نئی گاج ڈیم پراجیکٹ: 14 سال سے زیر تعمیر ڈیم کی لاگت 26 سے 85 ارب روپے تک کیسے پہنچی؟

postImg

امان برہمانی

postImg

نئی گاج ڈیم پراجیکٹ: 14 سال سے زیر تعمیر ڈیم کی لاگت 26 سے 85 ارب روپے تک کیسے پہنچی؟

امان برہمانی

وفاقی آئینی عدالت نے 13 جولائی کو 'نئی گاج ڈیم' سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق اب کوئی بھی عدالت ڈیم کی تکمیل تک اس منصوبے میں مداخلت نہیں کر سکے گی- عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹھیکیدار نے جعلی پرفارمنس بینک گارنٹی جمع کرائی تھی، اس لیے واپڈا 2018ء میں معاہدہ ختم کرنے میں قانونی طور پر حق بجانب تھا۔ اس فیصلے سے سات سال سے جاری قانونی تنازع ختم ہو گیا ہے جس سے برسوں سے تاخیر کا شکار اس ڈیم کے مکمل ہونے کی امیدیں ایک بار پھر جاگ اٹھی ہیں۔

نئی گاج ڈیم منصوبے کو درپیش مشکلات پر نظر ڈالنے سے پہلے اس کی تفصیلات اور اہمیت جاننا ضروری ہے۔

بلوچستان کے ضلع خضدار کے پتھریلے میدانوں اور سنگلاخ کوہساروں سے نکلنے والی زیادہ تر برساتی ندیاں (کرخ، زیدی و دیگر) مشرق میں سندھ کی جانب آتی ہیں جو کیرتھر رینج میں 'گاج' کے مقام پر آپس میں ملتی ہیں۔ یہیں کئی دیگر پہاڑی نالے بھی اسی پانی میں آ گرتے ہیں جس سے ایک بڑی رود کوہی (سندھی زبان میں نئی یا نئیں) جنم لیتی ہے جو نئی گاج کہلاتی ہے۔

یہ رود کوہی سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی کا وسیع بارانی رقبہ سیراب کرتی ہے اور ساتھ ہی پانچ سو مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی منچھر جھیل کی پیاس بھی بجھاتی ہے۔

ملک میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر اپنے آپ میں پورا ایک 'ماحولیاتی جہان' ہے جو ناصرف سیکڑوں مچھیروں کے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ آبی حیات اور مہمان پرندوں کی میزبانی بھی کرتی ہے۔

یوں نئی گاج اس پورے علاقے کی معیشت و معاشرت چلاتی ہے تاہم قسمت ہر بار یہاں کے لوگوں کاساتھ نہیں دیتی۔ بارشیں نہ ہوں تو اتنی خشک سالی ہو جاتی ہے کہ فصلیں تو دور جھیل سے پینے کے پانی کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے اور غیرمعمولی برسات ہو جائے تو گاج ندی میں طغیانی آ جاتی ہے۔ جیسا کہ 2024ء میں ہوا جب اس سیلاب نے قریباً 200 گاؤں ڈبو دیے تھے۔

وفاقی حکومت نے 2005ء میں گاج ندی پر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا جو دادو شہر سے 65 کلومیٹر شمال مغرب میں کیرتھر کی پہاڑیوں میں واقع ہے۔ اس کا مقصد جوہی کی زرعی زمینوں کو پانی کی فراہمی، سیلاب کی روک تھام اور منچھر جھیل کی لائف لائن کو برقرار رکھنا ہے۔

آج دو عشرے بعد بھی یہ پراجیکٹ مکمل نہیں ہو پایا، کبھی ڈیزائن کی تبدیلیوں تو کبھی فنڈز میں تاخیر اور کبھی قانوںی پیچیدگیاں اس کے راستے کے بھاری پتھر ثابت ہوئیں۔

