انتظامی غفلت یا مذہبی تعصب: نادرا ریکارڈ میں مسیحیوں کے مذہب کی تبدیلی کی کیا وجوہات ہیں؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

انتظامی غفلت یا مذہبی تعصب: نادرا ریکارڈ میں مسیحیوں کے مذہب کی تبدیلی کی کیا وجوہات ہیں؟

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

انتظامی غفلت یا مذہبی تعصب: نادرا ریکارڈ میں مسیحیوں کے مذہب کی تبدیلی کی کیا وجوہات ہیں؟

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

ستمبر 2020 میں لاہور کے رہنے والے 42 سالہ سرفراز اپنے معمول کے مطابق ٹھوکر نیاز بیگ نامی علاقے میں واقع اپنے گھر سے کام کی تلاش میں نکلے۔ کچھ دیر بعد جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر سوار کینٹ کے علاقے میں ایک چیک پوسٹ سے گزر رہے تھے تو ایک سکیورٹی اہلکار نے ان سے شناختی کاغذات طلب کر لیے۔

سرفراز نے اپنے بوسیدہ بٹوے میں سے اپنا قومی شناختی کارڈ نکالا اور اہلکار کو تھما دیا جس نے اسے غور سے دیکھا اور اس پر لکھا ہوا ان کا نام بلند آواز میں پڑھا:"محمد سرفراز"۔

یہ نام سن کر سرفراز چونکے ضرور لیکن کچھ بولے نہیں۔ انہوں نے خاموشی سے شناختی کارڈ واپس لیا اور چل دیے۔

چیک پوسٹ سے کچھ آگے جا کر انہوں نے موٹر سائیکل سڑک کے کنارے کھڑی کی اور غور سے اپنا شناختی کارڈ دیکھنے لگ گئے۔ وہ پڑھنا نہیں جانتے اس لئے انہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اس کے چمکیلے کاغذ پر ان کا نام کیسے لکھا ہوا ہے۔

چنانچہ انہوں نے پاس سے گزرنے والے ایک شخص سے درخواست کی کہ وہ انہیں اس پر لکھے کوائف پڑھ کر سنائے۔ اس نے بھی انہیں بتایا کہ اس پر ان کا نام محمد سرفراز کے طور پر درج ہے۔

وہ ایک کیتھولک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے ہیں اور جہاں تک انہیں معلوم ہے ان کے آبا میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ اس لیے وہ پریشان ہو گئے کہ ان کے نام کے ساتھ محمد جیسا واضح طور پر مسلمان نام آخر کیسے لکھا گیا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے شناختی کارڈ پر ان کے دستخط میں بھی محمد کا لفظ واضح طور پر موجود ہے (جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ نادرا کے ایک اہل کار نے ان کا ہاتھ پکڑ کر یہ دستخط کرائے تھے لیکن ان پڑھ ہونے کی وجہ سے انہیں پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں)-

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے وہ گارڈن ٹاؤن کے علاقے میں واقع نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفتر چلے گئے جہاں سے انہوں نے چند ماہ قبل اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کروائی تھی۔ لیکن وہاں موجود عملے نے انہیں لاہور کے ایک دوسرے علاقے، گڑھی شاہو، میں واقع نادرا کے ایک بڑے دفتر میں جانے کو کہا۔

جب سرفراز اُس دفتر میں پہنچے تو استقبالیہ پر موجود خاتون نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیا شکایت ہے۔ انہوں نے جواباً کہا کہ ان کے شناختی کارڈ پر ان کا نام غلط لکھا گیا ہے۔ جس پر خاتون نے انہیں تسلی دی کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ شناختی کارڈ بنواتے وقت بہت سے لوگوں کے کوائف میں غلطیاں ہو جاتی ہیں جنہیں بعد میں آسانی سے درست کرایا جا سکتا ہے۔ لیکن جب سرفراز نے انہیں بتایا کہ وہ اپنے نام سے 'محمد'  کا لفظ ہٹانا چاہتے ہیں تو وہ گھبرا گئیں۔

انہیں پریشان دیکھ کر سرفراز نے انہیں سمجھایا کہ اُن کا تعلق مسیحی مذہب سے ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے شناختی کارڈ پر ان کا نام ان کے عقیدے کے مطابق ہو۔ یہ سن کر انہوں نے سرفراز کو بتایا کہ ان کا مسئلہ نام کی تبدیلی نہیں بلکہ مذہب کی تبدیلی ہے جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔

تاہم سرفراز کو نام کی درستگی پر اصرار کرتا دیکھ کر خاتون نے انہیں دفتر کے ایک اعلیٰ افسر کے پاس بھیج دیا جس نے ان کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور انھیں بتایا کہ اس میں ان کا پورا خاندان مسلمان دکھایا گیا ہے۔ اس افسر نے انہیں یہ بھی بتایا کہ نادرا اپنے طور پر اس ریکارڈ کو درست نہیں کر سکتی بلکہ اس کی درستگی کے لیے انہیں عدالت سے رجوع کر کے وہاں ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ واقعی مسیحی ہیں۔

