دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

postImg

جئہ پرکاش

postImg

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

جئہ پرکاش

پاکستان میں شادی کی لازمی رجسٹریشن اور خانگی تنازعات طے کرنے سے متعلق قانون 'مسلم فیملی لاز آرڈیننس' کے نام سے 1961ء میں نافذ کیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے ایک ساتھ قانون سازی کر لی جاتی مگر یہاں سب سے بڑی اقلیت یعنی ہندو برادری اس قانونی حق سے عشروں محروم رہی۔

بالآخر پارلیمنٹ نے 2017ء میں ہندو میرج ایکٹ منظور کیا جس کا دائرہ عمل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان تک محدود رکھا گیا کیونکہ سندھ میں اس سے ملتا جلتا قانون پہلے سے موجود تھا۔

وہاں صوبائی اسمبلی نے سندھ ہندو میرج (ترمیمی) ایکٹ کی 2018ء میں منظوری دی اور ایک سال بعد 2019ء میں قواعد بنا کر اسے صوبے میں لاگو کر دیا گیا۔ بلوچستان سرکار نے 2019ء میں سندھ کے قواعد کو اپنا کر ہندو شادی ایکٹ کے اطلاق کا اعلان کر دیا۔

پنجاب اور اسلام آباد میں ایکٹ منظور ہونے کے بعد رولز بننے پر سات برس مزید لگ گئے مگر گذشتہ سال وہاں بھی باضابطہ نفاذ شروع کر دیا گیا۔ تاہم خیبرپختونخواہ کی ہندو برادری آٹھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس قانون کے اطلاق کی منتظر ہے۔

سماجی کارکن پشپا کماری، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی سابق رکن اور ہندو میریج ایکٹ کی منظوری میں اہم کردار ادا کرنے والے نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (این ایل ڈی) فار مینارٹیز کی ممبر ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہندو برادریوں میں خواتین کی اکثریت ناخواندہ ہے جنہیں نہ تو قانون اور نہ ہی اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہندو عورت مسلسل سماجی ناانصافی کی چکی میں پستی رہتی ہے۔ اس قانون کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن سے انہیں کم سے کم گھریلو جھگڑے کی صورت میں تو تحفظ ملے گا۔

'بدقسمتی سے ملک کے بیشتر حصوں میں ہندو میرج ایکٹ پر پوری طرح عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔'

دلہا دلہن راضی لیکن پنڈت کہاں غائب ہیں؟

ہندو میریج ایکٹ 2017ء کے مطابق شادی کی تقریبات مقامی یا کسی ایک فریق کے رسوم رواج کے مطابق انجام پا سکتی ہیں جس کے لیے دولہا دلہن دونوں کی آزادانہ رضامندی اور دو بالغ گواہوں کی موجودگی لازم ہے۔

اس ایکٹ میں شادی پرت یا فارم شامل کیا گیا جس کو رجسٹرار(رجسٹرڈ پنڈت) پُر کرے گا۔ اس پرت پر دلہا، دلہن اور گواہان اپنے دستخط کریں گے جبکہ رجسٹرار بطور مجاز افسر دستخط ثبت کرے گا۔

قانون کے تحت 15 روز کے اندر شادی کی رجسٹریشن ضروری ہو گی۔ یہ کام شادی رجسٹرار (رجسٹرڈ پنڈت) کی ذمہ داری ہو گی جو شادی پرت کی کاپی متعلقہ فریقین کو فراہم کرے گا اور سرکاری ریکارڈ میں اس کی موجودگی یقینی بنائے گا۔

قانون کہتا ہے کہ شادی رجسٹرار کا تقرر حکومت سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے کرے گی جو کسی ضلعے یا علاقے میں رہنے والی ہندو آبادی کی سہولت کے لیے ایک یا ایک سے زائد ہو سکتے ہیں۔

