ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

postImg

عظمیٰ اقبال

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

عظمیٰ اقبال

loop

انگریزی میں پڑھیں

وادی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے جنوب مشرق کو جائیں تو 11کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا قصبہ اسلام پور آتا ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ گاؤں زمانہ قدیم سے یہیں آباد ہے لیکن ربع صدی میں یہ کاٹیج انڈسٹری کی شاندار مثال اور سواتی شال/چادر کی تیاری و فروخت کا بڑا مرکز بن چکا ہے۔

شال کی بُنائی اور اس پر کشیدہ کاری (پھلکاری/کڑھائی) یہاں کے لوگوں کا پرانا ہنر ہے مگر اب یہ صرف وادی کی روایت نہیں رہا اور شناخت نہیں بلکہ یہاں کے ہزاروں گھرانوں کا معاشی سہارا بن گیا ہے۔ 

اسلام پور کے 30 کلو میٹر شمال میں تحصیل چارباغ کی رہائشی 36 سالہ شمائلہ بی بی تین سال سے چادروں پر کشیدہ کاری کر رہی ہیں۔ وہ پڑھی لکھی نہیں مگر اتنا کما لیتی ہیں کہ گھر اور بچوں کے نان شبینہ کا  بندوبست کر سکیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کسان ہیں جو اپنے کھیتوں (ایک پانچ کنال اور دوسرا سات کنال کا) میں گندم، مٹر، پیاز، شلجم اور ساگ کاشت کرتے تھے۔ اس سے ہونے والی آمدنی سے ان کا گذر بسر ہو جاتا تھا لیکن 2022ء کے سیلاب نے دونوں کھیت تباہ کردیے۔

وہ کہتی ہیں کہ مہنگائی میں گھر چلانا مشکل ہوا تو انہوں نے مجبوراً چادروں پر پھلکاری شروع کر دی۔ وہ ہر ہفتے دو ڈھائی گھنٹے کا سفر کر کے اسلام پور کے دکانداروں سے صرف اپنے لیے ہی نہیں، گاؤں کی ان 20 لڑکیوں کے لیے بھی چادریں لے آتی ہیں جو ان کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

وہ آرڈر اور معاوضے کی رقم لا کر دینے کے عوض لڑکیوں سے 50 سے 100 روپے فی چادر لیتی ہیں جس سے ان کا سفر کاخرچ نکل آتا ہے اور کچھ اضافی آمدنی بھی ہو جاتی ہے۔

ڈوبتے کو 'سُوئی' کا سہارا

سیلاب نے صرف کسانوں کے کھیت نہیں اجاڑے، کئی لوگوں کے گھر بھی بہا لے گیا۔ پہلے کرونا اور پھر سیلاب کے باعث لاکھوں لوگوں کی آمدنی شدید متاثر ہوئی۔ یہی وہ وقت تھا جب سوات میں بہت سی خواتین نے سوئی دھاگے کو ذریعہ معاش بنا لیا۔

تحصیل مٹہ (سوات) کے گاؤں برتھانہ کی رہائشی حفصہ خانم بتاتی ہیں کہ اسی سیلاب میں ان کا گھر مکمل تباہ ہو گیا اور نوبت فاقوں تک آگئی تھی۔گاؤں کی کچھ عورتیں چادروں پر کڑھائی کرتی تھیں تو ان کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی کام شروع کر دیا۔

اس آمدنی سے انہوں نے پہلے گھر کے کچھ برتن خریدے اور اب گھریلو اخراجات پورے کرنے میں بھی مدد کر رہی ہیں۔

ان کے بقول گھر کی مصروفیات سے وقت نکال کر کشیدہ کاری آسان نہیں لیکن اس کام نے انہیں دوسروں کی محتاجی سے بچا لیا ہے۔

سوات کی خواتین پھلکاری پہلے بھی کرتی تھیں لیکن بدلتے موسمی حالات، بار بار آنے والے سیلابوں، معاشی دباؤ اور سواتی شال کی مانگ نے مل کر یہاں صورت حال تبدیل کر دی ہے۔ خواتین اب خاندانوں کا سہارا ہی نہیں، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا بھی سیکھ رہی ہیں۔

اسلام پور کی رہائشی شاہین بی بی بھی شالوں پر پھلکاری کے کام سے وابستہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ 2019ء میں ان کے ساتھ صرف 15 خواتین کام کرتی تھیں لیکن اب ضلع بھر سے درجنوں خواتین ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اپر سوات کی عورتیں بھی کام لے جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ویسے تو کافی عورتوں نے 2020ء میں وبا کے بعد پھلکاری کا کام شروع کر دیا تھا لیکن سیلاب (2022ء) کے بعد ان  کی تعداد بہت بڑھ گئی۔

"شال سازی نے خواتین کو خودمختار بنایا ہے، ہم میں سے بیشتر اپنے شوہر سے خرچہ نہیں لیتیں الٹا گھر کا بوجھ بانٹ رہی ہیں۔"

