سندھ حکومت نے حیدرآباد کے سیوریج کی نکاسی کے لیے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس کے تحت صوبے کے اس دوسرے بڑے شہر کا گندا پانی 'کارو گھنگرو آؤٹ فال ڈرین' (برساتی نالے) کے ذریعے سمندر میں پھینکا جائے گا۔
اس منصوبے پر زیریں اضلاع ٹنڈو محمد خان اور سجاول کے کسانوں کو شدید تحفظات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صنعتی فضلے والا سیوریج کا آلودہ پانی کارو گھنگرو میں آنے سے ارد گرد کے درجنوں گاؤں متاثر ہوں گے۔
"زیر زمین پانی کڑوا ہو جائے گا جس سے نہ صرف زرعی زمینیں تباہ ہوں گی بلکہ انسان اور مال مویشی بھی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔"
حیدرآباد کے میئر کاشف خان شورو بتاتے ہیں کہ نصف کروڑ آبادی کے اس شہر کا سیوریج اور صنعتی ویسٹ واٹر لگ بھگ روزانہ 70 لاکھ گیلن بنتا ہے جو کوٹری بیراج کی تین نہروں (پھلیلی کینال، پنیاری کینال اور لائینڈ چینل) میں ڈالا جاتا ہے۔
"لوگ ان نہروں کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اسی مسئلے کے پیش نظر نئے پراجیکٹ پر کام جاری ہے جس کے مکمل ہوتے ہی سیوریج کو کارو گھنگرو ڈرین میں منتقل کر دیا جائےگا۔"
شہر کی ڈرینج کا معاملہ دہائیوں پرانا ہے۔ پہلے یہ آلودہ پانی دریائے سندھ میں چھوڑا جاتا رہا، پھر اسے کوٹری بیراج سے نکلنے والی نہروں میں بھی ڈالنا شروع کر دیا گیا۔
اب زیادہ تر سیوریج دو بڑی کینالز میں ڈالا جا رہا ہے۔ ان میں سے پنیاری کینال ضلع حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان و سجاول کے ایک لاکھ 26 ہزار ایکڑ کو سیراب کرتی ہے جبکہ پھلیلی کینال حیدرآباد سے بدین تک کی نو لاکھ 29 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو پانی دیتی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پانی کو ٹریٹ (صاف)کر کے نہروں میں ڈالنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے لیے چار ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر شروع ہوئی جن میں سے دو سائٹس 2009ء میں مکمل کر لی گئی تھیں مگر یہ تجربہ ناکام رہا اور پلانٹس غیر فعال ہو گئے۔

زیرتعمیر ڈرینج منصوبہ کیا ہے؟
منصوبے کے مطابق حیدرآباد شہر کے دریا خان پمپنگ سٹیشن سے پختہ چینل (نالہ) تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اسے 'دریا خان برانچ/ دیوان ڈرین' کا نام دیا گیا ہے جس میں 400 کیوسک سیوریج واٹر لے جانے کی گنجائش ہوگی۔
یہ چینل ہوسڑی تک پنیاری کینال کے ساتھ ساتھ جائے گا، زیل پاک سیمنٹ فیکٹری کے سامنے اس کا پانی پرانے برساتی نالے میں چھوڑا جائے گا جو ٹنڈو محمد خان کی حدود میں کارو گھنگرو ڈرین میں پہنچے گا۔ اس ڈرین کا اختتام ٹھٹہ سجاول میں سہنرو/ سنیہری جھیل پر ہوتا ہے جہاں سے پانی سمندر میں چلا جاتا ہے۔
سیوریج کا یہ منصوبہ دراصل 2022ء میں بنایا گیا تھا لیکن اسے 25-2024ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے اس کا ریشنلائزڈ نظرثانی شدہ پی سی ون تیار ہوا۔
موجودہ پی سی ون کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ تقریباً ساڑھے پانچ ارب روپے ہے جس میں کارو گھنگرو ڈرین اور اس سے جڑے ڈھانچے کی بحالی، دریا خان پمپنگ سٹیشن سے کارو گھنگرو تک نئے نالے اور کئی سائفن و پلوں کی تعمیر شامل ہیں۔
یہ پراجیکٹ محکمہ آبپاشی سندھ نے نیسپاک کے تعاون سے تیار کیا جو اریگیشن حکام ہی کی زیرنگرانی تعمیر کیا جا رہا ہے۔
سرکاری حکام کا ماننا ہے کہ پی سی ون میں تجویز کردہ اقدامات اور کاروگھنگرو ڈرین سسٹم کی بحالی کے نتیجے میں 98 ہزار598 ایکڑ زمین دوبارہ قابلِ کاشت بنائی جائے گی۔ یہاں گنا، چاول اور سبزیوں جیسی فصلیں کاشت ہوں گی جن سے تقریباً10 لاکھ افراد کو فائدہ ہو گا۔ اس پورے علاقے کے لیے نکاسی آب کی سہولیات ناگزیر ہیں۔
تاہم ضلع ٹنڈو محمد خاں اور سجاول کے کسان بضد ہیں کہ حیدرآباد کا سیوریج کاروگھنگرو میں ڈالنے کا منصوبہ ترک کیا جائے۔

