ڈسکوز کی نجکاری: پالیسی سازوں کی دو جمع دو چار میں صارفین کو کیا بچے گا؟

postImg

احتشام احمد شامی

postImg

ڈسکوز کی نجکاری: پالیسی سازوں کی دو جمع دو چار میں صارفین کو کیا بچے گا؟

احتشام احمد شامی

وفاقی حکومت نے جون کی گرمی اور نئے سالانہ بجٹ کی حدت محسوس ہوتے ہی بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) سے 'جان چھڑانے' کا عمل شروع کر دیا ہے۔ فیصل آباد (فیسکو)، گجرانوالہ (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کے لیے باضابطہ اظہارِ دلچسپی (Expressions of Interest) طلب کر لیے گئے ہیں۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن کے مطابق اس عمل کے ذریعے  تینوں ڈسکوز کے 51 سے 100 فیصد تک حصص اور ان کا انتظامی کنٹرول خریداروں کو دے دیا جائے گا۔

اسلام آباد کے کانفرنس رومز میں منصوبہ ساز اس فیصلے کو بحران زدہ پاور سیکٹر میں مسابقت اور جدت لانے کا 'مجرب نسخہ' قرار دے رہے ہیں جبکہ گوجرانوالہ میں گیپکو ملازمین احتجاجاً دفاتر کو تالے لگا کر جی ٹی روڈ پر مارچ کر رہے ہیں۔

دس سرکاری ڈسکوز کے مجموعی طور پر تقریباً پونے چار کروڑ صارفین میں سے فیسکو ، گیپکو اور آئیسکو لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ صارفین کو بجلی سپلائی کی ذمہ دار ہیں جن کا نیٹ ورک وسطی پنجاب کے صنعتی مراکز سے اٹک اور آزاد کشمیر تک پھیلا ہوا ہے۔

نوٹس کے مطابق فیسکو کے لیے اظہارِدلچسپی کی درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ سات جولائی، گیپکو کے لیے چھ اگست اور آئیسکو کے لیے سات ستمبر مقرر کی گئی ہے۔

اس دوران غیرملکی سرمایہ کاروں کو اس جانب متوجہ کرنے کے لیے 45 روزہ عالمی مہم چلائی جائے گی جس میں چین، ترکی اور سعودی عرب میں روڈ شوز کیے جائیں گے، اندرون ملک سرمایہ کاروں سے بھی روابط بڑھائے جائیں گے۔ انویسٹرز کے ساتھ پاور ڈسٹری بیوشن سیکٹر کی تنظیمِ نو، گورننس میں اصلاحات کی تجاویز اور سرمایہ کاری کے مواقع زیربحث آئیں گے۔

لیکن یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ اس نجکاری کے نتیجے میں صارفین کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ 

گردشی قرضہ: وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

صارفین کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی مسلسل بڑھتی قیمتیں ہیں۔

2015ء میں بجلی کا اوسط ٹیرف (یعنی ٹیکسوں کے بغیر فی یونٹ قیمت)  12.5 روپے یونٹ تھا جو 2025ء میں بڑھ کر 34.45 روپے یونٹ تک جا پہنچا۔ یوں دس سال کے دوران بجلی کے نرخوں میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا حالانکہ اس عرصے میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اتنا اضافہ نہیں ہوا۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ کا اصل کارن اس سیکٹر کا قرضوں کا مسلسل بڑھتا بوجھ ہے۔

یہ قرض کیوں بڑھ رہا ہے؟

کم وصولی، بجلی چوری، لائن لاسز اور بجلی پیدا کرنے والے - آئی پی پیز  - کو لازمی بھاری ادائیگیاں (کپیسٹی چارجز) اس سیکٹر کے مالی نقصان میں روزانہ اضافہ کرتی ہیں جو قرض کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ سیکٹر کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہو رہے، اس لیے نقصان تھم نہیں رہا اور قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس قرض میں سب سے بڑا حصہ کپیسٹی پیمنٹس کا ہے۔

