سیتا بائی نے اپنے گاؤں میں کنویں کے بغیر زندگی کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ پچھلے 40 برس سے اسی کنویں کا پانی استعمال کر رہی تھیں۔ سندھ کے صحرائے تھر میں واقع ان کا گاؤں گوڑانو اس کنویں کی بدولت شاد و آباد تھا۔ لیکن دو سال پہلے انہونی ہوئی۔کنویں کا پانی زہریلا ہو گیا۔
اب گاؤں والے اس کنویں پر ایسے جاتے ہیں جیسے کوئی اپنے قریبی عزیز کی قبر پر جاتا ہے۔ سیتا بائی اور گاؤں کے اور لوگوں نے اسے کانٹے دار جھاڑیوں سے ڈھانپ کر بند کر دیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے اس کنویں سے ایک کلومیٹر دور ایک وسیع جوہڑ نمودار ہوا تھا جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے بھرا ہوا ہے۔
یہ ایک مصنوعی ذخیرہ (ریزروائر) ہے جہاں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (SECMC) کانکنی کے عمل کے دوران نکلنے والا آلودہ پانی پھینکتی ہے۔ اس کمپنی کی ذیلی کمپنیاں یعنی اینگرو تھر، حبکو تھل نووا اور تھر انرجی یہاں پاور پلانٹس چلاتی ہیں جو قریب ہی کان سے نکالے گئے تازہ کوئلے کو جلا کر بجلی پیدا کرتے ہیں۔
کمپنی کو کول بلاک ٹو الاٹ کیا گیا ہے جو تھر کے نو ہزار مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے کول فیلڈ کا حصہ ہے۔ ریت کے ان ٹیلوں کے نیچے کم معیار کے کوئلے (لگنائٹ) کے لگ بھگ 175 ارب ٹن ذخائر موجود ہیں۔
اینگرو کول کمپنی اپنے ایک ہزار 320 میگاواٹ کے پاور پلانٹس چلانے کے لیے یہیں سے لگنائٹ (جسے براؤن کوئلہ بھی کہا جاتا ہے) نکالتی ہے اور اس کے لیے اوپن پٹ مائننگ کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں کوئلے تک پہنچنے کے لیے زمین کی سطح کو تہہ در تہہ چھیلا جاتا ہے اور جب سیکڑوں فٹ گہری ریت ہٹا دی جاتی ہے تو کوئلہ تو نکل آتا ہے لیکن بستیوں و چراگاہوں کی جگہ دیوہیکل گڑھے بن جاتے ہیں۔
اس کام کے لیےکان کے زیرِ زمین پانی مسلسل باہر نکالنا پڑتا ہے۔ کچھ زیرِ زمین معدنیات مثلاً پائریٹ جب ہوا اور پانی سے ملتے ہیں تو تیزاب پیدا کرتے ہیں۔ یوں اوپن پٹ مائننگ تیزابی فضلے (ایسڈ مائن ڈرینیج) پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ دھونے اور بجلی پیدا کرنے کے عمل سے نکلنے والے دیگر فضلے بھی اسی پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
کمپنی یہ انتہائی زہریلا فضلہ 35 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے گوڑانو ریزروائر میں منتقل کر دیتی ہے جو اتنا بڑا ہے کہ مقامی لوگ اسے 'گوڑانو ڈیم' کہتے ہیں۔
تھر کے کنووں میں زہر کس نے گھولا؟
گوڑانو کے لوگوں کو آج بھی 2018ء کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب کان سے نکلنے والا فضلہ پہلی بار دیوہیکل پائپوں کے ذریعے ان کے گاؤں کے قریب اس ذخیرے تک پہنچایا گیا تھا۔
گاؤں کی معمر خاتون سیتا بائی دکھ کے ساتھ بتاتی ہیں کہ گوڑانو ڈیم بننے کے بعد تین سال تک کنویں بالکل ٹھیک تھے۔ چوتھے سال پانی میں ہلکی سی کڑواہٹ آنا شروع ہوئی اور چھٹے سال یہ زہریلا ہو گیا۔ ساتھ ہی کنویں میں پانی کی سطح بھی بلند ہو گئی۔
لیبارٹری ٹیسٹ بھی سیتا بائی کے مشاہدے کی تصدیق کرتے ہیں۔ 2022ء میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیویلپمنٹ (پرائیڈ) کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ گوڑانو ریزروائر سے زہریلے مادوں کے رِساؤ نے کم از کم 12 قریبی دیہات کے زیرِزمین پانی کو آلودہ کر دیا ہے جس سے 20 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
پرائیڈ سے وابستہ ریسرچ سکالر مہوش لغاری نے لوک سجاگ کو بتایا کہ گوڑانو کے کنوؤں سے لیے گئے نمونے پینے کے پانی کے کسی ایک بھی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
Toxic water in Gorano Dam
لیکن نقصان صرف میٹھے پانی کے کنوؤں تک ہی محدود نہیں رہا۔
آلودہ پانی کا پھیلتا ذخیرہ کھیتوں اور چراگاہوں کو بھی نگل گیا ہے۔ جو درخت کبھی سایہ فراہم کرتے تھے وہ اب ماچس کی جلی ہوئی تیلیوں کی طرح کھڑے ہیں۔
ایک اور متاثرہ شخص لیلا رام ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ یہاں کبھی باجرہ، جوار اور مونگ کی فصلیں اگتی تھیں جو لوگوں کی زندگی اور معیشت کا سہارا تھیں لیکن بلاک ٹو سے آنے والے فضلے نے اس زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔
کنوؤں کے ضیاع کا ازالہ کرنے کے لیے کمپنی نے علاقے میں پینے کے پانی کے لیے چند آر او فلٹر پلانٹ لگائے ہیں جو دن میں صرف چند گھنٹے چلتے ہیں۔ اس دوران لوگ اپنے اپنے برتن اور کین لے کر دوڑ پڑتے ہیں تاکہ جتنا پانی میسر ہے بھر لیں۔
مہوش لغاری دعویٰ کرتی ہیں کہ آر او پلانٹس کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں۔ جب سے لوگوں نے یہ پانی پینا شروع کیا ہے انہیں جوڑوں کے شدید درد کی شکایت ہونے لگی ہے۔
اتوار کے روز آپریٹر کی چھٹی کے باعث پلانٹ بند رہتا ہے جبکہ کنویں کبھی بند نہیں ہوتے تھے اور لوگ خود ان کے مالک تھے۔
گوڑانو گاؤں کو کمپنی سے ملنے والا ایک اور 'تحفہ' ایک چھوٹا سا پارک ہے۔ لیلا رام اس ستم ظریفی پر ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا صحرائے تھر کو دیکھنے آتی ہے کیونکہ یہ خود ایک قدرتی پارک ہے۔
کمپنی کے بنائے پارک کے جھولے اور سلائڈز زنگ آلود ہو چکے ہیں جنہیں یہاں کے بچوں نے کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔
The RO plant was found fenced off and closed for a break during our visit.
