زیریں سندھ کے کاشت کار بھٹہ مزدوری کر کے گزارا کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟

postImg

خالد کمبہار

postImg

زیریں سندھ کے کاشت کار بھٹہ مزدوری کر کے گزارا کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟

خالد کمبہار

چالیس سالہ محمد سلیم چانڈیو عمرکوٹ کی تحصیل کنری کے رہائشی ہیں جو ساڑھے 17 ایکڑ زرعی اراضی کے مالک ہیں لیکن گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کا پورا خاندان اینٹوں کے بھٹے پر مزدوری کرتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی زمین نبی سر واہ سے نکلنے والی سانوری شاخ کی ٹیل پر واقع ہے جس کی آبپاشی کے لیے دو گھنٹے 40 منٹ نہری پانی منظور شدہ ہے۔ تاہم یہ پانی کبھی کھال تک بھی نہیں پہنچا جس کی وجہ سے گاؤں محمد بخش چانڈیو میں ان کی ساری زمین بنجر پڑی ہے۔

"پانی کی مسلسل قلت کی وجہ سے میں آج تک ایک ایکڑ زمین بھی آباد نہیں کر پایا۔ سانوری اور شیر شاخ پر ہمارے خاندان کی 310 ایکڑ زمین تھی جو بنجر ہونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے کوڑیوں کے دام بک گئی"۔

محمد سلیم نے بتایا کہ جب بارشیں ہوتی ہیں تو وہ بھی تھر والوں کی طرح گوار اور باجرا کاشت کر لیتے ہیں ورنہ وہ اور ان کے خاندان کے لوگ بھٹوں پر مزدروری کر کے گزارا کرتے ہیں کیونکہ بیچنے کے لیے اب زمین بچی ہی نہیں ہے۔

صرف محمد سلیم ہی نہیں ٹیل کے باقی زمینداروں کا بھی یہی حال ہے۔

یہاں ایک اور کاشتکار اعجاز چانڈیو بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زمین ایک بھٹہ مالک کو 20 سال کے لیے ٹھیکے پر دے دی ہے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ٹھیکہ مکمل ہونے پر یہ زمین قابل کاشت ہی نہیں رہے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ یہاں آبپاشی تو کیا انسانوں اور جانوروں کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ ہاکڑا نہر کے کنارے کچھ لوگوں نے سولر ٹیوب ویل لگائے ہوئے ہیں جہاں سے اب وہ پینے کا پانی لے کر آتے ہیں۔

پانی کی کمی سے سب ڈویژن نبی سر ایٹ کنری اور سب ڈویژن نوکوٹ میں واقع نارا کینال کی سانوری شاخ، تھرپارکر کا ڈیپلو مائینر، ڈھورو مائینر اور رن شاخ جبکہ میرپور خاص کی شیر شاخ اور بان شاخ کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

یہ علاقے زرخیزی اور پیداوار کے لحاظ سے سندھ کی بہترین زمینوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور یہاں کبھی گندم، اسپغول، مرچی، کپاس، سونف، سورج مکھی اور پیاز کی شاندار فصلیں ہوتی تھیں۔ تاہم ٹیل ہونے کی وجہ فصلوں کی کاشت کم ہوتی جا رہی ہے۔

سکھر بیراج سے نکلنے والی نارا کینال ضلع عمرکوٹ، تھرپارکر، میرپورخاص اور بدین میں زمینوں کو سیراب کرتی ہے مگر چار دہائیوں سے ٹیل پر کبھی پانی نہیں پہنچا۔

کسان اس صورت حال کا ذمہ دار پانی چوری اور محکمہ آبپاشی کو قرار دیتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے پانی کی کم سپلائی اور پولیس کے رویے کو ٹیل تک پانی نہ پہنچنے کی وجہ بتاتے ہیں۔

محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق نارا کینال کا گراس کمانڈ ایریا  (جی سی اے) 25 لاکھ ایکڑ بنتا ہے جس میں سے قابل آبپاشی علاقہ (سی سی اے) 22 لاکھ 70 ہزار ایکڑ ہے۔ ارسا کی اجازت کے بغیر اس نہر میں ساڑھے نو ہزار کیوسک سے زیادہ پانی دیا ہی نہیں جا سکتا۔

محکمہ انہار سندھ کی ویب سائٹ پر جاری رواں سال 20 فروری کا ڈیٹا نارا کینال کی سپلائی میں 13.2 فیصد کا شارٹ فال یعنی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جس کے مطابق کینال کو آٹھ ہزار 250 کیوسک پانی مل رہا ہے۔

سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی (سیڈا) کے ترجمان حزب اللہ منگریو کے مطابق نارا کینال کا ضلع میرپورخاص میں قابل آبپاشی رقبہ سات لاکھ 14 ہزار 398 ایکڑ، عمرکوٹ میں پانچ لاکھ 52 ہزار694 ایکڑ، تھرپارکر میں 47 ہزار ایکڑ اور بدین کا صرف 495 ایکڑ رقبہ شامل ہے۔

