وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'۔

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'۔

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

حال ہی میں وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے باسی نا صرف گوشت خور تھے بلکہ دودھ سے کھانے پینے کی چیزیں بنانے میں بھی ماہر تھے۔ 

سائنس دانوں کو اس بات کا ثبوت انڈیا کی ریاست گجرات میں پائے گئے وادی سندھ کی تہذیب کے آثار سے دریافت ہونے والے برتنوں کے 59 نمونوں سے ملا ہے۔ مٹی سے بنے ان برتنوں میں جذب چکنائی کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ ان میں نا صرف جانوروں کا گوشت پکایا جاتا تھا بلکہ ان میں دودھ سے بنی چیزیں بھی تیار کی جاتی تھیں۔ 

یہ انکشاف معروف سائنسی جریدے 'نیچر' کے ستمبر 2020 میں شائع ہونے والے شمارے میں شامل ایک تحقیق میں کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے محقق کلیان سیکھر چکرابورتی  اور ہیتھر ملر، میکماسٹر یونیورسٹی کے گریگ سلیٹر، انڈیا کے دکن کالج اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر پرابودھ شروالکر اور انڈیا کی ریاست گجرات کے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی کے یدوبر سنگھ راوت نے کی ہے۔ 

وادی سندھ کی تہذیب کے نمایاں آثار پاکستان میں ہڑپہ (پنجاب) اور موہنجو داڑو (سندھ) اور انڈیا میں ڈولاویرا، بھدلی، لوتھل (گجرات)، کالی بنگن (راجستھان)، راکھی گڑھی (ہریانہ) اور روپ نگر (پنجاب) میں ملتے ہیں جو لگ بھگ آٹھ ہزار سال پرانے ہیں۔ اگر برصغیر کے موجودہ نقشے کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ تہذیب قریباً پورے پاکستان، مشرقی افغانستان اور شمالی انڈیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ 

یہ ایک ترقی یافتہ تہذیب تھی جس کے باسی زراعت، شہری منصوبہ بندی، تجارت، برتن سازی اور مجسمہ سازی میں تاک تھے اور ان کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ممالک سے روابط بھی موجود تھے۔ 

آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل موسمی حالات کے باعث ان لوگوں کے شہر اجڑ  گئے، زرعی نظام درہم برہم ہو گیا اور رفتہ رفتہ یہ تہذیب ختم ہو گئی۔ 

کیا وادی سندھ کی تہذیب میں صرف سبزی کھائی جاتی تھی؟ 

'نیچر' میں شائع کی گئی یہ تحقیق بتاتی ہے کہ عام خیال کے برعکس وادی سندھ کی تہذیب میں جانوروں کو سواری کے لیے یا کھیتی باڑی میں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک کے طور پر اور دودھ کے حصول کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ تحقیق اس خیال کی نفی کرتی ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کے باسی صرف سبزی خور تھے اور جانوروں خصوصاً گائے بھینسوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔

یہ تحقیق سامنے آنے کے بعد خاص طور پر انڈیا کے نیوز میڈیا میں ایسی رپورٹیں آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہڑپہ تہذیب کے باسی پنیر بنانے میں ماہر تھے۔ ان رپورٹوں میں فخریہ طور پر کہا گیا کہ اس تحقیق نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہندوستان مغرب سے کہیں پہلے پنیر بنانے کا فن سیکھ چکا تھا۔

تاہم اس تحقیق کے روحِ رواں کلیان سیکھر چکرابورتی کا کہنا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ وادیِ سندھ کی تہذیب کے باسی دودھ سے پنیر، مکھن، گھی یا دہی وغیرہ بناتے تھے۔ اس حوالے سے سجاگ کو لکھی گئی ایک ای میل میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ہڑپہ تہذیب کے آثار سے ملنے والے برتنوں کا تجزیہ یہ تو بتاتا ہے کہ وہ لوگ دودھ کو خام حالت میں پینے کے بجائے کسی اور انداز میں بھی کام میں لا رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ''محض چکنائی کے تجزیے سے یہ پتا نہیں چل سکتا کہ وہ دودھ کس حالت یا شکل میں تھا۔ شواہد بتاتے ہیں کہ اس دودھ کو گرم کیا جاتا تھا مگر اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ آیا دودھ کو محض ابالنے کے لیے گرم کیا جاتا تھا یا اسے گرم کر کے کوئی اور چیز بنائی جاتی تھی''۔

سائنس دانوں نے اس تحقیق کے لیے جو طریقہ استعمال کیا ہے اسے 'بچی کھچی چکنائی کا تجزیہ' بھی کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں آثار قدیمہ سے ملنے والے مٹی کے برتنوں کو صاف کر کے پیس لیا جاتا ہے اور ایک مخصوص محلول کے ذریعے ان میں موجود چکنائی کو مٹی سے الگ کر کے سائنسی طریقے سے یہ جانچا جاتا ہے کہ کس برتن میں کون سے جانور کا گوشت یا دودھ استعمال ہوا ہے اور آیا یہ جانور گھاس کھانے والے تھے یا گوشت خور۔ 

