ضلع کرّم: فرقہ ورانہ تشدد اور زمین کی ملکیت کے جھگڑوں کی قیمت کس کو چکانا پڑتی ہے؟

postImg

شکریہ اسماعیل

postImg

ضلع کرّم: فرقہ ورانہ تشدد اور زمین کی ملکیت کے جھگڑوں کی قیمت کس کو چکانا پڑتی ہے؟

شکریہ اسماعیل

ضلع کرّم کی رہائشی دو بیوہ خواتین زہرہ بی بی اور زینب بی بی انصاف کے لیے سات ماہ سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں جن کے شوہر قبائلی تصادم میں قتل ہو گئے تھے مگر ہر بار مایوس لوٹ جاتی ہیں۔

یہ تصادم تحصیل اپر کرّم کے گاؤں لقمان خیل اور خیواس کے باسیوں میں اراضی کے تنازعے پر ہوا تھا جس میں مارے جانے والے دو افراد کا تعلق لقمان خیل سے تھا۔

پینتیس سالہ زہرہ بی بی تین کمسن بچوں کی ماں ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا شوہر جس زمین کے لیے قتل ہوا وہ قوم (قبیلے) کی مشترکہ ملکیت ہے اور انہیں اس میں سے حصہ ملنے کی کوئی توقع نہیں۔ شوہر کے بعد ان کے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں رہا جس کی وجہ سے اب ان کے لیے بچوں کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

دوسری خاتون 40 سالہ زینب بی بی کہتی ہیں کہ ان کی تین کم سن بیٹیاں ہیں۔ وہ انہیں لے کر کہاں جائیں اور کس سے انصاف کا مطالبہ کریں۔

گزشتہ سال جولائی میں شروع ہونے والے قبائلی تصادم اور فائرنگ کے واقعات میں چند روز کے دوران لگ بھگ سات افراد ہلاک اور 36 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ بظاہر یہ معاملہ ایک کمرے کی تعمیر سے شروع ہوا تھا جس میں دو متحارب مذہبی گروہ شامل تھے۔

 لیکن اس دوران محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختونخوا نے اعلامیہ جاری کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ضلع کرّم میں آٹھ مقامات پر اراضی کے تنازعات ہیں جن میں سے زیادہ تر پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے کے چلے آ رہے ہیں۔

تاہم اس سے دو ماہ قبل مئی میں مسلح افراد نے ایک سکول میں گھس کر پانچ اساتذہ سمیت آٹھ افراد کو قتل کر دیا تھا۔ مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے فائرنگ سے پہلے اساتذہ کے 'شیعہ' ہونے کی تصدیق کی تھی۔

امریکی و برطانوی ذرائع ابلاغ نے اس سانحے سے متعلق بتایا تھا کہ ایک گاڑی پر فائرنگ میں محمد شریف نامی ٹیچر ہلاک ہوا تو سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگیں کہ 'سنی ٹیچر کو شیعہ اکثریت کے علاقے میں ہلاک کر دیا گیا ہے' جس کے بعد سکول میں واردات ہوئی۔

میڈیا رپورٹس سے جمع کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ضلع کرم میں صرف ایک سال یعنی 2023ء کے دوران 156 سے زائد افرد قتل ہوئے جن میں لگ بھگ 100 فرقہ وارایت کی بھینٹ چڑھائے گئے جبکہ 56 سے زائد بظاہر اراضی تنازعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ضلع کرّم کی آبادی سات لاکھ 85 ہزار 434 نفوس پر مشتمل ہے جن میں 49.87 فیصد مرد اور 50.12 فیصد خواتین ہیں۔

یو این ویمن رپورٹ 2020ء کے مطابق اس ضلعے میں دس سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں خواندگی کی مجموعی شرح 34.8 فیصد ہے۔ مردوں میں یہ شرح تقریباً 53 اور عورتوں میں ساڑھے 12 فیصد ہے۔

پی ایچ ڈی سکالر سبط حسن طوری بتاتے ہیں کہ کرّم میں زیادہ ہلاکتوں کی دو بڑی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ فرقہ وارایت اور دوسرا اہم عنصر اراضی کے تنازعات ہیں۔

"یہاں سنی شیعہ تناؤ کی جڑیں بہت گہری ہیں لیکن 80ء کی دہائی میں افغان مہاجرین اور جنگ سے اس میں زیادہ شدت آئی ہے۔ افغان "جہاد" یا خانہ جنگی میں شامل جنگجو گروپ اور پاکستانی جہادی مخصوص فرقوں سے وابستہ تھے جس سے کرّم میں ان کا عمل دخل بڑھ گیا تھا"۔

وہ کہتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد مقامی شیعہ آبادی نے یہاں جہادی گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا تو مسلح تصادم اور دھماکے شروع ہوئے جن میں سیکڑوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

ضلع کرّم میں اراضی کے تنازعات بھی فرقہ وارانہ شدت پسندی کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

سبط حسن طوری نے بتایا کہ یہاں زرعی اراضی، پہاڑ، شاملات اور جنگلات مختلف قبائل کی مشترکہ ملکیت ہیں جن کی سرکاری انتظام کے تحت باضابطہ تقسیم (بندوبست) نہیں ہو سکی۔