مالی سال 2025ء میں یہ گردشی قرضہ چھبیس کھرب روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔

گیپکو کے ایک سینئر افسر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتے ہیں کہ ڈسکوز کی نااہلیوں سے انکار ممکن نہیں مگر نجکاری کی بحث میں کھربوں روپے کی کپیسٹی پیمنٹس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ بجلی کی قیمت کا بڑا حصہ اور ڈسکوز پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ اس کو حل کیے بغیر  بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ "صرف ملکیت تبدیل ہونے سے کچھ نہیں بدلے گا۔" 

نیپرا کے اعداد و شمار بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء میں بجلی کی 'کپیسٹی پرچیز پرائس ( وہ رقم جو حکومت بجلی بنانے والی کمپنیوں کو صرف اس لیے دیتی ہے کہ انہوں نے  بجلی کے کارخانے لگائے ہوئے ہیں، چاہے حکومت ان سے بجلی خریدے یا نہ خریدے) اوسطاً 14.21 روپے فی یونٹ رہی جو کنزیومر پرائس  (وہ بنیادی قیمت  جو حکومت اضافی ٹیکسوں سے پہلے صارفین کے لیے مقرر کرتی ہے) کا تقریباً % 41.2 فیصد بنتی تھی۔ یعنی صارفین نے بجلی کے ہر یونٹ پر 35.45 میں سے 14.21 روپے صرف ان کارخانوں کی کپیسٹی چارجز کی مد میں دیے ۔

خریدار کمپنی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ نیپرا؟

حکومت کا کہنا ہے کہ فیسکو، گیپکو و دیگر ڈسکوز کی نجکاری کا مقصد پاور سیکٹر کی کارکردگی بہتر بنانا، سروسز کی فراہمی کو مستحکم کرنا، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ پاور سیکٹر کی نجکاری کا آغاز  2005ء میں کراچی کی واحد تقسیم کار کمپنی کو نجی شعبے کے سپرد کر کے کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہی فوائد گنوائے گئے تھے مگر کراچی میں نہ تو سروس ڈلیوری میں کوئی خاص بہتری آئی اور نہ ہی بڑی سرمایہ کاری کی توقعات پوری ہوئیں۔

کے الیکٹرک بجلی چوری یا لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کرتی ہے یعنی جن علاقوں میں بجلی کے نقصانات زیادہ ہوں وہاں زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام نقصانات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے۔

تاہم نیپرا اس طریقۂ کار کو ضابطے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں چند نادہندگان کی وجہ سے باقاعدگی سے بل دینے والے صارفین کو بھی اجتماعی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ نیپرا نے اس پر جرمانے بھی عائد کیے جو بعد میں منسوخ کر دیے گئے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی سابق ریسرچ فیلو عافیہ ملک دو عشروں سے پاور سیکٹر پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مؤثر ریگولیشن کے بغیر ڈسکوز میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ کے الیکٹرک کے معاملے میں بھی احتساب ہے نہ ہی مؤثر نگرانی ہے۔

"ریگولیٹر (نیپرا) صرف ٹیرف کا تعین کرتا ہے لیکن قواعد پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔"

'سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک ہی غلطی دہرانا درست نہیں'

عافیہ ملک سمجھتی ہیں کہ ڈسکوز کی نجکاری کراچی جیسا ہی تجربہ ہو گا ۔ وہاں خسارے والے علاقوں میں بجلی فراہم نہیں کی جاتی مگر کمپنی مطمئن ہے چاہے صارفین جتنی مشکلات کا شکار ہوں۔ "نجی شعبے کی بنیادی دلچسپی منافع کمانے میں ہوتی ہے۔ ان تین ڈسکوز کی نجکاری کے معاملے میں بھی سروسز میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔"

