خیبر پختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لئے 180 ارب روپے درکار، حکومت کو نصف سے زیادہ رقم کی کمی کا سامنا
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

خیبر پختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لئے 180 ارب روپے درکار، حکومت کو نصف سے زیادہ رقم کی کمی کا سامنا

محمد فہیم

postImg

خیبر پختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لئے 180 ارب روپے درکار، حکومت کو نصف سے زیادہ رقم کی کمی کا سامنا

محمد فہیم

خیبر پختونخوا میں خواتین کے مسائل پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم 'خویندو کور' کی ڈائریکٹر پروگرامز شازیہ حنا تقریباً چار برس قبل کوٹھہ لیلہ گئیں تو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالہ سے اس چھوٹے سے گاؤں کو انتہائی پس ماندہ پایا۔ 

لیکن اب کے وہ اس گاؤں میں گئیں تو وہاں کا منظر ہی بدل چکا تھا "ہر طرف سیلاب نے تباہی مچا رکھی تھی۔"

خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے تقریباً 60 کلومیٹر مشرق کی جانب تحصیل درابن میں گنڈھی عمر خان کے علاقے کوٹھہ لیلہ میں 70 کے قریب گھر ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے یہاں کی آبادی ایک ہزار سے زائد ہے یعنی ایک گھر میں ایک سے زیادہ خاندان آباد ہیں۔ 

لگ بھگ 50 سالہ شازیہ حنا کہتی ہیں کہ پورے گاﺅں میں انہیں ایک صحت مند بچہ نظر نہیں آیا، تمام لوگ انتہائی غربت اور تنگی کا شکار ہیں، امداد تو دور کی بات خواتین کے پاس پاﺅں میں پہننے کو جوتے تک نہیں ہیں۔ 

اس سال اگست کے آخری ہفتے میں کوہِ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے اس گاﺅں کے تمام گھروں کو نقصان پہنچایا۔ کچے گھر تو پلک جھپکتے ہی سیلاب میں بہہ گئے۔ لیکن تاحال ان کی دوبارہ آباد کاری کے لئے حکومتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہ صرف ایک گاؤں کی کہانی نہیں بلکہ صوبے میں سیلاب کی زد میں آنے والے تمام علاقوں میں یہی صورتِ حال ہے۔ 

خیبر پختونخوا میں سیلاب کے باعث آنے والی تباہی کے درست اعشاریے مرتب کرنے کے لئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے تمام انتظامی محکموں سے اعداد و شمار طلب کئے اور خیبر پختونخوا فلڈ رسپانس پلان 2022 کے نام سے جامع رپورٹ مرتب کی جو اس ماہ کی 8 تاریخ کو جاری کی گئی۔ 

اس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیلاب کے نقصانات کی بحالی کے لئے 179 ارب 93 کرو ڑ روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ زرعی اور صنعتی شعبہ میں ہونے والے نقصانات کے ازالہ کے لئے 39 ارب 16کروڑ روپے درکار ہوں گے جبکہ جاں بحق، زخمی ہونے والوں، سیلاب سے متاثرہ گھروں، بحالی منصوبہ بندی اور پیشگی اقدامات کے لئے 35 ارب 86 کروڑ اور آب پاشی کے نظام کی بحالی کے لئے 22 ارب روپے سے زائد کا انتظام کرنا ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں چھ لاکھ 74 ہزار تین سو 18 افراد بے گھر ہوئے۔ اسی طرح 37 ہزار  پانچ سو 25 گھر مکمل طور پر جبکہ 53 ہزار نو سو 38 جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ چھ ہزار پانچ سو 77 مویشی ہلاک ہوئے، ایک سو 7 پُل، نو سو 64 سڑکیں، ایک ہزار  چار سو 58 سکول، دو سو 56 مراکزِ صحت، ایک ہزار 93 واٹر سپلائی سکیمیں، ایک سو 72 ٹیوب ویل، دو ہزار 42 واٹر چینلز، چار سو 77 واٹر ٹینک، ایک لاکھ 7ہزار دو سو 20 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں اور ایک ہزار  پانچ سو 75 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں۔

رپورٹ میں فراہم کردہ محکمہ بحالی و آباد کاری کے اعداد و شمار میں تین سو چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جنہیں مالی امداد کی مد میں 24 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔ اسی طرح تین سو 69 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں مجموعی طور پر سات کروڑ 40 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے 91 ہزار چار سو 63 گھروں کی بحالی کے لئے 25 ارب 23 کروڑ 80 لاکھ روپے درکار ہیں۔ جبکہ دیگر مدوں میں بحالی کے لئے مزید 5 ارب روپے کی ضرورت ہو گی۔

اگلے چھ ماہ تک متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کے لئے پانچ ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے درکار ہیں۔ مجموعی طور پر بحالی آپریشن اور معاوضوں کی ادائیگی پر 35 ارب 86 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ سیلاب کے بعد آگاہی، مستقبل کے لئے تیاری اور بحالی منصوبے کے لئے چھ ارب 79 کروڑ 20 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 