محکمہ آبپاشی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمر کوٹ کے قابل آبپاشی رقبے میں سے 34 فیصد نارا کینال سے سیراب ہوتا ہے۔ ٹیل کی سانوری شاخ کے 20 ہزار ایکڑ رقبے میں سے نہری پانی پر صرف چار ہزار ایکڑ رقبہ آباد ہے جو کُل کا 20 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ شیر شاخ کے 23ہزار ایکڑ میں سے پانچ ہزار 750 ایکڑ رقبہ ہی زیر کا شت لایا جا سکا ہے۔

ڈائریکٹر نارا کینال بھی تصدیق کرتے ہیں کہ سسٹم میں پانی کی کمی کی وجہ سے سپلائی کم کرنا پڑتی ہے لیکن ان کی کوشش ہوتی ہے کہ طے شدہ گنجائش (گیج) کے مطابق پانی ملتا رہے۔

تاہم ٹیل کے کاشتکار ڈائریکٹر نارا کینال کے  موقف کو درست نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ  انہیں تو اپنے حصے کی پانی بھی نہیں ملتا۔

وہ الزام لگاتے کہ 'ہیڈ' کے با اثر زمیندار محکمے کی ملی بھگت سے پانی چوری کرتے ہیں جس کی وجہ پانی آخری کھالوں تک نہیں پہنچ پاتا۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ محکمہ آبپاشی نے 2023ء میں صرف عمرکوٹ اور میرپور خاص میں پانی چوری پر زمینداروں کے خلاف 26 مقدمات درج کرائے۔

سانوری شاخ کے منشی (داروغہ) عبدالشکور نے دسمبر میں گوٹھ محراب خان جلبانی کے ایک کاشتکار کے خلاف پانی چوری کا مقدمہ درج کرایا مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ پولیس پانی چوری کے مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 430 کے تحت درج کرتی ہے جس سے ملزم شخصی ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔

" پانی چوری کا مقدمہ سندھ اریگیشن ایکٹ 1879ء کے تحت ہونا چاہیے جس  کی شق 61 کے تحت اس جرم کی سزا دو سال تک قید ہے جبکہ شق 62 کے تحت تین سال سزا اور پانچ ہزار روپے جرمانہ مقرر ہے اور چھ ماہ تک ملزم کی ضمانت بھی نہیں ہو سکتی"۔

اس حوالے سے ایس ڈی او انہار سب ڈویڑن نوکوٹ فضل میمن کا کہنا ہے کہ پولیس اریگیشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے سے کتراتی ہے کیونکہ ایسے کیس میں ملزم کی ضمانت سیشن کورٹ سے ہوتی ہے اور پولیس اہلکار وہاں تک پیشیاں بھگتنا پسند نہیں کرتے۔

تاہم نبی سر تھانے کے ہیڈ محرر اسلم کمہار کا موقف ہے کہ پانی چوری کے مقدموں کے بیشتر مدعی محکمہ انہار کے اہلکار ہوتے ہیں جو اول تو  مقدمہ کرنا ہی نہیں چاہتے، اگر زیادہ ضروری ہوتو دفعہ 430 لگوا لیتے ہیں جس سے ملزم کو سیاسی یا کسی وڈیرے کے دباؤ پر چھوڑنا پڑتا ہے۔

اس سلسلے میں ڈائریکٹر نارا کینال کا خیال ہے کہ یہاں زیادہ تر واٹر کورس (کھال) پختہ ہو چکے ہیں اس لیے اب پانی چوری میں بہت کمی آ گئی ہے۔

مقامی کاشتکار ڈائریکٹر کینال کے اس موقف کو بھی درست قرار نہیں دیتے۔

کلوئی کے زمیندار محمد عیسیٰ لونڈ بتاتے ہیں کہ پانی چوری کے بہت سے طریقے ہیں۔

"ایک یہ ہے کہ بڑے زمیندار اپنی زمینوں کے لیے نئے کھال منظور کرا لیتے ہیں جبکہ کچھ بااثر لوگ اپنے موگے کھلے (ری ڈیزائن) کراتے ہیں یعنی کھال میں پانی کی سپلائی بڑھا دی جاتی ہے۔ یہ دونوں پانی چوری کے قانونی راستے ہیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ مشینوں کے ذریعے براہ راست مائنر سے پانی نکالا جاتا ہے"۔

وہ کہتے ہیں کہ سارا پانی ہیڈ والے یا بااثر زمیندار لے جاتے ہیں۔  چھوٹے کسان کیا کریں؟ ان کی تو آباد زمینیں بھی بنجر ہو رہی ہیں۔