شعبہ توانائی کی محقق فریال قاضی انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹدیز اسلام آباد سے وابستہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ 2020ء میں پاور سیکٹر پر ایک سپیشل انکوائیری رپورٹ میں سامنے آیا کہ آئی پی پیز نے اپنے اخراجات کےاعدادوشمار میں ہیر پھیر کر کے مقررہ حد (15 فیصد) سے کہیں زیادہ (50 سے 70 فیصد تک) منافع کمایا۔ 

"اب جب ہم ڈسکوز میں نجی کھلاڑی لا رہے ہیں اور نیپرا کی نگرانی بہتر نہیں بنائی جاتی تو اس کا خمیازہ صارفین کو بھگتنا پڑے گا۔ ریگولیٹر کے پاس شکایات کے ازالے کی صلاحیت ہی نہیں تو صارفین انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟"

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک سرمایہ کار نے ڈسکوز کے معاہدوں کو ڈالر کے ساتھ جوڑنے کی تجویز دی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو نجکاری کا کوئی مقصد باقی نہیں بچے گا کیونکہ اس سے بجلی کے نرخ کم کرنے کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ "صرف سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک ہی غلطی دہرانا درست نہیں ہو سکتا"۔

واضح رہے آئی پی پیز کے معاہدے پہلے ہی ڈالر سے منسلک ہیں جس کے نتائج پورا پاور سیکٹر بھگت رہے ہیں۔

'اگر کمپنیوں کو بجلی کا ریٹ طے کرنے کا اختیار دے دیا گیا تو وہ صارفین کا بھرکس نکال دیں گی' 

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں نجکاری کی ہر کہانی کے پیچھے عالمی ڈونرز یعنی ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا کردار واضح نظر آتا ہے۔

فریال قاضی بتاتی ہیں کہ یہاں واپڈا کو کئی حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز عالمی بینک سے آئی تھی۔ آج ڈسکوز کی نجکاری بھی ڈونرز کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ یہ فیصلہ بھی وہی کرتے ہیں کہ کب مالیاتی مشیر مقرر کرنا ہے اور کون سی کمپنی پہلے پرائیویٹائز ہو گی۔

ماہرین کے مطابق ڈسکوز کی نجکاری آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کی شرائط کا بھی حصہ ہے۔

"وہ (ڈونر) سماجی پیچیدگیوں سے بے پروا، دو جمع دو چار کے حساب سے فیصلے کرتے ہیں اور ان کی نظر صرف اپنے اہداف پر ہوتی ہے۔جب فیصلے اس طرح ہوں تو عوام کا مفاد دھرا رہ جاتا ہے۔"

فریال کہتی ہیں کہ دستیاب معلومات سے یہی لگتا ہے کہ اس نج کاری کے نتیجے میں بجلی کے تمام اخراجات کا بوجھ صارفین پر منتقل ہو جائے گا۔

گیپکو افسر کا خیال ہے کہ سرمایہ کار پیسہ بٹورنے کے لیے منصفانہ یا غیر منصفانہ ہر ممکن طریقہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر خریدار کمپنی کو ٹیرف میں تبدیلی کا اختیار دے دیا گیا تو وہ صارفین کا بھرکس نکال دیں گے۔

"ایسی صورت میں کمپنی کی ساکھ تو متاثر ہوگی ہی، لوگوں کا سسٹم اور حکومت دونوں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ ملک میں پہلے ہی غربت بہت ہے، ڈسکوز کی نجکاری کا نتیجہ مزید غربت کی صورت میں نکلے گا۔"

کیا حکومت ڈسکوز کے واجبات، ملازمین کی پنشن اپنے ذمہ لے لے گی؟

ڈسکوز کی نجکاری کے ریگولیٹری پہلووں کے علاوہ مالی پہلو بھی ہیں۔ عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کی مالیاتی تفصیلات (بیلنس شیٹس) عوام کے سامنے کم ہی آتی ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ ان اداروں کے اثاثے، ذمہ داریاں اور واجبات نجی کمپنیوں کو کس طرح منتقل کیے جائیں گے۔ کیا حکومت تمام واجبات اپنے ہی ذمہ لے گی!

