آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

postImg

شازیہ محبوب

postImg

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

شازیہ محبوب

احتشام الحق دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے آذربائیجان جا رہے تھے لیکن اسلام آباد ائیرپورٹ پر ایف آئی اے کے حکام نے انہیں نہ صرف بیرون ملک جانے سے روک دیا بلکہ ان کے پاسپورٹ پر 'آف لوڈڈ' کی مہر بھی لگا دی۔

وہ پیشے کے لحاظ سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے کہ ایف آئی نے ایسا کسی قانونی جواز کے بغیر کیا۔
درخواست میں انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بعدازاں ایف آئی اے کے اہلکاروں نے درخواست گزار سے 80 ہزار روپے رشوت لے کر انہی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک سفر کی اجازت بھی دے دی۔

کچھ ایسا ہی پشاور کے محمد منیب (فرضی نام) کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ دس سال سے اٹلی میں کام کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ ماہ پاکستان میں چھٹیاں گزارنے کے بعد وہ واپس اٹلی جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ پر روک لیا گیا جبکہ ان کے پاس کمپنی کا ورک پرمٹ اور تمام سفری و قانونی دستاویزات مکمل تھیں۔

"ایئرپورٹ پر اچانک روکے جانے کے باعث میری فلائٹ مس ہو گئی۔ میں کچھ دوستوں کے ذریعے متعلقہ افراد سے بات کی اور دو لاکھ روپے دے کر خود کو کلیئر کرایا۔ یوں پانچ دن بعد میں اٹلی روانہ ہوا۔ یہ تجربہ میرے لیے نہایت تلخ اور اذیت ناک تھا۔"

جب ان سے نام ظاہر نہ کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ملک واپس بھی آنا ہے تب تو یہ لوگ (ایف آئی اے والے) اس سے بھی برا سلوک کریں گے۔

کمبوڈیا، میانمار جانے والے ہزاروں پاکستانی کہاں غائب ہو گئے؟

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) تصدیق کرتی ہے کہ سال بھر میں 66 ہزار سے زائد مسافروں کو ائیرپورٹس پر روکا گیا جبکہ 2024ء میں ایسےافراد کی تعداد لگ بھگ 35 ہزار تھی۔

پچھلے ماہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے 56 ہزار، متحدہ عرب امارات اور دیگر ریاستوں سے ہزاروں پاکستانی نکالے جانے سے ملک کا تشخص مجروح ہوا۔

ایف آئی اے حکام کہتے ہیں کہ پہلے غیر قانونی طور پر ہجرت کرنے والوں کا رخ یورپ کی جانب ہی ہوتا تھا، اب یہ رجحان مزید کئی ملکوں تک پھیل گیا ہے۔ مثال کے طور پر 24 ہزار سے زائد پاکستانی سیاحتی ویزے پر کمبوڈیا گئے جن میں سے صرف 12 ہزار ہی واپس آئے، باقیوں کا کچھ معلوم نہیں۔

اسی طرح ہزاروں پاکستانی شہری وزٹ ویزے پر میانمار اور دیگر ممالک گئے جن کی بڑی تعداد واپس نہیں لوٹی۔ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ لوگ بھی مشرق بعید کے ملکوں یا کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا جانے کی کوشش میں ہوں گے۔

حکام کے بقول ائیرپورٹس پر روکے جانے والوں میں تقریباً 51 ہزار ورک ویزا، ٹورسٹ اور عمرہ ویزا والے افراد شامل تھے جنہیں مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر روکا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا اصرار ہے کہ انسانی سمگلنگ اور غیرقانونی ہجرت روکنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ائیرپورٹس پر ایسی کارروائیاں انسانی سمگلنگ روکنے میں کتنی مدد گار ثابت ہوں گی؟

ہینلے پاسپورٹ انڈکس ہر سال پوری دنیا کے مضبوط ترین اور کمزور ترین پاسپورٹوں کی ایک لسٹ جاری کرتا ہے۔ 2025ء میں اس نے سنگاپور کے پاسپورٹ کو سب سے مضبوط قرار دیا کیونکہ اس کے حامل دنیا کے 199 میں سے 193 ممالک میں بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔ اس لسٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کے حامل صرف 33 ممالک میں بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں اور اس کا شمار کمزور ترین پاسپورٹوں میں کیا جاتا ہے۔

