چلغوزے کی فصل بد امنی کی نذر
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

چلغوزے کی فصل بد امنی کی نذر

کلیم اللہ

postImg

چلغوزے کی فصل بد امنی کی نذر

کلیم اللہ

اللہ خان پچھلے سات سال میں اپنے چلغوزے کے درختوں سے کوئی بڑا مالی فائدہ حاصل نہیں کر پائے حالانکہ اس دوارن ایک دفعہ تو چلغوزے کی پرچون قیمت آٹھ ہزار روپے فی کلو گرام کی ریکارڈ سطح پر بھی پہنچ گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان تمام سالوں میں وہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے گاؤں مائزر مداخیل میں واقع اپنے گھر میں نہیں رہ رہے تھے جہاں ان کے درخت واقع ہیں۔

پچاس سالہ اللہ خان اور ان کے خاندان کو 2014 میں مذہبی عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ وہ ان 62 ہزار چار سو 93 خاندانوں میں شامل تھے جو شمالی وزیرستان چھوڑ کر ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ اپنی بیوی اور چار بچوں کے ہمراہ پہلے تین سال تو انہوں نے بنوں شہر کے پاس واقع بکا خیل کے مہاجر کیمپ میں گزارے۔ اس کے بعد وہ بنوں ہی کے علاقے بیزن خیل میں کرائے کے مکان میں رہنے لگے۔ 

اللہ خان کہتے ہیں کہ آپریشن ضربِ عضب کے پہلے تین سالوں میں وہ نقل مکانی کی وجہ سے اپنے درختوں کو دیکھ بھی نہیں پائے اور یوں ان کی چلغوزے کی فصل مکمل طور پر ضائع ہوتی رہی۔ ان کے مطابق "اس دوران میری جمع پونجی ختم ہو گئی اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کو ملکی اور غیر ملکی امدادی تنظیموں کی طرف سے ملنے والے راشن پر گزر بسر کرنا پڑی"۔

اگرچہ پچھلے چار سال سے انہیں اپنے درختوں تک جانے کی اجازت ملی ہوئی ہے لیکن ان کے مطابق ان کی آمدورفت کے لئے رکھی گئی شرائط اس قدر سخت ہیں کہ وہ کبھی بھی نہ تو مناسب طریقے سے ان درختوں کی دیکھ بھال کر سکے ہیں اور نہ ہی وہ وقت پر اور اچھے داموں اپنے چلغوزے بیچ پائے ہیں۔  
اس سال بھی انہیں خدشہ ہے کہ ستمبر-اکتوبر میں جب چلغوزے درختوں سے اتارنے کے قابل ہو جائیں گے تو سفری رکاوٹوں کی وجہ سے وہ ایک بار پھر انہیں بیچ کر کوئی زیادہ رقم نہیں کما پائیں گے۔

چھبیس سالہ شفیق وزیر بھی ان سات سالوں میں اپنے چلغوزے کے درختوں سے کوئی خاص کمائی نہیں کر پائے۔ ان کا خاندان پچھلے 40 سالوں سے بنوں شہر سے پانچ کلومیٹر مغرب میں واقع گاؤں ممند خیل میں رہائش پذیر ہے اگرچہ ان کا آبائی علاقہ شمالی وزیرستان کی سر سبز وادی شوال ہے۔ آج کل انہیں مسلسل یہ فکر لگی ہوئی ہے کہ افغانستان میں پائی جانے والی بد امنی کی وجہ سے کہیں شمالی وزیرستان میں بھی امن و امان کی صورتِ حال خراب نہ ہو جائے اور آپریشن ضربِ عضب کے پہلے تین سالوں کی طرح ان کے چلغوزے مکمل طور پر ضائع ہی نہ ہو جائیں۔ 

چلغوزے کہاں سے آتے ہیں؟

چلغوزے (یا پائن) کے درخت سطحِ سمندر سے کم از کم آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر ایسے علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں موسمِ سرما میں شدید سردی پڑتی ہے اور برف باری بھی ہوتی ہے۔پاکستان میں یہ درخت گلگت-بلتستان کے ضلع دیامیر، خیبر پختونخوا کے ضلعوں چترال، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے علاقوں ژوب اور زیارت میں پائے جاتے ہیں۔ درحقیقت پاکستان میں پائے جانے والے تمام قدرتی جنگلات کا 20 فیصد حصہ پائن کے درختوں پر ہی مشتمل ہے۔

دنیا میں ہر سال پیدا ہونے والے تمام چلغوزوں کا 15 فیصد انہی پاکستانی جنگلات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اکیلے شمالی وزیرستان ہی میں ہر سال تین ہزار ٹن سے لے کر پانچ ہزار ٹن (30 لاکھ کلو گرام سے لے کر 50 لاکھ کلو گرام) تک چلغوزے پیدا ہوتے ہیں۔ 

