ملازمت پیشہ حاملہ خواتین کی مجبوری: 'زچگی کے لیے بغیر تنخواہ چھٹی کرو یا نوکری چھوڑ دو'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ملازمت پیشہ حاملہ خواتین کی مجبوری: 'زچگی کے لیے بغیر تنخواہ چھٹی کرو یا نوکری چھوڑ دو'۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ملازمت پیشہ حاملہ خواتین کی مجبوری: 'زچگی کے لیے بغیر تنخواہ چھٹی کرو یا نوکری چھوڑ دو'۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

ڈاکٹر حفصہ گکھڑ کو زچگی کے لیے چھٹیاں لیے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ان کی نوکری چلی گئی۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ ایک برطانوی کمپنی کے پاکستان میں قائم ذیلی ادارے میں کام کرتی تھیں جہاں سے یکم فروری 2022 کو انہیں ایک خط کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ ان کی ملازمت ختم کر دی گئی ہے۔ اسی روز ان کا وہ ای میل اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا گیا جسے وہ دفتری امور کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ کئی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر جب ان کا ادارے کے ہیومن ریسورسز کے شعبے سے رابطہ ہوا تو انہیں پتا چلا کہ وہاں کام کرنے والے لوگ یا تو زچگی کی چھٹیوں سے متعلق قانون سے ناواقف تھے یا جان بوجھ کر ایسا ظاہر کر رہے تھے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

ڈاکٹر حفصہ گکھڑ نے مارچ 2021 میں اس کمپنی میں ملازمت شروع کی تھی۔ انہیں دیے گئے نوکری کے کنٹریکٹ میں لکھا تھا کہ انہیں پاکستان کے قانون کے مطابق زچگی کی چھٹیاں دی جائیں گی۔ ایک مہینے کے بعد جب وہ حاملہ ہوئیں تو انہوں نے اس کے بارے میں ادارے کو باقاعدہ مطلع کیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ "شعبہ ہیومن ریسورسز زچگی کی چھٹیوں کے حوالے سے ایک باقاعدہ پالیسی مرتب کرے"۔ اس کے بجائے انہیں کہا گیا کہ جب ان کے بچے کی پیدائش کا وقت قریب آئے گا تو تب اس معاملے کو دیکھ لیا جائے گا۔ تاہم یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہو سکا۔

ڈاکٹر حفصہ گکھڑ بتاتی ہیں کہ اسی ادارے میں کام کرنے والی ایک اور خاتون کو بھی حال ہی میں اس کی زچگی کی چھٹیوں کے آخری دن ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ "درحقیقت اس ادارے نے خواتین ملازمین کے خلاف انتہائی امتیازی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں۔ نوکری کے لیے انٹرویو کے دوران بھی خواتین سے ان کی ازدواجی حیثیت اور غیرشادی شدہ ہونے کی صورت میں شادی کے ارادوں اور ایسے دیگر ذاتی معاملات کے بارے میں بے جا سوالات کیے جاتے ہیں"۔

لیکن نجی شعبے کا صرف یہی ادارہ ہی کام کرنے والی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتا۔ پنجاب کے بڑے نجی تعلیمی ادراوں میں سے ایک میں سربراہِ شعبہ کے طور پر کام کرنے والی ایک خاتون کو بھی اپنے ادارے سے ایسی ہی شکایات ہیں۔ وہ اس میں چھ سال سے کام کر رہی ہیں لیکن انہیں اس کی جانب سے امتیازی پالیسیوں کا تب سامنا کرنا پڑا جب گزشتہ برس وہ حاملہ ہوئیں۔

انہیں بتایا گیا کہ وہ بچے کی پیدائش کے لیے اپنے منتخب کردہ وقت پر صرف تین ہفتے کی باتنخواہ چھٹیاں لے سکتی ہیں۔ تاہم نومبر 2021 میں انہیں حمل کے حوالے سے اس قدر پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا کہ ڈاکٹر نے انہیں بچے کی پیدائش تک مکمل آرام کی ہدایت کر دی۔ اس طرح انہوں نے ادارے کی جانب سے دی گئی زیادہ تر چھٹیاں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی کر لیں۔

جونہی یہ چھٹییاں ختم ہوئیں تو انہیں نوکری پر آنے کا کہا گیا حالانکہ اس وقت انہیں بچے کو جنم دیے چند روز ہی ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کالج کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ انہیں گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ کووڈ۔19 سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے طلبہ بھی کلاسوں میں آنے کے بجائے گھر بیٹھے پڑھائی کر رہے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ تاہم انتظامیہ نے انہیں خاص رعایت دیتے ہوئے ان کی زچگی کی چھٹیوں میں مزید ایک ہفتہ اضافہ کر دیا۔ ان اضافی چھٹیوں کے بعد بھی جب انہوں نے ادارے کو بتایا کہ ابھی ان کے لیے کام پر آنا ممکن نہیں ہے تو انہیں دو ٹوک انداز میں کہا گیا کہ یا تو وہ فوری طور پر نوکری پر آئیں یا تنخواہ کے بغیر مزید چھٹیاں لے لیں۔ 

