کیلے کے زمینداروں کے لیے اپنی فصل کی باقیات کو تلف کرنا ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور سب کے پاس اس کا بس ایک ہی حل ہے، انہیں اکٹھا کر کے آگ لگانا۔ آغا ظفر اللہ درانی اس حل سے مطمعن نہیں تھے۔
وہ سندھ کے ساحلی ضلع بدین کے قصبہ ٹنڈو غلام علی کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام سے ایگری انجنیئرنگ میں گریجوایشن کی تھی اور وہ آٹھ سال قبل بطور ڈائریکٹر جنرل زراعت سندھ ریٹائر ہوئے ہیں۔ آج کل انہوں نے اپنی 300 ایکڑ اراضی پر کیلے اور 200 ایکڑ پر آم کے باغات لگا رکھے ہیں۔
آغا ظفر اللہ بتاتے ہیں کہ ایک ایکٹر پر کیلے کے 600 سے 800 پودے لگائے جاتے ہیں۔ جب پھل تیار ہو جاتا ہے تو ڈونگر(بنچ یا گچھا) کاٹ لیا جاتا ہے اور باقی پودے کو تلف کرکے اس کی جگہ نیا پودا لگا دیا جاتا ہے۔ یوں کسان کھیت سے مسلسل پودے کاٹتے اور بائیوماس (پودے کا تنا اور پتے) کو قریبی زمینوں میں ڈھیر کر کے نذرآتش کرتے رہتے ہیں۔
سب کسان ایسا ہی کرتے ہیں لیکن آغا ظفر نہ صرف خود جدید کاشت کاری کے تجربات کرتے رہتے ہیں بلکہ دوسرے ممالک میں ہونے والی اختراعات سے بھی استعفادہ کرتے ہیں۔
"میں نے سری لنکا اور انڈیا میں دیکھا کہ وہاں 'بنانا فائبر' (کیلے کے تنے کا ریشہ) سے کپڑے سمیت کئی اشیاء بن رہی ہیں۔ واپسی پر میں نے یہاں فائبر کے خریدار کی تلاش شروع کی تو فیصل آباد کی انٹرلوپ کاٹن کمپنی سے رابطہ ہو گیا۔"
وہ کہتے ہیں کہ بات چیت کے بعد ان کا انٹرلوپ کمپنی سے معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنے فارم پر 10 مشینیں لگائیں اور کیلے کے تنے سے فائبر نکالنے کا کام شروع کر دیا۔
مزدور کیلے کے تلف شدہ تنے کھیت سے مشینوں تک لاتے جہاں فائبر نکال کر اسے دھوپ میں سوکھایا جاتا اور پھر اسے کمپنی کو بھیج دیا جاتا تھا۔

کیلے کے ریشے سے کیا کچھ بن سکتا ہے؟
جوں جوں دنیا میں ماحول دوست اور پائیدار اشیاء کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، کیلے کا ریشہ اپنی مضبوطی، ہلکے وزن اور قدرتی چمک کے باعث پلاسٹک کے متبادل کے طور پر مقبول ہو رہا ہے۔ کاغذ سازی، ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل انڈسٹری (گاڑیوں کے اندرونی پارٹس جیسے سیٹ کوور وغیرہ) میں بھی اس کی کھپت روز بروز بڑھ رہی ہے۔
کیلے کے ریشے کا ٹیکسٹائل میں استعمال کوئی نئی ایجاد نہیں، جاپانی 13ویں صدی کے قریب اس سے کپڑا تیار کیا کرتے تھے۔ اس فائبر کو کاٹن میں ملا کر مختلف معیار کا دھاگہ بنایا جاتا تھا جو کپڑے کے علاوہ قالین، رسیاں اور گلدستے بنانے میں کام آتا تھا۔
اس وقت بھارت دنیا میں سب سے زیادہ کیلا پیدا کرنے والا ملک ہے جو عالمی پیداوار کا تقریباً 22 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد چین، فلپائن، ایکواڈور، برازیل و دیگر کا نمبر آتا ہے۔
کچھ ممالک اسے ٹیکسٹائل مصنوعات میں استعمال کر رہے ہیں تو کچھ اس سے کاغذ بناتے ہیں۔ بنانا پیپر سے پیکنگ اور ریپنگ پیپر، نوٹ بکس اور سکیچ بکس کے علاوہ بزنس کارڈز، لفافے ، گریٹنگ کارڈز، سٹیکرز وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں۔
بھارت میں بنانا فائبر سے زیادہ تر بیگز، ٹوکریاں اور ریپنگ و پیکنگ کا سامان بنایا جا رہا ہے۔ تاہم بنانا فائبر سے خواتین کے سینیٹری پیڈز کی تیاری بھارت میں اہم ایجاد سمجھی جاتی ہے جو دھو کر دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں خاصی کمی لائی جا سکتی ہے۔ بھارت میں سالانہ تقریباً 20 لاکھ ٹن عام سینیٹری پیڈز کچرے میں جا کر ماحول کو آلودہ کرتے ہیں اور ان پیڈز کی تیاری میں لاکھوں گیلن پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کیلے کا فائبر پلاسٹک اور کاٹن، دونوں کا بہترین متبادل ہے جس سے پاکستان روئی کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بھی بچا سکتا ہے۔
واضح رہے ملک میں پچھلے عشرے کے دوران کپاس کے زیرِ کاشت رقبے اور پیداوار میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ روئی کی پیداوار جو دس سال پہلے ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھ تھی وہ اب کم ہو کر لگ بھگ 60 لاکھ رہ گئی ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق کیلے کا فائبر کم خرچ، مضبوط اور قابل تحلیل ہوتا ہے جو شاپر و پلاسٹک کے دیگر کچرے سے بچنے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس سے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائیل مصنوعات اور سینیٹری پیڈز کے علاوہ بچوں کے ڈائپر، ماہی گیری کے جال، چٹائیاں، جوتے، دستانے اور بوریاں یا تھیلے وغیرہ آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں۔

ایک سو ارب روپے کا کچرا!