دھرتی جائے کے دکھ کا مداوا کون کرے گا؟
شاعر امام علی جھنجھی کا تعلق وکڑیو گاؤں سے ہے جو بلاک ٹو میں ہونے والی کان کنی سے متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے 2008ء میں کان کنی شروع ہونے سے پہلے ایک نظم لکھی تھی جس میں انہوں نے اپنے لوگوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا تھا جو ان کے روزگار اور طرزِ زندگی کو لاحق تھے۔
میں روؤں گا اور تم بھی روؤ گے
جب ہم دوسروں کے پاؤں پکڑیں گے
پھر تم ہی مجھ سے پوچھو گے
ہمارا آشیاںہ کہاں ہے
ہم تو سادہ لوح دھرتی جائے ہیں
(امام علی جھنجھی؛ سندھی سے ترجمہ)
امام علی کہتے ہیں کہ انہوں نے خبردار کر دیا تھا کہ ترقی کے بینڈ باجے جلد صحرا اور اس کے لوگوں پر نحوست کے سائے بن جائیں گے۔ اگرچہ اُس وقت ان کی بات چند
افراد ہی سمجھ پائے تھے لیکن 2013ء میں جب کمپنیوں نے زمینوں پر قبضے کا آغاز کیا تو لوگوں نے احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں میں ان کی نظم پڑھنا شروع کر دی۔
گوڑانو ڈیم سے متاثرہ دیہات کے لوگوں نے اپنے علاقے سے گندے پانی کا یہ جوہڑ منتقل کرنے کے مطالبے پر اسلام کوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔
گوڑانو کے رہائشی بھیم راج استاد اور سماجی کارکن ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہ دھرنا جون 2016ء میں شروع ہوا تھا جس میں عورتیں بھی آگے آگے تھیں اور یہ مسلسل 635 دن جاری رہا تھا۔ لیکن حکام کے پاس ان کے تمام سوالوں کا ایک ہی جواب تھا کہ کول مائننگ منصوبہ قومی ترقی کا معاملہ ہے اور مقامی لوگوں کو عظیم تر قومی مفاد کو سامنے رکھ کر سوچنا چاہیے، قربانی دینی چاہیے۔
امام علی بہت افسردہ ہیں۔
"ہمیں ترقی کا دشمن اور غدار کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ہمارے لوگ جواباً پوچھتے ہیں کہ کیا ہم پاکستان نہیں؟ ہمارے نقصان اور ہمارے دکھ درد کا کیا؟"

Residents of Gorano in the protest camp against the Gorano Dam
اب امام علی نے نقصانات کا ریکارڈ رکھنے کی ذمہ داری بھی خود سنبھال لی ہے۔
"تھر کی 70 فیصد آبادی کا دارومدار مویشیوں پر ہے مگر چراگاہیں سکڑ چکی ہیں۔ کان کنی ہماری چراگاہوں سے صرف دو کلومیٹر فاصلے تک پہنچ چکی ہے۔ ہمارے پرانے کنویں 160 سے 175 فٹ گہرے تھے لیکن کانکنی کے باعث زیرِ زمین پانی بہت نیچے چلا گیا اور جو بچا وہ کڑوا ہے۔"
وہ دور ٹیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں 80 کنویں تھے لیکن اب ایک بھی کارآمد نہیں رہا۔ کمپنی کے بور ہولز نے گھروں کے نیچے سے میٹھا پانی کھینچ لیا ہے۔ اب لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہیں اور یہاں ایک کین 50 روپے کا ملتا ہے۔ یہ اس علاقے کے لیے بہت بڑی قیمت ہے جہاں روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
تھر واسی سے بلاک ٹو کا رہائشی بننے تک
وَکڑیو کے ساتھ ایک ستم اور بھی ہوا۔
بلاکوں کی جو لکیریں انجینئروں اور دفتری بابووں نے مل کر کھینچیں ان کے مطابق یہ گاؤں بلاک تھری میں آتا ہے اور بلاک تھری میں کانکنی کا کام ابھی شروع نہیں ہوا لیکن وَکڑیو بلاک ٹو میں ہونے والی کانکنی سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے مگر چونکہ یہ دوسرے بلاک میں واقع ہے اس لیے یہ کسی قسم کے معاوضے، ازالے یا سرکاری توجہ کا مستحق نہیں مانا جاتا۔
امام علی بے بسی سے کہتے ہیں کہ وہ (کمپنی والے) یہاں پانی تک نہیں دیتے کیونکہ ہم لوگ بلاک تھری کے رہائشی ہیں۔
"بھائی، یہ بلاکس تو آپ نے بنائے ہیں۔ ہمارے لیے تو یہ ایک ہی گاؤں ہے، ایک زمین اور ایک ہی آسمان ہے۔ مگر اب ہم اپنے گاؤں کے باشندے ہونے کے بجائے 'بلاک تھری میں رہنے والے' بن چکے ہیں۔" وہ تلخ ہنسی ہنستے ہیں۔
بلاکس کی تقسیم بنیادی سہولیات میں بھی رکاوٹ بن گئی ہے۔
امام علی بتاتے ہیں کہ یہاں بجلی کے ٹوٹے تار لٹکتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی پندرہ دن بجلی نہیں آتی کیونکہ واپڈا کے اہلکار اندر آنے کی اجازت حاصل نہیں کر پاتے۔ کہا جاتا ہے کہ اندر چینی موجود ہیں اور یہ سی پیک اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔
"جب بجلی نہیں ہوتی تو پمپ نہیں چلتے اور ہمیں پینے کا پانی بھی نہیں ملتا۔"
وہ سمجھتے ہیں کہ خود ساختہ حد بندیاں مکینوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھنے کا ایک بہانہ بن چکی ہے۔
انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ کبھی کبھار تھر فاؤنڈیشن کا کوئی نمائندہ کسی شاعر کی سالگرہ پر کیک لے کر آ جاتا ہے۔ تاہم وہ اس 'کھوکھلی نمائشی ہمدردی' سے بالکل متاثر دکھائی نہیں دیتے۔ (تھر فاؤنڈیشن، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کا ذیلی ادارہ ہے جس کا مقصد کمپنی کی سماجی ذمہ داریاں نبھانا ہے۔)
بے بسی اور مایوسی کے عالم میں وہ افق کی طرف کھلے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہیں گویا حکام سے مخاطب ہوں۔
"جو لینا ہے لے لو، آپ نے ویسے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ سب کچھ لینا ہے۔"

بِٹو: زہریلی کیچڑ کا سیلاب