ڈاکٹر زائرہ نورین کے ساتھ پیش آنے والے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اداروں میں بھی زچگی کی چھٹیوں کے حوالے سے مبہم پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں۔

2019 میں جب ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ لاہور کے گنگا رام ہسپتال میں پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے زچگی کی باتنخواہ چھٹیاں اُس سال اگست، ستمبر، اور اکتوبر میں کیں۔ تاہم چھٹیوں کے بعد جب وہ کام پر واپس آئیں تو انہیں بتایا گیا کہ انہیں دیے گئے کنٹریکٹ کی رو سے وہ وقت کی ایک مخصوص مقدار تربیت میں گزارنے کی پابند ہیں۔ چونکہ زچگی کی چھٹیوں کے باعث وہ کئی سو گھنٹے کام نہیں کر سکی تھیں اس لیے انہیں بتایا گیا کہ ڈگری لینے کے لیے انہیں مزید تین مہینے تربیت میں گزارنا ہوں گے جس کے عوض انہیں تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔

اس طرح عملی طور پر انہیں وہ چھٹیاں نہ ملیں جو وہ پہلے ہی کر چکی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر مجھے اس بارے میں پہلے سے علم ہوتا تو میں ان تین مہینوں میں تمام عرصہ گھر پر نہ رہتی"۔ 

کیا کام صرف فیکٹریوں میں ہوتا ہے؟

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 37 کی ایک ذیلی شق میں کہا گیا ہے کہ "ملازمت پیشہ خواتین کو زچگی کے دوران سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے" کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ پنجاب میں یہ اہتمام 1958 میں جاری کیے گئے پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ 

اس کی رو سے کسی ملازمت پیشہ خاتون کو بچے کی پیدائش کے بعد چھ ہفتے تک کوئی کام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی خاتون کو بچے کی پیدائش کی متوقع تاریخ سے چھ ہفتے پہلے کوئی دشوار کام کرنے کو نہیں کہا جا سکتا۔ اس آرڈیننس میں خاص طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ہر آجر اپنے ہاں کام کرنے والی خواتین کو زچگی کے دوران 12 ہفتے باتنخواہ چھٹیوں سمیت دیگر مراعات مہیا کرنے کا پابند ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہے کہ حاملہ خواتین کو ملازمت سے نکالنا اور زچگی کی چھٹیوں کے دوران ان کی نوکری ختم کرنا غیرقانونی ہے۔

تاہم ان تمام باتوں پر اتنا عمل نہیں ہوتا جتنی ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، عالمی بنک کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ملازمت سے متعلق پالیسیوں میں خواتین کے مسائل کی جانب حساسیت کے فقدان کے باعث معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ چار سال پہلے وفاقی شماریاتی بیورو کی تیار کردہ ایک رپورٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2014 اور 2018 کے درمیانی عرصہ میں افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 25 فیصد سے کم ہو کر 22.8 فیصد تک آ گیا ہے۔ اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق پاکستان میں یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہر چار میں سے ایک خاتون ہی نوکری کرتی ہے۔ 

اسی لیے عالمی بینک نے تجویز دی ہے کہ حکومت افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کے لیے تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹیوں اور دوران حمل نوکری کے تحفظ جیسے اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ تاہم ان کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پاکستان میں کام کے متعلق قوانین زراعت اور خدمات کے شعبوں کا احاطہ نہیں کرتے جو پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 72.74 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ زرعی شعبے میں کام کرنے والی کسی خاتون کو تو نوکری کا کنٹریکٹ ہی نہیں ملتا جبکہ خدمات کے شعبے سے منسلک خواتین کے کنٹریکٹ میں زچگی کی چھٹیوں کے حوالے سے کچھ واضح نہیں بتایا جاتا جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی دو خواتین کے مندرجہ بالا حالات سے عیاں ہے۔  

لاہور سے تعلق رکھنے والی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ندا عثمان چوہدری کی رائے میں خدمات کے شعبے میں ملازمت کرنے والی خواتین کو زچگی کی چھٹیاں نہ ملنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں 'کارکن' عورت کی کوئی جامع قانونی تعریف ہی موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں قانونی طور پر صرف انہی خواتین کو 'کارکن' سمجھا جاتا ہے جو کارخانوں میں یا کارخانوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "چونکہ یہ تعریف نہایت محدود ہے اس لیے یہ تعلیم، صحت عامہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کو قانونی تحفظ مہیا نہیں کر سکتی"۔