لائیو سٹاک اور ایک لاکھ 7 ہزار دو سو 20 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کی تباہی، زرعی اور صنعتی شعبہ میں پہنچنے والے نقصانات کے ازالہ کے لئے 39 ارب 16 کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ 

صوبائی انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے مطابق لوئر کوہستان میں 17 میگاواٹ کا رانولیہ ہائیڈرو پراجیکٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح 11 اضلاع میں ایک سو 14 منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شدید متاثر ہوئے ہیں جن میں 19 مکمل تباہ جبکہ 95 میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ آٹھ اضلاع — ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ، سوات، چِترال، کرک، کوہستان، لوئر دیر اور نوشہرہ — کے سکولوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں لگائے گئے ایک سو 76 شمسی توانائی کے سسٹم بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سوات میں 36.6 میگاواٹ کا دراڑ خوڑ ہائیڈرو پراجیکٹ بھی جزوی طور پر متاثر ہوا ہے جبکہ 4.2 میگاواٹ کا ریشون چترال ہائیڈرو پراجیکٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کو مجموعی طور پر 23 ارب 17 کروڑ روپے درکار ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق محکمہ آب پاشی کو صوبے کے 24 اضلاع میں 22 ارب 38 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ صوبے میں ایک ہزار تین سو 66 اِریگیشن چینل اور ایک ہزار چار سو 57 حفاظتی پشتے تباہ ہوئے ہیں۔

محکمہ تعمیرات و مواصلات کے مطابق صوبے کے 31 اضلاع میں ایک ہزار پانچ سو تین کلومیٹر سڑکیں اور 96 پل تباہ ہوئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو سو 26 کلومیٹر، ٹانک میں ایک سو 85 کلومیٹر، کرَک میں ایک سو 75 کلومیٹر، کوہستان میں ایک سو 50 اور سوات میں  ایک سو چھ کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں۔ ان سڑکوں کی عارضی بحالی کے لئے چار ارب 50 کروڑ 46 لاکھ 30ہزار روپے کا تخمینہ ہے جبکہ ان تمام سڑکوں کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا جس کے لئے 14 ارب 98 کروڑ 46 لاکھ 80 ہزار روپے درکار ہیں۔ 

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق صوبے میں ایک ہزار سات سو 90 سکول متاثر ہوئے ہیں جن میں ایک سو 50 مکمل جبکہ ایک ہزار چھ سو 40 جزوی طو پر تباہ ہوئے ہیں۔ ان کی بحالی کے لئے آٹھ ارب 39 کروڑ 40 لاکھ روپے درکار ہیں۔

محکمہ بلدیات کے مطابق چار سو 37 منصوبوں کی بحالی کے لئے چھ ارب 57 کروڑ 10 لاکھ روپے درکار ہوں گے جن میں تین ارب 60 کروڑ 55 لاکھ سڑکوں کی بحالی، ایک ارب 42 کروڑ 70 لاکھ سینی ٹیشن، 46 کروڑ 75 لاکھ آب رسانی، 46 کروڑ 45 لاکھ دیگر مدوں میں، 25 کروڑ 62 لاکھ ریسٹ ہاﺅسز اور 10 کروڑ 94 لاکھ پُلوں کی بحالی کے لئے درکار ہیں۔ دفاتر کی مرمت کے لئے ایک کروڑ 91 لاکھ، دکانوں کے لئے 30 لاکھ اور مذبحہ خانوں کے لئے دو کروڑ 70 لاکھ روپے درکار ہیں۔

محکمہ آب نوشی کے مطابق 16 اضلاع میں آب رسانی کی آٹھ سو 44 سکیمیں متاثر ہوئی ہیں جن کی بحالی کے لئے چار ارب 86 کروڑ روپے درکار ہیں۔ ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ کے شعبہ میں چار سو 14 سکیمیں متاثر ہوئی جن کی بحالی کے لئے ایک ارب 13 کروڑ چار لاکھ 90 ہزار روپے کا انتظام کرنا ہو گا۔ 

اسی طرح محکمہ صحت کے مطابق 17 اضلاع میں ایک سو 58 مراکز صحت متاثر ہوئے ہیں ایک ارب نو کروڑ 10 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔

ماہی پروری کی بحالی کے لئے 52 کروڑ 68 لاکھ، زرعی تحقیق کے لئے 28 کروڑ 30 لاکھ، محکمہ توسیع زراعت کے لئے چھ کروڑ 60 لاکھ 38 ہزار اور ڈائریکٹوریٹ آف لائیو سٹاک ریسرچ کے لئے چار کروڑ 77 لاکھ اور مجموعی طور پر 92 کروڑ 35 لاکھ 38ہزار روپے بحالی کے لئے درکار ہیں۔

محکمہ سیاحت و کھیل کے مطابق مجموعی طور پر 50 کروڑ 45 لاکھ روپے درکار ہوں گے جن میں آثارِ قدیمہ کو 27 کروڑ، ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس کو 21 کروڑ 45 لاکھ جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف ٹورازم کو دو کروڑ روپے فراہم کرنا ہوں گے۔

