کیا قومی لتیھیم آئن بیٹری پالیسی سے وابستہ توقعات پوری ہو پائیں گی؟

postImg

آصف محمود

postImg

کیا قومی لتیھیم آئن بیٹری پالیسی سے وابستہ توقعات پوری ہو پائیں گی؟

آصف محمود

وفاقی حکومت کئی ماہ سے 'نیشنل لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 31-2026ء' پر کام کر رہی ہے جس کا بنیادی مقصد الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کے لیے بیٹری کی بڑھتی طلب پوری کرنا، درآمدات میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس پالیسی کو ملکی انرجی سکیورٹی فریم ورک کا حصہ بنایا جائے گا جس سے بہتر کارکردگی والی بیٹریوں کی مقامی تیاری میں اضافہ ہو گا، قیمتیں کم ہوں گی اور سپلائی چین میں تعطل کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔

پچھلے ماہ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو بتایا گیا کہ پالیسی کا مسودہ وزارتِ صنعت و پیداوار کو بھجوا دیا گیا ہے جس میں لیتھیم آئین بیٹریوں کی مقامی اسمبلنگ و تیاری کے لیے درکار اجزاء پر درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سمیت کئی تجاویز دی گئی ہیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ حکومت اسی ہفتے بجٹ میں اس پالیسی کا اعلان کرے گی۔ تب تک کورنگی کراچی میں لیتھیم آئن (این ایم سی) بیٹری بنانے والا پہلا ملکی پلانٹ بھی کام شروع کر دے گا جو ابتدائی طور پر ماہانہ تقریباً دو ہزار ای بائیکس/ سکوٹیز کے لیے بیٹریاں تیار کرے گا۔

واضح رہے ملک میں لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹریاں بنانے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ یہ سولر سسٹمز، بیک اپ پاور اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں۔

پاکستان میں فاسفیٹ، آئرن اور مینگنیز کے ذخائر موجود ہیں جو لیتھیم آئرن بیٹری کی مقامی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں چین کے ساتھ بزنس ٹو بزنس معاہدے بھی طے پا چکے ہیں۔

تاہم ملک میں لیتھیم بیٹریوں کے معیار، ٹیسٹنگ، سرٹیفیکیشن اور ری سائیکلنگ کا فریم ورک ابھی تک تیار نہیں کیا جا سکا

کون سی بیٹری کس کے لیے زیادہ موزوں ہے؟

پاکستانی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں اور پاور سیکٹر کے لیے زیادہ تر دو اقسام کی بیٹریاں استعمال ہو رہی ہیں جن میں لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری (ایل ایف پی) اور لیتھیم آئن بیٹری (این ایم سی/ نکل، مینگنیز اور کوبالٹ) شامل ہیں۔

 ایل ایف پی بیٹریاں نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں، ان میں آگ لگنے یا زیادہ گرم ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ جبکہ لیتھیم آئن بیٹریاں یا این ایم سی زیادہ حساس ہوتی ہیں جو زیادہ گرم ہونے پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ فرق پاکستان جیسے گرم ملک میں بہت اہم ہے جہاں گرمیوں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔

ان دونوں میں دوسرا فرق عمر کے دورانیے کا ہے۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے وابستہ توانائی کے ماہر ڈاکٹر فہد رشید کے مطابق ایل ایف پی بیٹریوں کی عمر زیادہ ہوتی ہے جو چار سے چھ ہزار چارج سائیکل تک کارآمد رہی ہیں جبکہ این ایم سی بیٹریاں عموماً ڈیڑھ سے دو ہزار سائیکل تک محدود رہتی ہیں۔

ایل ایف پی بیٹریوں کی قیمت این ایم سی سے کم ہوتی ہیں کیونکہ ان کی تیاری میں کوبالٹ جیسی مہنگی دھاتیں شامل نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یہ سولر سسٹمز اور پاور بیک میں زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔

تاہم الیکٹرک گاڑیوں کے معاملے میں لیتھیم آئن یا این ایم سی بیٹریوں کو برتری حاصل ہے۔ ان کا وزن نسبتاً کم اور توانائی کثافت (پاور ڈینسٹی) زیادہ ہوتی ہے جس سے یہ زیادہ رینج فراہم کرتی ہیں۔ ایل ایف پی بیٹریاں نسبتاً بھاری اور کم کثاقت والی ہوتی ہیں جن سے ایک ہی وزن (این ایم سی کے برابر) میں کم فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہوم سولر اور بائیک رکشے جیسی ای ویز کے معاملے میں لاگت، سیفٹی اور لانگ لائف زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ان صارفین کے لیے ایل ایف پی بیٹریاں زیادہ موزوں ہیں جبکہ جہاں کم وزن اور زیادہ رینج چاہیے وہاں لیتھیم آئن بیٹریاں زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

بیٹری کی قیمت کم کیسے کی جا سکتی ہے؟

پچھلے سال پاکستان کی لیتھیم آئن بیٹری مارکیٹ کا مجموعی حجم 39 کروڑ 46 لاکھ ڈالر رہا جو 2031ء میں 82 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پچھلے سال تین گیگا واٹ آور صلاحیت کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کی گئیں اور 2030ء میں یہ درآمدات آٹھ گیگا واٹ آور تک پہنچ جائیں گی۔

حکومت بیڑیوں کے خام مال پر زیرو ریٹڈ ٹیکس لاگو ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن پاکستان رینیوایبل انرجی ڈیویلپمنٹ فورم کا کہنا ہے کہ لیتھیم آئن بیٹری سیلز پر 50 فیصد تک ٹیکس اور ڈیوٹیز ہیں جو بیٹری کی مقامی اسمبلنگ و تیاری میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

'فورم نے ای ڈی بی کو گزشتہ ماہ ایک خط بھی لکھا جس میں ٹیکسز کم کرانے پر زور دیا گیا تھا۔'

ماہرین بتاتے ہیں کہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے والی ای بائیک میں 35 سے 50 فیصد حصہ بیٹری کا ہوتا ہے جو لیتھیم آئن بیٹری کی صورت میں 70 ہزار سے سوا لاکھ روپے تک بنتے ہیں۔

یونیورسٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی ) لاہور میں شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے چیئرمین ڈاکٹر فہیم گوہر بتاتے ہیں کہ اگر بیٹری پیک اسمبلی اور مینجمنٹ سسٹم کی پاکستان میں تیاری شروع ہو جائے تو ای بائیک کی قیمت 15 فیصد اور الیکٹرک رکشے کی 12 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

درآمدی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی میں کمی بھی قیمتوں پر براہ راست اثرانداز ہو گی۔

ملک کی روڈ ٹرانسپورٹ میں بائیکس و رکشوں کا بہت بڑا کردار ہے جو سالانہ اربوں ڈالر کی پٹرولیم درآمدات کا 40 فیصد پھونک جاتے ہیں۔ ان میں ہر سال کم سے کم 10 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نے بھی اس معاملے کو ای وی پالیسی میں اپنی ترجیح بنایا۔

پاکستان میں ای رکشہ بنانے والی کمپنی سازگار کے پراجیکٹ مینجر حسنین مہدی کہتے ہیں کہ سڑکوں پر ای بائیکس اور سکوٹیز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کو جہاں پٹرول کی قیمتوں نے اس طرف راغب کیا ہے، وہیں سبسڈی سکیم نے اِنہیں لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا۔

حکومت نے ای رکشے کے لیے بھی سکیمیں متعارف کرائیں مگر قیمت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی لاگت روایتی رکشے کی نسبت بہت زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ بیٹری ہے۔ اس سلسلے میں مجوزہ پالیسی کچھ مدد ضرور کر سکتی ہے۔

بڑھتی مہنگائی عوام کو توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف دھکیل رہی ہے لیکن یہ سفر آسان نہیں۔

نئی پالیسیاں، پرانی رکاوٹیں

اب سوال یہ ہےکہ لیتھیم آئن بیٹری پالیسی ایک ایسے ملک میں ای ویز کے فروغ میں کتنا مدد گار ثابت ہو سکتی ہے جہاں صارفین مالی دشواریوں سے چارجنگ تک کئی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