ڈیم کی منصوبہ بندی: قطرے سے گہر ہونے تک

نئی گاج ڈیم کی پہلی فزیبلٹی رپورٹ واپڈا کے لیے ایک نجی کنسلٹنگ فرم برقآب نے 2009ء میں تیار کی جس کے مطابق ڈیم 59 میٹر بلند ہو گا۔ سپرنکل، ڈرپ ایریگیشن سسٹم وغیرہ کو ملا کر 40 ہزار ایکڑ (کمانڈ ایریا) رقبہ سیراب کیا جا سکے گا۔ پن بجلی گھر کی تنصیب سمیت منصوبے پر  19 ارب 50 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

تاہم واپڈا نے ٹھیکہ دینے سے پہلے منصوبے کا تکنیکی جائزہ لیا تو ابتدائی ڈیزائن میں خامیوں کا انکشاف ہوا جس پر ٹینڈر کی تیاری اور منصوبے پر نظرثانی کا کام نیسپاک (نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان) کو سونپا گیا۔

یہ سٹڈی 2011ء میں مکمل ہوئی جس کے مطابق ڈیم کی جھیل پانچ ہزار ایکڑ رقبے پر مشتمل ہو گی جس میں تین لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش ہو گی۔ روایتی آبپاشی کے علاوہ کاچھو اور کوہستان (کیرتھر کے دامن میں پھیلے بارانی علاقے) میں 28 ہزار 800 ایکڑ اراضی بذریعہ ڈرِپ اریگیشن/ سپرنکل سسٹم سیراب ہو گی۔

'جھیل کی آلودگی کم کرنے کے لیے منچھر کو 53 کیوسک تازہ پانی فراہم کیا جائے گا اور اس منصوبے سے 4.2 میگاواٹ پن بجلی بھی پیدا ہو گی۔'

واپڈا نے 2011ء میں نئی گاج پراجیکٹ کا ٹھیکہ ٹینڈرنگ کے عمل کے ذریعے 38 ارب 79 کروڑ روپے میں ایک کنسورشیم کو الاٹ کیا جس میں چینی کمپنی این ای آئی ای، پاکستانی کمپنیاں میسرز سردار محمد اشرف ڈی بلوچ، للی، آر ایم ایس پرائیویٹ لمیٹڈ و دیگر شامل تھیں۔

تعمیراتی کام 2012ء میں شروع ہوا۔ تاہم اس سے قبل ایکنک (قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، جو بڑے سرکاری منصوبوں کی حتمی منظوری دیتی ہے)سے جو پہلا نظرثانی شدہ پی سی ون (کسی سرکاری منصوبے کی لاگت اور متوقع فوائد کی بنیادی دستاویز)منظور ہوا اس میں لاگت کا تخمینہ 26 ارب 23 کروڑ 60 لاکھ روپے بتایا گیا۔ یہ منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جانا تھا مگر 2015ء تک صرف 30 فیصد کام ہی مکمل ہو پایا جس پر مدتِ تکمیل میں تین سال توسیع کر دی گئی۔

آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق بحالیِ معاہدہ کے بعد کی تین سالہ مدت (اکتوبر 2021ء تا اکتوبر 2024ء) میں صرف 13.5 فیصد اضافی کام مکمل ہو سکا۔ 2015ء تک ہونے والے 30 فیصد کام کو ملا کر مجموعی پیشرفت کم از کم 43.5 فیصد بنتی ہے  یعنی بارہ برس اور اربوں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی منصوبے کا نصف کام مکمل نہیں ہو سکا۔

نئی گاج ڈیم حاضر ہو: معاملہ عدالت تک کیسے پہنچا؟

عدالتی دستاویزات کے مطابق وقت کے ساتھ انکشاف ہوا کہ نئی گاج ڈیم کے ٹھیکیدار نے پونے تین ارب روپے کی جعلی بینک گارنٹی کے ذریعے فرضی پرفارمنس سکیورٹی جمع کرائی تھی۔ 2011 سے 2018 یعنی سات برس تک ایک جعلی دستاویز سرکاری ریکارڈ کا حصہ رہی -جس پر واپڈا نے 2018ء میں ٹھیکہ منسوخ کر کے معاملہ نیب کو بھیج دیا اور باقی کام کے لیے ری ٹینڈرنگ پراسس شروع کر دیا۔