تعلیم کے شعبہ میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ، بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی اپر دِیر، یونیورسٹی آف صوابی اور نو کالجوں اور جامعات کو نقصان پہنچا ہے جن کی بحالی کے لئے 37 کروڑ 29 لاکھ 90 ہزار روپے درکار ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سُجاگ کو بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لئے سب سے پہلے خیبر پختونخوا حکومت نے امداد کی فراہمی شروع کی ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 30 ارب روپے بنتی ہے۔ اس سے ادائیگی شروع کر دی گئی ہے اور اب تک تقریبا چار ارب روپے سے زائد تقسیم بھی کر دئیے گئے ہیں۔یعنی ابتدائی طور پر 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے چار ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ 

صوبے کو تقریباً ایک سو 62 ارب روپے بحالی اور تعمیر نو کے لئے درکار ہیں اس میں 35 ارب روپے انفراسٹرکچر کے لئے ہے جو مستقبل کے لئے ہے۔ باقی رقم کی فوری ضرورت ہے جس میں اپنے بجٹ سے منتقلی اور امدادی اداروں کے منصوبوں سے رقم منتقل کرتے ہوئے 80 ارب روپے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ اس رقم کے منصوبے شروع کرنے میں وقت لگے گا اور تمام طریقہ کار کے تحت منصوبوں کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ 

صوبائی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت نے 10 ارب روپے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس میں ایک پائی تک جاری نہیں کی جا سکی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو سیلاب متاثرہ اضلاع کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لئے نصف سے زائد فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر صوبے کو ایک سو 79 ارب 93 کروڑ روپے میں سے تقریباً 18 ارب روپے جاری ترقیاتی منصوبوں سے نکال کر سیلاب متاثرہ علاقوں کے مجوزہ منصوبوں کی جانب منتقل کر دئیے گئے ہیں تاہم باقی مانندہ تقریباً ایک سو 62 روپے میں سے 81 ارب 50 کروڑ روپے کی کمی کے باعث صوبے کو آئندہ کئی برسوں تک بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ خیبر پختونخوا نے سیلاب متاثرہ اضلاع کی بحالی کے لئے منصوبہ تیار کر کے اسے دسمبر کے پہلے ہفتے منظوری کے لئے متعلقہ فورم صوبائی کابینہ کو ارسال کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کو پوسٹ ڈیزاسٹر بحالی پروگرام کے لئے ایک سو 62 ارب روپے درکار ہیں جس میں انفراسٹرکچر پروگرام کے لئے مجموعی طور پر ایک سو 20 ارب روپے درکار ہوں گے۔ صوبائی حکومت مجموعی طور پر 80 ارب 50 کروڑ روپے کا بندوبست کر سکی ہے جس کی تصدیق صوبائی وزیر خزانہ نے بھی کی ہے۔ صوبے کو نصف سے بھی زائد یعنی 81 ارب 50 کروڑ روپے درکار ہیں جس کے لئے وفاقی حکومت کی مدد انتہائی ضروری ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا: 'حکومت نہ تو ہمارے نقصانات کی تلافی کر رہی ہے اور نہ ہی ہمیں سیلاب سے بچانے کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے'۔

محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے ایک سو 62 ارب روپے کے مجموعی نقصانات کی بحالی میں سے فی الفور دو سالہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو 77 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کا ہے۔ اس پلان کے تحت پہلے سال 31 ارب جبکہ دوسرے سال 46 ارب 60 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔ 

پہلے مرحلہ کے 31 ارب روپوں کے لئے صوبائی حکومت نے انتظامی محکموں کے ترقیاتی فنڈز سے پیسے نکال کر 19 ارب روپے کا بندوبست کر لیا ہے جبکہ بین الاقوامی امدادی اداروں نے صوبائی حکومت کو سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے آٹھ انتظامی محکموں کو 61 ارب 50 کروڑ روپے کی مدد فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے جس کا کچھ حصہ پہلے مرحلہ میں فراہم کیاجائے گا۔

تاہم اس کے باوجود بھی صوبائی حکومت کو پہلے مرحلہ کے لئے سات ارب 70 کروڑ روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ مجوزہ منصوبہ بندی میں بتایا گیا ہے کہ 13 شعبہ جات میں انفراسٹرکچر کی بحالی درکار ہو گی۔ صوبے کے پانچ شعبہ جات کے لئے تاحال کسی امدادی ادارے نے مدد فراہم کرنے کا وعدہ نہیں کیا ہے جن میں بلدیات، اعلیٰ تعلیم، خوراک، ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ اور محکمہ مال شامل ہیں۔ 

تاریخ اشاعت 25 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فہیم پشاور سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بلدیات، سماجی امور، انسانی حقوق سمیت سیاحت و آثار قدیمہ کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ وہ پشاور میں ایک نجی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