کھڈیوں کی کھٹ کھٹ اور دھنک رنگ اون میں لپٹا سوات کا اسلام پور

اسلام پور کی گلیوں میں ہر طرف کھڈیوں (پاور لومز) کی کھٹ کھٹ، اون کی مہک کے ساتھ تاروں پر جھولتے (سوکھنے کے لیے) اونی دھاگے دھنک رنگ محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں کے رہائشی لگ بھگ دو ڈھائی ہزار گھرانوں میں سے 80 فیصد سے زائد شال سازی کے مختلف مراحل سے وابستہ ہیں۔

مقامی تاجروں کا دعویٰ ہے کہ اسلام پور کے ارد گرد پتھروں اور لکڑیوں پر ہندوازم اور بدھ مت کے قدیم نقوش و نگار آج بھی ملتے ہیں جن کی جھلک جدید شالوں پر بھی پائی جاتی ہے۔

ان کے بقول پرانے وقتوں میں برصغیر کے راجے مہاراجے یہاں سے چادریں منگوایا کرتے تھے اور یہ روایت برقرار ہے۔

اسلام پور میں اس وقت روایتی کھڈیوں (پاور لومز) اور نئی مشینوں پر مشتمل 90 کے قریب کارخانے (یا ورکشاپس) کام کر رہے ہیں۔ ان میں باہر سے آئے 20 ہزار سے زائد ہنرمند و مزدور اون کی صفائی، رنگائی، دھاگہ سازی، رنگائی اور شالوں کی بُنائی کرتے ہیں۔

شال سازی کا سارا کام دستی (انسانی ہاتھوں سے) ہوتا ہے۔ اون کی صفائی سے بُنائی تک کے مراحل عموماً مرد سنبھالتے ہیں جبکہ خواتین گھروں میں شالوں پر ڈیزائننگ اور پھلکاری کر کے انہیں دیدہ زیب بناتی ہیں۔

یہاں کی کڑھائی میں استری پھول، مخی پھول، گندا گلے، سندھ یان، تعویز گلی، بریگیٹ گلے، دو سوتی اور غوٹہ پھول زیادہ مشہور ہیں۔

مقامی دکاندار محمد حفیظ الرحمن بتاتے ہیں کہ پھلکاری کرنے والی خواتین کی تعداد 2010ء میں (یہ سوات میں طالبان قبضے، آپریشن کے بعد اور رواں صدی کے پہلے بڑے سیلاب کا وقت تھا) بڑھی۔ پھر سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال سے مزید خواتین اس کام میں آتی گئیں۔

ان واقعات (آپریشن اور سیلاب) نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا۔ کلچرل مسائل کی وجہ سے خواتین باہر کام نہیں کر سکتیں، اس لیے گھروں میں پھلکاری کرنا ان کی مجبوری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہاں کے کچھ تاجر ڈیرہ اسماعیل خان، ہری پور، ملتان اور دیگر علاقوں کی خواتین سے بھی کڑھائی کراتے ہیں لیکن سواتی پھلکاری زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ خواتین ہی اس سارے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

شالوں پر پھول کھلانے والیوں کے حصے میں کیا آتا ہے؟

شاہین بی بی کا کہنا ہے کہ خواتین کو پھلکاری کا معاوضہ کام کی صفائی اور شال پر پھولوں کی تعداد سے حساب دیا جاتا ہے۔ مردانہ شال پر مخصوص قسم کی مختصر کڑھائی ہوتی ہے جبکہ زنانہ شال پر زیادہ اور کئی اقسام کے پھولوں بنانے ہوتے ہیں۔

جو خواتین صفائی سے پھلکاری نہیں کرتیں انہیں کم معاوضہ ملتا ہے جبکہ اچھی کڑھائی کرنے والی خواتین زیادہ کما لیتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ مارکیٹ میں پھلکاری کی مزدوری عام طور پر 300 سے ساڑھے تین ہزار فی شال تک ملتی ہے۔ اگر کسی خریدار نے کوئی خصوصی ڈیزائن تیار کرانا ہو تو وہ کام صرف ماہر خواتین کو دیا جاتا ہے جس کا معاوضہ بڑھ جاتا ہے۔

شمائلہ بی بی کا کہنا کہ وہ چونکہ صفائی سے پھول بناتی ہیں اس لیے انہیں معاوضہ زیادہ ملتا ہے جو تین سے ساڑھے تین ہزار روپے فی چادر ہوتا ہے۔ گھر میں فرصت ہو تو انہیں ایک چادر پر دو دن لگتے ہیں ورنہ تین دن لگ جاتے ہیں۔

"مجبوری میں شروع کیا گیا کام اب میرا شوق اور ذریعہ آمدنی ہے۔ گھر والے مجھے مکمل سپورٹ کرتے ہیں اور گاؤں والے بھی چاہتے ہیں ان کی بچیاں یہ کام سیکھیں۔"