آخری فیصلہ عدالت کے ہاتھ میں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 18-2017 میں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ایسے تمام لوگوں کی فہرستیں مرتب کرے جن کا تعلق احمدی مذہب سے ہے۔ انہوں نے حکومت کو احمدیوں کی بیرونِ ملک آمدورفت کا بھی باقاعدہ ریکارڈ ترتیب دینے کی ہدایت کی۔

جسٹس صدیقی نے اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تبدیلیِ مذہب کے حوالے سے "نادرا نے چونکا دینے والی معلومات پیش کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں 10 ہزار سے زائد لوگوں نے اپنا مذہب اسلام سے بدل کر قادیانیت کر لیا ہے"۔

ان معلومات کے مطابق ہزاروں پاکستانی مسلمانوں نے مسیحیت اور یہودیت سمیت کئی دوسرے مذاہب بھی اختیار کر لیے ہیں جبکہ اسی عرصے میں ہزاروں غیر مسلم پاکستانیوں نے اپنے مذاہب ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔

اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے جسٹس صدیقی نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اختیار کر لینا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے کوئی قاعدہ یا ضابطہ وضع نہیں کیا۔ لہٰذا انہوں نے نادرا کو ہدایت کی کہ وہ ایسے قواعد بنائے جن کے تحت مسلمانوں کے لیے اپنا مذہب تبدیل کرنا ممکن نہ ہو سکے۔

اس ہدایت کی روشنی میں نادرا نے دسمبر 2018 میں ایک نیا ضابطہ لاگو کیا جس کے تحت کوئی غیر مسلم تو نادرا کے سامنے ایک بیانِ حلفی اور دو لوگوں کی گواہی پیش کر کے اپنے آپ کو مسلمان قرار دے سکتا ہے لیکن کوئی مسلمان اپنا مذہب چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب میں داخل نہیں ہو سکتا۔

تاہم ایسے تمام غیر مسلم پاکستانی جن کا نادرا کے ریکارڈ میں غلطی سے مسلمان کے طور پر اندراج ہوگیا ہے اس ضابطے کے تحت عدالت میں اپنی مذہبی شناخت ثابت کر کے ریکارڈ کی تصحیح کا حکم جاری کرا سکتے ہیں۔

اسی طرح کے عدالتی حکم کے حصول کے لیے سرفراز نے 18 ستمبر 2020 کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست پیش کی۔ لیکن چونکہ عدالتی اہل کاروں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عدالتوں نے اپنے اوقاتِ کار محدود کر رکھے تھے اس لیے اس درخواست کی فوری سماعت ممکن نہ ہو سکی۔

ایک ماہ بعد جب اس کی سماعت شروع ہوئی تو سرفراز کو کہا گیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں گواہ پیش کریں۔ چنانچہ ان کے دو پڑوسیوں اور ان کے اپنے خاندان کے ایک فرد نے عدالت میں حلفاً بیان دیا کہ سرفراز پیدائش کے وقت سے ہی مسیحی ہیں۔

بعد کی سماعتوں میں سرفراز کو کہا گیا کہ وہ اپنے مسیحی ہونے کے دستاویزی ثبوت بھی پیش کریں۔ لہٰذا انہوں نے کیتھولک چرچ آف پاکستان کا لکھا ہوا ایک خط عدالت کو دکھایا جس میں ان کے مسیحی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

اپریل 2021 میں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ نادرا نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ انہوں نے کبھی اپنا مذہب تبدیل کیا ہے۔ لہٰذا انہیں مسیحی سمجھا اور لکھا جائے اور ان کا نام محمد سرفراز ولد محمد انور سے بدل کر سرفراز ولد انور کیا جائے۔

اس عدالتی حکم کو جاری ہوئے لگ بھگ پانچ ماہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک سرفراز کو تصحیح شدہ شناختی کارڈ نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے نادرا آفس جاتے رہتے ہیں لیکن ہر بار انہیں کوئی نہ کوئی نیا کاغذ پیش کرنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے وہ نادرا کے ریکارڈ میں اپنے چاروں بچوں کی پیدائش کا اندراج کرانے سے قاصر ہیں جبکہ اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے حال ہی میں ایک سکول نے ان کی بیٹی کو داخلہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

سرفراز شناختی کارڈ کی تصحیح پر اٹھنے والے اخراجات سے بھی پریشان ہیں۔ وہ محنت مزدوری سے روزانہ بمشکل نو سو روپے کما پاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب کبھی بھی انہیں عدالت یا نادرا کے دفتر جانا پڑتا ہے تو ان کی کافی رقم خرچ ہو جاتی ہے جس کے باعث انہیں اپنے گھریلو اخراجات چلانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

