'انتخابی معجزہ': تحریک لبیک پاکستان کی 2018 کے انتخابات میں غیرمعمولی کارکردگی۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'انتخابی معجزہ': تحریک لبیک پاکستان کی 2018 کے انتخابات میں غیرمعمولی کارکردگی۔

رشید چودھری

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

'انتخابی معجزہ': تحریک لبیک پاکستان کی 2018 کے انتخابات میں غیرمعمولی کارکردگی۔

رشید چودھری

loop

انگریزی میں پڑھیں

نومبر 2017 میں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے فیض آباد میں ایک احتجاجی دھرنا دیا جس سے کچھ ہفتے پہلے اس جماعت کے ایک رکن نے لاہور میں ہونے والے ایک ایسے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا جو سپریم کورٹ کی جانب سے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد ان کی لاہور میں خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ہوا تھا۔ 

ستمبر 2017 میں ہونے والے اس انتخاب میں اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی امیدوار کلثوم نواز شریف نے پاکستان تحریکِ انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو 14646 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ ٹی ایل پی کے حمایت یافتہ امیدوار اختر حسین رضوی نے نواز شریف کے آبائی حلقے میں ہونے والے اس مقابلے میں توہین مذہب کے نام پر اپنے حامیوں کو متحرک کیا اور 7130 ووٹ حاصل کیے جو اس انتخاب میں ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کا 5.7 فیصد بنتے ہیں۔ 

اس ضمنی انتخاب سے آنے والے وقت میں ٹی ایل پی کی انتخابی سیاست کے حوالے سے بہت کچھ واضح ہو گیا۔ لیکن اس وقت مبصرین نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی لہٰذا انہیں 2018 کے عام انتخابات میں ٹی ایل پی کو ملنے والے ووٹوں پر شدید حیرانی ہوئی۔ 

ان عام انتخابات سے پہلے دو مواقع پر ٹی ایل پی اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کر چکی تھی جسے میڈیا پر بھی بھرپور کوریج ملی تھی۔ اس مظاہرے سے نا صرف اس جماعت کی سڑکوں پر احتجاج کرنے کی طاقت کھل کر سامنے آئی تھی بلکہ یہ اندازہ بھی ہو گیا تھا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے نتائج کی پروا کیے بغیر انتہائی قدم بھی اٹھا سکتی ہے۔ اس کی پہلی مثال گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد اس کے بہت بڑے جنازے کی شکل میں دیکھنے میں آئی اور دوسری مثال اس وقت سامنے آئی جب ٹی ایل پی نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان فیض آباد پُل پر دھرنا دے کر وفاقی دارالحکومت کو 20 دن کے لیے مفلوج کر دیا۔

اس دھرنے کے دوران یہ جماعت انتخابی قوانین میں ایک مخصوص تبدیلی کے خلاف احتجاج کر رہی تھی جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس سے انتخابی عمل میں احمدیوں کی شمولیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ دھرنا اس تبدیلی کو واپس لیے جانے اور اس کے ذمہ دار وزیر کے استعفے کے بعد ہی ختم ہوا۔ 

2018 کے عام انتخابات سے عین پہلے ٹی ایل پی نے خود کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ کرایا اور ان درجنوں سیاسی جماعتوں میں شامل ہو گئی جو پہلی مرتبہ انتخاب میں حاصل لے رہی تھیں۔ ٹی ایل پی نے ان انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 843 مجموعی نشستوں میں سے 552 پر امیدوار میدان میں اتارے جو پہلی مرتبہ انتخاب لڑنے والی اس جماعت کے لئے ایک بڑا کام تھا۔

اگرچہ انتخابات میں ٹی ایل پی صرف سندھ اسمبلی کی دو نشستیں ہی جیت سکی لیکن اس کی مجموعی انتخابی کارکردگی غیر معمولی رہی۔ انتخابی نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس جماعت کی رائے دہندگان پر اثر انداز ہونے اور پاکستان کے انتخابی میدان میں ایک اہم کھلاڑی بننے کی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ 