تھر مون سون کے سہارے جیتا ہے۔ جولائی، اگست ہی دو مہینے ہوتے ہیں جب یہاں بارش ہوتی ہے۔ اچھی بارش ہو جائے تو زیرِ زمین پانی بحال ہو جاتا ہے اور تالاب بھر جاتے ہیں۔ یہ تالاب جنہیں مقامی زبان میں 'ترہائی' کہا جاتا ہے سالانہ بارشوں کے بعد پانچ سے چھ ماہ تک انسانوں اور مویشیوں کو سیراب رکھتے ہیں۔
مہوش لغاری بتاتی ہیں کہ زہریلے پانی کے ذخیرے نے کھاریو غلام شاہ گاؤں کی سب سے بڑی ترہائی کو تباہ کر دیا ہے۔ قریبی گاؤں جنڈو درس میں بھی تین قدرتی ذخائر برباد ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً 10 ہزار مویشی پینے کے پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
دیہاتی ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں جسے وہ 'بٹو' کہتے ہیں۔ بلاک ٹو میں کان کنی تقریباً 122 مربع کلومیٹر (30 ہزار ایکڑ سے زائد) رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ کول مائنز سے نکالی گئی آلودہ مٹی کو گڑھوں کے کناروں پر بڑے بڑے ڈھیروں کی صورت میں جمع کر دیا جاتا ہے جب بارش ہوتی ہے تو ان پہاڑیوں سے پانی بہہ کر زہریلے کیچڑ کے سیلاب کی طرح قریبی دیہات میں داخل ہو جاتا ہے۔
دیہاتیوں نے بتایا کہ 2023ء میں شدید بارشوں کے دوران ایسا ہی ایک سیلاب آیا جس نے کھاریو غلام شاہ اور مہران پوٹو کے تقریباً 200 گھروں کو ڈبو دیا۔ اس بِٹو سیلاب نے ان کے قبرستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور قبروں سے ہڈیاں باہر آ گئیں۔
یہ سیلاب زراعت کے لیے نہایت تباہ کن ہیں۔ پانی کے ساتھ آنے والی کیچڑ اور راکھ جب سوکھتی ہے تو زمین پر سخت تہہ جم جاتی ہے جس پر کوئی فصل نہیں اُگ سکتی۔
اب تک کان کنی کرنے والی کمپنی نے کھاریو غلام شاہ کے ان کسانوں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جن کے کھیت اس زہریلے کیچڑ کے سیلاب سے تباہ ہو گئے۔ جنڈو درس کے چند کسانوں کو فی ایکڑ صرف 15 ہزار روپے ادائیگی کی گئی جو ان کی زرخیز زمین کی اصل قیمت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
جب لوک سجاگ نے اس نقصان کے بارے میں کمپنی سے پوچھا تو جواب ملا: "ہمیں زرعی زمین یا چراگاہ کے نقصان سے متعلق کبھی کوئی باضابطہ رپورٹ، شکایت یا دعویٰ موصول نہیں ہوا۔"
متاثرہ لوگوں میں سے بہت سے افراد سماجی طور پر پسماندہ ہندو برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں دلت بھی کہا جاتا ہے۔ وہ کبھی اپنی آبائی زمینوں پر جوار، باجرہ، مونگ اور تل کاشت کرتے تھے۔
مہوش لغاری سوال اٹھاتی ہیں کہ ان زمینوں سے حاصل ہونے والی موسمی فصلوں اور خاندانوں کے غذائی تحفظ کے مقابلے میں 15 ہزار روپے کی حیثیت ہی کیا ہے؟
تھر کول کی آلودگی اور ڈیزل ٹرک کے زمین کے گرد ڈھائی لاکھ چکر
تھر کے کول پاور پلانٹس میں دو بنیادی ٹیکنالوجیز استعمال ہو رہی ہیں: سرکولیٹنگ فلوئیڈائزڈ بیڈ (سی ایف بی) اور سب کریٹیکل پلورائزڈ کوئلہ بوائلرز۔ ان کے ماحولیاتی اثرات کو سمجھنے کے لیے لوک سجاگ نے فن لینڈ میں قائم ادارے سنٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ائیر کے مرکزی تجزیہ کار لاوری مائیلیورتا سے آن لائن بات کی۔
Fencing around Warvai village
وہ آلودگی کے نقطہ نظر سے تھر کے کوئلے کی کوالٹی پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لِگنائٹ خصوصاً دو عناصر، سلفر اور پارے (مرکری) کی آلودگی کا زیادہ مسئلہ پیدا کرتے ہیں کیونکہ ایک یونٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے بہتر معیار کے کوئلوں کی نسبت لگنائٹ کی زیادہ مقدار جلانا پڑتی ہے۔ انہیں استعمال کرنے والے پاور پلانٹس سب کریٹیکل کہلاتے ہیں۔
ان میں مرکری کو کنٹرول کرنا خاص طور پر مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ مختلف کیمیائی شکلوں میں موجود ہوتا ہے۔ تھر کول میں عموماً ایلیمنٹل مرکری پایا جاتا ہے جسے علیحدہ کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ اسی لیے لگنائٹ پلانٹس کا مرکری اور سلفر کا فی بجلی یونٹ اخراج زیادہ ہوتا ہے۔
ان کے مطابق یہ منصوبے کئی انواع کی آلودگی پھیلاتے ہیں جن میں سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز، مرکری اور مختلف اقسام کا ذراتی مادہ شامل ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق سب کریٹیکل کول پاور پلانٹس سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والے ذرائع توانائی میں شامل ہیں۔ ایک عام سب کریٹیکل پلانٹ فی کلو واٹ آور بجلی پر تقریباً 835 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے۔
مائیلیورتا کے مطابق تھر کے فعال کوئلہ پاور پلانٹس سالانہ تقریباً 71 ہزار ٹن تیزابی گیسیں (سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز)، ایک ہزار 200 کلوگرام مرکری اور ایک ہزار800 ٹن ذراتی مادہ خارج کرتے ہیں۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ اخراج اتنا ہے جیسے ایک بھاری ڈیزل ٹرک کرہ ارض کے گرد ڈھائی لاکھ چکر لگانے کے دوران خاج کرے گا۔ "یا یوں سمجھ لیں کہ یہ اخراج بنگلہ دیش کے پورے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے اخراج کے برابر ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ منصوبے پاکستان کی پہلے سے خراب فضائی صورت حال کو مزید بگاڑ دیں گے۔ فضا میں نظر آنے والی راکھ اس بات کا ثبوت ہے کہ ذرات کو کنٹرول کرنے کے نظام درست طریقے سے کام نہیں کر رہے۔
