خیبرپختونخوا حکومت نے لگ بھگ دو سال سے صوبے کے ایک لاکھ 30 ہزار مستحق گھرانوں کو سولر سسٹمز دینے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے مطابق 65 ہزار خاندانوں کو یہ سسٹم مفت اور 65 ہزار کو 50 فیصد سبسڈی پر دیے جائیں گے۔
مجوزہ پلان کے تحت ہر سولر ہوم سسٹم دو کلو واٹ کا ہو گا جس میں دو پینل، کنٹرولر، دو پنکھے، بیٹری اور تار وغیرہ شامل ہیں۔اس منصوبے کا اعلان جون 2024ء میں کیا گیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا تھا کہ گھروں میں مفت سولر لگانے کا کام چند ہی ماہ میں شروع ہو جائے گا مگر عمل درآمد تو کجا، ان کے دور میں پی سی ون ہی منظور نہ ہو پایا۔
خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے برسوں سے طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پشاور کے نواحی علاقہ بڈھ بیر میں بھی روزانہ 20، 20 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ترجمان محمد عثمان تصدیق کرتے ہیں کہ صوبے میں بجلی کی ڈیمانڈ 3200 میگا واٹ اور سپلائی صرف 1800 میگا واٹ ہے۔ طلب و رسد میں 1400 میگاواٹ کے فرق کے باعث مختلف فیڈرز پر آٹھ سے 16 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑتی ہے۔
ان حالات کے پیش نظر صوبے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعد موجودہ چیف منسٹر سہیل آفریدی نے بھی مذکورہ پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جس پر 13 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے یہ اعلان مارچ 2026ء میں کیا۔ یہ منصوبہ دو فیز میں مکمل ہو گا۔ پہلے مرحلے میں مفت سولرائزیشن سے 65 ہزار غریب خاندان مستفید ہوں گے۔
صوبائی سیکرٹری محکمہ توانائی نثار احمد خان بتاتے ہیں کہ اس منصوبے کی ابتدائی منظوری ہو چکی ہے۔ پی سی ون میں کچھ خامیاں تھیں جنہیں دور کر کے منظوری کے لیے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی)کو بھیجا گیا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ہر صورت سولرائزیشن شروع ہو جائے گی۔ لیکن ابھی تک یہ منصوبہ کاغذی کارروائیوں سے ہی باہر نہیں آ سکا۔

سولر منصوبوں کا بوفے مگر تاخیر ہی تاخیر
خیبر پختونخوا میں توانائی کے صوبائی منصوبوں پر عملدرآمد اور نگرانی کا کام پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کرتا ہے۔ اس کی آفیشل ویب سائٹ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ادارہ اب تک نو ہزار 99 سکولوں، 11 ہزار مساجد کی سولرائزیشن سمیت لگ بھگ ساڑھے نو ارب روپے کے 9 منصوبے مکمل کر چکا ہے۔
اگرچہ 2015ء سے 2021ء کے درمیان شروع کیے گئے مذکورہ پراجیکٹس میں سے بیشتر تاخیر کا شکار ہوئے تاہم آٹھ کسی نہ کسی طرح تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ 9 واں منصوبہ ضم قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) کا تھا جہاں تقریباً 76 کروڑ روپے کی لاگت سے 13 منی سولر گرڈز تعمیر کیے جانے تھے لیکن ان میں سے ابھی تک صرف ایک ہی منی گرڈ فعال ہو پایا ہے۔
گھروں کی مفت سولرائزیشن سکیم کا تو پی سی ون ہی پیڈو تک نہیں پہنچا۔
پیڈو کی ویب سائٹ پر پہلے ہی جاری (آن گوئنگ/ نامکمل) سولر منصوبوں کی قطار نظر آتی ہے جو 2021ء کے بعد شروع ہوئے اور جون 2025ء تک مکمل کیے جانے تھے۔
تاخیر کا شکار ان منصوبوں میں ضم اضلاع کے 11 سو سکولوں کی سولرائزیشن، صوبے میں مزید سات ہزار مساجد و عبادت خانوں ، ضلع تورغر و بنوں میں مدارس وغیرہ کی سولر پر منتقلی اور پشاور میں سٹریٹ لائٹس کی سولرائزیشن سمیت چھ پراجیکٹس شامل ہیں۔
آفیشل ویب سائٹ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے لگ بھگ پانچ سال سے جاری ان سولر منصوبوں میں سے بعض تو سائٹ سروے سے آگے ہی نہیں بڑھ سکے اور بعض پر جزوی کام ہوا ہے۔ تاہم ان میں سے کوئی ایک بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
اس حوالے سے تازہ ترین معلومات کے لیے پیڈو سے رابطہ کیا گیا مگر حکام نے مذکورہ منصوبوں پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ لوک سجاگ کے بار بار اصرارکے باوجود یہ وضاحت تک نہیں دی کہ آفیشل ویب سائٹ آخری بار کب اپ ڈیٹ کی گئی تھی۔