'کارو گھنگرو نے پہلے بھی کسانوں کو ڈبویا، اب اس میں مزید خرابیاں ہوں گی'
کسان زیر تعمیر پراجیکٹ پر محض اعتراضات یا خدشات کا اظہار نہیں کر رہے بلکہ انہوں نے ٹنڈو محمد خان اور بلڑی شاہ کریم میں احتجاجی دھرنے بھی دیے ہیں۔
کارو گھنگرو آؤٹ فال ڈرین سسٹم، 1959ء میں مکمل ہوا تھا جو تقریباً چار لاکھ ایکڑ رقبے پر مشتمل علاقے کا برساتی پانی نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ 80 میل طویل کارو گھنگرو ڈرین اس نظام کا مرکزی حصہ ہے جس کی چوڑائی 15 فٹ اور اس میں پانی لے جانے کی گنجائش ایک ہزار 232 کیوسک تھی۔
آبادگار رہنما عثمان کاتیار کہتے ہیں کہ کارو گھنگرو نے پہلے بھی کسانوں کو ڈبو دیا تھا، اب اس میں سیوریج ڈالنے سے مزید خرابیاں ہوں گی۔ یہ بارشوں میں ناصرف سیلاب کا باعث بنے گی بلکہ زرعی زمینیں ہمیشہ کے لیے سیم زدہ اور بنجر ہو جائیں گی۔
پی سی ون تصدیق کرتا ہے کہ گاد جمع ہونے، تجاوزات اور طویل عرصہ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کارو گھنگرو کی کارکردگی کم ہو گئی۔ اس میں کیچمنٹ ایریا کی 170 ملی میٹر بارش برداشت کرنے کی گنجائش تھی مگر 2020ء میں 250 ملی میٹر برسات ہوئی جو ڈرین کی استطاعت سے زیادہ تھی اس لیے اس کا پانی اوور فلو ہو گیا اور زرعی رقبہ اور آبادیوں اس آلودہ پانی کی لپیٹ میں آ گئیں۔
پی سی ون کے مطابق: اس ڈرین کی حالت ابتر ہے جو اپنی اصل ساخت و ہیئت کھو چکی ہے۔ اب حیدرآباد کا اضافی پانی ڈالنے کے لیے کارو گھنگرو کو بحال کیا جائے گا۔ اس کی چوڑائی 15 فٹ سے بڑھا کر 45 فٹ کی جائے گی جس سے اس میں پانی کی گنجائش مزید بڑھے گی۔
ٹنڈو محمد خان کے زمیندار اور رہنما آبادگار بورڈ نبی بخش سٹھیو سرکاری موقف کو جھانسہ قرار دیتے ہیں۔
"حکام جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ ہم کارو گھنگرو کی بحالی چاہتے ہیں مگر یہاں اس کی آڑ میں حیدرآباد کا مزید 400 کیوسک زہریلا پانی ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے 70 ہزار آبادی کے گاؤں شدید متاثر ہونگے۔"

'سندھ میں نکاسی آب کے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوئے'
آبادگاروں کو شکایت ہے کہ انہیں کارو گھنگرو میں شہر کا ڈرینج ڈالنے کے معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان (حکام) کی نیت ٹھیک ہوتی تو مقامی کسانوں سے مشاورت کرتے یا کم از کم ممکنہ اثرات سے آگاہ ضرور کیا جاتا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔
اس سلسلے میں لوک سجاگ نے تحفظ ماحولیات ایجنسی سندھ(سیپا) کے سابق ڈائریکٹر حیدرآباد عمران عباسی سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے دریا خان پمپنگ سٹیشن پر مقامی لوگوں سے میٹنگ کی تھی (حالانکہ خدشات کا شکار زیریں اضلاع کے لوگ ہیں) وہاں کسی کو کوئی عتراض نہیں تھا۔
ماحولیاتی ماہر اور زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے پروفیسر اسماعیل بھی سیوریج کو کارو گھنگرو میں ڈالنے کے مخالف ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سندھ میں نکاسی آب کے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوئے چاہے وہ برساتی ڈرین ہوں یا سیم نالے۔
"ایل بی او ڈی (لیفٹ بنک آؤٹ فال ڈرین) اور آر بی او ڈی (رائیٹ بنک آؤٹ فال ڈرین) اس کی واضح مثالیں ہیں جنہوں نے مقامی آبادیوں کو تباہ کیا۔ ان کا پانی برساتوں میں سمندر میں جانے کے بجائے تقریباً ہر سال واپس آکر لوگوں اور فصلوں کو ڈبو دیتا ہے۔"
ان کے بقول یہ کارو گھنگرو والا نیا منصوبہ بھی بڑی تباہی لائے گا۔ اس نالے میں پہلے ہی شوگر ملوں کا زہریلا مواد ڈال کر زمینوں کو خراب کیا جا رہا ہے، اب حیدرآباد کی فیکٹریوں اور شہر کا گندہ پانی آنے سے مزید تباہی آئے گی۔
نبی بخش سٹھیو کا اصرار ہے کہ سیوریج کو ٹریٹ کر کے پھلیلی کینال میں ڈالا جائے جس سے نہ صرف شہر کی ڈرینج کا مسئلہ حل ہو گا بلکہ وہاں زرعی زمینوں کو وافر پانی میسر آ سکے گا۔
"کارو گھنگرو مزید پانی برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ منصوبہ ترک نہ کیا گیا تو ہم ٹنڈو محمد خان اور سجاول کے لوگوں پر سیلاب و سیم کا خطرہ مستقل منڈلاتا رہے گا۔"
احتجاج کے باوجود حیدرآباد ڈرینج منصوبے پر کام جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکام کارو گھنگرو ڈرین کی توسیع و بحالی کے وعدوں پر کتنا عمل کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت 30 جون 2026
















