اُلٹی گنگا: تحقیقی بدعنوانی میں ملوث قائدِ اعظم یونیورسٹی کے پروفیسروں کو 'سائنسی خدمات کے اعتراف' میں انعام و اکرام
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

اُلٹی گنگا: تحقیقی بدعنوانی میں ملوث قائدِ اعظم یونیورسٹی کے پروفیسروں کو 'سائنسی خدمات کے اعتراف' میں انعام و اکرام

عظمت خان

postImg

اُلٹی گنگا: تحقیقی بدعنوانی میں ملوث قائدِ اعظم یونیورسٹی کے پروفیسروں کو 'سائنسی خدمات کے اعتراف' میں انعام و اکرام

عظمت خان

سنہ 2021ء میں دنیا بھر میں سائنس و سماجی علوم پر ہونے والی تحقیق پر نظر رکھنے والے ایک عالمی ادارے ’ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس‘ نے ایسے مقالہ جات کو جمع کرنا شروع کیا جن میں تحقیقی بددیانتی، تحقیقی اخلاقیات کی پامالی، جعل سازی، سرقہ نویسی اور غلطیوں سمیت دیگر بے قاعدگیاں پائی گئی تھیں۔

دیگر ممالک کی طرح اس ڈیٹابیس میں پاکستان کے ایسے کئی نامور پروفیسرز، سائنس دانوں اور محققین کے نام بھی شامل تھے جن کا تعلق ملک کے نامی گرامی تعلیمی و تحقیقی اداروں سے ہے۔

دنیا بھر میں ان سائنس دانوں اور محققین کو نہ صرف مزید کام سے روک دیا گیا بلکہ انہیں اپنے عہدوں اور مراعات سے بھی ہاتھ دھونا پڑا لیکن اس کے برعکس پاکستان میں ایسے لوگوں کو نہ صرف اعلیٰ عہدوں سے نوازا گیا بلکہ ان کی مراعات میں اضافہ بھی کر دیا گیا۔

ان میں قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے چار محققین ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر رفعت نسیم ملک، ڈاکٹر محمد ظفر اور ڈاکٹر تصوّر حیات شامل ہیں جنہیں نومبر 2021ء میں پاکستان اکیڈمی آف سائنس نے ان کی 'سائنسی خدمات' کو سراہتے ہوئے خصوصی ایوارڈز اور فیلو شپس سے نوازا۔

مزید اچنبھا اس بات پر ہے کہ ان چار محققین میں سے ایک ڈاکٹر تصوّر حیات بذاتِ خود پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے سیکرٹری جنرل ہیں جبکہ ڈاکٹر مشتاق احمد اور ڈاکٹر محمد ظفر اس کے ممبر ہیں۔ گویا ان محقیقین نے خود اپنے آپ کو ہی نوازا۔

پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے 2021ء میں ہونے والے جنرل باڈی کے اجلاس کے مِنٹس کے مطابق مذکورہ محققین کو ملنے والے ایوارڈز میں قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ پلانٹ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد کو فیلو شپ ایوارڈ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر کو گولڈ میڈل اور شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر رفعت نسیم ملک کو فیلو شپ سے نوازا گیا۔

ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس کے مطابق 2017ء اور 2019ء میں ڈاکٹر تصوّر حیات اور ان کے شریک مصنفین کے کُل نو شائع شدہ تحقیقاتی مقالہ جات کو دو عالمی مجلّوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر حذف کیا۔ ان مجلوں کے نام جرنل اف انٹیلیجینٹ اینڈ فَزی سسٹمز اور انٹرنیشنل جرنل آف ہِیٹ اینڈ مَیس ٹرانسفر ہیں۔حذف کرنے کی وجوہات غیر معیاری تحقیق، غلط نتائج، تحقیقی اخلاقیات کی پامالی، بنیادی تحریر کی غلطیاں، غیر تسلّی بخش اعداد و شمار اور سب سے بڑھ کر مقالہ کی جعلی نظرِ ثانی (فیک پِیئر ریویو) بتائے گئے۔