پائن کے درخت عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیوں پر پائے جاتے ہیں۔ ان کا پھل ایک کون نما خول میں بند آتا ہے جسے درختوں سے اتار کر اور بوریوں میں ڈال کر اونٹوں، گدھوں یا خچروں کے ذریعے پہاڑوں سے نیچے لایا جاتا ہے جہاں سے اسے ٹرکوں میں ڈال کر منڈیوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ 

شمالی وزیرستان کے درختوں سے اتاری گئی کونیں 150 کلومیٹر کا سفر طے کر کے آزاد منڈی میں پہنچتی ہیں جو بنوں شہر سے لگ بھگ 15 کلومیٹر مغرب کی جانب بکا خیل کے علاقے میں واقع ہے۔ اس منڈی میں موجود تاجر یہ کونیں خرید کر انہیں ایک ہفتے کے لئے دھوپ میں یا زمین کے اندر بنی بھٹیوں میں رکھتے ہیں تا کہ یہ پھول جائیں اور ان کے اندر چھپے چلغوزے نکالنے میں آسانی ہو۔ بعد ازاں دیہاڑی دار مزدور ان پھولی ہوئی کونوں کو لکڑی کے ڈنڈوں سے ضربیں لگا لگا کر ان سے چلغوزے نکالتے ہیں جنہیں دھوپ میں بچھی چارپائیوں پر ڈال کر خشک کیا جاتا ہے۔

آزاد منڈی سے یہ چلغوزے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں پہنچائے جاتے ہیں جہاں سے ان کی ایک بڑی مقدار دوسرے ملکوں کو بھی بھیجی جاتی ہے۔

بکاخیل کی منڈی میں چلغوزوں کی خریدوفروخت کرنے والے 30 سالہ تاجر موسیٰ وزیر کہتے ہیں کہ 2015 تک پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع شمالی وزیرستان کے قصبے غلام خان کے راستے افغان علاقے سے بھی ہزاروں ٹن کونیں اس منڈی میں لائی جاتی تھیں لیکن اب افغانستان یہ چلغوزے براہِ راست چین بھیج رہا ہے۔

لاہور میں کام کرنے والے چلغوزے کے ایک بڑے تاجر اور شمالی وزیرستان سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق اُمیدوار برائے قومی اسمبلی نیک عمل خان وزیر کہتے ہیں کہ افغانستان کے علاقوں میرسفر، لامن اور راحہ میں پائے جانے والے پائن کے بہت سے درخت دراصل شمالی وزیرستان میں رہنے والے لوگوں کی ملکیت ہیں لیکن ان کے مطابق حالیہ سالوں میں سرحد کے آر پار آمدورفت پر لگائی گئی پابندیوں اور افغان علاقے سے لائے جانے والے چلغوزوں پر بھاری برآمدی ٹیکس عائد کیے جانے کی وجہ سے ان درختوں سے پیدا ہونے والے 15 لاکھ سے 20 لاکھ کلو گرام چلغوزے آزاد منڈی تک نہیں پہنچ رہے۔

شمالی وزیرستان کے علاقے مداخیل سے تعلق رکھنے والے پنتیس سالہ محمد شاہ افغانستان کے علاقے میر سفر میں موجود پائن کے سینکڑوں درختوں کے مالک ہیں۔ آج کل وہ اپنے پانچ بچوں کے ساتھ شمالی وزیرستان کے انتظامی صدر مقام میران شاہ میں رہائش پذیر ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے افغان سرحد پر لگائی جانے والی باڑ کی وجہ سے وہ اپنے درختوں سے چلغوزے اتارنے کے لئے بآسانی افغانستان نہیں جا سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں بلوچستان کے شہر چمن کے راستے سرحد عبور کر کے پہلے قندھار جانا پڑتا ہے جہاں سے وہ خوست اور پھر میر سفر جاتے ہیں۔ یوں میران شاہ سے محض 50 کلومیٹر دور اپنے درختوں تک پہنچنے کے لئے انہیں 15 سو کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ 

آمدورفت میں ان مشکلات کی وجہ سے وہ اپنے چلغوزے افغانستان میں ہی فروخت کردیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہر 40 کلو گرام چلغوزوں پر آٹھ ہزار روپے سے دس ہزار روپے تک کم قیمت ملتی ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 13 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 2 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کلیم اللہ نسلی و علاقائی اقلیتوں کو درپیش مخصوص مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے لیڈز یونیورسٹی لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس آنرز کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