اس اقدام پر کنٹریکٹر نے واپڈا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت عالیہ نے پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرلی اور معاملہ ثالثی فورم کو بھی ریفر کر دیا۔ طویل عرصہ بعد فریقین کے درمیان مصالحت ہوئی جس کو عدالت نے پہلے اپنے احکامات (رول آف کورٹ) کا حصہ بنایا اور پھر اسی بنیاد پر (اکتوبر 2023 میں) حتمی حکم نامہ جاری کر دیا۔

عدالتی حکم کے مطابق فریقین کے درمیان مفاہمت (ایم او یو) میں طے پایا تھا کہ منصوبہ 2024ء میں مکمل کیا جائے گا۔ ٹھیکے کی نظرثانی شدہ مالیت اس شرط پر بڑھا کر 46 ارب 98 کروڑ روپے کر دی گئی کہ ریٹس 2018ء کی سطح پر منجمد رہیں گے۔ یوں جس ٹھیکیدار کا معاہدہ جعلی گارنٹی کی بنیاد پر ختم کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ پہلے سے زیادہ مالیت پر معاہدہ بحال ہو گیا۔اور اکتوبر 2021ء میں کام دوبارہ شروع ہوا۔

تاہم ٹھیکیدار ایک سال بعد دوبارہ ہائیکورٹ پہنچ گیا اور مؤقف اختیار کیا کہ کام میں تاخیر فنڈنگ میں تعطل کی وجہ سے ہوئی۔ اس لیے واپڈا پاکستان انجینیئرنگ کونسل کی نئی ایڈوائزری (ریٹس) کے مطابق اضافی گرانٹ فراہم کرے۔

سندھ ہائیکورٹ نے مئی 2025ء میں ٹھیکیدار کے حق میں فیصلہ دیا جس میں نہ صرف نیب کو جعلی گارنٹی کیس کی تحقیقات سے روکا گیا بلکہ ایم او یو میں ترمیم کرکے واپڈا کو ادائیگی کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ اس پر واپڈا نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو بعدازاں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو گئی۔

اس ساری قانونی جنگ کے دوران منصوبے میں بار بار تعطل آتا رہا اور لاگت بڑھتی گئی۔

وفاقی آئینی عدالت نے کیا کہا؟

چیف جسٹس امین الدین خان کی زیرسربراہی دو رکنی آئینی بنچ نے پیر 13 جولائی کو سندھ ہائی کورٹ کے دونوں فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے پہلے ثالثی فیصلےکی بنیاد پر عدالتی ڈگری جاری کی، اور پھر فریقین کے درمیان طے شدہ مفاہمت (ایم او یو) میں ترمیم کر دی۔

فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار نے جعلی پرفارمنس بینک گارنٹی جمع کرائی جو معاہدے کی بنیادی خلاف ورزی تھی۔ اس لیے واپڈا معاہدہ ختم کرنے میں قانونی طور پر حق بجانب تھا۔

'ایم او یو میں ٹھیکیدار نے منصوبہ 2018ء کی قیمتوں پر مکمل کرنے پر اتفاق کیا تھا، لہٰذا وہ بعد میں پی ای سی کی سفارشات کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے یا مہنگائی کے باعث اضافی ادائیگی کا قانونی طور پر حق دار نہیں تھا۔'

عدالت نے واضح کیا کہ عدالتیں عوامی مفاد کے نام پر فریقین کی رضامندی سے طے شدہ قانونی حقوق و ذمہ داریوں کو دوبارہ متعین نہیں کر سکتیں۔ سندھ ہائی کورٹ کو نیب کی تحقیقات میں مداخلت یا روکنے کا بھی کوئی اختیار نہیں تھا۔

