"ماسک نہیں تھے، مزدوروں نے ساتھیوں کو بچانے کے لیے منہ پر کپڑے باندھے اور زہریلی کان میں اتر گئے"

postImg

عاصم احمد خان

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

"ماسک نہیں تھے، مزدوروں نے ساتھیوں کو بچانے کے لیے منہ پر کپڑے باندھے اور زہریلی کان میں اتر گئے"

عاصم احمد خان

loop

انگریزی میں پڑھیں

انیس مارچ کی رات 11 بجے کے قریب ضلع ہرنائی میں کوئلہ کان میں میتھین گیس بھر جانے سے زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کان میں کام کرنے والے 10 مزدور پھنس گئے۔ کان میں کام کرنے والے آٹھ مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا، مگر ریسکیو کے لیے ضروری سازو سامان اور تربیت نہ ہونے کے باعث بچانے والےمزدور بھی کان میں پھنس گئے۔

ڈپٹی کمشنر ہرنائی آفس کی جانب سے مائنز ڈیپارٹمنٹ اور پی ڈی ایم اے کو واقعہ کی اطلاع دی گئی جس کے بعد کوئٹہ سے ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی گئیں۔

کوئٹہ سے 120 کلومیٹر کی مسافت پر واقعہ ضلع ہرنائی 1 لاکھ 27 ہزار کی آبادی پر مشتمل ہے اور یہاں سیکڑوں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔

جس کان میں دھماکہ ہو ا وہ زردالو نام کے گاؤں میں ہے اور اس کی ملکیت نجی ہے۔

ریسکیو آپریشن 12 گھنٹے تک جاری رہا۔

چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ بتاتے ہیں کہ مشترکہ آپریشن کے دوران آٹھ افراد کو زندہ بچالیا گیا جبکہ 12 مزدوروں کی لاشیں نکالی گئیں۔

"گیس بھر جانے کے بعد دھماکے سے کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا جس سے 10 کان کن پھنس گئے۔ انہیں ریسکیو کرنے کے لیے 10 مزید کان کن اندر گئے تو وہ بھی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے"۔

عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ کان کا حصہ بیٹھ جانے کے بعد گیس بھی کافی مقدار میں جمع ہو گئی تھی۔

"پہلے گیس خارج کرنے کے لیے ایگزاسٹ پنکھو ں کی مدد لی گئی جس کے بعد ریسکیو کے لیے ٹیمیں اندر گئیں۔ اس وقت صرف آٹھ مزدور ہی زندہ تھے"۔ 

ڈپٹی کمشنر ہرنائی جاوید ڈومکی کے مطابق زندہ بچنے والے کان کنوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہیں طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔

"مرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق ضلع پشین سے ہے۔ دو لاشیں ان افراد کی ہیں جو ریسکیو کے لیے کان کے اندر گئے تھے"۔

رفیع اللہ کوئلے کی اسی کان میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد جب ریسکیو ٹیمیں وقت پر نہ پہنچیں تو ساتھی کان کنوں نے خود ہی اپنے ساتھیوں کو بچانے  کا فیصلہ کیا۔

"وہ بغیر سازو سامان کے کان میں اتر گئے۔ گیس ماسک تو میسر نہیں تھے، انہوں ںے منہ پر صرف کپڑے لپیٹ رکھے تھے۔ انہیں معلوم بھی نہیں ہوا کب گیس ان کے حواس پر حاوی ہو گئی"۔

وہ کہتے ہیں یہ پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی ریسکیو ٹیموں کے وقت پر نہ پہنچنے کے باعث ساتھی کان کن اپنی مدد آپ کے تحت خطرناک ریسکیو آپریشن انجام دیتے رہے ہیں جس میں اکثر کچھ کی موت بھی ہوئی ہے۔

ایچ آر سی پی کے سابق وائس چیئرمین طاہر حبیب کے مطابق بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں حادثات کی صورت میں مزدوروں کو بچانے کرنے کے لیے بنیادی سامان مسیر نہیں ہوتا ہے ان میں ابتدائی طبی امداد، گیس سے محفوظ رکھنے والے ماسک شامل ہیں جو وہاں موجود ہونے چاہیں، تاہم کان مالکان اخراجات کم کرنے کے لیے بنیادی آلات تک فراہم نہیں کرتے جو سنگین جرم ہے۔

"مائنز ڈیپارٹمنٹ کے انسپکٹروں  کی تعداد انتہائی کم ہونے اور غیر سنجیدگی کے باعث ان کان کے ٹھیکیداروں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ صرف حادثات کی صورت میں وقتی طور پر کان کو سیل کر دیا جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد بغیر کسی کاروائی کے واپس کھولنے کی اجازت دے دی جاتی ہے"۔

چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی نے بتایا کہ کان کو سیل کر دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحققیات کی جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2023ء میں بلوچستان میں کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں 68 کان کنوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

بلوچستان میں کوئلہ کان کنی کو سب سے بڑی صنعت تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری لالا سلطان کے مطابق بلوچستان بھر میں اس وقت تین ہزار 800 سے زائد کوئلہ کانیں ہیں جن میں ایک لاکھ سے زائد مزدور ہر سال ایک کروڑ ٹن سے زائد کوئلہ نکالتے ہیں۔ ان کے بقول یہ مقدار  پاکستان بھر میں سالانہ بنیاد پر نکالے جانے والے کوئلے کا 50 فیصد ہے۔

محکمہ معدنیات بلوچستان کے ریکارڈ کے مطابق لورالائی، دکی، بولان اور زیارت سمیت بلوچستان کے سات اضلاع میں مجموعی طور پر 268 ملین ٹن سے زائد کوئلہ موجود ہے۔

