کمپیوٹر بمقابلہ پٹواری: کون جیتے گا؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کمپیوٹر بمقابلہ پٹواری: کون جیتے گا؟

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

کمپیوٹر بمقابلہ پٹواری: کون جیتے گا؟

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

55 سالہ آصف علی دریائے راوی کے کنارے بُکاں وال گاؤں میں رہتے ہیں۔ اپنے بڑوں کی طرح ان کی ساری زندگی بھی کھیتی باڑی کرتے گزری ہے۔ ان کا گاؤں ایسے علاقے میں آتا ہے جسے حالیہ دنوں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے نیا شہر بنانے کے منصوبے میں شامل کیا ہے۔ اس کے بعد یہاں تیزی سے زمینی تنازعات اور قانونی لڑائیاں جنم لے رہی ہیں۔

آصف کو جو مسئلہ در پیش ہے اس کی نوعیت قانونی ہے مگر یہ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس نے پنجاب حکومت کی لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی خواہش سے جنم لیا ہے۔ 

آصف چھوٹے سے زرعی رقبے کے مالک ہیں جو قریباً دس کنال بنتا ہے۔ انہیں یہ زمین 1990 کے اوائل میں ورثے میں ملی تھی۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے وہ 'اراضی ریکارڈ سنٹر' گئے تا کہ وہاں کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈز سے اپنی زمین کی فرد (ملکیتی دستاویز) حاصل کر سکیں۔ مگر وہاں یہ سن کر ہکا بکا رہ گئے کہ ان کی آبائی زمین کا مالک رحمت علی نامی کوئی شخص ہے۔  

آصف کے پاس خود کو اس زمین کا مالک ثابت کرنے کے لیے سابقہ جمع بندیوں (ہر چار سال شائع ہونے والا لینڈ ریکارڈ) سمیت تمام دستاویزات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ان کے حق میں جاتی ہے کہ کبھی کسی نے ان کی ملکیت پر اعتراض نہیں اٹھایا۔ تاہم اراضی ریکارڈ سنٹر نے انہیں مطلوبہ دستاویز جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے داد رسی کے لیے پٹواری سے رجوع کیا تو پتا چلا کہ زمین کے ہاتھ سے لکھے ریکارڈ میں ان کا نام غلط درج ہو گیا تھا اور جب ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوئے تو وہاں بھی اسی غلط نام کا اندراج ہو گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اسے ٹھیک کرانے کے لیے پہلے تو انہیں پٹواری کو پرانا ریکارڈ درست کرنے کی درخواست دینا ہو گی جو بہت سے افسروں کی میزوں سے ہوتی ہوئی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ تک پہنچے گی۔

وہ کہتے ہیں ''مجھے پٹواریوں، تحصیل داروں، ڈسٹرکٹ کمشنر اور لینڈ ریکارڈ سنٹرز سمیت جس بھی دفتر سے رجوع کرنے کو کہا گیا میں وہاں گیا اور کئی جگہوں پر رشوت بھی دی مگر جواب میں مجھے صرف جھوٹے وعدے ملے''۔ 

ڈیڑھ سال بعد آصف کے پاس اپنی دس کنال زمین کی ملکیت کے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں تاہم اس کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں ان کا نام بدستور رحمت علی لکھا ہے۔ 

لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور سیاست 

اگر آصف کو 10 یا 20 سال پہلے اُس وقت اسی مسئلے کا سامنا ہوا ہوتا جب لینڈ ریکارڈ ہاتھ سے لکھے رجسٹروں پر درج ہوتے تھے تو پٹواری ہی ان کا مسئلہ حل کر دیتا۔ 

تاہم 2007 میں پنجاب حکومت نے یہ طریقہ تبدیل کرنے فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے عالمی بینک کے ساتھ 115 ملین ڈالر کے منصوبے پر دستخط کیے۔ اس منصوبے کے مطابق پورے صوبے کا لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جانا اور اس تک عام لوگوں کی رسائی ممکن بنانا تھا۔ یہ ذمہ داری نو تشکیل شدہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے) کو دی گئی جس نے یہ کام 12 دسمبر 2016 کو مکمل کر لیا۔ 

عالمی بینک نے اس منصوبے پر کام کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ اس سے سائل کے لیے فرد کے حصول کا وقت دو ہفتے سے کم ہو کر 15 منٹ رہ گیا ہے۔ پی ایل آر کے حکام نے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے پنجاب کے مجموعی دیہی لینڈ ریکارڈ کا 98 فیصد حصہ کمپیوٹر پر منتقل کر دیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی حکومت نے اس منصوبے کو اپنی بہت بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ اس سے 'پٹواری کلچر' کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ یہ اصطلاع زمینی ریکارڈ سے متعلقہ عملے کی سست روی، نااہلی اور بدعنوانی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی چلی آئی ہے۔ 