سائنس دانوں نے اس تحقیق میں جن برتنوں کا تجزیہ کیا ہے ممکنہ طور پر ان میں گھاس کھانے والے جانوروں کا گوشت پکایا جاتا تھا۔ بعض برتنوں میں ایسے جانوروں کی چربی کے اجزا پائے گئے ہیں جن کی خوراک میں گھاس، باجرہ، جوار، گنے کے پودے، مکئی اور سبزیاں شامل ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے پودےگائیں، بھینسیں اور بھیڑ بکریاں ہی کھاتے ہیں۔ 

اس تہذیب کے مختلف آثار میں پائی جانے والی جانوروں کی ہڈیوں سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جانور بھیڑ بکریاں، گائے بھینسیں اور ہرن تھے۔ ان ہڈیوں پر اوزاروں کے نشان بھی پائے گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اوزار گوشت کاٹنے، بنانے اور کھانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ 

وادی سندھ کی تہذیب کے آثار سے ملنے والی ہڈیوں کو دیکھ کر یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس دور میں گائے بھینسیں بہت بڑی تعداد میں پائی جاتی تھیں کیونکہ ان ہڈیوں میں 50 سے 60 فیصد گائے بھینسوں جبکہ 10 فیصد بھیڑ بکریوں کی باقیات ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس تہذیب کے باشندوں کا پسندیدہ گوشت بیف اور مٹن رہا ہوگا۔ برتنوں میں چکنائی کے تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ لوگ گوشت پکا کر یا بھون کر کھاتے تھے۔ اسی طرح بیشتر بھیڑ بکریوں کی ہڈیوں اور دانتوں کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ان کی موت کم عمری میں ہوئی جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں گوشت کے حصول کے لیے پالا گیا تھا۔

دودھ کی مصنوعات کا استعمال 

مویشیوں کا بطور خوراک بنیادی (گوشت کے لیے) اور ثانوی (دودھ کے لیے) استعمال ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ یہ بات پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کے لوگ سات ہزار سال قبل مسیح سے مویشی پالتے چلے آرہے تھے لیکن حالیہ تحقیق نے یہ بتایا ہے کہ کس جانور کو کس مقصد کے لیے پالا اور استعمال میں لایا جاتا تھا۔
 

ماہر آثار قدیمہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان میں میوزیم، آرکائیوز اور لائبریری کے شعبے کی بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر اسما ابراہیم کا کہنا ہے کہ اس تہذیب کے باسیوں کے کھانے پینے کی عادات کے بارے میں سائنسی طور پر ابھی تک یہی ثابت ہوا تھا کہ وہ کھیتی باڑی کرتے اور اناج کھاتے تھے لیکن حالیہ تحقیق اس بارے میں امکانات کے نئے در کھولتی ہے۔ 

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہڑپہ، موہنجو داڑو یا پاکستان میں ایسے دیگر تہذیبی آثار پر اس تحقیق کی نوعیت کا کام تاحال نہیں ہوا جو انڈیا میں دریافت کیے گئے حقائق کی تصدیق کر سکے۔ اس لیے وہ کہتی ہیں کہ سائنسی طور پر سو فیصد درست نتائج پر پہنچنے کے لیے ہمیں مختلف جگہوں پر ایسی مزید تحقیقات اور ان کے نتائج کا انتظار کرنا ہو گا۔

دوسری طرف امریکی ماہرِ آثار قدیمہ، یونیورسٹی آف وسکونسن میں بشریات کے استاد اور وادی سندھ کی تہذیب کے جانے مانے محقق جوناتھن مارک کینوئر 'نیچر' میں چھپنے والی تحقیق کے نتائج کو تقریباً حتمی قرار دیتے ہیں۔ سجاگ کو لکھی گئی ایک ای میل میں وہ کہتے ہیں کہ اس ''تحقیق کی بنیاد اس طریقہ کار پر ہے جس میں جانوروں کی ہڈیوں سے ان کی عمر کا اندازہ لگا کر نتائج اخذ کیے جاتے ہیں''۔ علاوہ ازیں ''اس تحقیق میں قدیم برتنوں اور اوزاروں کا بھی سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا ہے''۔ 

ان کے مطابق یہ تحقیق وادی سندھ کی تہذیب میں دودھ سے کھانے پینے کی چیزیں تیار کرنے کا پہلا براہ راست ثبوت ہے جو کسی معتبر سائنسی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں گائے بھینسوں کے 20 دانتوں کے تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت بڑھاپے میں ہوئی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں طویل عرصہ تک پالے جانے کا مقصد ان سے دودھ کا حصول رہا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

لیہ میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی: 'جہاں کبھی گھنے درخت تھے وہاں اب دھول اُڑتی ہے'۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب کے باسی دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے لیکن حالیہ تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دودھ کے استعمال سے متعلق ہمیں اضافی معلومات فراہم کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ''برتنوں سے حاصل ہونے والے نمونے اس نتیجے کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان گائے بھینسوں کو دودھ کی مصنوعات بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہو گا''۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 8 جون 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 10 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