آغا ظفر اللہ درانی نے کیلے کے باغات کو سنبھالنے کا کام اپنے 35 سالہ بیٹے آغا سمیع اللہ کے سپرد کر رکھا ہے جو خود بھی جدید کاشت کاری کے شوقین ہیں۔
آغا سمیع اللہ نے کیلا فائبر کے کاروبار کی نمو دیکھ کر 'بن جان فائبر' کے نام سے اپنی کمپنی رجسٹر کروائی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیلے کی پیداوار تو اچھی ہوتی ہی ہے، اس کے گیلے تنے کو جب مشین میں ڈالا جاتا ہے تو تین ماحول دوست اور منافع بخش عناصر ملتے ہیں جن میں فائبر، پلپ اور پانی شامل ہے۔
"فائبر کئی صنعتوں کے لیے خام مال فراہم کرتا ہے۔ پلپ سے انڈے رکھنے کی ٹرے یا سانچے، ڈسپوزایبل گلاس، پلیٹیں وغیرہ بنتی ہیں اور پودے کے تنے کا پانی فصلوں میں بطور کھاد استعمال ہوتا ہے۔'
ان کے بقول کیلا فائبر نکالنے والی مشین تقریباً تین لاکھ روپے میں تیار ہوتی ہے جس کے لیے ایک ہارس پاور کی موٹر کافی ہے۔ سولر بجلی پر چلنے والی یہ مشین آٹھ گھنٹے میں 15 سے 17 کلو فائبر نکالتی ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں کیلے کی کاشت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 15-2014ء میں یہاں کیلے کی پیداوار ایک لاکھ 19 ہزار ٹن تھی جو 24-2023ء میں بڑھ کر تین لاکھ 11 ہزار ٹن ہو گئی۔ یعنی دس سال 162 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کیلے کی پیداوار میں 80 فیصد حصہ سندھ کا ہے اور یہاں یہ 24-2023ء میں لگ بھگ 96 ہزار ایکڑ پر کاشت ہوا تھا۔
ڈاکٹر رضوان محمود انٹرلوپ لمیٹڈ سے وابستہ ہیں اور چھ سال سے کیلا فائبر کے حوالے سے کمپنی کی معاونت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کیلے کے ایک ایکڑ پر سالانہ 50 ٹن بائیو ماس پیدا ہوتا ہے جس میں سے خشک فائبر دو ٹن ہوتا ہے۔ گویا 24-2023ء میں سندھ تقریباً دو لاکھ ٹن فائبر حاصل کر سکتا تھا جس کی مالیت 500 روپے فی کلو کے حساب سے ایک سو ارب روپے بنتی ہے۔
آغا سمیع اللہ نے لوک سجاگ کو بتایا انہوں نے اپنا بنانا فائبر پچھلے اکتوبر میں فیصل آباد کی کمپنی کو 500 روپے کلو تک بیچا تھا۔ تاہم اس وقت اندرون ملک خام بنانا فائبر کے نرخ 830 روپے (2.97 ڈالر)، بھارت میں 367 سے 917 پاکستانی روپے اور عالمی مارکیٹ میں کم از کم دو سے تین ڈالر فی کلو ہیں۔
800 روپے کلو کے حساب سے سندھ میں کیلے کے فائبر کی کل ممکنہ مالیت ڈیڑھ سو ارب روپے (500 ملین ڈالر) بنتی ہے۔ اس فائبر سے ویلیوایڈڈ مصنوعات تیار کی جائیں تو اس کی مالیت اور بھی بڑھ سکتی ہے۔
کیلے کے ریشے کی عالمی مارکیٹ کا مجموعی حجم 2021ء میں لگ بھگ 1.37 ارب ڈالر تھا جو 2033ء میں 3.26 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یعنی یہ کاروبار سالانہ اوسطاً 7.5 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔

شیربانو بی بی کے چرخے اور موئن جو دڑو کی کھڈی کا تانا بانا
مرزا سلیمان بیگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں گریجوایٹ ہیں جو سندھ رول سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو) میں چھ سال سے بطور اسسٹنٹ منیجر پروڈکشن ڈیزائن کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ سندھ حکومت نے غربت کے خاتمے (پاورٹی ریڈکشن) کا جو پروگرام شروع کیا ہے اس کے تحت دیہی خواتین کے لیے چھوٹے کاروبار کے مواقعے پیدا کرنے کا کام سرسو کو سونپا گیا تو ان کی ٹیم نے فیصل آباد اور ٹنڈو جام زرعی یونیورسٹی کے ماہرین سے مشاورت کے بعد کیلے کا فائبر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