مسئلہ پالیسی سازوں کے ارادوں کا ہے
مائیلیورتا زور دے کر کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ آلودگی کو کم کرنے۔ کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی دستیاب ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ پالیسی سازوں کا مطمح نظر کیا ہے؟ وہ چاہتے کیا ہیں؟ انہوں نے آلودگی سے متعلق کس نوعیت کے اہداف مقرر کیے ہیں۔
وہ اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے مثال دیتے ہیں کہ تھر کے کسی بھی پلانٹ کی انوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ (ماحولیاتی اثرات کی) رپورٹ میں مرکری پر قابو پانے کے طریقہ کار کی تفصیل موجود ہی نہیں بلکہ مرکری کے اخراج کو اصل سے بہت کم ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ بات معنی کھو دیتی ہے کہ مرکری پر قابو پایا جا بھی رہا ہے یا نہیں۔
Plants in Block 1 emitting smoke into the air
مائیلیورتا، ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے چائنا کلائمیٹ ہب میں سینئر فیلو بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تکنیکی طور پر اخراج پر قابو پانے کے کہیں بہتر نظام دستیاب ہیں۔ اگر آلات کسی چینی کمپنی نے فراہم کیے تو وہ سخت معیارات پر پورا اترنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ وہ اپنے ملک میں ایسا ہی کرتی ہیں اور یہی بات مغربی سپلائرز کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔
وہ اپنی بات دہراتے ہیں کہ اصل مسئلہ ان معیارات کا ہے جنہیں پاکستانی حکام نے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں آلودگی کے اخراج سے متعلق ڈیٹا کی عدم دستیابی بھی حقائق تک پہچنے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں اخراج کا ڈیٹا کہیں زیادہ آسانی سے مل جاتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے نیٹ زیرو 2050ء منظرنامے کے مطابق کوئلے کے استعمال میں فوری کمی ضروری ہے جس کے تحت 2030ء تک کول پاور پیداوار میں 55 فیصد کمی (2022ء کے مقابلے میں) اور 2040ء تک اس کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ جبکہ پاکستان اس کے بالکل الٹی سمت میں جا رہا ہے۔
پیرس معاہدے کے تحت جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ ( نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن- این ڈی سی) میں پاکستان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2035ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 17 فیصد غیر مشروط کمی کرے گا جو پہلے ہی ایک نہایت کم ہدف ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ 2030ء تک توانائی کے مجموعی نظام میں 62 سے 69 فیصد حصہ قابلِ تجدید (سولر، ونڈ وغیرہ) توانائی کا ہو گا۔
لیکن توانائی بحران کے حل کے لیے 'دیسی کوئلے' پر انحصار کر کے پاکستان فضا میں بے تحاشا آلودگی شامل کر رہا ہے جو ان وعدوں کی مکمل نفی کرتا ہے۔
سستی بجلی کا مہنگا فسانہ
'تھر کول کے ذخائر آئندہ 200 برسوں تک مسلسل ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کی موجودہ نصب شدہ پیداواری صلاحیت اس سے آدھی ( 46 ہزار میگاواٹ) ہے۔'
اس طرح کے عوامی بیانیے تھر کول کو ایک ایسی جادوئی چھڑی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو محض ایک جنبش میں ملک کے توانائی بحران کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ یہ راگ الاپنے والوں کا خیال ہے کہ مقامی کوئلہ سے بجلی بنا کر ملک توانائی میں خودکفیل بھی ہو جائے گا اور عوام بھی سستی بجلی میں موج کریں گے۔

تو حقیقت کیا ہے؟ کیا تھر کول کی بجلی واقعی سستی ہے؟ اور کیا تھر کا کوئلہ ملک کی قسمت بدل سکتا ہے؟
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے اکتوبر 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی کوئلے سے بجلی بنانے کی لاگت 13 روپے جبکہ درآمدی کوئلے سے یہ لاگت 14.39 روپے فی یونٹ ہے۔
اسی ایک بات سے مفت یا سستے مقامی کوئلے کے تمام تر دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔
توانائی کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے ادارے 'الٹرنیٹو لا کلیکٹو' سے وابستہ محقق محمد عبدالرؤف بتاتے ہیں کہ تھر کول پاور پلانٹس کا صرف ایندھن مقامی ہے، باقی سارا نظام ڈالر پر ہی چلتا ہے جیسے کسی بھی دوسرے پاور پلانٹ میں ہوتا ہے۔
یہ پلانٹس بر لبِ کان (مائن ماؤتھ) منصوبے ہیں یعنی پاور پلانٹس کان کے بالکل ساتھ لگائے گئے ہیں تاکہ کان سے کوئلہ نکال کر براہِ راست پاور پلانٹ کی بھٹی تک پہنچا دیا جائے اور یوں کوئلے کی ٹرانسپورٹ کے اخراجات بچا لیے جائیں۔ درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو بیرون ملک سے کوئلہ لانے کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ اس ایک فرق کے علاوہ دیگر تمام حوالوں سے مقامی کوئلے والے پاور پلانٹس عام آئی پی پیز کی طرح ہی کام کرتے ہیں جن میں ڈالر سے منسلک قرضے، منافع کی بھاری ضمانتیں اور خطیر کیپیسٹی پیمنٹس شامل ہیں۔