جولائی 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں ٹی ایل پی نے قومی اسمبلی کے 270 حلقوں میں سے 171 میں امیدوار کھڑے کیے ( کیونکہ این اے 60 راولپنڈی اور این اے 103 فیصل آباد میں انتخابات ملتوی ہو گئے تھے)۔ ان نشستوں پر ٹی ایل پی کو مجموعی طور پر 21 لاکھ 94 ہزار 978 ووٹ حاصل ہوئے۔ یوں ہر نشست پر اسے ملنے والے ووٹوں کی اوسط تعداد 12 ہزار 836 بنتی ہے۔ دوسری طرف قومی اسمبلی کی نشستوں پر فاتح امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کی اوسط تعداد 87 ہزار 362 رہی جبکہ فاتح اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں میں ووٹوں کا اوسط فرق 24 ہزار رہا۔

ٹی ایل پی نے قومی اسمبلی کے لئے ڈالے جانے والے مجموعی ووٹوں کا 4.1 فیصد حاصل کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پچیسواں ووٹ اس کے حصے میں آیا۔ 

کراچی میں اس کے امیدوار قومی اسمبلی کے تین حلقوں این اے 240، این اے 246 اور این اے 247 میں دوسرے نمبر پر رہے جبکہ 69 دیگر حلقوں میں اس کے امیدواروں نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان میں سے نو حلقے کراچی میں، ایک سندھ کے ضلع خیر پور میں، 58 پنجاب میں اور ایک خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور میں تھا۔ 

صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ٹی ایل پی کی کارکردگی اس سے بھی بہتر رہی۔ اس نے چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے لیےکل 381 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے اور مجموعی طور پر 24 لاکھ 46 ہزار 587 ووٹ حاصل کیے۔ پنجاب میں اس نے 5.7 فیصد، سندھ میں 4.5 فیصد، خیبر پختونخوا میں 1.2 فیصد اور بلوچستان میں 0.6 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ کراچی سے سندھ اسمبلی کے دو حلقوں پی ایس 107 کراچی ساؤتھ اور پی ایس 115 کراچی ویسٹ فور سے اس کے امیدواروں نے کامیابی بھی حاصل کی۔ 

ان اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر 2018 کے انتخابات متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ہوتے جس میں ہر جماعت کو اس کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں تو ٹی ایل پی قومی اسمبلی کی 12 نشستیں حاصل کر لیتی جن میں سے آٹھ پنجاب میں، تین سندھ میں اور ایک خیبر پختونخوا میں ہوتی۔ اسی نظام کے تحت صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اسے 28 نشستیں ملتیں جن میں سے 21 پنجاب میں، چھ سندھ میں اور ایک خیبر پختونخوا میں ہوتی۔ 

2018 کے عام انتخابات میں پنجاب ٹی ایل پی کا گڑھ ثابت ہوا۔ ملک بھر سے حاصل ہونے والے ہر پانچ میں سے چار ووٹ اسے اسی صوبے سے ملے۔ یہی وجہ ہے کہ مجموعی ووٹوں کے اعتبار سے یہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پنجاب میں تیسرے نمبر پر رہی۔ اس نے پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 میں سے 139 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جن میں سے تقریباً نصف نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 

اسی طرح ٹی ایل پی نے پنجاب اسمبلی کی 297 میں سے 262 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے جن میں نو خواتین بھی شامل تھیں۔ پی پی 71 حافظ آباد تھری میں اس کا امیدوار دوسرے نمبر پر رہا جبکہ 88 نشستوں پر اس کے امیدوار تیسرے اور 82 نشستوں پر چوتھے نمبر پر رہے۔