"ہم نے کیلے کا ریشہ کاتنے (دھاگا بنانے یا سپننگ) کا کام خیرپور میرس کے گاؤں سوبھو ڈیرو کی رہائشی کسان خاتون شیربانو بی بی سے کرایا۔ وہاں تیار ہونے والا دھاگہ لاڑکانہ(موئن جو دڑو) میں کھڈی پر کپڑا بنانے والوں کے حوالے کیا۔کھڈی والوں نے ہمیں روئی اور کیلا فائبر کے دھاگوں کو ملا کر کپڑا تیار کردیا جس میں تانا (کھڑے دھاگے) کاٹن اور بانا (آڑے دھاگے) کیلے کا استعمال کیا گیا۔"
مرزا سلیمان بیگ کہتے ہیں کہ سرسو نے اس 'کیلا فائبر کاٹن مکس' کپڑے سے ہینڈ بیگ، خواتین کے پرس اور شاپنگ بیگ تیار کرائے۔ کراچی میں سندھ لٹریچری فیسٹول 2025ء کے لیے 200 بیگز بھی سرسو نے آرڈر پر اسی کپڑے سے بنوائے تھے جو بہت پسند کیے گئے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کپڑا تقریباً دو ہزار روپے فی میٹر تیار ہوا جس کی بنیادی وجہ کیلا فائبر سے تیار کردہ دھاگے کی لاگت ہے۔ اس طریقے سے بننے والا کپڑا ماحول دوست اور پائیدار ضرور ہے مگر مہنگا ہے۔
آغا ظفر اللہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ جب کام چھوٹی یا گھریلو سطح پر ہو رہا ہے تو ظاہر ہے وہ مہنگا پڑے گا۔ لیکن اگر کیلے کے ریشے سے صنعتی پیمانے پر دھاگہ اور مصنوعات تیار کی جائیں تو یہ کاٹن یا پلاسٹک سے زیادہ مہنگی نہیں پڑیں گی۔

کیلے کا فائبر کون خریدے گا؟
آغا ظفر اللہ کہتے ہیں کہ ملک میں کیلے کے کل زیرکاشت رقبےکا 93 فیصد سندھ میں ہے۔ یہاں کسان اپنی محنت (تلف شدہ پودوں) کو اپنے ہاتھوں جلانے کے ساتھ آلودگی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں مگر نہ تو صنعتی ادارے ادھر توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔
"پہلے کمپنی بروقت ہمارا فائبر اٹھاتی رہی، کام اچھا چل رہا تھا لیکن چار ماہ قبل انہوں نے خریداری روک دی۔ اب مشینیں بند پڑی ہیں اور 25 سے 30 مزدور بیروزگار ہیں جو گھر میں 1200 روپے دیہاڑی کما رہے تھے۔"
ڈاکٹر رضوان محمود بتاتے ہیں کہ ان کی کمپنی عالمی برانڈز کے ساتھ کام کرتی ہے جو مصر، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی فیکٹریاں چلا رہی ہے۔
"ہم کاربن فٹ پرنٹس میں کمی پر یقین رکھتے ہیں اس لیے کیلا فائبر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ یہاں فائبر کے دھاگے اور کاٹن یارن کو ملا کر موزے، جرابیں، شرٹس وغیرہ بنائی جاتی ہیں جو نمی جذب کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔"
وہ کہتے ہیں کہ کیلے کا فائبر سخت ہوتا ہے جس کو کپاس کے ریشے کے برابر نرم کرنے کے لیے پیچیدہ پراسیسنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں زیادہ بڑے پیمانے پر مصنوعات تیار نہیں ہو رہیں نہ ہی یہاں معیاری مشینری دستیاب ہے۔
اب یہ کام شروع ہوا ہے تو مشینری بھی تیار ہو رہی ہے اور ہنرمند مزدور بھی ملنے لگے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مہنگی بجلی، گیس اور ٹیکس معاملات کے باعث ٹیکسٹائل کی صنعت کافی متاثر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے کمپنی نے عارضی طور پر فائبر خریدنا بند کیا ہے۔ جیسے ہی کوئی بڑا آرڈر ملا خریداری دوبارہ شروع کر دی جائے گی ۔
دیکھتے ہیں راکھ میں تبدیل ہوتا کیلے کا ریشہ کب پاکستانی معیشت کا حصہ بنتا ہے اور کب کسانوں کے لیے بہتری کی کوئی نئی امید بر آتی ہے؟
تاریخ اشاعت 10 فروری 2026













