سندھ میں سولر انرجی کو فروغ دینے کے 29 ارب روپے کے منصوبے پر اگست 2025ء سے کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پراجیکٹ انتظامیہ نے بجٹ میں سے لگ بھگ 3 ارب روپے خردبرد کیے ہیں۔
الزامات سندھ کابینہ سے ہوتے ہوئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی تک پہنچ گئے ہیں اور اب محکمہ اینٹی کرپشن معاملے کی تفتیش کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک، جس نے اس پراجیکٹ کے لیے رقم دی تھی، وہ بھی اپنے تئیں تحقیقات کر رہا ہے۔ وزیرِاعلیٰ سندھ نے اس پورے سولر پراجیکٹ کے جامع آڈٹ، تحقیقات اور ذمہ دار کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
یہ تحقیقات کب مکمل ہوں گی؟ کبھی ہوں گی بھی یا نہیں؟ ان کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ کچھ نکلے گا بھی یا نہیں؟ یہ کہنا مشکل ہے البتہ لوک سجاگ نے اس معاملے کی چھان بین کر کے کچھ حقائق معلوم کیے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہ اس معاملے کا ان عام غریب گھرانوں پر کیا اثر پڑے گا جو اس پراجیکٹ سے مستفید ہوئے ہیں۔

سندھ کا سولر انرجی منصوبہ تھا کیا؟
9 جنوری 2019ء کو اسلام آباد میں حکومت پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد سندھ میں سولر منصوبوں سے بجلی کی پیداوار بڑھانا اور لوگوں تک اس کی رسائی ممکن بنانا تھا۔
ان پراجیکٹس کی مجموعی مالیت میں ساڑھے 10 کروڑ ڈالر تھی جس میں 10 کروڑ ورلڈ بینک اور 50 لاکھ ڈالر حکومت سندھ نے ڈالے۔
اس منصوبے کے چار حصے تھے۔ جس میں سولر پارکس بنانا، سرکاری عمارتوں پر 20 میگا واٹ کے روف ٹاپ سولر پینلس لگانا، 100 یونٹ سے کم بجلی خرچ کرنے والے دو لاکھ گھرانوں کو سولر ہوم سسٹمز فراہم کرنا اور نوجوانوں کی تکنیکی تربیت (کپیسٹی بلڈنگ) کرنا شامل تھا۔
یہ منصوبے صوبائی محکمہ توانائی کی زیرنگرانی مکمل ہونے تھے جس کے لیے گریڈ 19 کے افسر انجنیئر محفوظ احمد قاضی کو سندھ سولر توانائی منصوبے کا پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
مجموعی طور پر لگ بھگ 29 ارب روپے کے اس پراجیکٹ میں دو لاکھ ہوم سولر سسٹمز (یا سولر کٹس) کی فراہمی کے لیے تقریباً 12 ارب روپے مختص کیے گئے۔
ہر کٹ میں 80 واٹ کا سولر پینل، لوہے کا ماؤنٹنگ فریم، چارج کنٹرولر یونٹ، 18 ایمپئر کی لیتھیم بیٹری، تین ایل ای ڈی بلب، دھاتی ڈی سی پیڈسٹل فین اور موبائل فون چارجنگ کی سہولت شامل تھے۔

سولر کٹس کا ٹینڈر کس نے جیتا؟
پراجیکٹ ڈائریکٹر انجنیئر محفوظ احمد قاضی کے دستخط سے اکتوبر 2023ء میں اخبارات اور ویب سائٹس پر ٹینڈر جاری کیا گیا جس میں بین الاقوامی کمپنیوں سے دو لاکھ سولر کٹس کی فراہمی کے لیے پیشکش طلب کی گئی۔ مذکورہ سامان کی سپلائی کا دورانیہ 18 ماہ مقرر کیا گیا تھا۔
ٹینڈر میں 19 کمپنیوں نے حصہ لیا جن میں سے سب سے کم قیمت کی بولی دینے والی چینی کمپنی لیمی (LEMI) کو ٹھیکہ الاٹ ہوا۔ پاکستان میں رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے لیمی نے پاکستانی کمپنی 'بیانڈ گرین سولر' کو شراکت دار بنایا اور سپلائی شروع کر دی۔