یہ اپنا پہلا انتخاب لڑنے والے کسی جماعت کی پنجاب میں غیر معمولی کارکردگی تھی خاص طور پر اگر اس کا موازنہ ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا جائے جس نے اپنا گیارہواں الیکشن لڑتے ہوئے پنجاب سے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں جیتیں، اتنی ہی نشستوں پر دوسری پوزیشن حاصل کی اور صرف 27 نشستوں پر اس کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔ 

ٹی ایل پی نے پنجاب میں اپنی حریف مذہبی جماعتوں کو بھی بھاری فرق سے ہرایا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے مذہبی جماعتوں کی انتخابی سیاست پر حاوی متحدہ مجلس عمل نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں کل چار لاکھ 30 ہزار ووٹ حاصل کیے جبکہ اس کے مقابلے میں ٹی ایل پی کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 19 لاکھ رہی۔

سندھ میں ٹی ایل پی نے صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں جیتیں مگر اس کی بیشتر حمایت کراچی تک محدود رہی۔ اس نے کراچی میں قومی اسمبلی کی 21 میں سے 19 نشستوں پر انتخاب لڑا جبکہ صوبے کی دیگر 40 نشستوں پر اس کے صرف نو امیدوار میدان میں تھے۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کے انتخاب میں اس نے کراچی کی 44 میں سے 43 نشستوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے جبکہ سندھ کی بقیہ 86 نشستوں پر اس کے امیدواروں کی تعداد صرف 24 تھی۔

اس طرح سندھ میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں اسے ملنے والے کل ووٹوں میں سے 90.2 فیصد اسے کراچی ہی میں ملے۔ صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں اسے ملنے والے کل ووٹوں میں سے 84.5 فیصد کا تعلق بھی کراچی سے تھا۔

کراچی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو صرف ایک حلقے پی ایس 76 سجاول ٹو میں اس کا امیدوار دوسرے نمبر پر رہا جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع میں اس کے صرف دو امیدواروں نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

ٹی ایل پی نے خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر 16 اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں 40 امیدوار کھڑے کیے۔ یہاں اس نے انتخابات میں ڈالے جانے والے مجموعی ووٹوں کے ایک فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن قومی اسمبلی کے دو حلقے ایسے تھے جہاں اس کے امیدواروں نے دس ہزار سے زیادہ ووٹ لیے۔ یہ دونوں حلقے پشاور میں ہیں۔ اسی طرح اس کے سات امیدوار پانچ سے دس ہزار کے درمیان ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔ دوسری طرف صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں اس کے صرف ایک امیدوار نے پانچ ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ 

تاہم ٹی ایل پی بلوچستان کی انتخابی سیاست میں کوئی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس نے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 میں سے پانچ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جنہیں مجموعی طور پر 11335 ووٹ ملے۔ اسی طرح اس نے صوبائی اسمبلی کی 51 میں سے محض 10 نشستوں پر انتخاب لڑا اور مجموعی طور پر 10816 ووٹ حاصل کیے۔ یوں بلوچستان میں دونوں اسمبلیوں کے لئے ڈالے جانے والے مجموعی ووٹوں کا صرف 0.6 فیصد ہی ٹی ایل پی کو مل سکا۔

اس صوبے میں صرف پی بی 5 لسبیلہ ٹو میں ٹی ایل پی کا امیدوار پانچ ہزار سے زیادہ ووٹ لے سکا اور تیسرے نمبر پر رہا۔ لیکن لسبیلہ اور گوادر کے اضلاع پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے میں اسے اور بھی کم ووٹ ملے اور اس کا امیدوار چوتھے نمبر پر رہا۔ 

ٹی ایل پی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی تین میں سے ایک نشست پر 10 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے اور اس حلقے میں چوتھے نمبر پر رہی لیکن دوسرے دو حلقوں میں یہ چوتھی پوزیشن بھی حاصل نہ کر سکی بلکہ ان میں سے صرف ایک ہی میں اس کا امیدوار پانچ ہزار سےکچھ زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 1 مئی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 1 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