بلوچستان میں انتخابی مہم پر حملے: حساس پولنگ سٹیشنوں پر بھاری سکیورٹی تعینات، ہسپتالوں میں ایمرجنسی

postImg

عزیز الرحمن صباؤن

postImg

بلوچستان میں انتخابی مہم پر حملے: حساس پولنگ سٹیشنوں پر بھاری سکیورٹی تعینات، ہسپتالوں میں ایمرجنسی

عزیز الرحمن صباؤن

منگل 30 جنوری کو سبی میں تحریک انصاف کی ریلی جناح روڈ سے گذر رہی تھی کہ خوفناک بم دھماکہ ہوا جس میں چار افراد جاں بحق اور پانچ شدید زخمی ہو گئے۔

تحریک انصاف کے صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عالم خان کاکڑ بتاتے ہیں کہ سبی دھماکے میں جاں بحق تین افراد محمد رفیق، حماد اور زاہد ان کی پارٹی کے کارکن تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریلی سے پہلے ان کے امیدوار صدام ترین نے سیکورٹی کے لیے انتظانیہ کو خط بھی لکھا تھا۔

اگلے روز بدھ کو کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے سریاب الیکشن آفس پر دستی بم حملہ کیا گیا جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے تاہم  پی پی رہنما اور امیدوار علی مدد جتک بال بال بچ گئے۔ اسی دوران کیچ کے علاقے بلیدہ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ظہور بلیدی کے گھر پر دو دستی بم پھینکے گئے تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 آٹھ فروری کو بلوچستان کے 36 اضلاع میں قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر انتخابات ہوں گے جس کے لیے نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

صوبے میں 20 جنوری کے بعد میں اب تک تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے امیدواروں، دفاتر اور سیاسی سرگرمیوں كو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انتخابی عملے اور الیکشن کمیشن کے ریجنل دفتر پر بھی حملے كیے گئے ہیں۔

بلوچستان میں اس بار عام انتخابات میں 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے تاہم کچھ علاقوں امن و امان کے حوالے سے ووٹرز کو تحفظات ہو سکتے ہیں جس کا اثر براہ راست ٹرن آؤٹ پر پڑتا ہے جیسا کہ آواران میں 2013ء میں تشدد اور کالعدم مسلح تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث ٹرن آؤٹ دو فیصد سے بھی کم رہا تھا۔

 گزشتہ ماہ یعنی 10 جنوری كو تربت میں ن لیگ کے امیدوار قومی اسمبلی، سینیٹر اسلم بلیدی کو نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔اس سے ایک روز قبل كوئٹہ میں جے یو آئی نظریاتی كے مركزی رہنما قاری مہر اللہ پر حملے كی كوشش كی گئی تھی۔

 پانچ روز بعد 15 جنوری کو ضلع خاران میں پریزائنڈنگ افسران کو تربیتی اجلاس کے دوران دستی بم کا نشانہ بنایا گیا۔

اس صورت حال پر اٹھارہ جنوری كو پنجگور، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور مستونگ کے ڈپٹی کمشنروں نے علاقے میں ممکنہ دہشت گردی کے خدشے سے متعلق سکیورٹی ایڈوائزری بھی جاری كی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کی گہما گہمی کے دوران دہشت گرد امیدواروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس لیے سیاسی جماعتیں اور امیدوار کھلی جگہوں پر اجتماعات کے انعقاد سے گریز کریں۔

اسی دوران 20 جنوری كو تربت کے علاقے دشت کھڈان میں مسلح افراد نے اور سابق وزیر لالہ رشید اور سینیٹر کہدہ اکرم دشتی نیشنل پارٹی کے امیدوار کے قافلے پر فائرنگ کر دی۔ تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔

ایک روز بعد ہی 21 جنوری کو مستونگ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نور احمد بنگلزئی کے انتخابی دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا ۔ اسی دوران خاران شہر میں بھی پی پی امیدوار نورالدین نوشیروانی کے گھر کے قریب دھماکہ ہوا تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پچیس جنوری كو تربت میں نامعلوم حملہ آور الیکشن کمیشن کے ریجنل آفس میں داخل ہوئے جہاں دو طرفہ فائرنگ میں ایک پولیس اہلکارکی جان چلی گئی۔ اسی شب ضلع سوراب میں دو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کی جس میں جے یو آئی كے ضلعی رہنما اور کونسلر حاجی عبد الحمید مینگل جاں بحق ہو گئے۔

دو روز بعد 27 جنوری كو خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی كی انتخابی كارنر میٹینگ كو دستی بم كا نشانہ بنایا جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔
 
کالعدم علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے اتحاد 'براس'( بلوچ راجی اجوروئی سنگر) نے 21 دسمبر کو نامعلوم مقام سےایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچ آئندہ انتخابات کا حصہ نہ بنیں۔
 
 عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق جولائی 2020ء میں پاکستان میں چین کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے براس نامی اتحاد بنایا گیا تھا جس میں اللہ نذر بلوچ کی بی ایل ایف، بشیر زیب کی بی ایل اے، گلزار امام کی بی آر  اے اور بختیار ڈومکی کی بی آر جی نامی کالعدم تنظیموں کے نام آئے تھے۔ سندھ کے ایک ایس آر  اے نامی کالعدم مسلح گروپ نے بھی اس میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