غریب گھرانوں کو سولر کٹس کی تقسیم 31 جولائی 2025ء کو مکمل ہونا تھی لیکن یکم دسمبر 2025ء کے سندھ کابینہ کے اجلاس میں معلوم ہوا کہ اس وقت تک ایک لاکھ 70 ہزار ہوم سولر کٹس ہی تقسیم اور تنصیب ہو پائی تھیں اور بقایا 30 ہزار ابھی باقی ہے۔
سندھ سولر انرجی پراجیکٹ البتہ اگست سے ہی کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے جب ابھی یہ اپنا نصف ہدف بھی پورا نہیں کر پایا تھا۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے سیکریٹری کے احکامات کیوں نہیں مانے؟
دستیاب دستاویزات کے مطابق محکمہ توانائی نے 7 اگست کو سیکریٹری انرجی کی ہدایات پر پراجیکٹ ڈائریکٹر انجنیئر محفوظ احمد قاضی اور ڈپٹی ڈائریکٹر نیاز احمد جنجھی کو دو مراسلے بھیجے جن میں انہیں کہا گیا کہ پراجیکٹ کی مدت 31 جولائی کو مکمل ہو چکی، وہ دفاتر میں کیوں بیٹھے ہیں۔
"پراجیکٹ کے کھاتے سے رقم کا لین دین بند کر دیں اور اگر کوئی رقم واجب الادا ہو تو اس کے لیے باضابطہ منظوری لی جائے۔"
محکمہ توانائی نے 11 اگست کو ایک اور مراسلے میں انجنیئر محفوظ قاضی کو انتباہ کیا گیا کہ وہ محکمانہ احکام کی تعمیل میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے چیک بک سیکشن افسر ایڈمن کے پاس جمع کرانے اور رقم نہ نکلوانے کی ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا لہٰذا تین دن میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔
انجنیئر محفوظ احمد قاضی نے 19 اگست کو سیکرٹری انرجی کو وضاحت بھیجی کہ ابھی پراجیکٹ کا کافی کام باقی ہے اور یہ بات سندھ حکومت اور ورلڈ بینک دونوں کی متعلقہ دستاویزات میں عیاں ہے۔ چیک بک جمع کرنے کی ہدایات انہیں فون پر دی گئی جو بجائے خود ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔
نئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو کیا معلوم ہوا؟
پراجیکٹ ڈائریکٹر نے سیکرٹری کو یہ بھی لکھا کہ 11 اگست کو محکمہ توانائی کے تین افسران نے پراجیکٹ آفس کراچی کا دورہ کے دوران ان پر دفتر خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا وہ بھی اس مفروضے پر کہ پراجیکٹ مکمل ہو چکا ہے۔ سٹاف کی ہراسانی کے اس واقعے کی تحقیقات کی جائے اور وضاحت طلبی کا نوٹس واپس لیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اس وضاحت کے بعد کو انہیں منصوبے کی تکمیل کے لیے چھ ماہ کا وقت دے دیا گیا۔
تاہم چار ستمبر کو محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے محفوظ احمد قاضی کو سیکرٹریٹ رپورٹ کرنے کے احکام صادر کر دیے۔ اسی روز ہی ایڈمنسٹریشن سروسز گروپ کے افسر جنید اقبال خان کو سندھ سولر انرجی منصوبے کا نیا پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا۔
