یونیورسٹی آف میانوالی کے پانچ تعلیمی شعبوں میں داخلہ روکنے کے احکامات سے سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی کیریئر کو خطرہ

postImg

ماہ پارہ ذوالقدر

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

یونیورسٹی آف میانوالی کے پانچ تعلیمی شعبوں میں داخلہ روکنے کے احکامات سے سینکڑوں طلبہ کے تعلیمی کیریئر کو خطرہ

ماہ پارہ ذوالقدر

loop

انگریزی میں پڑھیں

ساجدہ خان میانوالی سے 20 کلومیٹر دور گاؤں خواجہ آباد شریف کی رہائشی ہیں۔وہ شہر میں واقع سپیرئر کالج میں ایف ایس سی پری میڈیکل کی طالبہ ہیں اور اب بی ایس بائیو ٹیکنالوجی میں داخلہ لینا چاہتی ہیں۔

لیکن ساجدہ کی مشکل یہ ہے کہ یونیورسٹی آف میانوالی میں رواں سال یہ ڈیپارٹمنٹ بند ہو گیا ہے اور والدین انہیں شہر سے باہر کسی یونیورسٹی میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد کھیتی باڑی کرتے ہیں اور ان کا کُل 10 ایکڑ رقبہ ہے۔ محدود آمدنی کے باعث ان کے لیے ہاسٹل کے اخراجات برداشت کرنا بھی ممکن نہیں اور اس علاقے میں بیشتر لوگ بیٹیوں کو شہر سے باہر بھیجنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔

یہ مسئلہ صرف ساجدہ کا ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی میں کئی شعبہ جات بند ہونے کی وجہ سے سیکڑوں بچوں خاص طور پر لڑکیوں میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔

محمد رضوان شہر کے محلہ وانڈھی آرائیاں والی کے رہائشی ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج سے ایف اے کے بعد بی ایس پولیٹیکل سائنس کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن 15 اگست 2023 کو جاری ہونے والے ایڈمشن نوٹس میں پولیٹیکل سائنس میں داخلہ شروع ہی نہیں کیا گیا۔

 محمد رضوان اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پچھلے سال پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ میں داخلے ہوئے تھے مگر رواں سال ایسا نہیں ہوا۔

 ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد مزدوری کرتے ہیں۔وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ وہ بارہویں جماعت تک سرکاری اداروں میں ہی زیر تعلیم رہے۔ اب یونیورسٹی ان کے گھر کے قریب ہے مگر ان کا مطلوبہ ڈیپارٹمنٹ ہی بند کر دیا گیا ہے۔ کمزور معاشی حالات کے باعث وہ باہر نہیں جا سکتے اور اب شاید تعلیم جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔

2012ء میں گورنمنٹ گریجوایٹ کالج میانوالی کے ایم اے بلاک میں یونیورسٹی آف سرگودھا کا سب کیمپس بنایا گیا۔ اس کیمپس کو بعد ازاں کالج سے ملحقہ 80 کنال جگہ پر شفٹ کیا گیا۔ 2019 میں یونیورسٹی آف میانوالی کا قیام عمل میں آیا تو اسی سب کیمپس ہی کو یونیورسٹی بنا دیا گیا۔

یونیورسٹی آف سرگودھا کے میاںوالی سب کیمپس میں 25سے زیادہ شعبہ جات کام کر رہے تھے اور ایم فل کی کلاسز بھی ہو رہی تھیں۔

لیکن دسمبر 2019 میں میانوالی یونیوسٹی بننے کے بعد ہر سال ڈیپارٹمنٹس کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ رواں سال یونیورسٹی  میں صرف 14 ڈیپارٹمنٹس میں داخلوں کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس سال یونیورسٹی میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ انٹرنیشنل ریلیشنز، پولیٹکیل سائنس، بائیو ٹیکنالوجی اور نفسیات کے ڈیپارٹمنٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ ان ڈیپارٹمنٹس میں پچھلے سال داخلے کیے گئے تھے۔

رواں سال یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سائنس کے 8 ڈیپارٹمنٹ اور فیکلٹی آف سوشل سائنس اینڈ ہیومینٹیز کے چھ شعبہ جات میں داخلوں کا نوٹس دیا گیا ہے۔ یہاں صرف بی ایس کی کلاسز ہو رہی ہیں۔ ایم فل یا پی ایچ ڈی کی کوئی کلاس نہیں ہو رہی ہے۔