حفصہ بی بی کے مطابق انہیں زیادہ پیچیدہ کشیدہ کاری نہیں آتی اس لیے کم معاوضے والی (700 روپے) چادریں ملتی ہیں۔ گھریلو مصروفیات کی وجہ سے وہ ایک چادر چار یا پانچ دن میں مکمل کر پاتی ہیں لیکن ہاتھ پر کبھی سوئی کا کوئی زخم آ جائے تو وقت زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔

"میں خود اسلام پور نہیں جاتی، ساتھ والے گاؤں کی خواتین سے شالیں منگواتی ہوں اور انہیں کرائے کی مد میں 200 روپے ادا کرتی ہوں۔ ایک یا دو ہفتے وہ خواتین آکر شالیں لے جاتی ہیں اور نئی دے جاتی ہیں۔"

جب بینائی ساتھ چھوڑ دے تو وہ بمبالک کا کام سنبھال لیتی ہیں

شاہین بی بی نے بتایا کہ بعض خواتین کڑھائی یا پھلکاری کرنا نہیں جانتیں یا نظر کمزور ہونے کے باعث نہیں کر سکتیں۔ ایسی خواتین کو بمبالک (شال کے دونوں کناروں پر نکلے دھاگوں کو تاؤ دے کر گانٹھ لگانا) کا کام دیا جاتا ہے۔

ضرورتوں نے بڑی عمر کی خواتین کو بھی شبانہ روز محنت کی طرف دھکیل دیا ہے۔

ساٹھ سالہ زاہدہ بی بی بتاتی ہیں کہ گھر کا کام بہو بیٹیاں کرتی ہیں اس لیے وہ 15/ 20 چادروں کی بمبالک بنا لیتی ہیں جس کا معاوضہ فی چادر کا 15 روپے ملتا ہے۔ اس رقم سے ان کی ذاتی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، بچوں یا شوہر کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔

یعنی کام مل جائے تو یہ خاتون اوسطاً 600 روپے دیہاڑی سے زیادہ نہیں کما پاتی۔ 

اسلام پور کی مارکیٹ سے سواتی شالیں ملک بھر کے مختلف شہروں کے علاوہ مسقط اور سعودی عرب سمیت کئی ملکوں میں جاتی ہیں۔ یہاں دکاندار شال کا پرچون تھوک دونوں کاروبار کرتے ہیں۔

محمد حفیظ الرحمن نے بتایا کہ یہاں شال سازی میں چینی، آسٹریلوی اور مقامی اون استعمال کی جاتی ہے۔ مارکیٹ میں بہترین اون 48 کاؤنٹ اور 72 کاونٹ (کوالٹی کے لحاظ سے) ہے جبکہ سب سے زیادہ استری پھول کی ہے جو مقامی خواتین بناتی ہیں۔

سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے لے کر ہیںڈی کرافٹس کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیوں تک کسی کے پاس کوئی مصدقہ ڈیٹا دستیاب نہیں کہ اسلام پور کی مارکیٹ میں سالانہ کتنی مالیت کا کاروبار ہو رہا ہے۔ کوئی ان خواتین کی درست تعداد بھی نہیں بتا پاتا جو نرم گرم اونی چادروں کو پرکشش اور دیدہ زیب بنا کر یہاں کی کاٹیج انڈسٹری کو چلا رہی ہیں۔

مقامی تاجروں کے مطابق بعض مردانہ سواتی شال 10 ہزار اور زنانہ 30 ہزار تک فروخت ہوتی ہیں۔ تاہم مارکیٹ میں اوسط درجے کی سادہ شال تقریباً دو ہزار روپے تک کی ملتی ہے۔ کڑھائی اور بمبالک کے بعد یہی چادر پانچ سے چھ ہزار میں بکتی ہے مگر پھلکاری پر آنکھیں ضائع کرنے والی خاتون کے حصے میں 6/7 سو روپے سے زیادہ نہیں آتے۔

تاریخ اشاعت 13 فروری 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عظمیٰ بی ایس ماس کمیونیکیشن میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ وہ گزشتہ تین سال سے مختلف اداروں کے لیے سوات سے رپورٹنگ کر رہی ہیں، ان کی رپورٹنگ کا مرکز سماجی مسائل، بالخصوص خواتین کے حقوق اور ماحولیاتی آگاہی ہے

thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
thumb
سٹوری

گندم اگائیں، کھاد کی رقم سندھ حکومت دے گی، پروگرام پر عمل کیسے ہو رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

پشاور میں بے گھر مزدوروں کے لئے فلیٹ پانچ سال سے تیار ہیں لیکن الاٹ کیوں نہیں ہو پا رہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنبی جان اورکزئی
thumb
سٹوری

موسمیاتی انصاف: سیلاب سے متاثر 43 سندھی کسانوں نے دو جرمن کمپنیوں پر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحسن مدثر
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.