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
پیڈو کی ویب سائٹ پر ہر منصوبے میں تاخیر کی مختلف وجوہ بتائی گئی ہیں۔ ضم اضلاع میں سکولوں کی سولرائزیشن نہ ہونے کے اسباب میٹریل کی امپورٹ میں رکاوٹیں، فلڈز، امن و امان اور کنسلٹینٹ کا کام ادھورا ہونا وغیرہ بتائے گئے ہیں۔ یہ پراجیکٹ 2023ء میں مکمل ہونا تھا۔
سات ہزار مساجد کی سولرائزیشن کے دو منصوبوں میں تاخیر کا جواز امپورٹ کے مسائل ہیں جبکہ پشاور سٹریٹ لائٹس سمیت تین دیگر کی عدم تکمیل کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس حوالے سے صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ یہ خریداری اور ٹینڈرنگ کے مراحل میں ہیں۔ حالانکہ پشاور کا منصوبہ دو سال پہلے اور باقی دو ایک سال پہلے مکمل کیے جانے تھے۔
پیڈو کے ایک سینئر افسر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ یہ سب بہانہ تراشی ہے، اصل مسئلہ فنڈز کی عدم فراہمی ہے جس پر کوئی بات کرتا ہے نہ ہی ویب سائٹ پر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
"بالفرض میں مان لوں کہ قبائلی اضلاع کے سکولوں کی سولرائزیشن میں تاخیر امن و امان کی وجہ سے ہوئی، لیکن پیو (پشاور لائٹس)، گھروں و مساجد کے منصوبے کیا ہوئے؟ اس تاخیر کا کوئی جواز نہیں تھا ماسوائے فنڈز کی عدم فراہمی کے۔
ان کے بقول ایک لاکھ 30 ہزار گھروں کی سبسڈائزڈ سولر سکیم بھی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث زیرالتوا ہے۔ حکومت کے پاس رقم ہی نہیں تھی تو پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کیسے اس سکیم کی منظوری دیتا۔ وزیراعلیٰ گنڈا پور نے پی سی ون تک کی منظوری کے بغیر منصوبے کا افتتاح کر دیا تھا۔ اب رقم ملے گی تب ہی یہ منصوبہ آگے بڑھے گا۔

' اربوں روپے کے منصوبوں کو شروع کرنے میں وقت لگتا ہے'
سرکاری عہدیدار مستحق خاندانوں کو مفت سولر سسٹمز کی فراہمی کی سماجی و ماحولیاتی اہمیت سے انکار نہیں کرتے مگر اس میں تاخیر کے اپنے اپنے جواز پیش کرتے ہیں۔
سنئیر چیف پلاننگ آفیسر محکمہ توانائی خیبرپختونخوا سید ظاہر علی شاہ اعتراف کرتے ہیں کہ ایک طرف تو شہری بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان ہیں، دوسری طرف لوڈ شیڈنگ معمولات زندگی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ صوبے کے سیکڑوں پسماندہ علاقوں میں بجلی کا انفراسٹرکچر ہی نہیں اور نہ یہ لوگ بل دے سکتے ہیں۔
نیا سولر پراجیکٹ گیم چینجر ثابت ہوگا۔ تاہم تاخیر پر صرف اتنا کہا کہ "اربوں روپے کے منصوبوں کو شروع کرنے میں وقت لگتا ہے۔"
صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ اس کی شفافیت یقینی بنانا ترجیح تھا۔ یہ کام جلدی میں شروع کیا جاتا تو کئی مسائل جنم لے سکتے تھے۔
"ہمارا (محکمہ خزانہ کا) کام فنڈز ریلیز کرنا ہے جیسے ہی منصوبے کے تمام سرکاری تقاضے پورے ہو جاتے ہیں ہم رقم جاری کر دیں گے۔ میرے خیال میں رواں مالی سال کے دوران یہ منصوبہ شروع ہو جائے گا۔"
چارسدہ کے گاؤں پسند کلے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہیں۔ مسجد میں سولر سے تقریباً دس پنکھے چل رہے ہیں اور وضو کے لیے پانی بھی موجود ہے۔ یہاں سولر سسٹم صوبائی حکومت نے'مساجد سولرائزیشن' کے پہلے پروگرام کے تحت فراہم کیا تھا۔
نمازیوں میں موجود اسی گاؤں کے رہائشی ساجد خان خوش ہیں کہ مسجد میں بجلی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے مستحق افراد اور سکولوں کو سولر سسٹم دینے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن ان کی یونین کونسل میں اب تک کسی غریب کو سولر ملا نہ ہی کسی سرکاری سکول میں سولر سسٹم لگایا گیا۔
' بجلی نہ ہونے کے باعث بچے شدید گرمی میں پنکھوں کے بغیر بیٹھے ہوتے ہیں اور انہیں پینے کا پانی تک میسر نہیں ہوتا۔ تاہم انہیں امید ہے کہ حکومت گھروں اور سکولوں کو سولر کی فراہمی کے وعدے ضرور پورے کرے گی۔'
تاریخ اشاعت 4 اگست 2026

