آٹو انڈسٹری بزنس کے تجزیہ کار مشہود علی خان بتاتے ہیں کہ ملک میں بینک فنانسنگ کی شدید کمی ہے۔ ابھی تک تو ای وی کی فروخت میں سبسڈیز مدد گار ثابت ہورہی ہیں لیکن اگر کل کو یہ سہولت ختم ہو گئی تو مارکیٹ شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

ای ویز کی صرف بیٹریاں ہی نہیں، موٹریں اور کنٹرولرز وغیرہ بھی چین سے درآمد کیے جاتے ہیں جن پر انحصار کم سے کم کرنا ہو گا۔ بیٹری پالیسی قیمتیں نیچے لانے کے لیے اہم ہے مگر بعد از فروخت سروسز کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔

پاکستان میں ای ویز کو رواج دینے میں ایک بڑی رکاوٹ چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی اور لوڈشیڈنگ ہے۔ کئی شہری علاقوں و دیہات میں رات بھر بجلی نہ ہونے سے چارجنگ متاثر ہوتی ہے اور صبح سفر میں ناممکن ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر فہیم گوہر اعوان (یو ای ٹی لاہور) کہتے ہیں کہ اس غیریقینی کا حل سولر چارجنگ سٹیشنز یا بیٹری سواپنگ نیٹ ورک ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے اعلانات تو کیے مگر ان پر عملی پیش رفت نہایت سست رہی۔

لیتھیم آئن بیٹری کی مقامی تیاری سے انفراسٹرکچر کی فراہمی تک کوئی کام آسان نہیں، حفاظتی ضوابط، ری سائیکلنگ کا نظام، عملدرآمد کی سخت نگرانی اور پالیسیوں کا تسلسل بھی ضروری ہیں۔ ان تمام اقدامات کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے جن کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدت درکار ہوگی۔

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے اس پر بات نہیں کی کہ بجٹ پر قومی بیٹری پالیسی کا اعلان ہو گا یا نہیں۔ البتہ اتنا بتایا کہ حکومت لیتھیم بیٹریوں پر کام کر رہی ہے۔ کئی چینی و پاکستانی کمپنیوں نے بیٹری مینوفیکچرنگ اور انرجی سٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

تاہم ای ڈی بی کے سابق چیئرمین الماس حیدر کا ماننا ہے کہ بیٹری پالیسی سے ٹو، تھری ویلر ای ویز کی لاگت بتدریج کم ہوگی، تاہم سولر انرجی سیکٹر کو زیادہ فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

"سولر بجلی کو انرجی سٹوریج سسٹمز کے ذریعے شام کے اوقات میں استعمال کیا جا سکے گا جس سے مہنگے فوسل فیول پلانٹس پر انحصار کم ہوگا۔ گرڈ کے استحکام، بیک اپ پاور اور نیٹ میٹرنگ سسٹمز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔"

تاریخ اشاعت 10 جون 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

آصف محمودکا تعلق لاہور سے ہے۔ گزشتہ 20 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ غیرمسلم اقلیتوں، ٹرانس جینڈرکمیونٹی، موسمیاتی تبدیلیوں، جنگلات، جنگلی حیات اور آثار قدیمہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

کیا قومی لتیھیم آئن بیٹری پالیسی سے وابستہ توقعات پوری ہو پائیں گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ سبسڈی نے کام کیا: سندھ اپنے کسانوں سے گندم خریدنے میں کیسے ناکام ہوا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

154 سالہ پرانا مسیحی قانون کب بدلے گا؟

thumb
سٹوری

مہنگے پٹرول نے ای بائیکس کو پَر تو لگا دئیے لیکن اس کی اڑان کتنی لمبی ہو گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الیکٹرک بائیک آلودگی کم کرنے کے لیے اچھی مگر سڑکوں پر دوڑتی تین کروڑ پرانی موٹرسائیکلوں کا کیا کرنا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعلیزہ خالد
thumb
سٹوری

گلگت بلتستان کا سولر الیکشن: سولر پینلز کی مفت تقسیم بجلی بحران حل کرے گی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

ہنوز ای وی دور است: الیکٹرک گاڑیوں کو رواج دینے کی پالیسی کس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.