English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بیراجی علاقوں سے تھر کی چراہگاہوں کی جانب الٹی نقل مکانی: مویشیوں کی موسمی ہجرت کا روایتی پیٹرن کیوں تبدیل ہو رہا ہے؟

سترام سانگی

postImg

بیراجی علاقوں سے تھر کی چراہگاہوں کی جانب الٹی نقل مکانی: مویشیوں کی موسمی ہجرت کا روایتی پیٹرن کیوں تبدیل ہو رہا ہے؟

سترام سانگی

گذشتہ مون سون میں اچھی بارشیں ہونے پر سومار جے پال بہت خوش تھے لیکن ان کی خوشی کچھ زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوئی۔

سومار تھرپارکر کی تحصیل ڈیپلو کے گاؤں چڑھیل سے ہیں۔ مال مویشی پالنا ان کا آبائی پیشہ اور گزر بسر کا واحد ذریعہ ہیں۔ وہ صحرائے تھر کی کھلی چراگاہوں میں گھوم پھر کر اپنے مویشی چراتے ہیں۔ ان چراگاہوں کی زمین کسی کی ملکیت نہیں۔ موسم ساز گار ہو تو یہاں سبزہ اچھا اور وافر ہوتا ہے اور سومار اور ان کے مویشی خوش رہتے ہیں۔

تھر میں بارشوں کے موسم میں گوار، مونگ، تربوز اور ٹنڈوں سمیت دیگر کئی سبزیاں اگائی جاتی ہیں اور ان کے بچے کھچے ہرے حصے بھی جانوروں کے چارے کے طور پر کام آتے ہیں۔

لیکن صحرائے تھر میں سردیوں کے اختتام سے لے کر برسات کی آمد تک کے چھ سات ماہ سبزہ ناپید ہو جاتا ہے۔

سومار نے بتایا: "بارشوں کا پانی کچھ دن ہی ترایوں (قدرتی تالابوں) میں میسر رہتا ہے اور کچھ عرصے بعد جب کنووں کا پانی بھی نیچے چلا جاتا ہے تو ہمیں نقل مکانی کرنا پڑتی ہے"۔

 سومار دو ماہ قبل اپنے مویشیوں کو لے کر اپنے گاؤں سے ایک سو کلومیٹر دور ضلع بدین کی جانب نقل مکانی کر گئے تھے۔ انہوں نے مورجھر نامی بیراجی علاقے کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ انہوں نے رہنے کے لیے لکڑیوں اور گھاس پھوس سے عارضی ٹھکانہ تعمیر کر لیا جسے لانڈھی کہا جاتا ہے اور وہیں اپنی تھری نسل کی بیس گائیوں کا باڑا بھی بنا لیا۔

بیراجی یعنی بیراج کے قریبی علاقے میں نہری پانی سے کاشتکاری ہوتی ہے۔ ضلع بدین میں شادی لارج سے لیکر گولاڑچی اور کڈھن سے ماتلی تک تمام اراضی کوٹری بیراج کے پانی پر انحصار کرتی ہیں۔

سومار بتاتے ہیں کہ یہاں حال ہی میں دھان کی فصل کی کٹائی ہوئی ہے اس لئے خشک چارہ  دستیاب ہے۔ درختوں کی شاخیں ہری بھری ہیں اور نالیوں (واٹرکورس نمبر 41 - ایل اور 42 - ایل) میں کچھ پانی بھی موجود ہے۔ "ضرورت پڑنے پر قریبی شہر گولاڑچی اور بدین سے خشک چارہ، ہری اور سوکھی گھاس بھی مل جاتی ہے"۔

سومار اکیلے نہیں جو اپنے گاؤں سے یہاں پہنچے ہیں۔ تھر کے تمام ہی باڑے اس وقت خالی ہیں۔ جوں ہی سبزہ ختم ہوتا ہے مال دار (مویشی پالنے والے) سبزے اور پانی کی راہ ڈھونڈتے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اُن دنوں کراچی، اسلام کوٹ تھرکول روڈ کے دونوں اطراف مویشیوں کے بڑے بڑے قافلے رواں دواں دکھائی دیتے ہیں۔

ایک مقامی این جی او فاسٹ رورل ڈیویلپمینٹ  پروگرام  کی تھر کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق خشک موسم میں یہاں کے تقریباً  96.4  فیصد بڑے مویشی بیراجی علاقوں میں منتقل کر دیئے جاتے ہیں۔

تھر میں سالانہ اوسطاً 56 ملی میٹر  بارش ہوتی ہے لیکن پچھلی برسات میں 193 ملی میٹر بارش برسی۔ جس سے نہ صرف فصلیں اچھی ہوئیں بلکہ چراگاہیں بھی سبزے سے لہلہا گئیں۔

سومار سوچتے تھے کہ شاید اس بار تادیر چارہ مہیا رہے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ سبزے کے موسم میں تھر کی چراگاہوں میں اب صرف تھری ہی اپنے مویشی نہیں چراتے بلکہ بیراجی علاقوں کے مال دار بھی اپنے مویشی چرانے یہاں آ جاتے ہیں۔

تھری مال داروں کی خشک موسم میں بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی تو صدیوں سے جاری ہے اور یہ ان کے رہن سہن میں معمول کا درجہ رکھتی ہے لیکن ہریالی کے موسم میں بیراجی علاقوں سے تھر کی جانب الٹی نقل مکانی گذشتہ چند سالوں میں ہی دیکھنے میں آئی ہے اور پانی اور سبزے کی دستیابی میں کسی ممکنہ بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