عبدالرؤف کے مطابق اگرچہ سرمایہ کاری (خصوصاً کان کنی میں) کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے اندر سے آتا ہے لیکن اس کو بھی امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ نیپرا نے بھی اس پر اعتراض اٹھایا تھا کہ اگر سرمایہ مقامی کرنسی میں لگایا گیا ہے تو منافعے کی شرح کو ڈالر سے کیوں جوڑا گیا؟
تاہم تھر کول انرجی بورڈ جو ایک ’ون ونڈو‘ ریگولیٹری ادارہ ہے اس نے اس اعتراض کو نظرانداز کر دیا۔
تھر کول انرجی بورڈ 2011ء میں حکومتِ سندھ نے قائم کیا تھا جس کا مقصد تھر کول کے ذخائر کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ یہ ادارہ صوبائی و وفاقی محکموں، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں (بشمول سی پیک سے وابستہ کمپنیوں) کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی ہم آہنگی اور تھر کوئلہ منصوبوں پر عملدرآمد میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
حکومتِ سندھ بلاک ٹو میں جوائنٹ وینچر پارٹنر بھی ہے اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے 54 فیصد حصص کی مالک ہے۔
عبدالرؤف نے نشاندہی کی کہ بورڈ کی دستاویزات کے مطابق آئندہ 30 برسوں کے دوران کوئلہ کی کان کنی کی اوسط (لیولائزڈ) لاگت تقریباً 36 امریکی ڈالر فی ٹن ہے۔
ان کے بقول جب خام ایندھن کی قیمت ہی اتنی ہو تو سستی توانائی کا دعویٰ محض ایک فریب بن جاتا ہے۔
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) سے وابستہ انرجی اکانومسٹ ڈاکٹر روبینہ الیاس اس معاملے کو صارفین کے نقطۂ نظر سے پرکھتی ہیں اور ان کی رائے ہے کہ 'سستا ایندھن-سستی بجلی' کی منطق اس حوالے سے بھی درست ثابت نہیں ہوتی۔
انہوں نے لوک سجاگ سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ دس برس میں بجلی کے ٹیرف میں تقریباً تین گنا (2015 میں 12.50 روپے یونٹ تھا، 2025ء میں 34.45 روپے ہے ) اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ ایندھن وغیرہ کی لاگت بڑھنے کے باعث نہیں بلکہ زیادہ تر قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے ہوا ہے۔ جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں کمی لا کر صارفین کے بجلی بلوں میں کمی نہیں لائی جا سکتی۔
جب شہر صحرا میں در آیا
محمد عبدالرؤف بہت دل گرفتہ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیرف، لاگت اور مالیات کا کوئی بھی ہیر پھیر اس نقصان کا عکاس نہیں ہو سکتا ہے جو تھر کا ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئلے کی اس پراجیکٹ نے ایک ایسے زندہ، سانس لیتے نظام کو تباہ کر دیا ہے جس میں پائیدار ذریعہ معاش، پانی تک رسائی، اجتماعی زندگی اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک نازک اور حساس توازن موجود تھا۔
"سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایک بہتر، سستا اور ماحول دوست حل سامنے موجود ہونے کے باوجود ہم ایسے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
پاکستان میں شمسی توانائی (سولر پی وی) کی انسٹالڈ کپیسٹی گزشتہ تین سال میں برق رفتاری سے بڑھی ہے اور یہ اب اندازاً 33.35 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جو تھر کول پاور پلانٹس کی موجودہ پیداواری صلاحیت (2.64 گیگاواٹ) سے تقریباً 13 گنا زیادہ ہے!
سولر کا یہ عروج صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب عالمی انرجی سیکٹر میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری (3.3 کھرب امریکی ڈالر) کا دو تہائی حصہ کلین انرجی پر ہو رہا ہے جبکہ اس دوران تیل، گیس اور کوئلے پر صرف تقریباً 1.1 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ ایسے چند ہزار میگاواٹ کا کیا فائدہ، جس کے لیے آپ ہزاروں لوگوں ان سے ان کے روزگار چھین لیں، ان کے گھر مسمار کر دیں؟ اسے کامیابی کیسے کہا جا سکتا ہے؟
عبدالرؤف بلاک ٹو میں واقع گاؤں سنیہری درس سے تعلق رکھتے ہیں جسے مائننگ کے آغاز پر مسمار کر دیا گیا تھا پھر 2019ء میں انہیں کمپنی کے تعمیر کردہ 'نیو سنیہری درس ماڈل ویلیج' میں منتقل کر دیا گیا۔
"انہوں (کمپنی) نے ہمیں کہا تھا کہ ہماری زمین پاکستان میں خوشحالی لائے گی۔ ہمیں زرعی زمین کے عوض فی ایکڑ ایک لاکھ 85 ہزار روپے معاوضہ دیا گیا مگر وہ اراضی اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔"
عبدالرؤف کہتے ہیں کہ جھونپڑی میں رہنے والے اب کنکریٹ کی چھت تلے رہنے پر مجبور ہوئے ہیں تو ان کی بے چینی صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ ماضی کو یاد کرتے ہیں اور ہر وقت اپنی دو زندگیوں کا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔
"ہم نے سوچا تھا کہ ہمارے بچے یہاں بہتر تعلیم حاصل کریں گے، ہمیں بجلی، پانی اور نیا روزگار ملے گا لیکن افسوس ان میں سے کچھ بھی سچ ثابت نہ ہوا۔ وہاں ہم ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے، اپنی فصلیں آپس میں بانٹتے تھے۔ درختوں کے نیچے کچہری لگتی تھی۔ یہاں ہر کوئی اپنے دروازوں کے پیچھے بند ہے۔ ہمارے صحرا میں شہر کے طور طریقے گھس آئے ہیں۔"
