حاجی عطاااللہ برکی، ڈیرہ اسماعیل خان شہر کی مدینہ کالونی میں رہتے ہیں۔ ان کی عمر 71 برس ہے اور انہوں نے 20 سال قبل پرانی خاندانی دشمنی کی وجہ سے اپنا آبائی علاقہ کانیگرم (جنوبی وزیرستان) چھوڑ کر خاندان سمیت یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے۔
اسی گھرانے کے 34 سالہ سبیل خان بتاتے ہیں کہ ان کی مادری زبان 'ارمڑی' ہے لیکن اب ان کے خاندان کے بیشتر افراد دوسری برادریوں میں شادی بیاہ اور میل جول کے باعث اپنی زبان بھول چکے ہیں۔ سب پشتو یا سرائیکی بولتے ہیں۔ وہ خود بھی ارمڑی سمجھ تو لیتے ہیں مگر بول نہیں سکتے۔
مدینہ کالونی ہی کے ایک اور رہائشی نثار احمد بتاتے ہیں کہ ان کے والد 30 سال پہلے روزگار کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان آئے تھے جن کی مادری زبان ارمڑی تھی۔ والد کی مقامی خاتون سے شادی ہوئی تو یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اب وہ (نثار احمد) اور ان کے بچے سرائیکی زبان بولتے ہیں۔
"ہمارے آس پاس سرائیکی اور پشتو بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔ سکول، بازار، محلہ، مسجد سمیت ہر جگہ پشتو یا سرائیکی میں بات چیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے گھر میں بھی ارمڑی نہیں بولی جاتی۔"
ارمڑی، جنوبی وزیرستان تحصیل لدھا کی وادی کانیگرم میں آباد ارمڑ/ برکی قبائل کے لوگوں کی مادری زبان ہے جسے برکی یا برگِستہ بھی کہا جاتا ہے۔
عمر رسیدہ نصیب خان برکی کے بقول آپریشن راہ نجات سے پہلے کانیگرم میں ارمڑی بولنے والے لوگوں کی تعداد 35 ہزار سے زیادہ تھی لیکن اب یہاں لگ بھگ 25 ہزار رہ گئے ہیں۔ ادھر سے جانے والے اکثر اپنی زبان بھی یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔

برکی قبیلے نے کہاں کہاں نقل مکانی کی اور اب وہ کونسی زبانیں بولتے ہیں؟
تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ ارمڑی زبان و ثقافت کو ہجرت، نقل مکانی جیسے بحرانوں اور حکومتی عدم توجہی نے شدید متاثر کیا ہے۔
عارف زمان برکی، ارمڑی زبان کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی برکی ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی صدر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان سے پہلے جالندھر میں برکی خاندانوں کی آٹھ بستیاں تھیں۔ یہ لوگ 1947ء میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور اب پنجابی بولتے ہیں۔
افغانستان کے دو دیہات میں ارمڑ قوم کے لوگ رہتے ہیں جن میں سے ایک برکی راجان اور دوسرا برکی بارق ہے۔ مختلف وجوہ کے باعث برکی بارق گاؤں میں ارمڑی زبان بولنے والے صرف 12 افراد رہ گئے ہیں وہ بھی پشتو مکس ارمڑی بولتے ہیں۔ برکی راجان گاؤں میں ارمڑی بالکل ختم ہو گئی ہے، اب وہاں پشتو اور فارسی بولی جارہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پشاور کے علاقوں ارمڑ پایاں، ارمڑ بالا اور ارمڑ میانہ میں برکی رہتے ہیں مگر وہ بھی اپنی مادری زبان بھول چکے ہیں اور پشتو بولتے ہیں۔
ارمڑی زبان کے محقق ڈاکٹر حکمت یار بتاتے ہیں کہ دہشتگردی کی خلاف جنگ کے دوران کانیگرم سے برکی قبیلے کے لوگ بڑے پیمانے پر بے گھر ہوئے۔ آپریشن کے بعد بیشتر خاندان واپس آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں آباد ہو گئی اور وہیں کی زبانیں اپنا لیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی جانے والوں نے اردو، پشتون علاقوں میں بسنے والوں نے پشتو بولنا شروع کر دی۔ سوشل میڈیا پر برکی نوجوان اردو، پشتو یا انگریزی استعمال کر رہے ہیں۔ یوں ایک طرف نقل مکانی اور دوسری طرف ڈیجیٹل دنیا کے اثرات کے نتیجے میں یہ لوگ اپنی مادری زبان کھو رہے ہیں۔