طریقہ کار کے مطابق شادی کا اندراج (رجسٹریشن) مکمل ہونے کے بعد یونین کونسل (یو سی) کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ یا نادرا فارم جاری کر دیا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندو شادی کے قانون میں شادی رجسٹرار یا پنڈت کا اتنا ہی کردار ہے جتنا مسلم شادی میں نکاح خواں یا نکاح رجسٹرار کا ہوتا ہے۔

ٹنڈو الہیار کے سماجی کارکن بابولال بھیل کہتے ہیں کہ سندھ میں ہندو میرج کے قانون کا نفاذ سب سے پہلے ہوا مگر کئی علاقوں میں ابھی تک کوئی پنڈت رجسٹر نہیں ہوا۔ بعض یونین کونسلز میں کوئی پنڈت رجسٹریشن کے لیے چلا بھی جائے تو آگاہی نہ ہونے باعث رجسٹریشن کرنے والا عملہ مشکل میں پڑ جاتا ہے۔

"نتیجتاً بہت سے ہندو اکثریتی علاقوں میں اس قانون کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کے برابر ہے۔"

شادی کرانے والے پنڈتوں کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟

حیدرآباد شہر کی یونین کونسل نمبر 14 کی آبادی تقریباً 30 ہزار ہے جن میں 25 ہزار مسلمان اور پانچ ہزار سے زائد ہندو کمیونٹی کے لوگ شامل ہیں۔ یہاں 15 نکاح خواں رجسٹرڈ ہیں یعنی لگ بھگ ڈیڑھ ہزار مسلم آبادی کے لیے ایک نکاح رجسٹرار موجود ہے جبکہ ہندو شادیاں کرانے والے ایک بھی پنڈت کی رجسٹریشن نہیں ہو پائی۔

یو سی سیکریٹری محمد زبیر تصدیق کرتے ہیں کہ ابھی تک ہندو شادی یا پنڈت کی رجسٹریشن کے لیے ان کے پاس کوئی نہیں آیا۔

پینتیس سالہ تلوک چند، تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو کے گاؤں دونباڑو کے رہائشی ہیں جو یہاں آباد سب سے بڑی ہندو برادری مینگھواڑ کے پنڈت ہیں۔ ان کا کام ہی شادی کرانا اور دیگر مذہبی رسومات ادا کرنا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہیں پچھلے سال (2025ء) اکتوبر میں معلوم ہوا کہ صوبے میں ہندو شادیوں کا قانون نافذ ہو گیا ہے جس کے لیے اب انہیں (پنڈت کو) اپنی رجسٹریشن کرانا ہوگی۔

"میں رجسٹریشن کرانے کے لیے یو سی آفس پہنچا تو سیکریٹری ہی اس قانون سے لاعلم تھے۔ انہیں بتایا کہ عمرکوٹ میں پنڈتوں کی رجسٹریشن ہو رہی ہے میں بھی اسی لیے آیا ہوں مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ ڈیڑھ ماہ بعد یو سی چیئرمین کے کہنے پر میری رجسٹریشن کی گئی۔"

دنیا بھر میں نئے قوانین کے اطلاق سے پہلے آگاہی مہم چلائی جاتی ہے اور ان کے نفاذ کے لیے عوام کو آسانیاں فراہم کی جاتی ہیں مگر یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

پنڈت رانا رام، میرپور خاص شہر کی راجڑ کالونی کے رہائشی ہیں جنہوں نے اس ضلعے میں سب سے پہلے بطور شادی رجسٹرار اپنا اندراج کرایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں اپنی رجسٹریشن کے لیے فیس کی مد میں پانچ ہزار روپے ادا کرنا پڑے۔ میونسپل افسر نے صاف کہہ دیا کہ اپنا اندراج کرانا ہے تو یہ فیس ہر صورت دینا پڑے گی۔

واضح رہے مسلم نکاح خواں کی رجسٹریشن کے لیے اسی ضلع کی مختلف یونین کونسلز میں سرکاری فیس 800 سے ایک ہزار روپے تک لی جاتی ہے۔

'ہر پنڈت اپنی مرضی کا شادی پرت بنا کر دے دیتا ہے'