وہ بتاتے ہیں کہ وہ گاؤں جو کبھی بڑے ریوڑوں کے لیے مشہور تھا وہاں اب مویشیوں کے لیے نہ جگہ ہے اور نہ چارہ۔ مشترکہ چراگاہیں ختم ہو چکی ہیں اور نیو سنیہری درس کے کچھ گھروں کو گئوچر کے بدلے چھوٹے چھوٹے پلاٹ دیے گئے ہیں۔ وہ پڑوسی جو کبھی مل کر اپنے جانور چراتے تھے اب ان محدود قطعات پر آپس میں جھگڑتے ہیں۔
ان کے بقول کان کنی اب ان کے قبرستان تک پہنچ چکی ہے۔ "چینی ڈمپر ٹرک نہیں رکتے۔ انہیں اس سے کیا سروکار کہ نیچے کون سو رہا ہے۔"
'جب بھی مشین چلتی ہے، میرا گھر لرز اٹھتا ہے'
احمد عزیز کا گھر بلاک ون میں واقع پاور پلانٹ کی باونڈری وال سے بمشکل 50 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ان کا گاؤں وڑوائی عملاً محصور ہے، تین اطراف شنگھائی الیکٹرک کے پاور پلانٹ اور کول مائن کی باڑ ہے اور چوتھی طرف کڑی نگرانی والی سکیورٹی چیک پوسٹ۔
چینی کمپنی شنگھائی الیکٹرک نے یہاں سی پیک کے تحت ایک ہزار 320 میگاواٹ کا پاور کمپلیکس 2022ء میں مکمل کیا تھا۔
احمد عزیز گھر کی کچی دیواروں میں پڑی دراڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں "جب بھی مشینیں چلتی ہیں، دیواریں کانپنے لگتی ہیں اور زمین لرز اٹھتی ہے۔ اب ان کا گاؤں ایک قلعے میں بند چکا ہے۔"
بلاک ون میں لگائی گئی باڑ نے تقریباً پانچ ہزار ایکڑ رقبے کو گھیر رکھا ہے جس میں چراگاہ، تالاب اور روایتی راستے شامل ہیں۔ احمد عزیز کے خاندان کے جانوروں کی چراگاہ بھی بڑی حد تک اس منصوبے کی نذر ہو چکی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے گاؤں کا دو ہزار ایکڑ گؤچر (مشترکہ چراگاہ) پلانٹ کے علاقے میں چلا گیا۔ چیک پوسٹ پر مقامی لوگوں سے مشکوک افراد جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں گیٹ پاس اور شناختی کارڈ دکھانا پڑتا ہے، گویا وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی بن گئے ہیں۔
"جانور تو اس نئی حد بندی کو نہیں سمجھتے۔ وہ پانی اور گھاس کے لیے صدیوں پرانے راستوں پر ہی چلتے ہیں۔ اگر کوئی مویشی پلانٹ باونڈری میں چلا جائے تو اسے واگزار کروانے کے لیے ہمیں سکیورٹی گارڈز کی منت سماجت کرنی پڑتی ہے۔ کبھی کبھی تو وہ دس دن تک انتظار کراتے ہیں۔"
احمد عزیز کے مطابق دیہاتیوں کو باونڈری والے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں، اگر کبھی اجازت مل بھی جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم دشمن کے علاقے میں داخل ہو رہے ہوں۔
کچھ دیہاتیوں کا دعویٰ ہے کہ جب ان کے مویشی باڑ کے قریب جاتے ہیں تو سکیورٹی والے ان پر کتے چھوڑ دیتے ہیں یا لاٹھیاں برساتے ہیں۔
چراگاہوں سے محرومی کے باعث وڑوائی کے بہت سے خاندانوں نے اپنے مویشی بیچ دیے ہیں یا پھر صرف اتنے رکھے ہیں کہ گھر کو دودھ میسر رہے۔
Billboards along the main road leading to Blocks I and II, promising a “bright future” for Thar
دیر آید، غلط آید
وڑوائی کی ایک بپتا اور بھی ہے۔ اس گاؤں کے رہائشیوں سے 2018ء میں وعدہ کیا گیا تھا انہیں تین ماہ کے اندر نئی جگہ پر بسایا جائے گا مگر سات سال گزرنے کے باوجود یہ عمل مکمل نہیں ہوا۔
یہ معاہدہ اکتوبر 2019ء میں ہوا تھا کہ کہ گاؤں کے لوگ وڑوائی کا آدھا حصہ فوراً اور باقی مارچ 2020ء تک خالی کر دیں گے جس کے بدلے میں ہر گھرانے کو نیا مکان بنانے کے لیے رقم دی جائے گی۔
وڑوائی میں اینٹوں کا بھٹہ چلانے والے سبحان علی نے آج بھی اس معاہدے کی فوٹو کاپی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ صرف 50 یا 60 لوگوں کو ہی چیک ملے، وہ بھی وعدہ کی گئی رقم سے آدھے۔
ہر گھرانے کو ایک نئی کالونی میں پلاٹ الاٹ کیے جاتے ہیں جو ظاہر ہے مخصوص سائز کے ہوتے ہیں جس سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
روایت یہ ہے کہ جب خاندان میں کسی بیٹے کی شادی ہوتی ہے تو وہ والدین کے گھر کے ساتھ ہی خاندانی زمین کے ایک حصے پر اپنا گھر بنا لیتا ہے۔ اب جبکہ آبائی زمین کی جگہ منصوبہ بند کالونی کے محدود، نپے تلے پلاٹ ہیں، تو بیٹے شادی کے بعد کہاں گھر بنائیں گے؟
سبحان علی اور دیگر لوگ اس کا کوئی حل تلاش نہیں کر سکے کہ نئی کالونی میں خاندانوں کے اکٹھا رہنے کی روایت کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ گھر صرف زمین نہیں ہوتا نہ ہی اسے بانٹا جا سکتا ہے۔
پھر ابتدائی جزوی ادائیگیوں کے بعد 2019ء میں ہی یہ عمل کہیں رک سا گیا اور ہموار طریقے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ بعض لوگوں کو برسوں بعد ادائیگیاں ہوئیں، وہ شکایت کرتے ہیں کہ اس دوران تعمیراتی سامان کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں جس کے باعث دی گئی رقم سے مکان بنانا ممکن نہیں رہا۔
بہت سے لوگ اب بھی اپنے بقایا جات اور کلیمز کے حتمی تصفیے کے منتظر ہیں۔
وڑوائی کے ایک رہائشی احمد کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کی منصوبہ بندی 2003ء میں شروع ہوئی تھی لیکن 20 سال سے زیادہ عرصہ بعد بھی لوگوں کو دوبارہ بسانے کا پلان مکمل نہیں ہوا۔
"جب کمپنی کو ہماری زمین چاہیے ہوتی ہے تو وہ چند دنوں میں لے لیتی ہے لیکن جب اسے ہمیں گھر دینا ہوتا ہے تو ہمیں برسوں انتظار کراتی ہے۔"
'افسران تمام باہر سے آتے ہیں، مقامی لوگ صرف مزدور ہیں'