كالعدم بلوچ تنظیموں كے علاوہ شدت پسند گروہ داعش ( اسلامی ریاست خراسان ) نے بھی بلوچستان بھر میں انتخابات کو حرام قرار دے كر نشانہ بنانے كی دھمكی دی تھی۔ ان کے برعکس کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنے اعلامیے میں کہا تھا کہ وہ كسی انتخابی سرگرمی كو نشانہ بنانے كا ارادہ نہیں ركھتے۔
 
 رواں سال کے آغاز (آٹھ جنوری) میں كالعدم بی ایل ایف ایک سوشل میڈیا سائٹ پر بلوچوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے كی "ہدایت" دیتی نظر آئی تھی۔ اس کے علاوہ کالعدم تنظیم بی ایس او آزاد بھی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا پر چار کر رہی ہے جس کے لیے ایک کتابچہ بھی سامنے آیا ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں بھی انتخابی مہم کے دوران آوران، تربت، خاران اور حب میں نیشنل پارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے انتخابی کیمپوں کو حملوں كا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم صوبے میں ٹرن آوٹ 45.3 فیصد رہا تھا بجبکہ صوبائی حلقہ آواران کم پنجگور میں ٹرن آؤٹ کی شرح 34.28 فیصد تھی۔

تاہم 2013ء میں اس وقت کے یورپی آبزرور مشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ تشدد کے باعث ضلع آواران کے صوبائی حلقے میں 57 ہزار 666 ووٹوں میں سے صرف 672 کاسٹ ہوئے تھے یعنی ٹوٹل ٹرن آؤٹ 1.18 فیصد تھا۔ ان کاسٹ ہونے والے ووٹوں میں سے عبدالقدوس بزنجو 544 ووٹ لے کر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے جو بعد ازاں وزیر اعلیٰ بھی بنے۔

عام انتخات 2024ء میں آواران میں 92  ہزار 104 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

 تاہم اب کی بار الیکشن کمشنر بلوچستان اعجاز انور چوہان پرعزم ہیں کہ الیکشن کمیشن سکیورٹی سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری کرے گا اور ضرورت پڑی تو دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ فوج کی خدمات بھی لی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

بلوچستان کے پشتون بیلٹ کا سیاسی منظر نامہ اچکزئی کو جے یو آئی سے "ایڈجسٹمنٹ" کیوں کرنا پڑی؟

ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں پانچ ہزار 28 پولنگ سٹیشنز قائم کئے جا رہے ہیں جن میں ایک ہزار 511 مردوں اور ایک ہزار 317 خواتین كے لیے مختص ہوں گے۔ دو ہزار 200 پولنگ سٹیشنز مشتركہ ہوں گے۔
نگراں صوبائی وزیر داخلہ میر زبیر جمالی بتاتے ہیں بلوچستان کےدو ہزار 58 پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس اور دو ہزار 180 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان کی سکیورٹی کے لیے موثر پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔ انتہائی حساس پولنگ سٹیشن پر ایک کمانڈر اور آٹھ اہلکار جبکہ حساس پولنگ پر ایک کمانڈر اور چھ اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کوئیک ریسپانس کے لیے ٹیمیں 'سٹینڈ بائی ' ہوں گی۔

چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان كے مطابق حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشنوں پر آٹھ ہزار سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

 سیکرٹری صحت مجیب الرحمن قمبرانی بتاتے ہیں كہ عام انتخابات کے دوران بلوچستان کے تمام ہسپتالوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں ٹراما سنٹر' فوکل پوائنٹ' ہو گا اور سرکاری کے ساتھ نجی ہسپتالوں کو بھی فعال رہنے كے احكامات كیے گئے ہیں۔

نگران وزیر اطلاعات جان اچكزئی کا کہنا ہے كہ بلوچستان بھر میں پرامن انتخابات کے لیےحکومت پوری تیاری كر رہی ہے جس کے لیے زیادہ تر صوبائی وسائل پر انحصار کیا جائے گا۔
 "ہم لیویز اور نئے بھرتی ہونے والے سكیورٹی اہلكاروں كے ساتھ ریٹائرڈ پولیس افسران كو بھی انتخابات سے متعلق تربیت دے رہے ہیں۔"

دہشت گرد حملوں كا حساب ركھنے والی بین الاقوامی تنظیم ' ساوتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل' کے مطابق 2023ء میں بلوچستان میں 169 حملے ہوئے تھے جن میں 160 سویلینز، 186 سیكورٹی اہلكار اور مسلح تنظیموں كے 125 افراد سمیت 471  افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
   

تاریخ اشاعت 2 فروری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عزیز الرحمن صباؤن میڈیا سٹڈیز میں ماسٹر کرنے کے بعد پچھلے چار سالوں سے میڈیا سے وابسطہ ہیں۔ ہیومن رائٹس،ریفیوجی اور بلوچستان میں مسلح تنیظیمیں ان کی دلچسپی کے موضوع ہیں۔

thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.