برطانوی راج کے دوران 1905ء اور 1943ء میں لینڈ ریکارڈ پر کچھ کام ہوا تھا لیکن اس میں سے بھی بیشتر ملکیتی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب برسوں سےخاندانوں اور قبیلوں میں زمین کے تنازعات پر لوگ قتل ہو رہے ہیں۔ چونکہ فرقہ ورانہ تناؤ پہلے سے موجود ہے اس لیے بسا اوقات اراضی کی کاشت یا تصرف پر شروع ہونے والا قبائلی تنازع شیعہ سنی تصادم میں بدل جاتا ہے۔

دونوں ٹانگوں سے محروم مگر باہمت خاتون وکیل نایاب ایڈوکیٹ ضلع کرّم میں انصاف کی متلاشی خواتین کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہیں اور متاثرہ عورتوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہیں۔

انہوں نے فرقہ واریت اور قبائل تصادم کے علاوہ قتل کے انفرادی واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ یہاں اراضی کے تنازعات کئی نوعیت کے ہیں لیکن جھگڑے کی جو بھی بنیاد ہو مقتولین کی بیواؤں اور بچوں کو اذیت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وہ ایک کیس کی تفصیل سناتی ہیں کہ اپر کرّم کے گاؤں زیڑان میں دو بھائیوں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے پر تنازع تھا۔

 "پچھلے سال اگست میں ایک بھائی متنازع اراضی پر درخت لگا رہا تھا کہ دوسرے نے روکنے کی کوشش کی جس پر تکرار سے بات مسلح لڑائی تک جا پہنچی۔ دونوں بھائی جان سے گئے اور ان میں سے ایک کی بیوی خدیجہ جو دونوں کو فائرنگ سے منع کرنے کے لیے درمیان آئی تھیں وہ بھی ہلاک ہو گئیں۔ یعنی دو خاندان تباہ ہو گئے جن میں سے ایک کے بچے ماں باپ اور دوسرے کے بچے باپ سے محروم ہو گئے"۔

اپر کرّم کے سماجی کارکن جمشید شیرازی یو این ویمن کے ساتھ کام کرتے آ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جہاں خاندان کا واحد کفیل قتل ہو جائے وہاں غربت کے ہاتھوں مجبور متاثرہ خواتین اپنے بچوں سے مشقت کراتی ہیں یا خود بھیک مانگتی نظر آتی ہیں۔ چند ایک دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

خیبرپختونخوا میں خواتین کی خودکشی کے واقعات: 'ان کی وجوہات جاننے کے بجائے انہیں غیرت سے جوڑ کر چھپا دیا جاتا ہے'۔

وہ کہتے ہیں کہ ستم یہ بھی ہے کہ اکثر اوقت ان خواتین کو شوہر یا والد کی جائیداد میں سے ان کے حصے سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔

اگر فرقہ وارانہ تشدد، دھماکوں یا فائرنگ میں گھر کا کفیل جسمانی معذوری کا شکار ہو جائے تو بھی ان کے بچوں کو بازاروں میں ٹافیاں اور پلاسٹک بیگز بیچنا پڑتے ہیں یا پھر وہ بھیک مانگتے ہیں کیونکہ خواتین گھروں سے نکل ہی نہیں سکتیں۔

"مارچ 2022ء میں شلوزان اور کارا خیلہ کے باسیوں میں مسلح تصادم ہوا تھا جس میں لوگ ہلاکتوں سے تو محفوظ رہے تاہم پولیس نے فریقین کے 20 آدمی گرفتار کر لیے تھے جن کی رہائی کے لیے گھریلو خواتین نے پہلے تھانے اور پھر عدالت جا کر اس لیے احتجاج کیا تھا کہ ان کے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا"۔

نایاب ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ضلع کرّم میں حق وراثت سے محرومی نے خواتین کی بدحالی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

"وراثتی جائیداد سے محروم کیے جانے پر میرے پاس ایک سال کے دوران 25 خواتین آئیں جن میں سے بہت سی خاندان کی دھمکیوں پر اپنے کیس کی پیروی چھوڑ گئیں"۔

انہوں نے ایک کیس کا حوالہ دیا کہ اپر کرّم کی فاطمہ کے والد نے بیٹی کو حصہ دینے کے لیے وصیت بھی کی تھی لیکن بھائیوں نے انکار کر دیا۔ "دو سال سے کیس چل رہا ہے اور ان کے چار بھائی بہن کو حصہ دینے کی بجائے دھمکیاں دے رہے ہیں"۔

نایاب کے بقول ضلع کرّم کی خواتین مردانہ سماج میں انتہائی کٹھن زندگی گزار رہی ہیں اور اگر گھر کا واحد کفیل اور سہارا قتل ہو جائے تو وراثتی حق مانگنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ قتل ہونے والے تو چلے گئے مگر ان کی عورتیں اور بچے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت 14 فروری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

شکریہ اسماعیل کا تعلق اپر کرم کے پارا چنار علاقے سے ہے، وہ پچھلے دو سال سے بطور فری لانس جرنلسٹ کام کر رہی ہیں، وہ زیادہ تر بنیادی سماجی مسائل، خواتین اور بچوں کے مسائل ،تعلیم اور ترقی، اور پسماندہ کمیونٹیز کے مسائل کے حوالے سے لکھتی ہیں۔

thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.