چندن مالہی، این ایل ڈی کے رکن اور سندھ میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ قانون پر مکمل عملدرآمد میں کچھ رکاوٹیں ہیں۔ سندھ میں بلدیاتی ادارے اپنی فیسیں مقرر کرنے میں خودمختار ہیں جنہوں نے مختلف یوسیز میں پنڈتوں اور شادیوں کی رجسٹریشن فیسیں اپنے اپنے حساب سے مقرر کر رکھی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ملک بھر میں مسلم شہریوں کے لیے نکاح نامے کا یکساں پرت ہوتا ہے، حکومت نے ہندو شادیوں کے لیے ایسا کوئی فارم یا پرت تیار نہیں کیا۔ ہر پنڈت اپنی مرضی کا شادی پرت بنا کر دے دیتا ہے جس سے مسائل پیدا ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔

"پچھلے ہفتے ہمارے وفد نے صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری لوکل گورنمینٹ عامر حسین پنوھر سے ملاقات کی جس میں مساوی رجسٹریشن فیسوں اور یکساں شادی پرت کے معاملات ان کے سامنے رکھے گئے۔ 

ایڈیشنل سیکریٹری نے یقین دلایا کہ نئے رولز میں ہمارے دونوں مسائل کو حل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے افسران کو تربیت بھی دی جائے گی جس کے لیے ہندو میرج ایکٹ کو پہلے ہی لوکل گورنمنٹ اکیڈمی کے نصاب میں شامل کیا جا چکا ہے۔"

مندروں کی دیکھ بھال کے لیے قائم وفاقی ادارے پاکستان ہندو مندر منیجمینٹ کمیٹی کے چیئرمین کرشن شرما کہتے ہیں کہ شادی قانون پر مکمل عملدرآمد بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ان کا نہ صرف متعلقہ حکام سے رابطہ ہے بلکہ تمام ساتھی اپنی اپنی برادریوں میں آگاہی مہم بھی چلا رہے ہیں۔

وہ خاصے پُرامید دکھائی دیے، ان کا ماننا ہے کہ میرج ایکٹ پر عمل کی رفتار سست ضرور ہے مگر صورت حال میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔

آٹھ سال بعد یاد آیا کہ قانون میں 'گورنمنٹ' نہیں 'لوکل گورنمنٹ' لکھنا تھا!

کرشن شرما بتاتے ہیں کہ ہندو میرج ایکٹ چاروں صوبوں میں لاگو ہے لیکن بدقسمتی سے خیبر پختونخواہ میں ابھی تک قواعد ہی نہیں بنائے جا سکے۔ انہوں نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پشاور میں صوبائی وزراء اور سپیکر صوبائی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ان کے بقول مجوزہ قواعد وہاں پہلے مختلف صوبائی وزارتوں کے درمیان فٹ بال بنے رہے۔اب پتا چلا کہ خیبرپختونخواہ کی وزارت قانون کو اس ایکٹ میں سقم نظر آیا گیا ہے جس کے لیے انہوں نے ایک ترمیم تجویز کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ بلوچستان میں پنڈت اور شادی کی رجسٹریشن کی ذمہ داری محکمہ بلدیات کو دی گئی ہے۔ خیبرپختونخواہ کی وزارت قانون سمجھتی ہے کہ قانون میں رجسٹریشن کا ذمہ دار 'گورنمنٹ' کو بنایا گیا ہے جس کا مطلب 'کابینہ' ہوتا ہے۔

لہٰذا شادی و پنڈت کی رجسٹریشن یا تو صوبائی کابینہ کرے یا قانون میں ترمیم کر کے لفظ 'گورنمنٹ' کی جگہ 'لوکل گورنمنٹ' لکھا جائے۔ 

خیبر پختونخواہ میں ہندو کمیونٹی کے رہنما اور سماجی کارکن ہارون سربدیال بتاتے ہیں کہ صوبے کی عدالتوں میں درجنوں کیس زیرالتوا ہیں جن کا فیصلہ اس قانون کے رولز نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پا رہا۔

