خیبر پختونخوا میں بڑھتا ہوا مذہبی تعصب: 'اصل خطرہ اُن سے ہے جو قتل کے فتوے دیتے ہیں'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

خیبر پختونخوا میں بڑھتا ہوا مذہبی تعصب: 'اصل خطرہ اُن سے ہے جو قتل کے فتوے دیتے ہیں'

زاہد علی

postImg

خیبر پختونخوا میں بڑھتا ہوا مذہبی تعصب: 'اصل خطرہ اُن سے ہے جو قتل کے فتوے دیتے ہیں'

زاہد علی

پشاور کے رہائشی چھیاسی سالہ محبوب خان نومبر 2020 کے اوائل میں اپنی بیٹی سے ملنے شہر کے جنوبی مضافات میں واقع  اس کے گاؤں شیخ محمدی گئے۔ دو دن وہاں گزارنے کے بعد جب وہ گھر واپس آ رہے تھے تو انہیں قتل کر دیا گیا۔

وہ پشاور میں آباد چھوٹی سی احمدی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی موت سے کچھ لمحے قبل وہ اپنے ایک دوست سے ملے جس نے انہیں خبردار کیا کہ وہ اپنی نقل و حرکت میں احتیاط کریں کیونکہ پشاور اور اس کے ارد گرد گزشتہ چند مہینوں سے عدم برداشت اور مذہبی منافرت بڑھ رہی تھی۔
محبوب خان کے شیخ محمدی روانہ ہونے سے پہلے ان کے بیٹے نے بھی انہیں کہا تھا کہ حالات خراب ہیں اس لیے وہ ابھی اپنے شہر سے باہر نہ جائیں لیکن انکا خیال تھا کہ صورتِ حال ابھی اتنی خراب نہیں ہوئی کہ کوئی انہیں قتل ہی کر دے۔

ان کی ہلاکت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر سے شیخ محمدی بس سٹاپ کی طرف پیدل آ رہے تھے جب دو موٹر سائیکل سواروں نے انہیں سر میں گولی مار دی۔ 'گولی لگنے کے بعد تقریبا ایک گھنٹے تک وہ وہیں سڑک پر مردہ حالت میں پڑے رہے لیکن کسی نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ انکی لاش کو سڑک سے ہٹا ہی دے'۔

محبوب خان کے قتل کا مقدمہ بڈہ بیر پولیس سٹیشن میں نا معلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے لیکن ان کے بھائی کہتے ہیں کہ 'ہمیں اصل خطرہ ان لوگوں سے ہے جو احمدیوں کو قتل کرنے کے فتوے جاری کرتے ہیں'۔

پشاور سے احمدیوں کی نقل مکانی

پشاور اور اس کے مضافات میں مقیم بیشتر احمدی خاندان پچھلے کچھ ہفتوں میں چناب نگر منتقل ہو گئے ہیں جسے وہ ربوہ کے نام سے پکارتے ہیں۔

پشاور میں باقی رہ جانے والے چند احمدیوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ اِس نقل مکانی کی وجہ گزشتہ کچھ عرصے سے یہاں ان کے خلاف چلائی جانے والی نفرت بھری مہم اور انکے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔ صرف اسی سال اس شہر اور اس کے گرد و نواح میں محبوب خان کے علاوہ تین اور احمدی قتل کیے جا چکے ہیں۔  

ان میں گورنمنٹ سپیریئر سائنس کالج کے ستاون سالہ پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک بھی شامل ہیں جن کی کار کو نا معلوم افراد نے 6 اکتوبر کو روکا اور ان پر پانچ گولیاں چلائیں جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت سے ایک روز قبل ان کی کالج کے ایک استاد کے ساتھ 'کسی مذہبی مسئلے پر گرما گرم بحث ہوئی تھی'۔ جماعتِ احمدیہ کے ترجمان کے مطابق 'نعیم خٹک کو پہلے بھی دھمکیاں دی گئیں تھیں'۔

اس سے پہلے 12 اگست کو اکسٹھ سالہ معراج احمد کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ پشاور میں اپنی دکان بند کر رہے تھے جبکہ 29 جولائی کو ایک 19 سالہ نوجوان نے دماغی طور پر غیر متوازن ستاون سالہ طاہر احمد نسیم کو پشاور کی ایک عدالت کے کمرے میں قتل کردیا جہاں انہیں ان کے خلاف دائر توہینِ رسالت کے مقدمے میں پیش کیا گیا تھا۔محبوب خان کے بیٹے کے خیال میں احمدیوں کے خلاف پشاور اور اس کے مضافات میں بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک وجہ 'طاہر نسیم کا قتل ہے'۔ اس قتل کے بعد مقامی احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 'ڈاکٹروں کے نام اور پتے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر شائع کر دیے گئے اور ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ہر احمدی طاہر نسیم کی طرح نبی ہونے کے دعوے کر رہا ہے لہٰذا ان سب کو قتل کرنا مسلمانوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے'۔