ندا عثمان چوہدری لاہور میں 'ویمن اِن لا انیشی ایٹو' نامی ادارہ بھی چلاتی ہیں جس نے اس مسئلے کو حل کرنے کی غرض سے پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس میں ترامیم کے لیے ایک مسودہ قانون تیار کیا ہے۔ اس میں لفظ 'کارکن' کی جامع تعریف کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ معیشت کے ہر شعبے میں ملازمت کرنے والی خواتین کو زچگی کی چھٹیاں مل سکیں۔ اس میں ان چھٹیوں کو 24 ہفتوں تک بڑھانے کی بات کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حمل ضائع ہو جانے یا مردہ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں بھی خواتین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں ملنی چاہئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ''موجودہ قوانین ایسی کسی طبی صورتحال کا احاطہ نہیں کرتے''۔  

استحصالی نظام

نسرین بی بی لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں رہتی ہیں جہاں مسیحی آبادی کی اکثریت ہے۔ تقریباً پانچ سال پہلے انہوں نے ایک نجی کلینک میں نرس کے طور پر کام شروع کیا۔ اس وقت وہ دو ماہ کے حمل سے تھیں۔ وہ الزام عائد کرتی ہیں کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی کلینک کے مالک نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔ وہ تب سے بیروزگار ہیں۔ 

اسی علاقے میں مقیم 30 سالہ صفیہ نذیر کپڑوں کی فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ انہیں بھی حاملہ ہونے کی بنا پر چند ہی سال میں تین نوکریاں چھوڑنا پڑی ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ جب بھی وہ حاملہ ہوئیں تو ان کی نوکری چلی گئی۔ انہیں یہ بات معلوم ہی نہیں کہ قانون انہیں بچے کی پیدائش کے موقع پر تنخواہ کے ساتھ تین ماہ کی چھٹی کرنے کا حق بھی دیتا ہے۔ 

جلوت علی صنعتی مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیرسرکاری ادارے لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں پروگرام منیجر ہیں۔ وہ اس مسئلے کے ایک اہم پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "فیکٹریوں میں کام کرنے والی تقریباً تمام خواتین صفیہ کی طرح ان پڑھ ہوتی ہیں جنہیں اپنے قانونی حقوق سے آگاہی نہیں ہوتی۔ اسی لیے ان کا استحصال عام ہے۔ حاملہ ہونے کی صورت میں یا تو انہیں نوکری سے نکال دیا جاتا ہے یا تنخواہ کے بغیر چھٹیوں کی پیشکش کی جاتی ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں: 'جنسی زیادتی کا شکار خواتین اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر پاتیں'۔

جلوت کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد کام پر آنے والی خواتین کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ان کے آجر اتنا بھی نہیں کرتے کہ انہیں کوئی آسان کام کرنے کو دے دیا جائے یا انہیں ایسی شفٹ میں کام دیا جائے جس میں وہ آسانی محسوس کرتی ہوں۔ ایسی بہت سی خواتین کو اپنے نومولود بچوں کی نگہداشت میں بہت مشکل پیش آتی ہے کیونکہ بیشتر اداروں میں ڈے کیئر کی سہولت بھی نہیں ہوتی جہاں وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر اطمینان سے اپنا کام کر سکیں۔ جب انہیں ایسے حالات میسر نہیں آتے جن میں وہ بچے کی اچھی دیکھ بھال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا کام بھی جاری رکھ سکیں تو مجبوراً انہیں نوکری چھوڑنا پڑتی ہے۔ 

دوسری جانب صوبائی محکمہ محنت و انسانی وسائل کے لاہور میں واقع ہیڈکوارٹر میں تعینات ڈائریکٹر داؤد عبداللہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت حاملہ کارکنوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہمارا محکمہ سال میں ایک مرتبہ تمام بڑی نجی فیکٹریوں میں معائنہ کرتا ہے۔ ایسے معائنوں کے دوران حکام ریکارڈ چیک کرتے ہیں، خواتین ملازمین سے بات کرتے ہیں اور ان کے حالات کار کا جائزہ لیتے ہیں''۔ 

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے محکمے میں تعینات 12 انسپکٹر خواتین زچگی کی چھٹیوں سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی کرتی ہیں مگر وہ ایسی شکایات کی تعداد بتانے سے گریزاں ہیں کیونکہ، ان کے مطابق، ان کے محکمے میں اس حوالے سے مفصل ریکارڈ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ 

حیرت کی بات یہ ہے کہ داؤد عبداللہ خواتین کارکنوں کو درپیش افسوسناک حالات کار کا ذمہ دار انہی کو ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عام طور پر خواتین اپنے ساتھ ہونے والے ناجائز سلوک کی شکایت درج کرانے سے ہچکچاتی ہیں۔ ان کے بقول، "اگر وہ انصاف چاہتی ہیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے معاملات کو سامنے لائیں بصورت دیگر محکمے کو ان کے حقوق کی پامالی کے بارے میں پتہ کیسے چلے گا؟"

تاریخ اشاعت 12 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فریال احمد ندیم نے کنیئرڈ کالج لاہور سے عالمی تعلقات میں بی ایس آنرز کیا ہے۔ وہ صحت اور تعلیم سے متعلق امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