ائیرپورٹ پر کسے کیوں روکا جاتا ہے؟

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز الزام لگاتے ہیں کہ وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے بعض معاملات میں اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ بیرون ملک ملازمت کے امور میں ذمہ داریاں چار مختلف وزارتوں میں تقسیم ہیں لیکن ایک ادارے یعنی ایف آئی اے پر زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے جو غیر ضروری رکاوٹوں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

امیگریشن امور کے ماہر غلام قاسم بھٹی ایڈووکیٹ بتاتے ہیں کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ (نادرا، امیگریشن) کی تیاری وزارت داخلہ، مہارت اور پرٹیکٹر کی منظوری و دیگر کاغذی کاروائی وزارت اوورسیز کا اختیار ہے جبکہ ویزا وزارت خارجہ (ایمبیسیز) ، ٹکٹ و غیرہ وزارت کامرس اور ایئرپورٹ امیگریشن یا روانگی دوبارہ وزارت داخلہ (ایف آئی اے) کا دائرہ کار ہوتا ہے۔

پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ سید اطہر شاہ کا ماننا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جب ایک مسافر کو وزارتِ اوورسیز سے پروٹیکٹر (ملازمت کا اجازت نامہ) جاری ہو جاتا ہے تو دیگر وزارتوں کا کردار صرف فالو اپ تک محدود ہونا چاہیے لیکن یہاں شبے اور مفروضوں کی بنا پر لوگوں کو روک لیا جاتا ہے۔

"مثال کے طور پر بیشتر خلیجی ممالک میں پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، وہاں ٹیسٹ اور تربیت کے ذریعے نیا لائسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس بنیاد پر کسی مسافر کو مشکوک سمجھنا غیر منطقی ہے"۔

وہ کہتے ہیں کہ وزیرآباد گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے روات تک کے مسافروں پر محض اس لیے سختی کی گئی کہ ان علاقوں کے زیادہ افراد ڈنکی لگانے (غیر قانونی طور پر یورپ جانے)کی کوشش کرتے ہیں۔

پنجاب کے کئی محنت کش کراچی سے سفر اس لیے کرتے ہیں کہ وہاں سے ٹکٹ پر نسبتاً کم رقم خرچ ہوتی ہے اور فلائٹس زیادہ ہوتی ہیں مگر انہیں بھی مشکوک قرار دے کر روکا گیا۔ 

"مجھے نہیں معلوم کہ ان اقدامات سے ہیومن ٹریفکنگ رکے گی یا نہیں لیکن اوورسیز لیبر کو مشکلات ضرور پیش آ رہی ہیں۔ تاہم اب کچھ بہتری آئی ہے، زیادہ تر وزٹ ویزے یا نامکمل دستاویزات والوں ہی کو روکا جا رہا ہے۔"

کیا روکے جانے والے افراد اگلی پروازوں سے بیرون ملک چلے گئے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے ایک پٹیشنر اور قانون دان علی رضا کہتے ہیں کہ مسافروں کو غیر واضح وجوہ پر آف لوڈ کرنا غیر قانونی عمل ہے جو رشوت یا رقم کے لین دین کا راستہ کھول دیتا ہے اور ایسی کئی شکایات آ رہی ہیں۔

تاہم چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز سید رفیع اللہ نے لوک سجاگ کو بتایا کہ ابھی تک ان کے سامنے آف لوڈنگ کا ایسا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا جس میں اتنے شواہد ہوں کہ وہ کوئی تحقیقات کرائیں یا متعلقہ حکام سے بات کریں۔

"پھر بھی متاثرہ افراد کمیٹی میں اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔"

وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ملکی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا تو اس کے خلاف کارروائی ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے۔ ہر شخص کو قانونی جانچ پڑتال کے بغیر جانے دیا جائے تو نگرانی کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔

اسلام آباد کے قانون دان علی رضا کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے میں کچھ اہلکاروں کے تبادلوں اور بعض کے خلاف ہیومن ٹریفکنگ کے مقدمات درج ہونے کے بعد آف لوڈنگ کو بطور 'کارکردگی' پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 لیکن کیا آف لوڈ کیے گئے ہزاروں افراد سے متعلق کوئی انکوائری ہوئی یا وہ کسی ریکارڈ کے بغیر ہی اگلی فلائٹس پر روانہ ہو گئے؟ ایسا کچھ سامنے نہیں۔
آف لوڈ ہونے والے مسافر باہر جانے میں ناکام ہوئے ہوں یا بالاخر کامیاب ان کا نقصان لاکھوں میں ہوا ہے۔