نئے پراجیکٹ ڈائریکٹر جنید اقبال نے سولر کمپنی لیمی کے درآمدی سامان کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا اور 30 ستمبر 2025ء کو 21 گڈز ڈیکلریشنز (کسٹم ادائیگی کی رسیدیں) ایک خط کے ساتھ چیف کلیکٹر کسٹمز کراچی کو بھیجی دیں۔
کسٹمز حکام سے جواب ملا کہ پانچ رسیدیں درست ہیں جن کی ڈیوٹی ادا کی گئی ہے جبکہ باقی 16 کا کوئی ریکارڈ نہیں یعنی یہ بوگس نکلیں۔
وہ کہتے ہیں کہ تصدیق شدہ پانچ گڈز ڈیکلریشنز کے مطابق امپورٹر کمپنی نے کسٹمز کے کھاتے میں 16 کروڑ 60 لاکھ روپے جمع کرائے جبکہ سولر انرجی پراجیکٹ سے ڈیوٹی کی مد میں تین ارب 40 کروڑ روپے (17 ہزار فی کٹ) وصول کیے۔

پنکھے اور سولر فریم گوجرانوالا سے 'امپورٹ' کر کسٹم ڈیوٹی کلیم کی گئی
جنید اقبال خان بتاتے ہیں کہ اس جعلسازی کی اطلاع جب انہوں نے لیمی کمپنی، ورلڈ بینک اور سیکریٹری محکمہ توانائی کو دی تو کمپنی کے وکلا اور مونیکا نامی چینی خاتون نے ان سے رابطہ کیا۔
"لیمی کا مؤقف ہے کہ ٹیکس کے مراحل مکمل کرانا پاکستانی کمپنی بیانڈ گرین سولر کی ذمہ داری تھی اور یہ کہ مقامی کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔"
لیمی کمپنی نے دو لاکھ سولر کٹس 151.3 ڈالر فی کٹ کے حساب سے چین سے درآمد کر کے دینی تھیں۔ پینلز ڈیوٹی فری تھے جبکہ باقی سامان پر لاگو تمام ٹیکسز کمپنی نے پراجیکٹ انتظامیہ سے لینے تھے۔
جنید اقبال خان کہتے ہیں کہ یہاں سپلائی کیے گئے ڈی سی پیڈسٹل فین اور دھاتی فریم چین کی بجائے گوجرانوالا سے خریدے گئے اور ان کی کسٹم ڈیوٹی بھی کلیم کر دی گئی۔
اس دوران 9 نومبر کو سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر محفوظ احمد قاضی کو معطل کر دیا گیا۔
جنید اقبال کے خط کی بنیاد پر سیکریٹری توانائی نے وزیرا علیٰ کو تفصیلی سمری بھیجی جس کی ابتدائی انکوئری کے بعد وزیر اعلی کے معائنہ، تحقیقات و عملدرآمد ڈیپارٹمنٹ (CMIE&ITD) نے بھی تصدیق کر دی۔
واضح رہے ستمبر 2025ء تک محکمہ توانائی کا قلمدان صوبائی وزیر سید ناصرحسین شاہ کے پاس تھا اور اس کے بعد سے یہ محکمہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ خود دیکھ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ یہ معاملہ یکم دسمبر کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں لے آئے جہاں اسے مزید تحقیقتات کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کر دیا گیا۔
وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے مطابق کابینہ میں بتایا گیا کہ سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کا تقریباً مکمل بجٹ استعمال ہونے کے باوجود سولر پارکس کی تعمیر، روف ٹاپ پینلز کی تنصیب اور گھریلو سولر کٹس کی تقسیم کے مکمل اہداف حاصل نہیں کیے جاسکے۔
وزیرِاعلیٰ نے اس صورت حال پر پورے سولر پراجیکٹ کے جامع آڈٹ، تحقیقات اور ذمہ دار کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

کیا سولر کٹس میعاری ہیں؟
ایک لاکھ 70 ہزار سولر کٹس بجلی کے غریب ترین صارفین میں تقسیم تو ہو گئیں لیکن ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا سامان طے شدہ معیار کے مطابق تھا یا نہیں۔
یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ پراجیکٹ انتظامیہ نے سولر کٹس کی تقسیم و تنصیب کے لیے مرضی کی این جی اوز کا انتخاب کیا۔
ان میں نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (این آر ایس پی)، ہیلتھ اینڈ نیوٹریشنل سوسائٹی (ہینڈز)، سندھ ایگریکلچرل اینڈ فاریسٹری ورکرز کوارڈینیشن آرگنائزیشن (سافکو)، سندھ رورل سپورٹ آرکنائزیشن (سرسو) اور تھر دیپ رورل ڈیویلپمنٹ پروگرام (ٹی آر ڈی پی) شامل ہیں۔
انجنیئر محفوظ قاضی کہتے ہیں کہ انہیں اس لیے منتخب کیا گیا کہ وہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے گھر بنانے کے منصوبے پر کامیابی سےکام کر رہی ہیں اور انہوں نے کٹس کی تنصیب میں اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔
قاضی اپنے اوپر کرپشن کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی تفتیشی ٹیم نے انہیں سنے یا نوٹس دیے بغیر اپنی رپورٹ تیار کی۔
محکمہ اینٹی کرپشن کو تحریری جواب میں ان کا دعویٰ ہے کہ سولر کٹس کے معیار اور ان کی فزیکل تصدیق منیجر کمپونینٹ تھری (سولر ہوم سسٹمز) کی ذمہ داری تھی۔
انہوں نے کمپنی کو کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ادائیگیاں بھی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اور منیجمنٹ یونٹ کے فنانس سپیشلسٹ کی منظوری سے کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں

سندھ میں ڈھائی لاکھ غریب خاندانوں کے لیے مفت سولر کٹس
اب سولر کٹس کی گارنٹی کی ذمہ داری کون لے گا؟
پراجیکٹ حکام کے مطابق سولر ہوم کٹ کی اصل قیمت (بڈ پرائس) 42 ہزار روپے تھی جس پر تقریباً 17 ہزار روپے کے ٹیکسز ہیں اور فی کٹ چھ ہزار صارفین نے جمع کرائے۔ ان کے بقول ہوم سسٹمز کی دو سال کی گارنٹی (انشورنس) ہے، خراب ہوا تو واپس ہوگا۔
راستی کا تعلق ٹنڈو الہیار کے گاؤں فضل چنڈ سے ہے۔ ان کو 6 ہزار روپے کا چالان جمع کروانے کے بعد این آر ایس پی کی طرف سے جو سولر کٹ ملی تھی اس میں شامل بیٹری جلد خراب ہوگئی اور اب چارج نہیں ہوتی۔ راستی کہتی ہیں کہ بیٹری جل گئی ہے۔ انہوں نے این آر ایس پی کے نمائندوں سے دسمبر میں رابطہ کیا کہ وہ بیٹری تبدیل کروا دیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ پراجیکٹ مکمل ہو چکا ہے اب سامان کی تبدیلی وغیرہ سے ہمارا تعلق نہیں۔
بیٹری کا مسئلہ ٹنڈو الہیار کے ارجن ولد منجی کو بھی پیش آیا انہوں نے دو تین بار این آر ایس پی والوں سے رجوع کیا مگر انہیں جواباً بتایا گیا کہ سامان کی خرابی یا تبدیلی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
سندھ سولر منصوبے کے موجودہ سربراہ کے مطابق وارنٹی کی ذمہ داری لیمی کمپنی کی ہے اور این جی اوز ناقص سامان تبدیل کروا کر دینے کی ذمہ دار ہیں۔
100 یونٹ سے کم بجلی خرچ کرنے والے صارفین وارنٹی کلیم کرنے کے لیے کتنی بھاگ دوڑ کر سکتے ہیں؟
تاریخ اشاعت 15 جنوری 2026