پشاور میں رہنے والے ایک احمدی کے مطابق ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی '1974 میں احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ مردان اور ٹوپی میں قتل کئے گئے تھے۔ اسی طرح 1990 کی دہائی میں چارسدہ کی تحصیل شب قدر میں ہمارے لوگوں کو مارا گیا جبکہ 2010 میں ایک بار پھر مردان میں اسی قسم کے تشدد کے واقعات ہوئے'۔

ان حالات سے بچنے کے لئے، ان کے بقول، پاکستانی احمدی مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ 'وہ دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہو تے ہیں، شہروں سے بڑے شہروں میں آتے ہیں اور پھر بڑے شہروں سے بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں'۔

احمدیوں کی جائے پناہ

چناب نگر ضلع چنیوٹ میں دریائے چناب کے کنارے واقع ایک چھوٹا سے شہر ہے جس میں آباد 70 ہزار لوگوں میں سے تقریبا 90 فیصد احمدی ہیں۔

یہ شہر 1950 کی دہائی میں پاکستانی احمدی کمیونٹی کے صدر مقام کے طور پر وجود میں آیا۔ اس کا ابتدائی نام ربوہ رکھا گیا لیکن پنجاب اسمبلی نے 14 فروری 1999 کو متفقہ طور پر اس کا نام ربوہ سے تبدیل کر کے چناب نگر رکھ دیا۔

پچھلی چھ دہائیوں سے پاکستانی احمدی ملک کے مختلف حصوں سے نقل مکانی کر کے یہاں پر آ کر بستے رہے ہیں کیونکہ وہ یہاں خود کو نسبتا محفوظ تصور کرتے ہیں حالانکہ تشدد کے کچھ تاریخی واقعات اس شہر سے بھی منسلک ہیں۔ مثال کے طور پر 1974 میں یہاں مسلم طلبا اور احمدی کمیونٹی کے درمیان کم از کم دو بار ٹکراؤ ہوا جس میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اسی طرح 1989 میں پنجاب پولیس نے یہاں کی تمام احمدی آبادی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ یہاں کی مقامی عمارتوں اور قبروں پر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں حالانکہ پاکستانی قوانین احمدیوں کو اس طرح کے اسلامی شعائر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن پاکستان میں موجود احمدی آبادی در حقیقت طویل عرصے سے امتیازی قوانین کا سامنا کر رہی ہے جن کا آغاز 1974 میں آئینِ پاکستان میں کی گئی دوسری ترمیم سے ہوا جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 1980 کی دہائی میں کئی مزید قوانین بنائے گئے جن کی رو سے احمدی اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح کسی احمدی کا السلام علیکم کہہ کر کسی کو سلام کرنا یا اپنے عقیدے کی گواہی کے لیے کلمہ پڑھنا بھی ایک جرم ہے۔ انہیں اپنے پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات بناتے وقت واضح طور پر بتانا پڑتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اگر وہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جائیں تو انہیں تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت بھی اگر کوئی احمدی اپنے آپ کو سوشل یا الیکٹرانک میڈیا پر بطور مسلمان ظاہر کرتا ہے تو اسے جرمانے کے ساتھ ساتھ تین سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

جماعت احمدیہ کے شعبہ امور عامہ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کے مطابق اس طرح کی 'احمدی مخالف قانون سازی معاشرتی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے بہت سے ایسے مسلمان جو احمدیوں کے خلاف کسی منافرت کا حصہ نہیں بننا چاہتے وہ بھی ڈر کے مارے ان سے قطع تعلق کر لیتے ہیں'۔

ان رویوں سے جنم لینے والی عدم برداشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں 1984 سے لے کر 2020 تک 271 سے زیادہ احمدی قتل کیے جا چکے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں ان معاشرتی رویوں میں اور بھی شدت در آئی ہے۔ جس کی ایک وجہ سنی بریلوی تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کا ظہور ہے۔

یہ تحریک پہلی بار 2016 میں منظر عام پر آئی جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ ممتاز قادری نے اسلام آباد میں سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ سلمان تاثیر پر الزام تھا کہ وہ توہینِ رسالت کی ایک مبینہ ملزمہ آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے تھے اور توہینِ مذہب پر بنائے گئے قوانین میں ترامیم کرانا چاہتے تھے۔ تحریکِ لبیک پاکستان اس پورے سال ممتاز قادری کی رہائی کے لیے ملک بھر میں بڑے بڑے مظاہروں کا انعقاد کیا۔

