'زندگی تو بچ گئی، اور کچھ نہیں بچا'، چترال میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگ مدد کے منتظر

postImg

سید اولاد الدین شاہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

'زندگی تو بچ گئی، اور کچھ نہیں بچا'، چترال میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگ مدد کے منتظر

سید اولاد الدین شاہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی کے باعث پگھلتے گلیشیئروں اور دریائے یارخون میں آنے والی طغیانیوں نے اپر چترال میں تباہی مچادی ہے۔ جہاں کچھ عرصہ پہلے دیہات آباد تھے، وہ جگہیں اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ پرکوسب، چنار، آوی، اور بریپ میں لوگوں کے گھر، پھلوں کے باغات اور زرعی زمینیں سیلاب برد ہو گئی ہیں۔

میراگرام سیلاب سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے جہاں کم از کم سات گھر، متعدد دکانیں اور باغات تباہ ہوئے ہیں جبکہ بہت سے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اس علاقے میں رہنے والے محمد ظفر جان  پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہیں اور اپنی زمینوں پر کاشت کاری بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی، لیکن پل بھر میں سب کچھ بدل گیا۔

"شام کے وقت بارش ہورہی تھی کہ اچانک سیلاب کی اطلاع آئی اور لوگوں کو جان بچانے کے لیے کہا گیا۔ چنانچہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر گھروں سے نکل گئے۔ زندگی تو بچ گئی لیکن اور کچھ نہیں بچا۔"

آوی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن افگن رضا کا گھر اور زرعی زمین بھی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی 80 ایکڑ زرعی اراضی سیلاب برد ہوئی ہے۔ پچھلے سال آنے والے سیلاب میں بھی ان کا گھر بار بہہ گیا تھا۔ تاہم انہوں نے جیسے تیسے گھر دوبارہ تعمیر کر کے ایک امدادی ادارے کے تعاون سے کچھ زمین بھی قابل کاشت بنا لی تھی۔ لیکن مختصر عرصہ میں وہ دوبارہ وہیں آ کھڑے ہوئے ہیں۔

سیلابی پانی میں بجلی کھمبے اکھڑ جانے سے اوی تا کارگین اور تحصیل مستوج کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو چکی ہے جبکہ اوی سے میراگرام نمبر ایک کو جانے والی سڑک تباہ ہو گئی ہے۔

اوی کے قریبی علاقے دمادومی میں تقریباً 40 گھرانے آباد ہیں جن کے لیے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) کے تعاون سے پانی کا بندوبست کیا گیا تھا۔ حالیہ سیلاب میں ان کے بچھائے ہوئے پائپ پُل سمیت دریا میں بہہ گئے ہیں۔ جن علاقوں میں محکمہ پبلک ہیلتھ کی طرف سے پینے کے پانی کا بندوبست کیا گیا تھا وہاں بھی یہ نظام دریائے چترال کی طغیانی میں بہہ گیا ہے اور اب انہیں پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

تحصیل مستوج کے گاؤں پرکوسب، غورو پائیں اور غورو بالا کو مستوج سے ملانے والی لگ بھگ تین کلومیٹر طویل سڑک بھی پانی میں بہہ گئی ہے اور اب لوگ اس سڑک کی بحالی کیلئے چندہ اکٹھا کررہے ہیں۔ یہ سڑک یارخون شیندور روڈ کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے اور اس کی بحالی کے لئے پرکوسب کے لوگ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

غورو پائن میں لوگوں کے گھر، جنگلات، باغات اور زرعی زمینیں دریا برد ہو گئی ہیں۔ تاہم ابھی تک نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔

اس علاقے میں رہنے والے ریٹائرڈ ٹیچر سید محبوب علی شاہ کہتے ہیں کہ پھل دار درختوں کا باغ اگانے میں کئی سال لگتے ہیں اور اسے تباہ ہونے میں چند ہی لمحے درکار ہوتے ہیں۔

"ہماری عمر بھر کی محنت سیلاب کی نذر ہو گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب دوسرے افسروں کے ہمراہ یہاں آئے تھے، انہوں نے بحالی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم ابھی تک امدادی اداروں کی جانب سے چند خیمے ہی فراہم کیے گئے ہیں۔"

اس علاقے میں متعدد لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جن کے پاس اب خیمہ لگانے کی جگہ بھی نہیں اور وہ دوسروں کی زمین پر رہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

"آسمان پر بادل دیکھ کر فکر ہوتی ہے کہ کہیں اُچھار نالے میں سیلاب سے راستے بند نہ ہو گئے ہوں"

مستوج کے گاؤں چنار میں چھ خاندانوں کے جائیدادیں سیلاب میں بہہ گئیں لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس علاقے میں رہنے والے صاحب کمال کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کا گھر سیلاب میں محفوظ رہا ہے لیکن طغیانی کسی بھی وقت انہیں ہدف بنا سکتی ہے۔

اپر چترال کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ عدنان کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے کئی دیہات کو امدادی سامان فراہم کر دیا گیا ہے اور یارخون کے بعض علاقوں تک رسائی کی کوشش تاحال جاری ہے کیونکہ راستے بہت خراب ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ دشوار گزار علاقوں میں مدد پہنچانے کے لیے گدھوں اور خچروں کے استعمال کا بھی سوچا گیا لیکن ایسا کرنا اس لیے ممکن نہیں کہ جس پیمانے پر امدادی اقدامات درکار ہیں ان کے لیے بہت بڑی تعداد میں جانوروں کی ضرورت ہو گی جسے پورا کرنا ممکن نہیں۔

شاہ عدنان کے مطابق پانی کی فراہمی کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے اور بجلی بھی جلد بحال کر دی جائے گی۔

تاریخ اشاعت 15 اگست 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سید اولاد الدین شاہ کا تعلق چترال سے ہے۔ وہ مختلف قومی و مقامی اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے چترال اور گلگت بلتستان سے انسانی حقوق، چائیلڈ پروٹیکشن، ثقافت، ماحولیات اور کھیل سے متعلق رپورٹنگ کر تے ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.