوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انہیں ایک آدھ بار سسرال سے روٹھ کر اپنے والدین کے گھر بھی جانا پڑا اور اس سے پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ کے باعث اُن کا اسقاطِ حمل بھی ہو گیا۔

ان کی شادی 19 سال کی عمر میں 8 دسمبر 2018 کو ان کے آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ویویک کھوکھر سے ہوئی جو ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی میں سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔ فروری 2020 میں ان کے دوسرے حمل کے آٹھویں ماہ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کے نام پر بھی اس کے والدین میں اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔ ویویک نے اس کا نام کملِیش رکھا لیکن عبیرہ اسے کارتِش کہہ کر بلاتی ہیں۔

اس دوران میاں بیوی کے اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ بچے کی پیدائش کے ڈیڑھ ماہ بعد ویویک نے اسے اپنے پاس رکھ کر عبیرہ کو گھر سے نکال دیا حالانکہ وقت سے پہلے پیدا ہونے کی وجہ سے بچہ بہت کمزور تھا اور اسے علاج اور مسلسل نگہداشت کی ضرورت تھی۔

خاوند کا گھر چھوڑنے کے بعد عبیرہ نے کوہاٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کو درخواست کی کہ ان کا شیر خوار بیٹا ان کے حوالے کیا جائے۔ عدالت نے ان کی بات مان لی لیکن ساتھ ہی 17 اپریل 2020 کو کیے گئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ "بچے کے طِبی ریکارڈ کے پیش نظر اس کی ماں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس کا علاج یقینی بنائے"۔

یوں عبیرہ کو ان کا بیٹا تو مِل گیا لیکن اس کی کفالت اور علاج کی تمام تر ذمہ داری بھی انہی پر آن پڑی۔ اگرچہ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل کی گومل یونیورسٹی سے زوالوجی میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے لیکن وہ کوئی ملازمت نہیں کرتیں اس لئے بچے کے علاج کے لئے انہیں اپنی شادی کے موقع پر اپنے والدین کی طرف سے ملنے والے طلائی زیورات بیچنے پڑے۔

عبیرہ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک عدالت میں بھی دعویٰ دائر کر رکھا ہے کہ ویویک کو ان کا اور ان کے بیٹےکا خرچہ دینے کا پابند بنایا جائے لیکن انہیں اس دعوے کی کامیابی کی کوئی خاص امید نہیں۔

اس عدالتی صورتِ حال کی بنیادی وجہ 1872 کا سپیشل ہندو میرج ایکٹ ہے جس کے تحت عبیرہ کی شادی انجام پائی تھی۔ ہندو اقلیت کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک سماجی کارکن ہارون سرب دِیال کا کہنا ہے کہ اس ڈیڑھ سو سال پرانے قانون کی رو سے مرد کو اس کی بیوی اور بچوں کی کفالت کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن عبیرہ کی شادی میں ایک اضافی پیچیدگی بھی ہے جو ان کے قانونی حقوق کے آڑے آ رہی ہے۔ ان کا تعلق ایک سکھ خاندان سے ہے لیکن ان کے شوہر ہندو ہیں۔ اس لئے، ہارون سرب دِیال کے مطابق، ان دونوں کی شادی کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے کیونکہ سپیشل ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی شادی کے لئے مرد اور عورت دونوں کا ہندو ہونا ضروری ہے۔ ان کے بقول "جب ایک عورت کی شادی کی رجسٹریشن ہی قانونی اعتبار سے صحیح نہیں ہے تو وہ اپنے عائلی حقوق کے لئے کیا عدالتی چارہ جوئی کر پائے گی؟"

تاہم اگر یہ شادی ستمبر 2016 میں مرکزی پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے ہندو میرج ایکٹ کے تحت ہوئی ہوتی تو ویویک کو بچے کی پرورش اور بیوی کا خرچہ ضرور دینا پڑتا کیونکہ اس قانون میں نہ صرف طلاق کی صورت میں بلکہ عدالت کے ذریعے شادی کی تنسیخ کی صورت میں بھی مرد کو بیوی اور بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

عبیرہ کی شادی سے سوا دو سال پہلے یہ قانون صوبہ سندھ کے سِوا پاکستان کے تمام دوسرے علاقوں میں رہنے والے لگ بھگ تین لاکھ ہندوؤں پر لاگو ہو چکا تھا۔ (سندھ میں، جہاں 41 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ ہندو بستے ہیں، اسی طرح کا ایک صوبائی قانون موجود ہے۔)

لیکن ان کی شادی ہندو میرج ایکٹ کے مطابق نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس قانون میں شادی کی رجسٹریشن کے لئے درکار سرٹیفیکیٹ کا نمونہ تو دیا گیا ہے لیکن یہ سرٹیفیکیٹ مقامی سطح پر حکومتی اہل کاروں کو فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اس میں کئی دیگر اہم باتوں کا تعین نہیں بھی کیا گیا جیسے کہ شادی کرانے والے پنڈت کی اہلیت کیا ہوگی اور اس کی تعیناتی کون کرے گا۔

یہ سب تفصیلات در حقیقت ہندو میرج ایکٹ کو عملی طور پر لاگو کرنے کے لئے درکار قواعد کا حصہ ہونی چاہئیں جن میں یہ طے کیا گیا ہو کہ اس قانون کے کس حصے پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس سرکاری محمکے یا کس سرکاری اہل کار کی ہے اور اس عمل درآمد کے لئے کس طرح کا دستاویزی اور انتظامی طریقہِ کار اختیار کیا جائے۔

لیکن پارلیمنٹ سے اس قانون کی منظوری کے چار سال بعد بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے یہ قواعد نہیں بنائے۔ ہارون سرب دِیال کہتے ہیں کہ "ان قواعد کی عدم موجودگی میں اس قانون کی حیثیت محض کاغذی ہے اور اس کا ہندو خاندانوں کے عائلی مسائل کے حل میں کوئی کردار نہیں"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 12 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

غلام دستگیر خیبر پختونخوا کے سیاسی، معاشی و سماجی امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