ناقص منصوبہ بندی یا سیاسی اقربا پروری: خضدار کے بچے اپنے تعلیمی حق سے کیوں محروم ہیں؟

postImg

اقبال مینگل

postImg

ناقص منصوبہ بندی یا سیاسی اقربا پروری: خضدار کے بچے اپنے تعلیمی حق سے کیوں محروم ہیں؟

اقبال مینگل

خضدار کے قصبے باجکی میں نو سالہ طاہرہ اپنی کتابیں کاپیاں گود میں لئے سارا دن گھر کی دہلیز پر بیٹھی رہتی ہیں جیسے کسی کی راہ دیکھ رہی ہوں۔

وہ اپنے قصبے میں قائم لڑکیوں کے سرکاری پرائمری سکول میں پہلی جماعت کی طالبہ تھیں۔ ان کے سکول میں ایک ہی استانی پڑھاتی تھی جس کے جانے کے بعد سکول کو تالے لگ گئے۔ اس سکول میں 23 بچیاں زیرتعلیم تھیں جنہوں نے لڑکوں کے پرائمری سکول میں جانا شروع کر دیا جہاں طاہرہ کے والد عبدالفتاح بروہی واحد استاد کی حیثیت سے تعینات تھے۔ اس طرح طاہرہ اپنی ہم جماعت طالبات کے ساتھ اپنے والد کی شاگرد ہو گئیں۔

طاہرہ کے والد یرقان میں مبتلا رہنے کے بعد امسال جنوری میں انتقال کر گئے تو باجکی میں لڑکوں کے پرائمری سکول پر بھی تالا لگ گیا اور وہاں پڑھنے والے 55 بچوں کی تعلیم منقطع ہو گئی۔ اب اس سکول کے بچے مویشی چراتے ہیں اور بچیاں گھروں میں بیٹھی ہیں۔

باجکی کے رئیس دوست محمد بیس سال پہلے محکمہ مواصلات و تعمیرات سے بطور' قلی' ریٹائر ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں گرلز پرائمری سکول قائم ہوئے اٹھارہ سال ہو گئے ہیں لیکن یہ صرف چند سال ہی فعال رہا ہے۔ لڑکیوں کا سکول بند ہوا تو ان کی بیٹی افنانہ بھی اپنے آٹھ سالہ بھائی عدنان کے ساتھ لڑکوں کے سکول میں جانے لگی تھی جو ماسٹر عبدالفتاح کے انتقال کے بعد غیرفعال ہے۔

"میں نے گزر بسر کے لیے چند بکریاں پال رکھی ہیں، بمشکل گھر چلا رہا ہوں، سوچا تھا بچوں کو پڑھاؤں گا مگر انہیں شہر بھیجنے کے اخراجات نہیں اٹھا سکتا۔ اب میں نے اپنے کمسن بیٹے عدنان کو بھی بکریاں چرانے کے لئے کہہ دیا ہے۔''

محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن کے مطابق ضلع خضدار میں تقریباً 670 پرائمری سکول قائم ہیں جن میں 183 لڑکیوں، 29 مخلوط اور باقی لڑکوں کے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق لڑکوں کے 141 اور لڑکیوں کے 45 سکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے غیرفعال ہو چکے ہیں۔ مجموعی سکولوں میں یہ تعداد 28 فیصد ہے۔

محکمہ ثانوی تعلیم کے ڈسٹرکٹ افسر نیاز احمد سمالانی نے 'لوک سجاگ' کو بتایا کہ غیر فعال سکولوں کی اکثریت دیہات میں ہے اور یہ وہ سکول ہیں جہاں اساتذہ کی ریٹائرمنٹ یا انتقال کے باعث پوسٹیں خالی ہو گئی تھیں اور اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث وہاں تعیناتیاں نہیں ہو سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں  نے ان سکولوں کی بحالی کے لیے کئی مرتبہ سیکرٹری ایجوکیشن کو خطوط بھی لکھے ہیں لیکن تاحال یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔

''ضلعے کے سرکاری پرائمری سکولوں میں 628 اساتذہ کی کمی ہے۔ ان خالی پوسٹوں پر تقرری میرے اختیار میں نہیں ہے۔ چھ سات سکول ایسے ہیں جہاں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے اساتذہ میسر آ گئے ہیں اور ان سکولوں کو بحال کر دیا گیا ہے۔"

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر رئیس تنویر کرد اس مسئلے کے ایک اور پہلو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اکثر سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہوتا ہے اور اساتذہ کی ٹرانسفر، پوسٹنگ اور اٹیچمنٹ (طے شدہ علاقے کے بجائے کسی اور جگہ عارضی تعیناتی) عام طور پر سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے سکول اساتذہ سے محروم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خضدار شہر سے چند کلومیٹر دور قومی شاہراہ پر واقع پیر عمر پرائمری سکول کا واحد استاد دو سال قبل انتقال کر گیا تھا جس کے بعد سکول بند ہے اور وہاں پڑھنے والے سو بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

ماہر تعلیم ،مُصنفہ اورشاعرہ پروفیسر طاہرہ احساس جتک کا کہنا ہے کہ آٹھ لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس ضلعے کے ہر پرائمری سکول میں کم از کم تین اساتذہ کی تعیناتی ضروری ہے۔ ایک استاد نرسری سے پانچویں جماعت تک سب بچوں کو نہیں پڑھا سکتا۔

''خضدار میں بعض اساتذہ اپنے سیاسی تعلقات کی وجہ سے گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں اور بعض سکول میں محض حاضری دینے کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔''

یہ بھی پڑھیں

postImg

کوہلو گرلز کالج کا قیام: لڑکیوں کو تعلیم کے بہتر مواقعے کب میسر آئیں گے؟

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ضلعے کے 814 سرکاری سکولوں میں مجموعی طور پر 47 ہزار 850 بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ ان میں لڑکیوں کے 108 سکولوں سمیت 202 سکولوں کی عمارتیں ہی نہیں ہیں۔

تنویر کرد کا کہنا ہے کہ 318 سکولوں کی عمارتیں خستہ ہو چکی ہیں اور اگر ان کی بروقت مرمت نہ ہوئی تو یہ بھی ناقابل استعمال ہو جائیں گی۔

چھ ماہ قبل یونیسف نے خضدار میں سیلاب سے متاثرہ 178 سکولوں کی تعمیر ومرمت کے لئے ایک منصوبہ شروع کیا تھا لیکن اس میں بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

تاریخ اشاعت 10 مئی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد اقبال مینگل کا تعلق خضدار سے ہے۔ وہ گزشتہ آٹھ سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.