ان اداروں کے اخراجات میں پنشن بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں۔گیپکو افسر کے بقول ممکنہ سرمایہ کار پنشن کی ذمہ داریاں لینے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ اہلکاروں سے افسروں تک تمام ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ ادارے کی نجکاری ہو گئی تو ملازمت کا تحفظ ختم ہو جائے گا۔

"میرا دل نہیں چاہتا لیکن میں سنجیدگی سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے پر غور کر رہا ہوں۔ ساتھی مجھے سمجھاتے ہیں کہ ابھی ملازمت کے نو سال باقی ہیں، باقی زندگی کیا کرو گے، گھر اور بچوں کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ مگر مجھے ڈر ہے کہ میں گریجویٹی اور پنشن سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھوں۔"

یہ کہنا تھا لائن مین غلام رسول کا جو 30 سال سے گیپکو میں کام کر رہے ہیں۔ اب ان کا بیٹا یونیورسٹی اور تین بیٹیاں سکول کالج میں زیرِ تعلیم ہیں اور وہ اپنی گریجویٹی سے ان کی شادیاں کرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے ریجنل چیئرمین ولی الرحمٰن خان کہتے ہیں کہ گیپکو کے اربوں روپے کے اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کیے جا رہے ہیں، یہ کسی صورت قبول نہیں۔ بہتر ہوگا یہ ادارہ چلانے کے لیے کارکنوں کے سپرد کر دیا جائے۔

"نجکاری کا عمل فوری نہ روکا گیا تو میٹر ریڈنگ اور بل وصولیاں بند کر دی جائیں گی۔"

گویا ڈسکوز کی نجکاری کا فارمولا کچھ یوں بنتا ہے کہ قرضے، پنشنز اور نقصان میں چلنے والی ڈسکوز حکومت کے پاس رہیں گی جبکہ مالی بوجھ سے پاک، منافع بخش ڈسکوز کو سرمایہ کار سنبھالیں گے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو خسارے میں چلنے والے ادارے نہیں۔ حکومت نے انہیں بیچنے کا انتخاب اسی لیے کیا ہے کہ یہ سرمایہ کاروں کے لیے مالی طور پر پرکشش ہیں لیکن نقصان میں چلنے والی ڈسکوز کا کیا ہو گا؟ ڈسکوز کے ملازمین اور بجلی کے صارفین کے حقوق کا تحفظ کیسے ہو گا؟ ان سوالوں کے جواب کسی کے پاس نہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری میں لاہور سے محسن علی اور سعدیہ سیف اللہ  نے معاونت کی۔

تاریخ اشاعت 10 جون 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

احتشام احمد شامی کا تعلق وسطی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ لوک سُجاگ کے علاؤہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور فری لانس کام کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

ڈسکوز کی نجکاری: پالیسی سازوں کی دو جمع دو چار میں صارفین کو کیا بچے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاحتشام احمد شامی
thumb
سٹوری

کیا قومی لیتھیم آئن بیٹری پالیسی سے وابستہ توقعات پوری ہو پائیں گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ سبسڈی نے کام کیا: سندھ اپنے کسانوں سے گندم خریدنے میں کیسے ناکام ہوا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

154 سالہ پرانا مسیحی قانون کب بدلے گا؟

thumb
سٹوری

مہنگے پٹرول نے ای بائیکس کو پَر تو لگا دئیے لیکن اس کی اڑان کتنی لمبی ہو گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الیکٹرک بائیک آلودگی کم کرنے کے لیے اچھی مگر سڑکوں پر دوڑتی تین کروڑ پرانی موٹرسائیکلوں کا کیا کرنا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعلیزہ خالد
thumb
سٹوری

گلگت بلتستان کا سولر الیکشن: سولر پینلز کی مفت تقسیم بجلی بحران حل کرے گی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

ہنوز ای وی دور است: الیکٹرک گاڑیوں کو رواج دینے کی پالیسی کس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.