آئینی عدالت میں واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ منصوبے کی ابتدائی لاگت 26 ارب روپے لگائی گئی تھی جبکہ ٹھیکیدار کو 36 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں مگر نصف سے بھی کم کام مکمل ہوا ہے۔

دوسری طرف ٹھیکیدار کے وکیل کا دعویٰ تھا کہ وفاقی و صوبائی دونوں حکومتیں مطلوبہ فنڈز جاری کرنے میں ناکام رہیں جس کے باعث کام کی رفتار سست رہی۔ تاہم ان کے مطابق 50 فیصد کام 2019ء میں ہی مکمل ہو چکا تھا۔

واضح رہے پچھلے سال ٹھیکیدار نے اضافی گرانٹ (چار ارب 20 کروڑ روپے) نہ ملنے پر ایک مرتبہ پھر کام بند کر دیا تھا۔

'فنڈز میں تاخیر ہوئی اور رقم بچانے کے چکر میں ڈیزائن میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں'

نئی گاج پراجیکٹ کے متعلقہ لوگوں سے بات کریں تو طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس تاخیر کا بڑا ذمہ دار کون ہے، ٹھیکیدار، عدالتی مداخلت یا فنڈز میں تاخیر کرنے والی حکومت؟

وہ کہتے ہیں کہ اس منصوبے کی تاریخ پیچیدگیوں اور بدنامی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ناقص منصوبہ بندی، فنڈز میں تعطل اور بدانتظامی کے باعث منصوبے میں تاخیر سے لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا چلا گیا۔

سٹیٹ انجینیئرنگ کارپوریشن کے ریٹائرڈ چیئرمین حسین احمد صدیقی کہتے ہیں کہ چائنا ایگزم بینک نے اس منصوبے کے لیے ترجیحی قرض کا وعدہ کیا تھا مگر تنازع کے باعث اپنی مالی معاونت واپس لے لی۔ نتیجتاً وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے فنڈز پر انحصار کرنا پڑا۔

سندھ حکومت نے صرف چار فیصد حصہ ڈالا جو زیادہ تر اراضی کے حصول پر خرچ ہوا۔ اس میں بھی پیشرفت مایوس کن رہی۔ منصوبے کے لیے سات ہزار 138ایکڑ اراضی درکار تھی جس کا 2019ء تک بہت ہی کم حصہ حاصل کیا جا سکا تھا۔ تاہم اب یہ زمین حوالے کی جا چکی ہے۔

گاج ڈیم پر کام کرنے والے ایک انجنیئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک تو فنڈز میں تاخیر ہوئی، دوسرے رقم بچانے کے چکر میں 2019ء تک ڈیزائن میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں جس سے غیرضروری رکاوٹیں آئیں۔ سپرنکلر ایریگیشن سسٹم اور52 کلومیٹر طویل پائپ لائن وغیرہ اس منصوبے سے نکال دیے گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ لاگت کا نظرثانی شدہ تخمینہ جو 14 سال پہلے سوا 26 ارب روپے تھا وہ 2019ء میں تقریباً 42 ارب اور 2021ء میں 45 ارب روپے سے زیادہ ہو گیا۔ اب تیسرے مجوزہ نظرثانی شدہ پی سی ون میں لاگت 85 ارب 57 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

ڈیم کب مکمل ہو گا؟ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!

آبی امور کے ماہر انجنیئر نصیر میمن کہتے ہیں کہ سندھ میں کیرتھر اور ننگر پارکر کی برساتی ندیوں کا بیشتر پانی زرعی استعمال میں آتا، یہاں چھوٹے ڈیم ضروری ہیں۔ نئی گاج پراجیکٹ کو برسوں پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا مگر بروقت فنڈز ملے نہ تعمیراتی کام کی مؤثر نگرانی کی گئی۔

ان کے بقول حکومت اور ٹھیکیدار دونوں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