دانستہ تبدیلی یا نا دانستہ غلطی؟

کراچی کے جنوب مشرقی علاقے کورنگی ٹاؤن کی رہائشی 63 سالہ پروین اصغر بھٹی مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ فروری 2018 میں وہ اپنے قومی شناختی کارڈ کی تجدید کرانے گلشنِ اقبال میں واقع نادرا کے دفتر میں گئیں تو وہاں موجود عملے نے ایک فارم میں ان کے کوائف کا اندراج کر کے اس پر ان کا انگوٹھا لگوا لیا۔

اکیس دن بعد انہیں ان کا نیا شناختی کارڈ مِل گیا۔

چونکہ اس پر کہیں بھی پروین کا مذہب نہیں لکھا تھا اس لیے انہیں گمان بھی نہ گزرا کہ نادرا کے ریکارڈ میں ان کا مذہب مسیحیت سے تبدیل کر کے اسلام کر دیا گیا ہے۔ اس کا پتہ انہیں اگست 2020 میں اس وقت چلا جب ان کے 15 سالہ بیٹے نیتھن اصغر بھٹی کو میٹرک کا امتحان دینے کے لیے نادرا کے دفتر سے اپنا ڈومیسائل اور پیدائش کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے ضرورت پڑی۔

پروین کے بڑے بیٹے عامر اصغر بھٹی کہتے ہیں کہ انہیں بتائے بغیر ان کے خاندان کے مذہب میں کی جانے والی یہ تبدیلی ان کے لیے "بے حد تکلیف کا باعث ہے"۔ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ نادرا کے عملے نے ان کی بوڑھی، غیر تعلیم یافتہ اور جزوی طور پر بہری والدہ کو ان کے کوائف کے اندراج کے وقت آخر کیوں اس سے آگاہ نہیں کیا۔

انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ وہ پچھلے ایک سال سے اس تبدیلی کو درست کرانے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں لیکن وہاں "کوئی بھی ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں"۔

لاہور میں کام کرنے والے مسیحی وکلا اکمل بھٹی اور سمیرا شفیق کہتے ہیں کہ پروین جیسے کئی مسیحی لوگ اس قسم کے مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق نادرا سے متعلق مقدمات سننے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں قائم کی گئی تین عدالتوں میں اسی نوعیت کے سینکڑوں مقدمات زیرِ سماعت ہیں جبکہ کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں بھی ایسی عدالتیں بہت سے ایسے مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں۔

اکمل بھٹی اور سمیرا شفیق خود بھی بیسیوں ایسے مقدمات میں پیش ہو چکے ہیں جن میں مسیحی خاندانوں کے نادرا کے پاس موجود ریکارڈ میں ان کا مذہب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بوڑھے اور ناخواندہ لوگ نادرا کے دفاتر میں اپنے کوائف درج کراتے وقت ان کی پوری طرح جانچ نہیں کر پاتے۔

تاہم نادرا کے افسر تعلقاتِ عامہ فائق علی چاچڑ کہتے ہیں کہ اس اندراج کے وقت ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص کو ان کوائف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔ ان کے مطابق "اگرچہ یہ کوائف پڑھ کر سنانا نادرا کی قانونی ذمہ داری نہیں ہے لیکن اس کا عملہ عموماً ایسا کرتا ہے تا کہ غلطی کے امکان کو کم سے کم کیا جا سکے"۔

ان کے خیال میں غیر مسلموں کی مسلمانوں کے طور پر رجسٹریشن بھی بنیادی طور پر ایک انسانی غلطی ہے جسے بعض اوقات گہری چھان پھٹک کے باوجود بھی نہیں پکڑا جا سکتا۔ ان کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی غیر مسلموں کے نام مسلمانوں کے ناموں سے اس قدر ملتے جلتے ہیں کہ انہیں غلطی سے مسلمان سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ "اگر کسی کا نام میتھیو ہے یا اس کے نام میں مسیح کا لفظ لکھا ہوا ہے تو یہ نام تو واضح طور پر مسیحی ہے لیکن اگر کسی کا نام انور یا شہزاد ہو تو اُس سے غلط فہمی جنم لے سکتی ہے"۔

لیکن مسیحی وکلا کئی ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو واضح طور پر مسیحی نام رکھنے کے باوجود نادرا کے ریکارڈ میں مسلمان قرار دے دیے گئے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی مسیحی وکیل نادیہ حمید کہتی ہیں کہ ایسے واقعات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انسانی غلطی کو ان میں سے ہر ایک کا باعث قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بقول "ان میں سے کچھ میں ضرور نادرا کے عملے نے مذہبی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان بوجھ کر لوگوں کے مذہبی کوائف بدلے ہیں"۔  

تاریخ اشاعت 20 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