گزشتہ چار برس میں اس تحریک نے متعدد مرتبہ احمدیوں کے خلاف بھی جلسوں اور مظاہروں کا انتظام کیا ہے۔ مثال کے طور پر 2017 میں جب پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی وفاقی حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017 کے ذریعے مسلم اور غیر مسلم انتخابی امیدواروں کے لیے ایک نیا حلف نامہ متعارف کروانا چاہا تو تحریکِ لبیک پاکستان نے اسکے خلاف بھرپور مظاہرے کیے اور اسلام آباد کو راولپنڈی سے منسلک کرنے والے مقام فیض آباد میں دھرنا دے کر اسے ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا۔ تحریکِ لبیک پاکستان کا مؤقف تھا کہ اس حلف نامے کا مقصد احمدیوں کو مسلمان تسلیم کرنا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں حکومتیں تحریکِ لبیک پاکستان کے دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2018  میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اکنامک ایڈوائزری کونسل میں ایک احمدی ماہر معاشیات ڈاکٹر عاطف میاں کو شامل کرنا چاہا تو تحریکِ لبیک پاکستان کی طرف سے احتجاج کی دھمکی کے فوراً بعد ان کا نام واپس لے لیا گیا۔

اس سے پہلے مئی 2018 میں تقریبا چھ سو سے سات سو افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے میونسپل کمیٹی کے ارکان کے ساتھ مل کر سیالکوٹ میں موجود احمدیوں کی ایک تاریخی عمارت پر حملہ کر کے اسے توڑ پھوڑ دیا۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) کی 2018 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جب سیینٹ آف پاکستان نے کچھ ہفتوں کے بعد اس عمارت کے مسمار کیے جانے کے بارے میں تحقیقات کیں تو پنجاب پولیس کے ایک افسر نے اس معاملے میں اپنے محکمے کے رویے کی توجیہ کچھ یوں پیش کی: 'اگر حکومتِ پاکستان کی تشکیل کردہ اکنامک ایڈوائزری کونسل میں مذہبی دباؤ کی وجہ سے ایک احمدی ماہر معاشیات کو شامل نہیں کیا جا سکتا تو عام پولیس والے کس طرح احمدیوں کا تحفظ کر سکتے ہیں'۔

اسی سال اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی نے یہ فیصلہ دیا کہ پاکستان میں سرکاری عہدوں پر فائز تمام احمدیوں کے اعداد و شمار ان کے سامنے پیش کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جو احمدی بھی کسی سرکاری عہدے پر نئے سرے سے فائز ہو وہ اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے اپنے مذہب کا اعلان کرے۔ اسی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تمام پاکستانی احمدیوں کی بین الاقوامی نقل و حرکت کی تفصیلات بھی عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

انتظامی غفلت یا مذہبی تعصب: نادرا ریکارڈ میں مسیحیوں کے مذہب کی تبدیلی کی کیا وجوہات ہیں؟

اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ اقدامات پہلے سے 'استحصال کا شکار اقلیتوں کے لیے مزید مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے'۔

اسی طرح ہیومن رائٹس واچ نامی انسانی حقوق کی ترویج کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم نے یہ انکشاف کیا اگست 2020 میں لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ایک مقامی احمدی عبادت گاہ کو محض اس لئے بند کر دیا کہ ایک مسجد کے امام نے اس کے بارے میں شکایت کی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس جیسی انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں نے 26 نومبر 2020 کو پاکستان میں احمدیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کی جس میں کہا گیا کہ 'صرف جولائی 2020 سے لے کر اب تک پانچ احمدی افراد کو قتل کیا جا چکا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک بات ہے'۔ ان تنظیموں نے مزید کہا کہ 'احمدیوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حکومت پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے'۔

لیکن کوئی عملی قدم اٹھانا تو کجا حکومت نے حالیہ تشدد کے احمدی متاثرین اور ان کے لواحقین سے ہمدردی کا ایک بول بھی نہیں بولا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیا کے نمائندے عمر وڑائچ کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ 'احمدیوں کے خلاف تشدد کی تازہ لہر جہاں ایک طرف اس کمیونٹی کو در پیش خطرات کو سامنے لائی ہے وہیں اس سے حکومت کے احمدیوں کے بارے میں متعصب رویے کا پردہ بھی چاک ہوا ہے'۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 15 جنوری 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 11 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زاہد علی ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