پانی چوری کے خلاف کاشتکار یہاں کئی بار طویل احتجاج، حکام کو اپیلیں اور عدالتوں میں درخواستیں دائر کر چکے ہیں۔

ستر سالہ محمد عیسیٰ نے بتایا کہ انہوں نے 1998ء میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کو کئی درخواستیں بھیجیں جس پر وزیراعظم نے علاقے کا 'سرپرائز وزٹ' کیا۔

"اس وقت پانی چوری میں ہمارے علاقے کے وزیر بھی ملوث تھے۔ وزیر اعظم یہاں آئے اور ہم سے مل کر چلے گئے۔ اس دورے کا فائدہ تو کیا ہوتا البتہ اگلے روز ہم آٹھ افراد کے خلاف جھوٹے مقدمے بنا دیے گئے اور ہمیں جیل بھیج دیا گیا"۔

مقامی کاشتکار ایسوسی ایشن کے رہنما اور زمیندار محمد موسیٰ احمدانی بتاتے ہیں کہ 2016ء میں ہزاروں کاشت کاروں نے ڈائریکٹر نارا کینال آفس کے باہر 36 روز بھوک ہڑتال کی جس پر ڈائریکٹر مستعفی ہو گئے تھے۔ اسی طرح 2015ء میں نوکوٹ میں 90 دن دھرنا چلا تھا مگر پانی چوری آج تک بند نہیں ہوئی۔ تاہم  اتنا ہوا کہ پانی چوری پر آیف آ ئی آر کرا دی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر سیڈا کے کسٹمر ریلیشنز منیجر نارا کینال سکندر منگریو نے پہلے تو روایتی جواب دیا کہ "ہمیں تو اس سال پانی کی قلت سے متعلق کہیں سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی"۔

تاہم بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ سکھر بیراج کی 'کمپلیشن رپورٹ' میں ہی طے ہو گیا تھا کہ قابل آبپاشی زمین کے لیے خریف سیزن میں 28 فیصد اور ربیع میں 58 فیصد پانی میسر ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سیلاب سے متاثرہ چشمہ رائٹ بینک کینال کی بحالی میں تاخیر سے ڈیرہ اسماعیل خان میں 12 لاکھ افراد کا روزگار متاثر

انھوں نے 'کمپلیشن رپورٹ' کے حوالے سے ایک نئی منطق پیش کی کہ "اگر کوئی کاشتکار اس سے زیادہ زمین کاشت کرتا ہے تو اس پر جرمانہ لگ سکتا ہے۔ ہم صرف اتنا پانی پہنچا سکتے ہیں جتنا قانون میں ہے"۔

پانی چوری کے معاملے پر وہ کہتے ہیں کہ پانی تقسیم کا سارا نظام کاشتکاروں کی شراکت سے چلتا ہے اور مقامی کاشتکار تنظیمیں نگرانی کرتی ہیں۔ ہر شاخ کی کاشتکار تنظیم (فارمرز آرگنائزیشن)کا چیئرمین مقامی زمیندار ہوتاہے جو انتخابات کے ذریعے آتا ہے اور یہی لوگ سارا نظام دیکھتے ہیں۔

ٹالھی کے قریب 200 ایکڑ کے زمیندار غلام محمد چانڈیو الزام لگاتے ہیں کہ سیڈا کی فارمر آرگنائزیشنز کے چئیرمین ہی تو پانی بیچتے ہیں جن کی سرپرستی محکمہ انہار کا عملہ اور مقامی سیاستدانوں کرتے ہیں۔

تاہم سیڈا افسر سکندر علی منگریہ نے اس الزام کو رد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نارا کینال سے پانی چوری فارمر آرگنائزیشنز کی وجہ سے ہی کم ہوئی ہے۔

گوٹھ فصل چانڈیو کے رہائشی محمد خان چانڈیو سانوری شاخ کے ہیڈ پر 15 ایکڑ کے زمیندار ہیں اور پانچ ایکڑ اراضی انہوں نے ٹھیکے پر لے رکھی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی ساری زمین آباد ہے اور انہیں پانی بھی پورا ملتا ہے۔

اسی سانوری شاخ ٹیل پر  17 ایکڑ کے زمیندار سلیم چانڈیو کی ایک ایکڑ زمین بھی نہری پانی سے کاشت نہیں ہو سکتی۔

سلیم کہتے ہیں کہ حکام جو بھی کہیں یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہیڈ کے کاشت کاروں کے سو فیصد رقبے آباد ہیں اور وہ "نارا کے رئیس" کے طور پر مشہور ہیں جبکہ ٹیل کے زمیندار اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوریاں کر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت 4 مارچ 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

خالد کمبہار فری لانس صحافی ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام خانہ بدوش قبیلوں کے رسم رواج، رہن سہن اور عقائد پر ہے۔

thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.