سنیہری درس بلکہ نئے سنیہری درس ماڈل ویلج کے عبدالرؤف کا خیال ہے کہ وہ معاشی طور پر پیچھے دھکیلے جا چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ زمیندار تھے، اپنی زمین تھی، اپنی خوراک خود اگاتے تھے اور اپنے جانور پالتے تھے۔ "یہاں (نئی کالونی میں) ہم مزدور بن گئے ہیں۔ ایک دن مزدوری مل جائے تو کھاتے ہیں ورنہ بھوکا سونا پڑتا ہے۔"
مقامی نوجوان غلام عمر (درخواست پر نام تبدیل کیا گیا ہے) ایک کول پاور پلانٹ میں مزدوری کرتے ہیں۔ وہ ہر روز شام تین بجے گھر سے نکلتے ہیں اور رات دو بجے واپس لوٹتے ہیں یعنی 11 گھنٹے کی شفٹ کرتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ کہ پلانٹ پر تمام افسران باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگ صرف مزدور ہیں۔ "ہم سب ٹھیکیداروں کے ذریعے یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ اگر ایک دن کام نہ کریں تو کچھ نہیں ملتا۔ ہماری نوکریاں مکمل طور پر ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔"
واضح رہے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے مزدور ملازمت میں تحفظ، طبی سہولت یا کسی بھی اور مراعات کے اہل نہیں ہوتے۔
غلام عمر کا دعویٰ ہے کہ ہر ماہ ان کی تنخواہ سے کچھ رقم سائٹ پر ملنے والے کھانے کے نام پر کاٹ لی جاتی ہے لیکن کھانے کا معیار اتنا برا ہوتا ہے کہ وہ اسے کھانے سے گریز کرتے ہیں۔
"میں گھر سے نکلنے سے پہلے کھا لیتا ہوں اور پھر واپس آ کر کھاتا ہوں۔ شکایت کرنا بے فائدہ ہے۔ جواب میں وہ طعنہ دیتے ہیں کہ کیا تم گھر میں روز مرغ مسلم کھاتے ہو؟ وہ (حکومتی لوگ) کہتے ہیں کہ تھر ملک کو بدل دے گا۔ شاید کسی دن ہماری قسمت بھی بدل جائے۔"
گاؤں وکڑیو میں دیہاتیوں کی مشکلات نے ایک اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس گاؤں کے پاس سے گزرنے والا تنگ کچا راستہ بھاری ڈمپر ٹرکوں کے لیے ایک ‘شارٹ کٹ’ بن گیا ہے۔ یہ ٹرک تھر کول فیلڈ کو مرکزی ریل نیٹ ورک سے ملانے کے لیے بننے والی نئی ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے پتھر اور بجری لے جا رہے ہیں۔ کمپنیاں یہ راستہ اس لیے استعمال کرتی ہیں کہ مرکزی شاہراہ کی بجائے یہاں سے گزرنے سے ان کا سفر تقریباً 30 کلومیٹر کم ہو جاتا ہے۔
وکڑیو کے نور محمد جھنجھی نے کمپنیوں کی اس آسانی کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔ اگست 2025ء میں موٹر سائیکل پر سوار ان کے 13 سالہ بیٹے محمد شان زیب کو ایک تیز رفتار ڈمپر نے کچل دیا۔
نور محمد بتاتے ہیں کہ حادثے سے ایک دن پہلے ان کے بیٹے کی سالگرہ تھی۔ وہ سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھاری ٹریفک کے لیے بنی ہی نہیں، یہاں تو مخالف سمتوں سے آنے والی دو بیل گاڑیاں ہی بمشکل کراس کر سکتی ہیں۔ ان ٹرکوں نے اسے موت کی سڑک بنا دیا ہے۔
نور محمد نے ٹرک ڈرائیور اور حادثے میں شامل ٹرل کی تصویر ابھی تک اپنے موبائل فون میں رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے پولیس کو شکایت بھی درج کرائی تھی لیکن وہ زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔
"آپ جانتے ہیں، جب ملزم اتنے بڑے پراجیکٹ سے جڑے ہوں تو کیا ہوتا ہے۔ اگر معاملہ آگے بڑھتا بھی ہے تو انتہائی سست روی سے۔"

A Thari family sitting in their home
کیا تھر واسیوں کی ہتک بھی کسی پلان کا حصہ ہے؟
تھر کے لوگ 'ترقی' کے اس پورے پراجیکٹ میں جس چیز سے سب سے زیادہ نالاں ہیں وہ ہے اس کا سکیورٹی کا نظام۔ وہ شدید شاکی ہیں کہ ان کے ساتھ اپنی ہی زمین پر اجنبیوں اور دراندازوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ وہ سکیورٹی اہلکاروں کی بدتمیزی اور توہین آمیز رویّے کی شکایت کرتے تھکتے نہیں۔
سیکیورٹی اداروں کی زیادتیوں کے بارے میں شکایات اکا دکا نہیں۔ درحقیقت ہر شخص کے پاس ہی تزلیل کے کسی نہ کسی واقعہ کی کہانی موجود ہے۔ 2021ء میں پیش آنے والا دودو بھیل کا واقعہ مقامی لوگوں اور سکیورٹی نظام کے درمیان اس تعلق کی واضح مثال ہے۔
غریب مزدور دودو بھیل پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سکیورٹی گارڈز نے چوری کا الزام لگایا، انہیں کئی روز غیرقانونی حراست میں رکھا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب دودو کی حالت بگڑ گئی تو انہیں عجلت میں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس انہیں ہسپتال لے گئی جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
یہ معاملہ قومی میڈیا کی زینت بنا کیونکہ وفاقی وزارتِ انسانی حقوق نے ایک تحقیقاتی مشن بھیجا جس کی سربراہی قومی اسمبلی کے رکن لال چند ملہی کر رہے تھے، جو اس وقت پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق تھے۔
اس وقت سندھ اور مرکز میں دو مخالف سیاسی جماعتیں یعنی پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف برسراقتدار تھیں جو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں تھیں۔ اس سیاسی کشمکش نے بھی شاید اس کیس کو منظرِ عام پر لانے میں کردار ادا کیا۔
دیہاتی بتاتے ہیں کہ سکیورٹی اہلکاروں کی زیادتیوں کے بہت سے واقعات یا تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا پھر دبا دیے جاتے ہیں۔