روبینہ شاہین میانوالی شہر کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے 2019 میں سب کیمپس میانوالی سے ایم اے ایجوکیشن مکمل کیا تھا۔ وہ اب ایم فل کرنا چاہتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ 4 سال سے انتظار کر رہی ہیں مگر یہاں یونیورسٹی میں ایم فل کا دخلہ ہی روک دیا گیا ہے۔

میانوالی یونیورسٹی بنی تویہاں سرگودھا یونیورسٹی کے سب کیمپس کے تمام پروفیسر ڈیپوٹیشن پر نئی یونیورسٹی کا حصہ بن گئے۔مگر تین سال بعد یہ تمام لوگ واپس سرگودھا چلے گئے اور میانوالی یونیورسٹی نے اپنے فیکلٹی ممبران کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا۔

رجسٹرار میانوالی یونیورسٹی ڈاکٹر عبد الماجد رانا بتاتے ہیں کہ اب تک ایجوکیشن ، انٹرنیشنل ریلیشنز، پولیٹیکل سائنس، بائیو ٹیک اور نفسیات ڈیپارٹمنٹ وزیٹنگ فیکلٹی کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔ رواں سال ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ایکریڈیٹیشن کے بعد ان ڈیپارٹمنٹس کو بند کر دیا گیا۔ کیونکہ ان ڈیپارٹمنٹس میں مستقل اساتذہ تعینات نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پانچ ڈیپارٹمنٹس میں داخلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ایکریڈیشن سے پہلے ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اب صورتحال مختلف ہےاور گائیڈ لائنز پر عمل کرنا لازمی ہے۔

ماہر تعلیم پروفیسر سرور خان نیازی گورنمنٹ گریجوایٹ کالج میانوالی میں انگریزی کے پروفیسر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امید تھی یونیورسٹی بننے کے بعد یہاں زیادہ ڈیپارٹمنٹ  کھلیں گے اور ایم فل کے علاوہ پی ایچ ڈی بھی شروع ہو گی۔ لیکن موجودہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

یونیورسٹی آف میانوالی: وزٹنگ فیکلٹی سے پڑھیں اور لیب کے بغیر مائیکرو بیالوجی کی ڈگری حاصل کریں

ان کا کہنا ہے کہ ضلع میانوالی کی بیشتر آبادی غریب ہے۔لوگ اپنے بچوں اور بچیوں کو دوسرے شہروں میں نہیں بھیج سکتے کیونکہ ان کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف میانوالی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلام اللہ خان کہتے ہیں کہ جب انہوں نے چارج سنبھالا تو یونیورسٹی میں طلبا و طالبات کی تعداد 1800 تھی جو دو سال میں 4000 ہو گئی ہے۔

" تب یونیورسٹی میں صرف ایک لیبارٹری تھی جبکہ اب آٹھ لیبارٹریاں موجود ہیں۔ یونیورسٹی کی ترقی کا سفر دہائیوں پر محیط ہوتا ہے۔ کم وقت میں یونیورسٹی آف میانوالی کے 80 فیصد ڈیپارٹمنسٹس کو ایچ ای سی نے ایکریڈیٹیشن دے دی ہے۔"

یونیورسٹی کے رجسٹرار کہتے ہیں کہ سرگودھا یونیورسٹی کے 20 پروفیسروں کے جانے کے بعد یونیورسٹی نے اپنی بھرتیاں شروع کیں۔اب یہاں 14 مستقل اسسٹنٹ پروفیسروں کی تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ وائس چانسلر اور رجسٹرار ان کے علاوہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں اس وقت 70سے زیادہ وزٹنگ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔بھرتیوں پر پابندی کے باعث کچھ تاخیر ہوئی۔ تاہم جلد مزید مستقل اساتذہ کی تعیناتی ہو جائے گی اور ایم فل کی کلاسیں بھی شروع کر دی جائیں گی۔

تاریخ اشاعت 1 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ماہ پارہ ذوالقدر کا تعلق میانوالی سے ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کے پسندیدہ موضوعات میں ماحول، تعلیم، سماجی مسائل خصوصاً خواتین و بچوں کے مسائل شامل ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.