'لوگ ڈنکی لگانے کے راستے ڈھونڈتے ہی رہیں گے'

ترجمان ایف آئی اے اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ کہ شہریوں کو بلاوجہ روکا جا رہا ہے۔ پاکستانی ایئرپورٹس سے روزانہ ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں جن میں سے صرف چند کو ہی سفر کی اجازت نہیں دی جاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ مسافروں کی سکریننگ کسی ایک افسر کی صوابدید نہیں بلکہ باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے جس میں ویزے کی نوعیت، ہوٹل بکنگ، مالی حیثیت اور سفری تاریخ سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ نامکمل یا مشکوک دستایزات پر ہی کی مسافر آف لوڈ کیا جاتا ہے۔

ایف آئی اے حکام کہتے ہیں کہ انسانی سمگلنگ اور غیرقانونی ہجرت ملکی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے جانوں کے ضیاع، کشتیوں میں ہلاکتوں، گرفتاریوں اور ڈی پورٹیشنز کو روکنے کے لیے سخت جانچ پڑتال کے اقدامات ضروری ہیں۔

ریٹائرڈ میجر بیرسٹر محمد ساجد مجید امیگریشن، سروسز لاز اور وائٹ کالر کرائمز انویسٹی گیشن و لیٹیگیشن کے ایکسپرٹ ہیں۔

وہ اتفاق کرتے ہیں کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں ضروری ہیں مگر پاسپورٹ پر لگنے والی ریجیکشن سٹیمپ کسی بھی شہری کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس سے ناصرف ان کا بیرونِ ملک سفر کا حق متاثر ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں بیرون ملک ملازمت کے دروازے بھی بند ہو سکتے ہیں۔

"نوجوانوں میں مایوسی پھیلانے، قیمتی افرادی قوت کے ضیاع اور ملک کو زرِمبادلہ سے محروم کرنے والے اقدامات سے گریز کرنا ہو گا"۔

سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ اور سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے عمار جعفری کا ماننا ہے کہ ہیومن ٹریفکنگ کا مسئلہ آف لوڈنگ سے حل نہیں ہو گا بلکہ نوجوانوں کو روزگارکے متبادل مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

"70ء کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کو مستری مزدوروں جیسی غیرہنرمند افرادی قوت کی ضرورت تھی مگر نئی ٹیکنالوجی کے دور میں اب ایسی لیبر کی کہیں ضرورت نہیں رہی۔ جب روزگار اور ہنر نہیں ہو گا اور راستے بند کیے جائیں گے تو لوگ ڈنکی لگانے کے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں"۔

وہ کہتے ہیں کہ پائیدار حل تو یہی ہے کہ ملک میں روزگار کا بندوبست کیا جائے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ نوجوانوں کو اُن شعبوں میں تربیت دی جائے جن کی عالمی سطح پر مانگ بڑھ رہی ہے۔ قانونی ویزے کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ وہ بیرونِ ملک قانونی اور باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

تاریخ اشاعت 14 جنوری 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

شازیہ محبوب اسلام آباد میں مقیم ایک تحقیقی صحافی ہیں۔

thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

گندم اگائیں، کھاد کی رقم سندھ حکومت دے گی، پروگرام پر عمل کیسے ہو رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

پشاور میں بے گھر مزدوروں کے لئے فلیٹ پانچ سال سے تیار ہیں لیکن الاٹ کیوں نہیں ہو پا رہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنبی جان اورکزئی
thumb
سٹوری

موسمیاتی انصاف: سیلاب سے متاثر 43 سندھی کسانوں نے دو جرمن کمپنیوں پر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحسن مدثر
thumb
سٹوری

بھورے ریچھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ: دیو سائی کے بادشاہ کی سلطنت کن خطرات میں گھری ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

پاکستان میں بڑھاپا خاموش بحران کی صورت کیوں اختیار کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

خواجہ سراؤں کا جہنم: خیبر پختونخوا جہاں مقتولین کو دفنانے تک کی اجازت نہیں ملتی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceخالدہ نیاز
thumb
سٹوری

آخر ٹماٹر، سیب اور انار سے بھی مہنگے کیوں ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

کھیت ڈوبے تو منڈیاں اُجڑ گئیں: سیلاب نے سبزی اور پھل اگانے والے کسانوں کو برسوں پیچھے دھکیل دیا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحسن مدثر
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.