عبدالغنی بتاتے ہیں کہ  تقریباً تین ہزار کے قریب فعال کانوں میں 60 ہزار سے زائد کان کن کام کر رہے ہیں۔

لالا سلطان کے مطابق کوئلہ کانوں میں سب سے زیادہ حادثات بلوچستان میں ہوتے ہیں۔ “ہمارے ڈیٹا کے مطابق 2022ء میں پاکستان بھر میں 152 کول مائنز مزدور کان کے اندر حادثات میں جان بحق ہوئے جس میں سب سے زیادہ تعداد یعنی 89 بلوچستان کے کان کنوں کی تھی۔ بتیس خیبرپختونخوا، 19پنجاب اور 12 کان کن صوبہ سندھ کے کانوں میں میں موت کے منہ میں چلے گئے۔

عبدالغنی بلوچ  کہتے ہیں کہ مرنے والے مزدوروں کی تعداد ہمیشہ زیادہ بتائی جاتی ہے۔ تاہم وہ تصدیق کرتے ہیں کہ گزشتہ سال کے پانچ مہینوں میں بلوچستان کے کوئلہ کانوں میں 18 حادثات ہوئے جن میں 24 کان کنوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

کان کنوں کی فلاح کے لیے بلوچستان میں اب بھی 1923ء کا مائن ایکٹ کام کر رہا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت کام کے دوران کسی حادثے میں مرنے والے مزدور کے خاندان کو مالک اور ٹھیکدار پانچ سے آٹھ لاکھ اور حکومت تین سے پانچ لاکھ معاوضہ دینے کی پابند ہے۔
کئی واقعات میں یہ معاوضہ بھی ادا نہیں کیا جاتا۔

ہیومین رائٹس کمیشن نے 2022ء میں بلوچستان کے کول مائنز میں ہونے والے حادثات کے تناظر میں اپنی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کان کنی کے قدیم طریقے، پرانی ٹیکنالوجی اور ناکافی حفاظتی آلات کے استعمال سے کوئلے کے کان کنوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کان کنوں کی حفاظت کے لیے دنیا کی سطح پر مزدوروں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور خاص کر کان کنوں کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

حکومت بلوچستان کی طرف سے کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے کمشنر مائنز انور جان مندوخیل کا کہنا ہے کہ حکومت ہر سال 60 لاکھ روپے کا فنڈ مزدوروں کی صحت اور بنیادی طبی امداد کے لیے خرچ کرتی ہے۔

“ہم نےمزدوروں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے  لیے نرسز، ڈاکٹرز اور استادوں پر مشتمل ڈیڑھ سو افراد کا عملہ تعینات کیا ہے جو مختلف اضلاع میں پچیس ڈسپینسریز، مارواڑ میں 25 بیڈ کے ہسپتال میں اور مچھ میں ایک بی ایچ او  میں کام کرتے ہیں"۔

کان کن خود قصور وار ہیں: مالکان

ہرنائی کی ایک نجی کان کے مالک سیف اللہ ترین کہتے ہیں “زیادہ تر وقت کان کے اندر کام کرنے والے مزدور چونکہ گھنٹوں اندر رہتے ہیں تو چائے وغیرہ بنانے اور یا پھر سگریٹ پینے کے لیے لائٹر جلا لیتے ہیں جس کے باعث کان میں موجود گیس کا دھماکہ ہوجاتا ہے اور مالی اور جانی نقصان ہو جاتا ہے"۔

سیف ترین کہتے ہیں اگر چہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے کان کنوں کو بنیادی حفاظتی سامان (ہیلمٹ، ماسک وغیرہ) فراہم کرتے ہیں مگر حکومت کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کو تربیت دینے کا بندوبست کرے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'ہاتھ پاؤں سلامت ہیں تو کان کن قیمتی، معذور ہو جائے تو کوئی پوچھتا بھی نہیں'

" کان کنوں میں یہ شعور آ جائے کہ  کھدائی کے وقت حادثات سے بچاؤ کے لیے کون سے کاموں سے اجتناب کرنا ہے تو حادثوں کی تعداد میں بھی کمی آسکتی ہے"۔

مگر ایچ آر سی پی بلوچستان کے سابق وائس چیئرمین طاہر حبیب، سیف ترین کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ بیشتر حادثات گیسیں جمع ہونے کے بعد دم گھٹنے اور دھماکے سے ہوتے ہیں۔ کوئلہ باہر لانے کے لیے استعمال ہونے والی ٹرالی بھی حادثات کا باعث بنتی ہے۔ کمزور رسی ٹوٹنے سے  ٹرالی تیزی سے نیچے کی طرف جاتی ہے اور کام کرنے والے کان کنوں کو کچلتی ہے اور یا پھر کسی چٹھان سے ٹکرا جاتی ہے۔ جس سے اس میں سوار مزدور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

"اس میں سارا قصور کان مالک اور ٹھیکیدار کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ کھدائی کے لیے کرانے والے دھماکوں، ٹرالی کو کھینچنے والی رسیوں کی فراہمی اور دیگر حفاظتی انتظامات کے ذمہ دار ہوتے ہیں"۔

وہ کہتے ہیں کہ انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً کانوں میں حادثات سے بچنے کے لیے ان کی جانچ پڑتال کرتے رہیں۔

تاریخ اشاعت 21 مارچ 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عاصم احمد کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2015 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔وہ ہیومن رائیٹس، ماحولیات، اکانومی اور انتہاپسندی پر رپورٹ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.