بقول غلام عمر "جب بھی ہم شکایت کرتے ہیں تو افسران کا جواب سادہ ہوتا ہےکہ چینی باشندوں کی حفاظت کرنا ہماری قومی فریضہ ہے۔"
اسلام کوٹ کے رہائشی قربان علی سمیجو ایک وکیل اور تھر سٹیزن فورم کے سرگرم رکن ہیں اور وہ مزاحمت اور جبر کے واقعات پر نظر رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب عدالتیں کسی کسان کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں تو حکومت اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیتی ہے جہاں معاملہ پھنس جاتا ہے جبکہ دوسری جانب کمپنی متنازع زمین پر اپنی مرضی چلاتی رہتی ہے۔
وہ کہتے کہ زمین کے حصول کے طریقۂ کار سے ہی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے افسران خود گاؤں میں نہیں آتے، اسسٹنٹ کمشنر کو مقامی وڈیروں کے ساتھ بھیجتے ہیں۔
یہ لوگ گاؤں آتے ہیں اور لوگوں سے زمین کے حصول کی 'رضامندی' لینے کے لیے سکولوں، نوکریوں اور ہر طرح کی دیگر سہولیات کے وعدے کرتے ہیں۔ پھر ان پر دستخط کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے اور اگر منت سماجت کام نہ آئے تو پھر پولیس پہنچ جاتی ہے۔
ان کے مطابق دیہاتیوں کو جذباتی طور پر بھی بلیک میل کیا جاتا ہے اور بار بار کہا جاتا ہے کہ اس پراجیکٹ کی مخالفت کرنا سی پیک کی مخالفت ہے اور سی پیک کی مخالفت پاکستان کی مخالفت ہے۔
کوئلہ ختم ہونے کے بعد تھر میں کیا ہو گا؟
قربان علی سمیجو کو تشویش ہے کہ اگر کان کنی اسی رفتار سے جاری رہی تو یہ پورا ضلع کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔
تھر کی زمین کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک وہ رقبے جو سروے شدہ اور سرکاری طور پر دستاویزی شمار ہوتے ہیں اور دوسرے وہ وسیع علاقے ہیں جو اجتماعی چرائی (گئوچر) اور کاشت کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں لیکن سرکاری ریکارڈ میں ان کی ملکیت کسی کے نام درج نہیں۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ جگہوں پر لوگ 1930ء کی دہائی سے اس 'غیر دستاویزی' زمین پر کاشتکاری کر رہے ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کے ملکیتی حقوق پختہ ہو جاتے ہیں لیکن محکمہ مال صرف اسی زمین کا معاوضہ دیتا ہے جو فارم 7 (ریکارڈِ حقوق) میں درج ہو۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ یوں ایک ایسا خاندان جو حقیقتاً 50 ایکڑ زمین کاشت کر رہا ہوتا ہے اسے صرف پانچ ایکڑ کا معاوضہ ملتا ہے یا کچھ بھی نہیں ملتا کیونکہ یہ اس بات سے طے ہوتا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں کیا درج ہے۔
زمین کی ملکیت کو دستاویزی شکل دینے میں ریاست کی ناکامی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ اور محنت کش اس کا بھگتان بھگت رہے ہیں۔ کمزور اپنے گھر اور عزت دونوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کا نقطۂ نظر سادہ الفاظ میں غلام عمر یوں بیان کرتے ہیں:
"مسئلہ سیدھا ہے۔ انہیں پاکستان کی ترقی کے لیے ہماری زمین چاہیے، ہم دینے کو تیار ہیں لیکن اسے لیز پر لیں، ہمیشہ کے لیے نہیں۔ جب کوئلہ ختم ہو جائے تو یہ زمین ہمارے بچوں کو واپس کر دیں۔ یہ ہماری وراثت ہے۔"
ان خیالات کی گونج پورے خطے میں ہونے والی بحثوں میں سنائی دیتی ہے۔ مہوش لغاری کا خیال ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کیونکہ زمین خریدنا کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ اگر زمین لیز پر لی جاتی تو کمپنیوں کو ہر سال دیہاتیوں کو کرایہ دینا پڑتا اور قانونی طور پر زمین لوگوں کی ہی رہتی۔ جبکہ خریدنے کے بعد کمپنیوں کو یہ آزادی مل گئی کہ وہ زمین کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ وہ اب کسی بات کے پابند نہیں۔
"ہماری نظر سے تو ایسا کوئی منصوبہ نہیں گزرا جس میں اس بات کا کوئی ذکر بھی ہو کہ کان کنی ختم ہونے کے بعد اس علاقے کو دوبارہ بحال کیا جائے گا یا قابل کاشت بنایا جائے گا۔"
لیکن قربان علی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کمپنیوں کو زمین 20/25 سال کی لیز پر ہی دی جانی چاہیے۔ جب کان کنی ختم ہو جائے تو یہ ان لوگوں کو واپس ملنی چاہیے جو صدیوں سے اس پر رہتے آئے ہیں۔ صرف اِسی صورت میں ہی تھر اور تھریوں کا کوئی مستقبل ہو سکتا ہے ورنہ یہ علاقہ خالی کانوں کے گڑھوں اور زہریلے کیچڑ کے جوہڑوں کی سرزمین بن کر رہ جائے گا۔
لوک سجاگ نے تھر کول انرجی بورڈ سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن درج شدہ پتے پر بھیجی گئی ای میلز واپس آ گئیں۔ دیگر ذرائع سے رابطہ کرنے پر بھی بورڈ کے نمائندوں نے ہماری درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
لوک سجاگ نے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو بھی کچھ سوالات ارسال کیے اور ان کے جو جوابات موصول ہوئے وہ ریکارڈ کی غرض سے یہاں من و عن شائع کیے جا رہے ہیں۔
تحریر: عبداللہ چیمہ
رپورٹنگ: تنویر احمد، آصف ریاض
مقامی رابطہ کاری: جی آر جونیجو، اشفاق لغاری
گرافکس: شعیب طارق، علی حیدر
نقشہ سازی اور معاون تحقیق: محسن مدثر
کیمرا ورک: ایم شہزاد ملک
یہ رپورٹ پلٹزر سینٹر کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔
تاریخ اشاعت 19 دسمبر 2025