پیئر ریویو کے اصولوں کے تحت کسی بھی تحقیقی مقالہ کے بارے میں متعلقہ شعبے کے کم از کم دو ماہرین سے رائے لی جاتی ہے اور ان کی مثبت رائے کی صورت میں جرنل کا ایڈیٹر اس ریسرچ پیپر کو شائع کرتا ہے۔ فیک پیئر ریویو میں مصنفین جعل سازی سے کام لیتے ہیں۔

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیّاحی میں

ڈاکٹر تصوّر حیات قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے سربراہ ہیں اور ان کے مقالہ جات میں جعل سازی نئی بات نہیں۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن مشہور ویب سائٹ ہے جو دنیا بھر میں جامعات کے رینکنگ کرتی ہے اور اعلیٰ تعلیم کے حوالہ سے رپورٹس بھی شائع کرتی ہے اس نے 2016ء تا 2018ء ڈاکٹر تصوّر حیات کو دنیا کا سب سے بڑا ریاضی دان ظاہر کیا تھا اور تین سال میں ان کے تحقیقی مقالہ جات کی تعداد 996 بتائی تھی۔ یعنی انہوں نے ہر روز ایک مقالہ تحریر کیا جو کسی بھی سائنس دان کے لئے ناممکن ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس وقت ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس، ٹائمز ہائیر ایجوکیشن، بِیئلز لسٹ، آسٹریلین بزنس ڈِینز کونسل (اے بی ڈی سی) اور دیگر عالمی عالمی ادارے ایسے محقیقن کی جعل سازی آشکارا کرنے میں مصروف تھے عین اسی وقت پاکستانی حکام ان پر انعام و اکرام کی بارش کر رہے تھے۔

ڈاکٹر تصوّر کو 2019ء میں صدر پاکستان نے ہلال امتیاز سے نوازا جبکہ اُسی سال عالمی جرائد نے ان کے پانچ مقالہ جات فیک پیئر ریویو کی وجہ سے حذف کر دئیے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں تمغہ امتیاز، عبدالسلام ایوارڈ، اکیڈمی آف سائنس کے ریاض الدین صدیقی گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔

اسی طرح ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس کے مطابق عالمی تحقیقی مجلے پلانٹ ایکولوجی نے ڈاکٹر مشتاق احمد کے 24 اگست 2014ء کو شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ کو 7 جنوری 2016ء کو فیک پیئر ریویو کی وجہ سے حذف کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور بین الاقوامی جریدے، اینوائرمینٹل جیوکمیسٹری ایند ہیلتھ، نے 12 نومبر 2014ء کو شائع ہونے والے ان کے ایک تحقیقی مقالہ کو 3 جنوری 2016 کو اسی وجہ سے حذف کر دیا۔اسی جریدہ نے 5 اگست 2014ء کو شائع ہونے والے ان کے ایک اور تحقیقی مقالہ کو بھی 3 جنوری 2016 کو حذف کر دیا تھا۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی ہی کے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ سائنسز کے ڈاکٹر محمد ظفر کے بعض تحقیقی مقالہ جات کو بھی ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس کے مطابق حذف کیا جا چکا ہے۔ ان کے 24 اگست 2014ء کو شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ کو 7 جنوری 2016ء کو فیک پیئر ریویو کی وجہ سے پلانٹ ایکولوجی نامی بین الاقوامی جریدہ نے حذف کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ 11 نومبر 2014ء کو شائع ہونے والے ایک اور تحقیقی مقالہ کو ایک اور بین الاقوامی جریدہ اینوائرمینٹل جیوکمیسٹری ہیلتھ نے 3 جنوری 2016ء کو فیک پیئر رِیویو کی وجہ سے حذف کر دیا تھا۔

ڈاکٹر نسیم ملک بھی قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کے پروفیسر ہیں جن کو فیلو شپ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ بھی ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس کے مطابق تحقیقی اخلاقیات کی پامالی، جعل سازی، سرقہ نویسی اور دیگر بے قاعدگیوں کے الزامات کی زد میں رہے ہیں۔

ریٹریکشن واچ ڈیٹابیس کے مطابق ان کا ایک تحقیقی مقالہ 9 نومبر 2020ء کو شائع ہوا جس کو 5 مئی 2021ء کو نامکمل معلومات کی بنا پر انوائرمینٹل ریسرچ نامی جریدے سے ہٹا دیا گیا۔