اس خطے میں زمینی ملکیت کی سرکاری دستاویزات متعارف کرائے جانے سے اب تک زمینی ریکارڈ پٹواریوں کے پاس ہی رہا ہے۔ ان کا کام زمین کی ملکیت اور مالکان کے شجرہ ہائے نسب اور وہاں بوئی جانے والی فصلوں کا ریکارڈ رکھنا اور زمین کی حد بندی کرنا تھا۔ اس حاکمانہ اور مرکزی حیثیت نے پٹواریوں کا ان معاملات پر ایک طرح سے اجارہ قائم کر دیا جس سے انہیں زمین کے ریکارڈ سے متعلق معاملات میں اپنی مرضی کرنے اور دیہاتیوں سے رشوتیں وصول کرنے کے کھلے مواقع میسر آئے اور یہی بات پٹواری کے نام سے جڑے منفی تاثر کا سبب بنی۔ 

جب پنجاب حکومت نے زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت صوبے میں دو کروڑ زمین مالکان سے متعلق دستی ریکارڈ قریباً آٹھ ہزار پٹواریوں کے پاس تھا۔ اس منصوبے کو ایک ایسا انقلاب قرار دیا  گیا جس نے دیہاتیوں کو پٹواریوں کے شکنجے سے آزاد کر دینا تھا۔  مگر کیا نئی ٹیکنالوجی نے واقعی پٹواریوں سے ان کی اہمیت واپس لے لی؟ 

درحقیقت 'پی ایل آر اے' کا کام پٹواریوں کی جگہ لینا نہیں تھا۔ اس کے بجائے اسے پٹواریوں کے اشتراک سے کام کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ پی ایل آر اے لاہور کے ترجمان نے سجاگ کو بتایا کہ ''ہم بڑی حد تک ان پٹواریوں کے بنائے دستی ریکارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ ہم سے پٹواریوں کا 'خاتمہ' کرنے کی توقع کیوں رکھتے ہیں''۔ 

عالمی بینک کے منصوبے کی جولائی 2017 میں شائع ہونے والی دستاویزات میں زمینی ریکارڈ کے انتظام میں پٹواریوں کے سبب جنم لینے والے مسائل کا تذکرہ تو ملتا ہے مگر اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ پٹواری کا کردار ختم کرنا اس منصوبے کا مقصد تھا۔ اس سے برعکس یہ رپورٹیں کہتی ہیں کہ منصوبے پر عمل درآمد کے مرحلے میں مجموعی تبدیلی کے عمل، عوامی آگاہی اور انتظامی امور میں پٹواریوں کو شامل کرنے کی اہمیت سامنے آئی۔ رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ پٹواریوں نے زمینی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کی مخالفت کی اور یہ منصوبہ اسی وقت آگے بڑھا جب 2010 اور 2012 میں انہیں اس کام میں فعال طور سے شامل کیا گیا اور ان کا کردار اور متعلقہ فوائد قائم رکھے جانے کا یقین دلایا گیا۔ 

یہ عیاں ہے کہ پی ایل آر اے کے کردار کی غلط تصویر پیش کرنے والے 'پٹواری کلچر' کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے اس منصوبے کے حوالے سے بعض سیاسی فوائد کے حصول کے لیے لگائے گئے تھے۔ 

بدعنوانی کا نیا روپ

پی ایل آر اے اور پٹواریوں کا دائرہ کار واضح ہے۔ پی ایل آر اے ایسے موجودہ لینڈ ریکارڈ کا انتظام رکھتی ہے جو پٹواریوں کی فراہم کردہ دستاویزات کی کمپیوٹرائزڈ شکل ہوتے ہیں۔ اگر کسی ریکارڈ کے حوالے سے کوئی مسئلہ سامنے آئے تو اتھارٹی کو پٹواری سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ مزید برآں اتھارٹی کے ڈیٹا بیس میں صرف یہی معلومات ہوتی ہیں کہ کون سی زمین کس کی ملکیت ہے تاہم زمین پر ملکیتی حد بندی پٹواری ہی کر سکتا ہے اور اگر کوئی تنازع کھڑا ہو جائے تو پٹواری ہی طے کرتا ہے کہ کون سی زمین کس کی ملکیت ہے۔ 

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک پراپرٹی ڈیلر کے مطابق زمینی ریکارڈ کے معاملے میں پی ایل آر اے محض ڈاکیے کا کردار ادا کرتی ہے۔ ملکیتی دستاویزات کے اجرا اور زمین کی منتقلی کو رجسٹرڈ کرنے میں اتھارٹی کا کام بہت اچھا ہے، مگر جب بھی کوئی تنازع جنم لیتا ہے تو یہ اتھارٹی بے بس دکھائی دیتی ہے اور ہمیں ایک مرتبہ پھر پٹواریوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور انہیں رشوت دینا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'پٹواری اب پہلے سے زیادہ رشوت مانگتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اتھارٹی ہمارے مسئلے حل نہیں کر سکتی'۔ 