"یہ قانون ہماری بہو بیٹیوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا لیکن قواعد تشکیل نہ پانےکے باعث برسوں بعد بھی ہم لوگ اپنی شادیاں رجسٹر نہیں کرا پا رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ صوبے میں فوری طور پر رولز منظور کرائے جائیں۔"

یہ بھی پڑھیں

postImg

سندھ ہندو میرج ایکٹ: 'شیڈولڈ کاسٹ ہندو عورتوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ قانونی طریقے سے طلاق لے سکتی ہیں'۔

رحیم یار خان: دو لاکھ ہندو آبادی لیکن شادی اندارج ابھی تک شروع نہیں ہوا 

پنجاب میں اس قانون پر عمل تو شروع ہو گیا ہے مگر طریقہ کار بہت پیچیدہ ہے۔ سندھ کے برعکس یہاں پنڈت کی رجسٹریشن کی ذمہ داری محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور جبکہ شادیوں کی رجسٹریشن بلدیاتی اداروں کو سونپی گئی ہے۔

پنجاب ہندو میرج رولز 2025ء کے مطابق پنڈت اپنی رجسٹریشن کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے گا جو جانچ پڑتال کے بعد اسے انسانی حقوق و اقلیتی امور ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گا۔ یہی محکمہ پنڈت کو رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا۔

پنڈت (میرج رجسٹرار) شادی پرت جاری کرنے اور ان کا ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار ہو گا۔ وہی شادی پرت کو متعلقہ یوسی میں جمع کروائے گا جہاں سے نادرا سرٹیفیکیٹ جاری ہوگا۔
پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں صوبے کی سب سے زیادہ ہندو آبادی رہتی ہے جو ایک لاکھ 76 ہزار 416 افراد پر مشمل ہے۔ یہاں کے رہائشی پنڈت دیواجی رام بتاتے ہیں کہ ضلع بھر میں اب تک صرف پانچ پنڈتوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے شادیوں کی رجسٹریشن تاحال شروع نہیں ہوئی۔ 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ برس ہندو میرج ایکٹ کے رولز منظور کیے گئے تھے۔اس سلسلے میں چیف کمشنر کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے، تاہم ان قوانین کے تحت ابھی تک کسی پنڈت کو رجسٹر نہیں کیا گیا۔ پاکستان ہندو ٹیمپل مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کرشن شرما کو امید ہے کہ کچھ پنڈتوں کو جلد رجسٹر کر لیا جائے گا کیونکہ اب اس عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔

بلوچستان میں چھ سال قبل ہندو میرج کے نفاذ ہوا جہاں سندھ کے رولز اپنائے گئے ہیں لیکن صوبے بھر میں ابھی تک پنڈت (شادی رجسٹرارز) یا شادی رجسٹریشن کا آغاز نہیں ہو سکا۔ تاہم کوئٹہ سے این ایل ڈی کے رکن شیزان ولیم کا کہنا ہے کہ چیزیں سٹریم لائن ہو گئی ہیں۔ امید ہے یہاں شادی رجسٹریشن جلد شروع ہو جائے گی۔

تاریخ اشاعت 9 فروری 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جئہ پرکاش مورانی تیس سالوں سے صحافت کر رہے ہیں۔ وہ سندھی اخبار "عبرت" کے سینیئر نیوز ایڈیٹر ہیں۔

thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
thumb
سٹوری

گندم اگائیں، کھاد کی رقم سندھ حکومت دے گی، پروگرام پر عمل کیسے ہو رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

پشاور میں بے گھر مزدوروں کے لئے فلیٹ پانچ سال سے تیار ہیں لیکن الاٹ کیوں نہیں ہو پا رہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنبی جان اورکزئی
thumb
سٹوری

موسمیاتی انصاف: سیلاب سے متاثر 43 سندھی کسانوں نے دو جرمن کمپنیوں پر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحسن مدثر
thumb
سٹوری

بھورے ریچھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ: دیو سائی کے بادشاہ کی سلطنت کن خطرات میں گھری ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

پاکستان میں بڑھاپا خاموش بحران کی صورت کیوں اختیار کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.