"ایسی صورت حال میں کمزور زبانیں ہمیشہ دباؤ میں آتی ہیں۔ ارمڑی بھی اب معدومی کے خطرات سے دوچار ہے جو صرف حکومتی سرپرستی اور گھروں میں بولنے سے ہی محفوظ رہ سکتی ہے۔"

ماضی قریب میں ارمڑی آخری سانسیں لے رہی تھی لیکن اب نہیں
سابق بیوروکریٹ اور محقق ڈاکٹر روزی خان برکی نے ارمڑی پر بہت کام کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پشتو، ارمڑی وغیرہ ایرانی زبانوں کے گروپ سے تعلق رکھتی ہیں جو سلک روٹ کی قدیم سکا بدھ بادشاہت کھوٹان کے لوگوں کی ہندوکش آمد کے نتیجے میں وجود میں آئی تھیں۔
'وقت کے ساتھ پشتو مستحکم ہو گئی، ارمڑی کم ہو رہی ہے اور پراچی تقریباً معدومی کے قریب ہے۔'
انڈو ایرانین زبانیں، انڈو یورپین خاندان کی سب سے مشرقی شاخ ہیں جو مشترکہ آباو اجداد (پروٹو-انڈو-ایرانی) سے وجود میں آئیں اور دو اہم گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ایک ہند آریائی کہلاتا ہے جس میں جنوبی ایشیا میں بولی جانے والی ہندی،اردو، مراٹھی، بنگالی وغیرہ شامل ہیں۔
دوسرا ایرانی زبانوں کا گروپ ہے جس کی دو شاخیں ہیں۔ جدید ایرانی لینگویج گروپ میں فارسی، پشتو، کردش وغیرہ آتی ہیں۔ ارمڑی زبان بھی اسی گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔
ڈاکٹر حکمت یار کے مطابق قدیم یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس نے 411 قبل مسیح میں اپنی کتاب میں کچھ ایسے الفاظ استعمال کیے جو ارمڑی زبان سے قریب تر ہیں۔ یوں اس کی عمر ڈھائی ہزار سال بنتی ہے لیکن اگر بابُر نامہ کو دیکھیں تو ارمڑ قوم کابل کے نواح میں آباد تھی۔ اس حساب سے ارمڑی چھ صدی پرانی زبان لگتی ہے۔
عالمی ادارہ برائے تعلیم، سائنس وثقافت (یونیسکو) نے ارمڑی زبان کو 'یقینی خطرے سے دوچار' زبانوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
کانیگرم کے رہائشی ڈاکٹر شاکر اللہ برکی تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ارمڑی زبان ماضی قریب میں آکسیجن ٹینٹ میں پہنچتی دکھائی دیتی تھی جس کا کوئی شاعر تھا نہ ہی گانے والا تھا اور نہ حروف تہجی تھے۔
ارمڑی کی بحالی کا کام 1990ء میں انفرادی سطح پر شروع ہوا، پھر گیت لکھے جانے لگے اور کتابیں بھی چھپیں۔ بعد ازاں چوتھی جماعت تک کا نصاب ترتیب دیا گیا لیکن حکومت نے ارمڑی کو مادری زبانوں کی تعلیم کے پروگرام میں شامل نہیں کیا۔

تحریر، شاعری اور گیت کیسے ارمڑی کو نئی زندگی دے رہے ہیں
ڈاکٹر روزی خان نے 1999ء میں ارمڑی زبان کے حروف تہجی ترتیب دیے اور اپنی تحریروں میں اس کے لیے پشتو رسم الخط استعمال کیا۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ اس زبان کے کل 48 حروف تہجی ہیں جن میں سے 45 پشتو والے اور تین اضافی ہیں۔
"پشتو حروف تہجی بایزید روشان نے ترتیب دیے جن کا تعلق کانيگرم سے تھا۔ اسی وجہ سے ہم نے ارمڑی کے لیے پشتو حروف تہجی کو اپنایا اور اپنی کتاب پشتو رسم الخط میں لکھی۔ دونوں زبانوں کی گرامر ایک جیسی ہے۔"