ایسی مثالیں بھی ہیں جب پٹواریوں اور اتھارٹی کے حکام نے ریکارڈ میں جعلسازی اور دھوکہ دہی کے لیے ایکا کر لیا۔ گوجرانوالہ میں رائل پام سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی اس کی نمایاں مثال ہے۔ بہت سے دیہاتیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی زمینیں دھوکے سے سوسائٹی کو منتقل کر دی گئیں۔ 

ان میں ریاست علی نامی ایک دیہاتی کو ان کی زمین کی منتقلی (ٹرانسفر) کی دستاویز دی گئی جس پر سرکاری مہر اور اتھارٹی کی جانب سے تصدیق شدہ ان کے انگوٹھے کا نشان لگا ہوا تھا۔ جب انہوں نے اس پر احتجاج کیا اور حکام سے رجوع کیا تو محکمہ انسداد بدعنوانی نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اس دستاویز کے فرانزک تجزیے سے ثابت ہوا کہ یہ کاغذات جعلی تھے۔ تحقیقات سے بھی سامنے آیا کہ نا صرف پٹواری بلکہ اتھارٹی کے حکام نے بھی زمین کے حقیقی مالکان کے علم میں لائے بغیر اسے سوسائٹی کو منتقل کرنے کے لیے رشوت لی تھی۔ 

پی ایل آر میں بدعنوانی کی داستانوں کی تصدیق اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ گزشتہ سال ہی اس کے قریباً 100 ملازمین کو بدعنوانی کے الزامات پر نوکریوں سے نکالا گیا جبکہ 200 کو دیگر سزائیں دی گئیں۔ پنجاب میں ملازمین کی استعداد، نظم و ضبط اور احتساب کے قانون 2006 (پیڈا ایکٹ) کے تحت مجموعی طور پر اتھارٹی کے 500 ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جا چکی ہے۔ 

بعض ماہرین اب بھی یہ کہتے ہیں کہ پی ایل آر اے پٹواریوں کے مقابلے میں 'چھوٹی برائی' ہے اور اس کے حق میں بات کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس نے زمین کی ملکیت کی دستاویزات کا اجرا آسان بنا دیا ہے۔ تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ اتھارٹی نے ناصرف معاملات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے بلکہ اس نے نئی طرز کی دھوکہ دہی اور بدعنوانی کو بھی متعارف کرایا ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک پراپرٹی ڈیلر کے مطابق ''اب بھی آپ رشوت دیے بغیر کوئی کام نہیں کرا سکتے۔ پہلے سائل کا واسطہ صرف پٹواری سے پڑتا تھا مگر اب اتھارٹی کے حکام کو بھی راضی کرنا ہوتا ہے''۔ 

کیا پٹواری واپس آ رہے ہیں؟

پنجاب کی سابق حکومت نے غالباً اپنے ہی اس پروپیگنڈے پر یقین کرنا شروع کر دیا تھا کہ زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے سے پٹواری کے ساتھ 'پٹواری کلچر' کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور اسی لیے اس نے یہ منصوبہ مکمل ہوتے ہی پٹواری کے عہدے پر خالی اسامیوں پر تقرری کا سلسلہ بھی روک دیا تھا۔ 

پٹواری بھلے ہی زمین کا حساب کتاب رکھنے کے صدیوں پرانے نظام سے جنم لینے والے تمام مسائل کے واحد ذمہ دار قرار دیے جائیں مگر وہ 'پٹواری کلچر' سے فائدہ اٹھانے والے واحد کردار نہیں رہے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ موجودہ حکومت زمین کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن روکنا اور پرانے نظام کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ 

فروری 2020 میں بتایا گیا کہ ڈویژنل کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ضلع میں دو ریونیو سرکل مخصوص کر کے انہیں تحصیلدار اور پٹواری کے حوالے کریں۔ پنجاب بورڈ آف ریونیو کی جانب سے دیے گئے حکم میں یہ توقع بھی کی گئی ہے کہ یہ اقدام زمینی حساب کتاب کے لیے ایک اور مثالی نمونے کا کام دے گا۔ 

پی ایل آر اے کے عملے کے بعض ارکان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اعلیٰ سطحی بیورو کریسی صوبائی حکومت کو نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے پر مزید وسائل خرچ کرنے کے بجائے پرانا پٹواری نظام بحال کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ بورڈ آف ریونیو کا ریونیو سرکل پٹواریوں کو واپس دینے سے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے 115 مراکز میں 589 نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ 

تاہم حکومت نے پرانے نظام کو پوری طرح واپس لانے کے لیے سرکاری سطح پر تاحال کوئی اعلان نہیں کیا۔ 

کیا پٹواری اس 'سائبر حملے' کو واپس پھیرتے ہوئے ہمارے دیہی سماج میں اپنی روایتی طاقتور حیثیت محفوظ رکھنے میں کامیاب رہیں گے یا نئے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں مسائل پیدا کرنے والے ایک وائرس کی سی شکل اختیار کر جائیں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے مزید چند سال انتظار کرنا ہو گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 23 اپریل 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 4 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