'ہمیں کوئی شکایت کرے تب ہی ہم کارروائی کرتے ہیں'

ڈاکٹر مشتاق، ڈاکٹر ظفر اور ڈاکٹر رفعت کو اعزازات اور فیلوشپس دینے کے حوالہ سے ڈاکٹر تصوّر کا کہنا ہے کہ پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے چارٹر کے مطابق ڈاکٹر ظفر کے ایوارڈ اور پروفیسر کے لئے فیلو شپ کا اعلان 2021ء میں کیا گیا تھا اور ایک سال کے دوران "پاکستان اکیڈمی آف سائنس کو اس حوالہ سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔" ڈاکٹر تصوّر ان کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کو پاکستان اکیڈمی آف سائنس کو موصول ہونے والی کسی شکایت سے مشروط کرتے ہیں حالانکہ ان کے مقالہ جات کے بارے میں تو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس 2019ء میں آ چکی تھیں۔ ڈاکٹر تصوّر کے بقول "ہمیں کوئی شکایت کرے تب ہی ہم کارروائی کرتے ہیں۔"

اپنے حذف شدہ مقالہ جات کے بارے میں سوالات کا وٹس ایپ کے ذریعہ جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدیران اور ناشرین کی جانب سے فیک پیئر ریویو سے متعلق ان کے ساتھ شریک محققین، محسن شیخ الاسلامی اور ڈاکٹر گوائیوُ وائی (Dr. Guiwu Wei)، کا نام لیا گیا ہے "جبکہ ان مقالہ جات میں دیگر شریک محققین کے کام پر کسی قسم کی بدعنوانی کا ذکر نہیں ہے۔"

اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جب ان کا نام فیک پیئر ریویو میں ہے ہی نہیں تو صدارتی ایوارڈ وصول کرنا یا پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے سیکرٹری جنرل بننے کے حوالے سے تمام سوالات بے معنی ہو جاتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر تصوّر کا حوالہ دیتے ہوئے ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے 2017ء میں سائنس دانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سال میں صرف ایک پیپر شائع کیا کریں۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر تصوّر کہتے ہیں کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی پیش کردہ تجویز کوئی حتمی بات نہیں ہے کیونکہ "عالمی سطح پر مختلف تعلیمی اداروں کے مختلف نقطہ نظر ہیں کہ کب اور کتنے عرصہ میں پیپر شائع کرنا ہے۔"

پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہی ایک واحد ادارہ ہے جو اس قسم کے جرائم کی روک تھام کرتا ہے۔ 2002ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک ہائیر ایجوکیشن کمیشن سرقہ نویسی اور جعل سازی کے الزامات پر 16 افراد کو بلیک لسٹ کر چکا ہے تاہم اِن چار افراد کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'ریسرچ پیپرز' کا چور بازار

سرقہ نویسی اور حذف کئے جانے والے مقالات کے حوالہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کمیشن کی پالیسی واضح ہے۔ ان کے بقول اگر کسی پر سرقہ نویسی ثابت ہو جائے اور اس کا مقالہ کسی بین الاقوامی جریدہ سے حذف کر دیا جائے تو اس صورت میں یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس سرقہ شدہ مواد کو اپنی تعلیمی قابلیت کے طور پر کہیں پیش نہ کرے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کمیشن نے ایسے لوگوں کے خلاف ایکشن لیا تھا اور بلیک لسٹ کر کے ان کے نام ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ڈال دیئے تھے جنہیں مارچ 2022ء میں ہٹا دیا گیا۔

تاریخ اشاعت 19 جنوری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عظمت خان کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ گزشتہ 12 برس سے تعلیم، محنت کشوں اور پانی سے منسلک اداروں اور مذہبی تنظیموں اور اداروں پر تحقیقاتی رپورٹس شائع کر چکے ہیں۔ انہوں نے اسلامیات ‛ عربی اور ابلاغ عامہ میں ایم اے کر رکھا ہے اور جامعہ کراچی سے ایم فل کر رہے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