ناتھو خاصخیلی اور مور خاصخیلی ان مال داروں میں سے جو اب یہ الٹی نقل مکانی کرتے ہیں۔ ان کے پاس  سندھی نسل کی 30 گائیں ہیں۔ وہ ضلع بدین میں رہتے ہیں اور جب تھر میں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو وہ اپنا گاؤں چھوڑ کر تھر میں بسیرا کر لیتے ہیں۔

ناتھو بتاتے ہیں کہ اس موسم میں ان کے علاقے میں ہر طرف پانی کھڑا ہو جاتا ہے جس سے گھاس کی قلت ہو جاتی ہے اور مچھروں اور حشرات کی بہتات۔ مویشی بیمار ہو کر مرنے لگتے ہیں۔دوسری جانب تھر ہرا بھرا ہوتا ہے اور یہاں گندگی اور کیچڑ وغیرہ بھی نہیں ہوتی۔اس لیے ہم بھی تھری لوگوں کی طرح نقل مکانی کر کے اپنے بیراجی علاقے سے تھر چلے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تھر میں سبزہ تین سے چار مہینے رہتا ہے اور اس دوران وہ وہیں قیام کرتے ہیں۔

<p>تھر میں آباد افراد کی زندگی مویشیوں کے گرد گھومتی ہے<br></p>

تھر میں آباد افراد کی زندگی مویشیوں کے گرد گھومتی ہے

تھر کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سال تھرپارکر میں بدین، میرپورخاص اور عمرکوٹ اضلاع کے بیراجی علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں مویشی  تھر لائے گئے۔ جس کی وجہ سے یہاں گھاس وافر ہونے کے باوجود وقت سے پہلے ختم ہو گئی اور تھر کے مالداروں کو پہلے کی طرح ہی نقل مکانی کرنا پڑی۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع تھرپارکر میں آباد گھرانوں کی کل تعداد تین لاکھ اور کل آبادی ساڑھے سولہ لاکھ ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق ضلع میں ساڑھے 13 لاکھ گائیں، ساڑھے 48 لاکھ بھیڑ بکریاں اور ڈیڑھ لاکھ اونٹ ہیں۔

گویا یہاں اوسطاً ہر گھرانے کے پاس چار سے زائد گائیں اور 16 بھیڑ بکریاں ہیں۔

ضلع میں آباد افراد کی زندگی انہی مویشیوں کے گرد گھومتی ہے۔

سومار جے پال کے بیٹے ہریش کمار کی شادی پچھلے سال ہی ہوئی تھی۔ وہ اس بار ابھی تک اپنے والد کے ساتھ بیراجی علاقے میں نہیں گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ خشک موسم میں وہ اکثر اپنا کوئی مویشی بیچ کر گزارہ کرتے ہیں لیکن اگر وہ تھر میں ہی رہیں تو چارے کی کمی سے جانور کمزور اور کم وزن ہو جاتے ہیں۔ "جو بکرا 15 ہزار میں بکتا ہے وہ 10 ہزار پہ آ جاتا ہے۔ گائے کے دام بھی گر جاتے ہیں اور ڈیڑھ، پونے دو لاکھ میں فروخت ہونے والی گائے کی قیمت 20، 30 ہزار تک کم ہو جاتی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں

postImg

دادو میں سیلاب سے بچ جانے والے ہزاروں مویشی علاج معالجے کی عدم دستیابی، آلودہ پانی اور خوراک کی قلت سے ہلاک ہو رہے ہیں

نقل مکانی سے گائیں تو بچ جاتی ہیں لیکن گھرانہ روازنہ کے وافر دودھ، دھی اور مکھن سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ان کا مکمل انحصار اپنی بھیڑ بکریوں پر ہوتا ہے جن کی چارے کی ضرورت محدود ہوتی ہے اور اسی لیے ان کو موسمی ہجرت کے عمل سے نہیں گزارنا پڑتا۔

ہریش کی اہلیہ شانتی بائی دیگر کام کاج کے علاوہ اپنے گھرانے کی نو بکریوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھیت تو اب خالی پڑے ہیں، اس لیے وہاں کوئی کام نہیں اور مویشی بھی بیراجی علاقے جا چکے ہیں لیکن اب یہاں پانی کی قلت ہے اور اس کا خمیازہ بھی وہی بھگتتی ہیں۔

"گاؤں کے نلکے میں اب پانی کھارا آتا ہے جو پینے لائق نہیں ہے۔ اس سے صرف برتن، کپڑے دھوئے جا سکتے ہیں۔ میٹھے پانی کے لیے صبح سویرے اٹھنا پڑتا ہے تاکہ تین کلومیٹر دور کنویں پر جلد پہنچ سکوں، وہاں پانچ پانچ گھنٹے قطار میں انتظار کرنا پڑتا ہے"۔

تاریخ اشاعت 2 فروری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سترام سانگی حیدرآباد میں مقیم ایک ماحولیاتی صحافی ہیں، وہ بنیادی طور پر پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی، جنگلی حیات اور پسماندہ کمیونٹیز پر لکھتے ہیں۔ وہ پندرہ سال سے پرنٹ میڈیا سے منسلک ہیں۔

جڑانوالہ واقعہ کے بعد مسیحی اب تک خوفزدہ کیوں ہیں؟