نئی گاج کے ایک ذیلی ٹھیکیدار سالار خاں لغاری بتاتے ہیں کہ ڈیم کے تعمیراتی اخراجات وفاقی حکومت نے ادا کرنے تھے جبکہ اراضی، نجی مالکان کو معاوضہ اور سکیورٹی سندھ حکومت نے دینی تھی۔زمین تو مل گئی لیکن فنڈنگ کی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔

سالار لغاری نے لوک سجاگ کو بتایا "رقم بروقت نہ ملنے سے زیادہ مسائل پیدا ہوئے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ وفاق نے پچھلے سال اس منصوبے کے لیے پانچ ارب روپے رکھے مگر تین ارب ہی جاری کیے۔ رواں سال صرف 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔"

آئینی عدالت نے فیصلے میں توقع ظاہر کی ہے کہ تمام فریق اصل معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے۔ ٹھیکیدار ایک ہفتے میں اپنی درخواست واپڈا کو جمع کرائے، واپڈا ان کی شکایت موصول ہونے کے بعد 15 روز کے اندر فیصلہ کرے۔

'اگر کنٹریکٹر معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو واپڈا قانون کے مطابق منصوبے کے کاموں کو دوبارہ ٹینڈر کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔'

عدالت نے واضح کیا کہ مدت میں کسی توسیع کی صورت میں بھی ٹھیکیدار قیمتوں میں کسی مزید اضافے، اضافی معاوضے یا کسی بھی دوسرے مالی فائدے کا حق دار نہیں ہو گا۔ درخواست نہ دینے یا انہی شرائط پر کام سے انکار کی صورت میں واپڈا باقی کام ٹھیکیدار کے خرچ اور ذمہ داری (رسک اینڈ کاسٹ) پر دوبارہ ٹینڈر کرنے میں آزاد ہو گا۔

اب یہ تو وقت بتائے گا کہ فریقین آئینی عدالت کی توقعات پر کس حد تک پورا اترتے ہیں۔ تاہم پراجیکٹ کے ایک انجینیئر کے مطابق نئے تخمینے کے تحت منصوبہ 28/2027ء تک مکمل ہو گا جس کی ایکنک سے منظوری باقی ہے۔

ان کے بقول بجلی گھر کے لیے مشینری کی خریداری، تنصیب اور آزمائشی آپریشن (کمیشننگ) مکمل ہونے میں ہی تقریباً پانچ سال درکار ہوں گے۔

تاریخ اشاعت 28 جولائی 2026

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

thumb
سٹوری

نئی گاج ڈیم پراجیکٹ: 14 سال سے زیر تعمیر ڈیم کی لاگت 26 سے 85 ارب روپے تک کیسے پہنچی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceامان برہمانی
thumb
سٹوری

دودھ کا جلا: حیدرآباد کی کارو گھنگرو ڈرین کہیں ایک اور ایل بی او ڈی تو ثابت نہیں ہو گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceراشد لغاری
thumb
سٹوری

ڈسکوز کی نجکاری: پالیسی سازوں کی دو جمع دو چار میں صارفین کو کیا بچے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاحتشام احمد شامی
thumb
سٹوری

کیا قومی لیتھیم آئن بیٹری پالیسی سے وابستہ توقعات پوری ہو پائیں گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ سبسڈی نے کام کیا: سندھ اپنے کسانوں سے گندم خریدنے میں کیسے ناکام ہوا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

154 سالہ پرانا مسیحی قانون کب بدلے گا؟

thumb
سٹوری

مہنگے پٹرول نے ای بائیکس کو پَر تو لگا دئیے لیکن اس کی اڑان کتنی لمبی ہو گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الیکٹرک بائیک آلودگی کم کرنے کے لیے اچھی مگر سڑکوں پر دوڑتی تین کروڑ پرانی موٹرسائیکلوں کا کیا کرنا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعلیزہ خالد
thumb
سٹوری

گلگت بلتستان کا سولر الیکشن: سولر پینلز کی مفت تقسیم بجلی بحران حل کرے گی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

ہنوز ای وی دور است: الیکٹرک گاڑیوں کو رواج دینے کی پالیسی کس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.