ڈاکٹر حکمت یار بھی ارمڑی اور پشتو کو بہن زبانیں (سسٹر لینگویجز) سمجھتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول افغانستان میں ارمڑی پر فارسی اور وزیرستان میں پشتو زبان کے زیادہ اثرات ہیں۔
ارمڑی زبان وسیع ذخیرہ الفاظ کی مالک ہے جس کی 300 کے قریب ضرب الامثال اور لگ بھگ 15 لوک کہانیاں ہیں۔ اب اس کی اپنی لغات ہے جو ڈاکٹر روزی خان نے مرتب کی ہے۔ ان ہی کے شعری مجموعہ 'پتھروں میں پھول' سمیت کئی ارمڑی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ گیت وغیرہ بھی لکھے اور گائے جا رہے ہیں۔
عارف زمان برکی مایوس نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب کئی ارمڑی شعراء اور اس زبان کے گیت گانے والے دو تین لوک گلوکار موجود ہیں۔ ان میں گلوگار عدیل برکی خاصے مشہور ہیں جو خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ برکی قبیلے کے لوگ اپنے حجروں اور نجی محفلوں میں شوقیہ گاتے ہیں جن میں لوک داستانیں اور عصری شاعری شامل ہوتی ہے۔ کئی پشتو اور سرائیکی گلوکار بھی ارمڑی گیت گانے لگے ہیں۔
"تاہم ہمیں اپنی مادری زبان ختم ہونے کا خوف ہے، ہم چاہتے ہیں کہ فن، تعلیم و ثقافت اور بول چال کے ذریعے اسے زندہ رکھیں۔"
انہوں نے بتایا کہ برکی ویلفیئر ایسوسی ایشن اور علاقائی زبانوں پر کام کرنے والی تنظیم فورم فار لینگوجیز انشیٹو(ایف ایل آئی) کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ارمڑی مشاعروں کا اہتمام کیا جائے گا۔ معمر افراد کی گفتگو، ارمڑی اقوال اور محاورے بھی ڈیجیٹل ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں گے۔

زبان چاہے جتنی بڑی ہو اگر بچے اسے سیکھنا بند کریں تو وہ کیسے بچ سکتی ہے
یونیسکو، معدومی کے خطرے سے دوچار زبانوں کو چار کیٹیکریز میں تقسیم کرتا ہے؛
پہلی کیٹیگری 'انتہائی شدید خطرے سے دوچار(Critically Endangered)' زبانوں کی ہے جس میں اس زبان کو شامل کیا جاتا ہے جو خاتمے کے قریب ہو، یعنی صرف چند بوڑھے افراد بول سکتے ہوں۔
دوسری کیٹیگری 'شدید خطرے سے دوچار (Severely Endangered)' زبانوں کی ہے جس میں وہ زبان آتی ہیں جن کو معمر اور درمیانی عمر کے لوگ بول رہے ہوں لیکن گھروں میں بچے نہ سیکھ رہے ہوں۔ ایسی زبانیں اگلی ایک دو نسلوں میں معدوم ہو سکتی ہیں۔
تیسری درجہ بندی میں 'یقینی خطرے سے دوچار (Definitely Endangered) مادری زبانیں آتی ہیں جن کو والدین بولتے ہیں مگر بچے نہیں سیکھتے۔ ایسی زبانیں کچھ ہی نسلوں بعد شدید خطرے میں چلی جاتی ہیں۔
چوتھی کٹیگری میں کمزور (Vulnerable) زبانیں آتی ہیں۔
ڈاکٹر روزی خان اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ صحت مند زبان وہ ہے جس کو نئے لوگ بولنا شروع کریں۔ چاہے کسی زبان کو کتنے ہی معمر افراد بولتے ہوں اگر یہ اگلی نسل تک منتقل نہیں ہوتی تو اس کا انجام طے ہے۔ کوئی زبان جتنا بھی طویل عرصے بولی جاتی رہی ہو، اسے بچے سیکھنا چھوڑ دیں تو اس کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔
یونیسکو کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی سات ہزار زبانوں میں سے کم از کم 40 فیصد کو معدومی کے خطرے کا سامنا ہے۔ اوسطاً ہر دو ہفتے بعد ایک زبان معدوم ہو جاتی ہے جس سے کمیونٹیز کا ثقافتی اور فکری ورثہ چھین رہا ہے۔ اس صورت حال سے پچنے کے لیے تمام زبانوں کو زندہ و محفوظ رکھنا اور فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت 20 فروری 2026














